03/12/2018
سوالات و جوابات
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سوالات و جوابات, Education, Karachi.
03/12/2018
03/12/2018
جمع بین صلاتین کا مسئلہ
مؤلف: آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی دامت برکاتہ
نماز مخلوقات کے لئے خالق سے رابطہ کیلئے بہترین ذریعہ ، تربیت کا بہترین وسیلہ ، تہذیب اور خودسازی کا عالی ترین برنامہ ، برائیوں سے دور رہنے کا موجب اور حق تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور نماز باجماعت مسلمین کی قدرت ، وحدت اور بیداری کی بہترین نمائش ہے۔
نمازدن بھر میں پانچ مرتبہ ادا کی جاتی ہے اسطرح انسان کی روح دائم پروردگار کے چشمہ زلال یعنی نماز سے پاک و صاف ہوتی رہتی ہے ، آنحضرتۖ نماز کو اپنی آنکھوں کی روشنی کہا کرتے تھے : '' قرة عینی فی الصلاة'' ١اور اسے مومنوں کی معراج کا نام دیا کرتے تھے : '' الصلوة معراج المومن '' ؛ ٢جوبارگاہ الہی میں پرہیزگاروں کے تقرب کا باعث ہے :'' الصلاة قربان کل تقی '' ۔ ٣
یہاں پر ہماری بحث پنجگانہ نمازوںکے سلسلہ میں ہے کہ کیا انہیں معین اوقات میں بجالانا ایک واجب ہے کہ جس کے بغیر وہ باطل ہے ( جس طرح کہ وقت سے پہلے نماز کو ادا کرنا اس کے بطلان کا موجب ہے )یا انہیں تین اوقات میں انجام دیا جاسکتا ہے یعنی ظہر وعصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کوایک ساتھ انجام دینا صحیح ہے ؟۔
شیعہ علماء اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے نماز کو تین اوقات میں انجام دینے کو جائز سمجھتے ہیں اگر چہ افضل یہ ہے کہ انہیں ان کے مخصوص اوقات میں انجام دیا جائے ۔
لیکن اہلسنت کے بیشتر فقہاء پنجگانہ نمازوں کو ان کے اوقات میں انجام دینے کو واجب کہتے ہیں ( وہ لوگ صرف عرفات میں روز عرفہ نماز ظہر وعصر کوایک ساتھ اور مشعر الحرام میں عید الضحیٰ کی رات میں نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں اور بیشتر فقہاء نے سفر میں یا بارش کے دوران جماعت کی تشکیل کی زحمت کے باعث دونمازوں کے اجتماع کو جائز قرار دیا ہے )
شیعہ فقہاء کے نزدیک اگرچہ نماز کو ان کے اوقات میں بجا لانا افضل ہے لیکن دو نمازوں کو جمع کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ یہ بندوں کے حق میںایک قسم کی سہولت ہے جو انہیں دی گئی ہے نیز یہ سہولت روح اسلام ( شریعت سمحة و سھلة ) سے سازگار بھی ہے ۔
بلکہ تجربہ نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ پانچ نماز وں کو ان کے اوقات میں بجالانے کی تاکید نماز سے غفلت اور اسے اہمیت نہ دینے کا موجب ہے اور اس تاکید کی وجہ سے بہت سے لوگ نماز سے دور ہوجاتے ہیں ۔
اسلامی سماج میں پنجگانہ اوقات پر اصرار کے آثار
کیوں اسلام نے روز عرفہ اور شب مشعر میں دونمازوں کے اجتماع کی اجازت دی ہے ؟
کیوں اہلسنت کے بیشتر فقہاء نے حدیث نبوی کی روشنی میں سفر اور بارش کے دوران دونمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اجازت امت کی سہولت کی خاطر ہے ۔
اس سہولت کا تقاضا یہ ہے کہ دوسری مشکلات کے سامنے بھی دونمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی جائے اور یہ اجازت کسی خاص زمان سے مخصوص نہیں ہے اس لئے کہ ہمارے دور میں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی بالکل بدل چکی ہے ، کارخانوں اور ادارہ جات میںمیں کام کرنے والے اورکلاسوں میں شرکت کرنے والے طالب علموں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ پانچ وقتوں میں پنجگانہ نمازوں کو ادا کرسکیں ۔
لہذا اگر لوگوں کو پیغمبر اکرم ۖ اور ائمہ علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں دونمازوں کو ایک ساتھ ادا کرنے کی اجازت دی تو وہ اپنے امور کو بھی بخوبی انجام دے سکتے ہیں او ر بروقت نماز کے لئے حاضر بھی ہوسکتے ہیں جو نماز کی صفوں میں افزائش کا باعث ہے وگرنہ صفیں خالی اور نماز کو ترک کرنے والوں کی کثرت ہوجائے گی اسی وجہ سے اہلسنت کے بہت سے جوانوں نے نماز کو ترک کردیا ہے حالانکہ شیعوں کے درمیان نماز کو ترک کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔
حق تویہ ہے کہ '' بعثت الی الشریعة السمحة السهلة '' اور آنحضرت ۖ سے منقول روایات کی روشنی میں پنجگانہ اوقات میں نماز کی ادائیگی کی فضیلت پر تاکید کے ساتھ لوگوں کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ اپنی پنجگانہ نماز وں کو تین وقتوں میں ادا کریں تاکہ زندگی کی مشکلات انہیں نماز کو ترک کرنے پر مجبور نہ کرے ۔
اس کے بعد قرآن مجید ، آنحضرت ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں بحث کو ادامہ دیں گے تاکہ یہ مسئلہ کسی تعصب کے بغیر حل ہوسکے ۔
