Idara Maarif Ul Quran

Idara Maarif Ul Quran Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Idara Maarif Ul Quran, Education, Paradise Homes, Gulzar e Hijri, Abul Hassan Isphani Road, Karachi.

دینی وعصری علوم کی عظیم درسگاہ ادارہ معارف القرآن
یہ ادارہ ملک بھر دس برانچز اور 200 مراکز قرآنیہ کے ساتھ ایک تحریک بن چکا ہے
شعبہ جات حفظ ، اسکول ، درس نظامی ، حفاظ ایجوکیشن سسٹم
بانی ومہتمم حضرت مولانا عبد الوحید صاحب دامت برکاتہم العالیہ ملکِ عزیز پاکستان میں علوم دینیہ کے ہزاروں چھوٹے بڑے مراکز شب و روز ملتِ اسلامیہ کی دینی راہنمائی اور علوم نبوت کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں۔ یہ فیض ہے دارالعلوم دیوبند کے حضرت مولانا ،رشیداحمدگنگوہی رحمہ اللہ تعالٰی اور ان کے رفقاء کاجو انگریز کے خلاف میدان جہاد میں بنفس نفیس شریک رہے۔
انگریز نے ایسا نظام رائج کرنے کی ٹھانی تھی جو مسلمانوں کے دل پر مغربی افکارکاسکہ جمادےاور جس کے نتیجے میں ایسا طبقہ وجود میں لانا تھا جو رنگ ونسل کے اعتبارسے ہندوستانی اور مسلمان ہو مگر قلب ودماغ کے لحاظ سے مکمل انگریز ہو۔ایسے طوفانی اور ہمہ گیر فتنہ کے سامنے مضبوط بند باندھنے اور توانا حصار کھینچنےکے لئےان علمائے ربانیین نے "دارالعلوم دیوبند"کی بنیاد رکھی اور ایسے سرفروش علماء کی ایک بڑی جماعت تیارکی جو مسلمانوں کے ایمان واسلام اور علوم دین کے ہر ہر گوشہ کو وقت کی خطرناک آندھی اور طوفان سے بچاکر محفوظ کرتی رہی اور ان کی تعلیم وتبلیغ سے برصغیر کاچپہ چپہ سیراب ہوا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن رحمتہ اللہ کی قیادت میں انہی علماء کی بے مثال قربانیوں اورلازوال جدوجہد نے ہندوستان کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔
حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی تحریض و ترغیب پر،شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی ،شیخ الحدیث حضرت مولاناظفراحمد عثمانی، اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہم اللہ نے قیام پاکستان کے لیےجو تاریخ ساز اور انتھک جدوجہد فرمائی تھی وہ بھی اسی دارالعلوم دیوبند کا فیضان ہے۔
قیام پاکستان کے بعد لازم تھا کہ سب سے پہلے ایک اسلامی حکومت کے شایان شان ایسا نظام تعلیم رائج کیا جاتا جس میں قرآن و سنت کی مکمل تعلیم اور جدید علوم وفنون کو لادینی جراثیم سے پاک کرکےعوام الناس کے سامنے پیش کیاجاتا۔ اس طرح ہر مسلمان دینی علوم سے بھی آراستہ ہوتا اور دنیوی فنون میں بھی ماہر یا کم ازکم دونوں قسموں سے بقدر ضرورت آشنا ہوتا۔
مگرافسوس کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان میں بے دین جماعتوں کے درمیان اقتدارکی رسہ کشی ہورہی ہے اور اسلامی اقدار سے کنارہ کشی اختیار کی جارہی ہے جس پرہردردمند مسلمان دل گرفتہ ونالاں ہے۔ اسلام کے نام پر قائم کی جانے والی اس مملکت کے اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دی جانے والی تعلیم آج تک انگریز ملعون کی ڈالی گئ داغ بیل پر ہی جاری ہے ،جہاں دینی تعلیم وتربیت کایاتو گزر ہی نہیں،یا محض برائے نام،ایسی صورت حال میں اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ دین کی حفاظت کے لیے علماء و عوام پاکستان میں دار العلوم دیوبند کی طرزکے اسلامی مدارس وجامعات کے قیام کاسلسلہ جاری رکھتےچنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں چھوٹے بڑے مکاتب و مدارس اور جامعات قائم کئے اور یہ ان ہی کے ثمرات و برکات ہیں کہ آج اسلامی دنیا کے بیشتر ممالک کی نسبت پاکستانی عوام کےدینی رجحانات اور بودوباش بہت بہتر ہیں۔
مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک عزیز کے باسیوں کی اکثریت کی دوڑ جدیدعصری علوم وفنون ہی کی طرف ہے اس کا سبب ایک صدی سے زائد عرصہ سے جاری انگریزی نظام تعلیم ونصاب تعلیم کی بناء پر دل ودماغ کے حد درجہ مسموم ہوجانے کے علاوہ عوام الناس کا یہ تاثر بھی ہے کہ کسی دینی مدرسہ سے فارغ ہونے والا فاضل دنیوی تعلیم سے بالکل بے بہرہ ہونے کی وجہ سے جدید معاشرتی تقاضوں پر پورا اترنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اور معاشی لحاظ سے بھی ابتری کاشکار رہتا ہے۔
اس تاثر میں حقیقت کا عنصر کتنا ہے ؟اس سے قطع نظر یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس تاثر نے معاشرے کی ایک ایسی بہت بڑی تعداد کو بھی علوم دینیہ واہل علم سے دور رکھا ہے جو کسی حد تک دین واہل دین سے محبت رکھتی ہے۔
بناء بریں ایک عرصہ سے اس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ دینی مدارس میں بھی بقدر ضرورت دنیوی علوم وفنون کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے چنانچہ مدارس دینیہ کی واحد نمائند ہ تنظیم "وفاق المدارس العربیہ پاکستان " نے بھی اپنے قدیم نصاب کو عمومی حیثیت سے برقرار رکھتے ہوئے ابتدائی درجات میں مڈل تک کی عصری تعلیم کو لازمی قرار دیا اور ملک کی مشہور ومعروف دینی درسگاہ دار العلوم کراچی نے درس نظامی کے آٹھ سالہ نصاب کے پہلے سال "درجہ اولی"میں داخلہ کے لیے میٹرک کو لازمی قرار دیا اور میٹرک تک کی تعلیم کا انتظام بھی خود دار العلوم کے احاطے میں ایک مستقل اسکول قائم کرکے کیا۔
ادارہ معارف القرآن گلزار ہجری کراچی اسی طرز کا ایک دینی ادارہ ہے جس میں فی الحال درس نطامی کے ابتدائی درجات کے ساتھ ساتھ میٹرک تک کی عصری تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے ، جس کے لیے ادارہ نے مستقل انگلش میڈیم رجسٹرڈ اسکول قائم کیا ہے ۔
ادارہ کے اسکول کی تفصیلات اسی ویب سائٹ پر شعبہ اسکول کے عنوان سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