دونمازوں کے اجتماع پر روایات کی تائید
اہلسنت کے مشہور منابع صحیح مسلم ، بخاری ، سنن ترمذی، موطامالک، مسند احمد، سنن نسائی ،مصنف عبد الرزاق اور دیگر کتابوں میں دونمازوں کے جمع کرنے کے سلسلہ میں کسی سفر یا بارش یا اضطرارکی علت کے بغیرتیس روایتیں نقل ہوئیں ہیں جو پانچ راویوں سے ہیں:
١۔ ابن عباس
٢۔ جابر ابن عبد اللہ انصاری
٣۔ عبد اللہ ابن عمر
٤۔ ابو ہریرہ
٥۔ابو ایوب انصاری
مذکورہ راویوں کی بعض روایات کو ملاحظہ کریں:
١۔ ابوزبیر سعید بن جبیر اور وہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں : '' صلی رسول الله ۖ الظهروالعصرجمیعابالمدینةفی غیرخوف و لاسفر''؛رسول اللہ ۖنماز ظہر و عصر کو کسی خوف اور سفر کے بغیر ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔ ابوزبیر کہتے ہیں : میںنے سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ کیوں پیغمبر ۖ اس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے ؟
سعید نے جواب دیا: میںنے بھی یہی سوال جب ابن عباس سے کیا تو انھوںنے نے جواب دیا:'' اراد ان لایحرج احدا من امته'' ؛ آنحضرت ۖ کی نیت یہ تھی کہ ان کی امت کا کوئی بھی فرد زحمت میں نہ پڑے ۔ ۴
٢۔ ایک دوسری حدیث میں جناب ابن عباس فرماتے ہیں : '' جمع رسول الله ۖ بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فی المدینة فی غیر خوف و لا مطر''؛ آنحضرت ۖ نے مدینہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو کسی بھی خوف اور بارش کے عذر کے بغیر ایک ساتھ ادا کی ۔ جب ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ اس سے آنحضرت ۖ کی مراد کیا تھی ؟تو جواب دیا: '' اراد ان لایحرج ''؛ یعنی آنحضرت ۖ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی امت کا کوئی بھی فرد زحمت میں پڑے ۔ ۵
٣۔عبد اللہ بن شقیق کا بیان ہے : '' خطبنا ابن عباس یوما بعد العصر حتی غربت الشمس و بدت النجوم و جعل الناس یقولون الصلاة الصلاة ! قال فجائه رجل من بنی تمیم لا یفتر ولایتنی : الصلوة الصلوة فقال: ابن عباس اتعلمنی بالسنة ، لاام لک ثم قال : رایت رسول الله ۖ جمع بین الظهر و والعصر والمغرب والعشاء قال عبد الله بن شقیق : فحاک فی صدری من ذلک شیء فاتیت اباهیرة فسالته ، فصدق مقالته ؛
عبدا للہ بن شقیق کہتے ہیں : ایک روزجب ابن عباس نے ہمارے درمیان عصر کے بعد خطبہ کا آغاز کیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے ظاہر ہوگئے تو لوگوں کی آوازیں بلند ہوگئیں ''نماز نماز'' اس کے بعد بنی تمیم کا ایک شخص آیا اور مرتب نماز نماز کہے جارہا تھا ، جناب ابن عباس نے اس سے کہا: کیا تو مجھے پیغمبر ۖ کی سنت کی تعلیم دینا چاہتا ہے ، اے بے بنیاد ! آنحضرت مغرب و عشاء اور ظہر و عصر کو ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے ، عبد اللہ بن شقیق کا بیان ہے : میرے دل میں شک پید اہوا لہذا میں ابوہریرہ کے پاس آیا اور اس سے سوال کیا تو اس نے ابن عباس کی بات کی تصدیق کی !۔ ۶
٤۔ جابر بن زید کا بیان ہے کہ جناب ابن عباس نے فرمایا: '' صلی النبی سبعا جمیعا و ثمانیا جمیعا'' ؛ پیغمبر ۖ نے سات رکعت ایک ساتھ اور آٹھ رکعت ایک ساتھ پڑھی ( جو مغرب و عشاء اور ظہر و عصر کی طرف اشارہ ہے )۔۷
٥۔سعید بن جبیر جناب ابن عباس سے نقل کرتے ہیں : '' جمع رسول الله ۖ بین الظهر والعصر وبین المغرب والعشاء بالمدینة من غیر خوف ولا مطر قال : فقیل لابن عباس: مااراد بذلک ؟ قال : اراد ان لایحرج امته''؛ پیغمبر ۖ نے مدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے نماز ظہر وعصر اور نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھا ، کسی نے جناب ابن عباس سے سوال کیا: اس فعل سے آنحضرت ۖ کی مراد کیا تھی ؟ فرمایا: آنحضرت ۖ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی امت زحمت میں پڑے ۔ ۸
٦۔احمد بن حنبل نے اسی مضمون کی روایت جناب ابن عباس سے اپنی مسند میں ذکر کی ہے ۔ ۹
٧۔ اہل سنت کے معروف امام'' مالک ''اپنی کتاب'' موطا ''میں مدینہ کا تذکرہ نہ کرتے ہوئے جناب ابن عباس سے روایت کرتے ہیں: '' صلی رسول اللہ ۖ الظهر والعصر جمیعا و المغر ب والعشاء جمیعا فی غیر خوف و لاسفر'' آنحضرت ۖ نمازظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو بغیر کسی خوف اور بارش کے ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے ۔ ۱۰
٨۔ کتاب ''مصنف عبد الرزاق '' میں مذکور ہے کہ عبد اللہ ابن عمر نے کہا: '' جمع لنا رسول الله ۖ مقیما غیر مسافر بین الظهر والعصر والمغرب فقال رجل لابن عمر : لم تری النبی ۖ فعل ذلک ؟ لان لا یحرج امته ان جمع رجل ''؛ پیغمبر اکرم ۖ نے اس حال میں نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشا ء کو جمع کیا کہ آپ مسافر نہیں تھے ، کسی نے ابن عمر سے سوال کیا: پیغمبر ۖ کے اس عمل کی علت کیا ہوسکتی ہے ؟ کہا: اگر کسی شخص نے ان نمازوں کو جمع کیا تو ان کی امت کا کوئی فرد زحمت میں نہ پڑے( اور اس پر اشکال نہ کیا جائے ) ۱۱
٩۔جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں : ''جمع رسول الله ۖ بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فی المدینة للرخص من غیر خوف ولاعلة ''؛ رسول اللہ ۖ نے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو جمع کیا تاکہ امت کے پاس بغیر کسی خوف و علت کے ان نمازوں کو جمع کرنے کا جواز رہے ۔ ۱۲
١٠۔ ابوہریرہ کا بیان ہے : '' جمع رسول الله ۖ بین الصلوتین فی المدینة من غیر خوف ''؛ آنحضرت ۖ مدینہ میںدونمازوں کو کسی خوف کے بغیر جمع کیا کرتے تھے ۔ ۱۳
١١۔ عبد اللہ بن مسعود نقل کرتے ہیں : '' جمع رسول الله ۖ بین الاولیٰ والعصر والمغرب والعشاء فقیل له فقال : صنعته لئلا تکون امتی فی حرج '':
آنحضرت ۖ نے مدینہ میں نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو جمع کیا ، جب کسی نے اس کا سبب پوچھا تو فرمایا: میں نے یہ کام اس لئے کیا ہے تاکہ میری امت زحمت میں نہ پڑے ۔ ۱۴
یہاں پر دو سوال کیا جاتا ہے
١۔ مذکورہ احادیث کا نتیجہ
وہ تمام حدیثیں جنہیں ہم نے ذکر کیا ہے اہل سنت کی تمام مشہور کتابوں میں موجود ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی سند معروف صحابہ تک پہنچتی ہے ، یہ سب کی سب دو نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
١۔ آنحضرت ۖ نے دونمازوں کو کسی خوف یا بارش یا سفر کے بغیر پڑھا ہے ۔
٢۔ آنحضرتۖ کا مقصد امت کی آسائش اور ان سے زحمت کو دور کرنا تھا ۔
ان تمام روایات کے ہوتے ہوئے کیاپھر بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونمازوں کو جمع کرنا اضطراری صورت میںجائز ہے ؟ کیوں ہم اپنی آنکھوں کو حقیقت سے چھپالیں اور آنحضرت ۖ کی سنت کے ہوتے ہوئے اپنے نظریات کو برتر سمجھیں؟!
خدا اور اس کے رسولۖ نے بخش دیا ہے لیکن اس امت کے متعصب حضرات بخشنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، آخر کیوں ؟! کیوں وہ نہیں چاہتے کہ ایک مسلمان جوان ہر جگہ اور ہر حال میں ، اسلامی اور غیر
اسلامی ممالک ، آفس اور کارخانوں میں اسلام کا سب سے اہم فریضہ نماز کو آسانی سے ادا کرے؟
ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام تا قیام قیامت ہرزمان ومکان کے لئے ہے اور یہ چیز حتمی ہے کہ آنحضرت ۖ آنے والے مسلمانوں اور زمانوں سے باخبر تھے لہذا اگر مسلمانوں کو پانچ وقتوں میں نماز ادا کرنے کے لئے مقید کردیتے تو پھر نماز ترک کرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ( جیسا کہ آج واضح ہے ) اسی وجہ سے آنحضرت ۖ نے اپنی امت پر کرم کیا تاکہ ان کی امت کے لوگ نماز کو جہاں چاہیں آسانی سے ادا کرسکیں ۔
قرآن مجید فرماتا ہے :( وما جعل علیکم فی الدین من حرج) ۱۵؛ ترجمہ : تمہارے لئے دین میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔
٢۔ قرآن اور نماز کے اوقات
ہم جب قرآن کا دقت سے مطالعہ کرتے ہیں تو ملاحظہ کرتے ہیں کہ خود قرآن مجید نے نماز کے لئے تین وقت بیان کئے ہیں لیکن پھر بھی بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ نماز پانچ وقتوں میں واجب ہے ۔
ہمیں پانچ وقتوں میں نماز ادا کرنے کی فضیلت کا انکار نہیں ہے بلکہ اگرہمیں بھی اتنی فرصت مل جائے کہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کریں تو کبھی بھی دریغ نہیں کریں گے لیکن کیا ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا واجب ہے ؟
قرآن کی پہلی آیت سورہ ہود میں ہے : ( واقم الصلوة طرفی النهار وزلفا من اللیل ) ۱۶ ؛اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصوں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں۔
'' طرفی النہار'' کی تعبیر نماز صبح کی طرف اشارہ ہے کہ جسے اول صبح میں ادا کی جاتی ہے اور نماز ظہرین کا وقت مغرب تک باقی رہتا ہے یعنی نماز ظہرین کے وقت کا مغرب تک باقی رہنا اس آیت سے بخوبی واضح ہے ۔
لیکن '' زلفا من اللیل '' کی تعبیر میں '' زلف'' کا مطلب'' مختار الصحاح '' اور'' کتاب مفردات '' کے مطابق '' زلفة'' کی جمع ہے جو اول شب کے ایک حصہ کے معنی میں ہے یعنی نماز مغربین کی طرف اشارہ ہے ۔