22/08/2026
برائے یاددہانیکل انشاء اللہ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست
21/08/2026

برائے یاددہانی
کل انشاء اللہ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست

تمام حضرات ضرور شرکت کریں
20/08/2026

تمام حضرات ضرور شرکت کریں

آن لائن مسابقہ قرآن کریمادارہ معارف القرآن عرصۂ دراز سے قرآنِ مجید کی تعلیم و ترویج ،علومِ قرآن کی اشاعت اور مسابق...
16/08/2026

آن لائن مسابقہ قرآن کریم
ادارہ معارف القرآن عرصۂ دراز سے قرآنِ مجید کی تعلیم و ترویج ،علومِ قرآن کی اشاعت اور مسابقاتِ قرآنیہ کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سال ادارہ معارف القرآن کے شعبۂ حفظ کے طلبہ کے درمیان آن لائن مسابقۂ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادارے کی تمام برانچز کے طلبہ نے شرکت کی۔یہ مسابقہ تین مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے میں 82 طلباء نے شرکت کی جن میں سے 31 طلباء دوسرے مرحلے کے لیے منتخب ہوئے جن کے درمیان آنلائن مسابقہ 18 اگست کو ہوگا۔

Address

Paradise Homes, Gulzar E Hijri, Abul Hassan Isphani Road
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara Maarif Ul Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Idara Maarif Ul Quran:

Shortcuts

Share

Category