لہذا اگر پیغمبر ۖ نے نماز کو پانچ وقتوں میں ادا کیا ہے تو حتما ًان اوقات کی فضیلت تھی کہ جس کے ہم بھی معتقد ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کی آیت کے ظہور سے صرف نظر کرلیں اور دیگر تاویلات کا سہارا لیں ؟! قرآن کی دوسری آیت سورہ بنی اسرائیل میں ہے : ( اقم الصلاة لدلوک الشمس الی غسق اللیل وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشهودا) ؛ ۱۷
'' دلوک'' مائل ہونے کے معنی میں ہے اور اس آیت میں سورج کا نصف النہار کی لائن سے مائل ہونے کے معنی میں ہے یعنی اس سے مراد زوال ظہر ہے ۔
'' غسق اللیل '' رات کے معنی میں ہے لیکن بعض لوگوں نے اوائل شب اور نصف شب کے معنی کئے ہیں اس لئے کہ '' مفردات '' کے مطابق '' غسق ' ' شدید تاریکی کو کہتے ہیں جس کا نصف شب پر اطلا ق ہوتا ہے ۔
لہذا '' دلوک الشمس'' نماز ظہرین کے وقت کی ابتدا اور '' غسق اللیل '' نماز مغربین کے وقت کے تمام ہونے کی طرف اشارہ ہے اور '' قرآن الفجر'' نماز صبح کی طرف اشارہ ہے ۔
ان دو آیتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز یومیہ کے لئے صرف تین وقت ہیں لہذاانتین اوقات میں نماز کا ادا کرنا جائز ہے ۔
فخر رازی نے اس آیت کی تفسیر میں قابل توجہ نکتہ بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ : '' ان فسرنا الغسق بظهور اول الظلمة ۔ وحکاہ عن ابن عباس عطا وانضر بن شمیل ۔ کان الغسق عبارة عن اول المغرب وعلی هذا التقدیر یکون المذکور فی الآیة ثلاث اوقات وقت الزوال ووقت اول المغرب ووقت الفجر وهذا یقتضی ان یکون الزوال وقتا للظهر والعصر فیکون ھذا الوقت مشترکا بین الصلوتین وان یکون اول المغرب وقتا للمغرب والعشاء فیکون هذا الوقت مشترکا ایضا بین ہاتین الصلوتین فهذایقتضی جواز الجمع بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء مطلقا '' ۱۸ ؛ جب بھی '' غسق'' کے معنی اول شب کی تاریکی کے لئے جائیں گے ۔ جیسا کہ ابن عباس ، عطا اور نضر بن شمیل اسی نظریہ کے قائل ہیں۔ تو اس کا معنی اول مغرب کے ہوں گے لہذا اس آیت میںصرف تین وقتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے : وقت زوال ، وقت اول مغرب اور وقت فجر۔
اس کے بعد اضافہ کرتے ہیں: پس اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ زوال سے مراد نماز ظہرین ہوگی جس میں یہ دونوں نمازیں مشترک ہیں اور اول مغرب سے مرادنماز مغربین ہوگی اور یہ بھی نماز ظہرین کی طرح اول مغرب میں مشترک ہو گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نماز ظہر و عصر کو اور نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کرنا جائز ہو۔
ابھی تک فخر رازی نے انصاف سے کام لیا اور بخوبی مذکورہ آیت کی تفسیر کی لیکن ادامہ دیتے ہوئے کہتے ہیں : چونکہ ہمارے پاس دلیل ہے کہ دونمازوں کو کسی عذر اور سفر کے بغیر جمع کرنا جائز نہیں ہے لہذا اس آیت کو عذر سے مختص قرار دیتے ہیں ۔
لیکن ہم فخر رازی سے یہ کہیں گے کہ اس مدعا کے لئے نہ تنہا کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ ایسی متعدد روایات ہیں جو اس مدعا کے خلاف ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ آنحضرت ۖ نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو کسی عذر کے بغیر ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کے لئے نماز ادا کرنا آسان ہو اور کن اصول کی بنیاد پر مذکورہ آیت کو عذر سے مختص کیا جاسکتا ہے ؟حالانکہ علم اصول کے مطابق تخصیص اکثر جائز نہیں ہے ۔
بہرحال کسی بھی حال میں مذکورہ آیت کے ظہور سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔
نتیجہ بحث
١۔ قرآن مجید نے پنجگانہ نماز کے لئے تین وقتوں کو بیان کیا ہے ۔
٢۔ فریقین کی مروی روایات کے مطابق آنحضرت ۖ نے دونما
زوں کو کسی بھی عذر کے بغیر پڑھا ہے تاکہ امت زحمت سے بچی رہے ۔
٣۔ اگرچہ نماز کو ان کے اوقات میں ادا کرنا فضیلت رکھتا ہے لیکن اس فضیلت پر اصرار اور جوازکے انکار سے بہت سے لوگ مخصوص جوانوں کا طبقہ نماز سے دور ہوجائے گا لہذا ذمہ دار حضرات پر واجب ہے کہ وہ جواز کے منکر نہ ہوں۔
کم ازکم اہل سنت کے علماء اس بات کو مان لیں کہ ان کے جوان اس مسئلہ میں اہل بیت کی فقہ پر عمل کریں جیسا کہ جامعہ ازہر کے عظیم الشان عالم دین، شیخ الازہر ، شیخ محمود شلتوت نے فقہ جعفری پر عمل کرنے کا فتویٰ دیا تھا ۔
ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ آج کے دور میں نماز کو پانچ وقتوں میں اداکرنا کاریگروں ، آفس میں کام کرنیوالوں ، اسٹوڈنٹ اور بہت سے لوگوں کے لئے دشواری کا باعث ہے کیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس مسئلہ میں آنحضرت کے جوازکی پیروی کریں تاکہ لوگوں کو نماز ترک کرنے کا بہانہ نہ ملے ؟!
کیا سنت پر اصرار سے فریضہ کا ترک ہونا صحیح ہے ؟!
حوالہ جات
١۔ مکارم الاخلاق ، ص ٤٦١
٢۔اگر چہ ہمیں اس روایت کی سند نہیں ملی لیکن اس کی شہرت اس حدتک ہے کہ علامہ مجلسی اپنے بیانات میں اس حدیث کے ذریعہ استدلال کیا کرتے تھے ، بحا ر، ٧٩،ص ٢٤٨و ٣٠٣
٣۔ کافی ج ٣ ص ٢٦٥، ح٢٦
۴۔ صحیح مسلم ج ٢ ص ١٥١
۵۔ صحیح مسلم ج ٢ ص ١٥٢
۶۔١۔ صحیح مسلم ج ٢ ص ١٥٢
۷۔صحیح بخاری ج ١ ص ١٤٠ باب وقت المغرب)
۸۔ سنن ترمذی ، ج ١ ص ١٢١ ، ح ١٨٧
۹۔مسند احمد ، ج ١ ص ٢٢٣ ۱
۰۔ موطا مالک ج ١ ص ١٤٤
۱۱۔مصف عبد الرزاق ، ج ٢ ص ٥٥٦
۱۲۔معانی الآثار ، ج ١ ص ١٦١
۱۳۔مسند البزازج ١ ص ٢٨٣
۱۴۔المعجم الکبیر طبرانی ج ١٠ ص ٢١٩، ح ١٠٥٢٥
۱۵۔ حج ٧٨
۱۶۔ھود ١١٤
۱۷۔ اسراء ٧٨
۱۸۔ تفسیر فخر رازی ج ٢١ ص ٢٧
08/05/2018
08/05/2018
07. امام مهدی (عج) کی ولادت اهل سنت کی نظر میں (1) - استاد : محمود حسین حیدری عقیده مهدویت اهل سنت اور شیعه علماء کی نگاه سے, بعض ناپخته ذهن کے مالک لوگوں نے عقیده مهدویت کا انکار کیا هے. ان کے نظریات کی دلیلیں اور ان کے دلیلوں کا قاطع...
موضوع: تحریف قرآن کے قائل کون؟-۱۵
مقرر: حجۃ الاسلام مولانا غلام مرتضی انصاری صاحب
06/05/2018
اہل بیت سے مراد کون حضرات ہیں؟ سورہ ٴمبارکہٴ احزاب میں ارشاد ہوتا ہے:
< إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا> سورہ احزاب ، آیت ۳۳
”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ( اے اہل بیت پیغمبر!) تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔
آیہٴ شریفہ کے پیش نظر ،یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟
روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت پیغمبر اکرم (ص) ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، صرف تفسیر ”الدر المنثور“ میں ۱۸/ حدیث نقل ہوئی ہیں، جن میں سے پانچ روایت امّ سلمہ سے ، تین ابو سعید خدری سے، ایک عائشہ سے، ایک انس سے، دو روایت ابن عباس سے، دو روایت ابی الحمراء سے، ایک روایت وائلہ بن اسقع سے، ایک روایت سعد سے ، ایک روایت ضحاک بن مزاحم سے اور ایک روایت زید بن ارقم سے نقل کی گئی ہے۔ (الدرالمنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۶و ۱۹۹)
جناب علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر ”المیزان“ میں اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی تعداد ۷۰ / تک بیان کی ہے۔۔۔”یہ آیہٴ شریفہ پیغمبر اکرم (ص) ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس میں شامل نہیں ہے“۔(المیزان ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۱۱)
ثعلبی اپنی تفسیر میں ”ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے کہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) کی خدمت میں کھا نالائیں تو آپ نے فرمایا: اپنے شوہر نامدار اور دونوں بیٹوں حسن و حسین (علیہم السلام) کو بھی بلالاؤ، اور جب یہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ میں کھانا تناول کیا اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ان پر اپنی عبا ڈالی اور فرمایا:
”اَللَّھُمَ! إِنَّ ھولاء اٴہلَ بَیتِی وَ عِتْرتِی فَاَذْھِب عَنھُم الرَّجس وطھّرھُم تَطْھِیْراً“
اسی موقع پر آیہ ٴ < إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ> نازل ہوئی ، میں (امّ سلمیٰ) نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ ہوں؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: انکِ إلی خَیرٍ ”تم خیر پر ہو“ (لیکن ان میں شامل نہیں ہو) (علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں مذکورہ آیت کے ذیل میں،اورحاکم حسکانی نے شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۵۶ میں مذ کورہ حدیث کو ذکر کیا ہے)
نیز اہل سنت کے مشہور و معروف عالم دین”ثعلبی“جناب عائشہ سے اس طرح نقل
کرتے ہیں : جب لوگوں نے جنگ جمل اور اس جنگ میں آپ کی دخالت کے بارے میں سوال کیا تو (بہت افسوس کے ساتھ) جواب دیا: یہ ایک تقدیر الٰہی تھی! اور جب حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو کہا:” تساٴلیني عن اٴحبِ النَّاسِ کان إلیٰ رسولِ الله وَ زوجٌ اٴحب النَّاسِ کانَ إلیٰ رسولِ الله، لقد راٴیْت علیاً و فَاطمَة و حسناً وحسیناً و جمع رسول الله بثوبٍ علیھم ثم قال:اللّٰھم ھولاء اٴہل بیتي و حامتي فاذّھب عنھم الرِّجس و طھّرھم تطھیراً، قالت : فقلتُ یا رسولَ الله ! اٴنا من اٴھلک قال تنحّی فَإنَّکِ إلیٰ خَیر“(مجمع البیان ، سورہٴ احزاب آیت ۳۳کے ذیل میں)
”کیا مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے ہو جو پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا ،اور اس کے بارے میں سوال کرتے ہو جو رسول اللہ (ص) کی چہیتی بیٹی کا شوہر ہے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے علی، فاطمہ ،حسن وحسین (علیہم السلام ) کو ایک چادر کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: پالنے والے! یہ میرے اہل بیت اور میرے حامی ہیں ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اوران کو پاک و پاکیزہ قرار دے، اس وقت میں نے کہا: یا رسول اللہ (ص) کیا میں بھی ان (اہل بیت) میں شا مل ہوں تو آنحضرت نے فرمایا: تم یہاں سے چلی جاؤ تم خیر پر ہو (لیکن ان میں شامل نہیں ہو، اس طرح کی حدیثیں صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کہ ازواج پیغمبر اہل بیت میں شامل نہیں تھیں)“۔
۲۔ حدیث کسا بہت ،سی کتابوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے، جن کا مشترک بیان یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کو ایک جگہ جمع کیا (یا یہ حضرات خود آپ کی خدمت میں آئے) پیغمبر اکرم (ص) نے ان
پر اپنی عبا (یا چادر) اڑھائی اور دعا کی: خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ہر قسم کے رجس اوربرائی کو دور فرما، چنانچہ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: < إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا>
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح مسلم ، مستدرک حاکم ، سنن بیہقی، تفسیر ابن جریر اور تفسیرسیوطی الد ر المنثور میں نقل کیا گیا ہے۔( صحیح مسلم ، جلد ۴، صفحہ ۱۸۸۳، حدیث۲۴۲۴، (باب فضائل اہل بیت النبی (ص)
حاکم حسکانی نے بھی ”شواہد التنزیل“ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے(شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۳، حدیث ۳۷۶)
”صحیح ترمذی“ میں بھی یہ حدیث بارہا بیان ہوئی ہے، جن میں سے ایک جگہ ”عمر بن ابی سلمہ“ اور دوسری جگہ ”ام سلمہ“ سے نقل کیا گیا ہے۔( صحیح ترمذی ، جلد ۵، صفحہ ۶۹۹، حدیث ۳۸۷۱، (باب فضل فاطمہ)مطبو عہ احیاء التراث)
ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ”فخر رازی“ نے آیہ مباہلہ (سورہ آل عمران ، آیت ۶۱) کے ذیل میں اس حدیث (حدیث کساء) کو نقل کرنے کے بعد اضافہ کیا ہے:
”وَاعلمْ إنَّ ھٰذِہِ الرِّوایةُ کالمُتَّفقِ عَلیٰ صحتِھا بَین اٴہلَ التَفْسِیرِ وَالْحَدِیثِ“(تفسیر فخر رازی ، جلد ۸، صفحہ ۸۰)
”معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اس روایت کی طرح ہے جوتمام مفسرین اور محد ثین کے نزدیک متفق علیہ ہو“۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ امام ”احمد بن حنبل“ نے اپنی مسند میں اس حدیث کو مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے۔( مسند احمد ، جلد اول، صفحہ ۳۳۰، جلد ۴، صفحہ ۱۰۷ ، اور جلد ۶، صفحہ ۲۹۲ ( نقل از فضائل الخمسة ، جلد اول، صفحہ ۲۷۶)
۳۔ بہت سی روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس آیہ ٴ شریفہ کے نازل ہونے کے بعد چندمہینے تک (بعض روایات میں ۶ مہینے، بعض میں ۸ مہینے اور بعض میں ۹ مہینے ذکر ہوئے ہیں) نماز صبح کے وقت پیغمبر اکرم (ص) جب در ِفاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے گزرتے تھے تو فرمایا کرتے تھے:
”الصلاة! یا اٴہلَ البیتِ! < إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا>
”اے اہل بیت نماز کا وقت ہے، خداوندعالم کا ارادہ ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس اور برائی کو دور رکھے اور ایسا پاکیزہ قرار دے جیسا پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“!
اس حدیث کو مشہور و معروف مفسر حاکم حسکانی نے اپنی تفسیر ”شواہد التنزیل“ میں ”انس بن مالک“ سے نقل کیا ہے۔( شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۱۱، ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ ،۹۲ ،(توجہ کریں کہ شواہد التنزیل نے اس روایت کو متعدد طریقہ سے نقل کیا ہے)
اسی مذکورہ کتاب میں ایک دوسری حدیث کے ضمن میں ”سات مہینے“ کی روایت ”ابی الحمراء“ سے نقل کی ہے،(یعنی پیغمبر اکرم (ص) سات مہینے تک درِ فاطمہ پر آکر مذکورہ جملے فرمایا کرتے تھے)
نیز اسی کتاب میں آٹھ مہینے کی روایت ”ابو سعید خدری“ سے نقل کی گئی ہے۔( شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۲۸ واحقا ق الحق، جلد ۲، صفحہ ۵۰۳ سے ۵۴۸ تک)
قار ئین کرام! مدت میں فرق ہونا کوئی اہم بات نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ انس نے چھ ماہ، ابوسعید خدری نے آٹھ ماہ اور ابن عباس نے نو ماہ تک اس چیز کا مشا ہد ہ کیا ہو(الدر المنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۹)
جس نے جتنی مدت دیکھا ہے اسی اعتبار سے نقل کیا ہے حالانکہ ان کی روایت میں کوئی دوسرا اختلاف نہیں ہے۔
بہر حال اتنی مدت تک پیغمبر اکرم (ص) کا ہر روز اسی عمل کی تکرار کرنا ایک طے شدہ مسئلہ تھا، کیونکہ آنحضرت (ص) اپنے اس عمل سے یہ بات بالکل واضح کرناچاہتے تھے کہ ”اہل بیت“ سے مراد صرف اس گھر کے رہنے والے ہیں، تاکہ آنے والے زمانہ میں کسی کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، اور یہ باتسب کو معلوم ہوجائے کہ یہ آیت صرف اور صرف ان حضرات کی شان میں نازل ہوئی ہے، لیکن واقعاً تعجب کی بات ہے کہ اس قدر تاکید کے باوجود بھی بعض لوگوں کے نزدیک یہ مسئلہ واضح نہ ہوسکا، کیا واقعاً یہ تعجب کا مقام نہیں ہے!!
خصوصاً جب مسجد النبی (ص) کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرادئے گئے ،صرف پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی علیہ السلام کے دروازے کھلے رہے (کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمان جاری کیا تھا کہ ان دو دروازوں کے علاوہ تمام دروازے بند کردئے جائیں)
یہ بات واضح ہے متعدد افراد پیغمبر اکرم (ص) کی زبان مبارک سے یہ کلمات سنتے ہوں گے، لیکن پھر بھی بعض مفسرین یہ کوشش کرتے ہیں کہ آیت کے معنی میں وسعت کے قائل ہوجائیں تاکہ ازواج پیغمبر کو بھی شامل کرلیا جائے، کیا یہ تعجب کا مقام نہیں ہے، اور جیسا کہ ہم نے عرض بھی کیا کہ تاریخی شواہد کے مطابق خود حضرت عائشہ پیغمبر اکرم (ص) سے متعلق اپنے تمام فضائل کو بیان کرنے سے نہیں کتراتی تھیں بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی بیان کردیا ہے، وہ خود کو اس آیت میں شامل نہیں جانتی، بلکہ وہ خود کہتی ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے مجھ سے فرمایا: ”تم اس آیت میں شامل نہیں ہو“!
۴۔ وہ متعدد روایات جو پیغمبر اکرم (ص) کے مشہور و معروف صحابی ابوسعید خدری کے ذریعہ نقل ہوئی ہیں اور آیہٴ تطہیر کی طرف اشارہ ہیں، ان میں واضح طور پر بیان ہوا :”نَزلَتْ فِی خَمسةٍ فِی رَسولِ اللهِ وَ عَليّ وفاطمة والحَسنِ وَالحُسَینِ علَیھُمَ السّلام“(شواہد التنزیل میں اس سلسلے میں چار حدیثیں موجود ہیں ،جلد ۲، صفحہ ۲۴ سے ۲۷ تک (حدیث ۶۹۵ و۶۶۰ و۶۶۱ و۶۶۴)
”یہ آیہٴ شریفہ رسول خدا،مولائے کائنات،فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حسنین علیہما السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے“
المختصر:
آیہٴ تطہیرکی شان ِنزول کے سلسلہ میں بیان ہونے والی وہ احادیث جو پیغمبر اکرم ، حضرت علی علیہ السلام، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہیں، اور یہ احادیث اسلامی معتبر کتابوں میں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو متواتر حدیثوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور اس لحاظ سے ان میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، یہاں تک کہ کتاب شرح احقاق الحق میں (شیعہ منابع کے علاوہ) خوداہل سنت کی مشہور و معروف ۷۰/ معتبر کتابوں سے اس حدیث کو نقل کیا گیا ہے، اس کے بعد صاحب کتاب فرماتے ہیں: ”اگر ان تمام منابع و مدارک کو جمع کیا جائے تو ان کی تعداد ہزار سے بھی زیادہ ہوجائے گی“۔
(اقتبا س از جلد دوم احقاق الحق ، صفحہ ۵۰۲ تا ۵۶۳ ۔ تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹ ،صفحہ ۱۳۷)
آیت تطیہر پوری لکھو اور پڑھو شائد تم لوگوں کو ہدائت مل جائے صرف آخری لائن لکھتے اور پڑھتے ہو کچھ اللہ کا خوف کرو آیت تطہیر صرف اور صرف ازواج نبی کے لئے آئ ہے۔ ازواج نبی قرآن کی رو سے اہل بیت ہیں اور یہ حضرات حدیث کی رو سے اہل بیت ہیں ۔ الحمدا للہ اہل سنت۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں کوئ تفریق نہیں کرتے۔ ازواج نبی قرآن کی رو سے امہات المونین ہیں یعنی مومنوں کی مایئں ہیں ۔ مومن وہی ہو گا جو ازواج نبی کو اپنی ماں تسلیم کرے گا اور ان کا ویسا ہی احترام کرے گا جیسا اپنی اس ماں کا کرتا ہے جس نے اسے جنم دیا ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرتا وہ نہ مسلمان ہو سکتا ہے نہ مومن۔
اہل بیت اطہار سے مراد کون افراد ہیں؟
فریقین کی تاریخ ؛تفسیر ؛ اور حدیث کی کتابوں دسویں روایات آیہ تطہیر کی ذیل میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہیں جن میں آنحضرت ؐ آہل بیت اطہار سے مراد : رسالت مآب ؛ علی ؑ فاطمہ ؑ اور حسنؑ وحسینؑ مراد ہیں اور یہ آیہ مبارکہ انہی ذوات مقدسہ کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔
جیساکہ محمد بن مسلم نے صحیح مسلم میں جناب عائشہ سے (حدیث نمبر ٦١(٢٢٢٤)اور جناب ترمذی نے سنن میں عمر بن ابی سلمہ اور ام سلمہ سے (حدیث /٣٨٧٥۔٣٧٩٣)اس حدیث کو نقل کیا ہے ؛ام سلمہ کہتی ہے: پیغمبر اکرم ؐ نے علیؑ فاطمہؑ اور حسنؑ وحسین ؑ کے بارے میں؛ خصوصیت کے سا تھ تین مرتبہ فرمایا :اللہم ہؤلاء أہل بیتی و خاصتی فأذہب عنہم الرجس و طہرہم تطہیرا قالہا ثلاث مرات، پروردگارا ! یہ میرے اہلبیت ؑاور خاص افراد ہیں؛ انسے ہر قسم کی ناپاکی کو دور فرما ! فقلت: یا رسول اللہ ألست من أہل البیت؟ میں عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا
میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں ؟ فقال: إنک إلی خیر أنت من أزواج رسول اللہ : فرمایا تم اچھائی پر ہو تم رسول اللہ کی زوجہ ہو ۔ ( کبیر مدنی، سید علی خان بن احمد، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سیّد الساجدین، 7جلد، دفتر انتشارات اسلامی - ایران ؛ قم، چاپ: اول، 1409ق (تفسیر ابن کثیر: ج 5 ص 455 .)
اسی طرح جناب طبرانی نے المعجم الکبیبر ج/٣ ص/٥٣ /حدث نمبر / ٣٦٦٢) میں ام سلمہ اورحدیث نمبر /١٧٦٢)میں انس بن مالک اور حدیث نمبر/٣٧٦٢ ) میں ابوسعید خدری سے گزشتہ مضامیں میں اسی حدیث کو نقل کیا ہے ۔
جبکہ جناب سیوطی (الدرر المنثور ج/٥ص/ ٩٩١ میں ابن عباس اور ابو الحمراء دونوں سے اضافہ کرتے ہوے اس طرح نقل کیا ہے : کان رسول اللہ ص یجیء عند کل صلاۃ فجر- فیأخذ بعضادۃ ہذا الباب، ثم یقول: السلام علیکم یا أہل البیت و رحمۃ اللہ و برکاتہ :کہ پیغمبر اکرم ؐ نو مہینہ تک جب بھی نماز صبح کے لیے مسجد تشریف فرماتے تھے تو پہلے سیّدہ ؑ کے دروازے پر جاتے اور دستک دینے کے بعد فرتاتے : السلام علیکم یا ہل البیت ورحمۃ اللہ ۔۔۔ اور پھر آیت تطہیر کی تلاوت کرتے ( شواہد التنزیل لقواعد التفضیل / ج2 /ص ٧٤ و ٤٤)
اب فریقین کے برجتہ تریں علماء نے اتنی ساری روایات مختلف راستوں سے پیغمبر اکرم ؐ سے نقل کے کے بعد اورام المومنین ام سلمہ کو عملاًایت تطہیر کی دائرے سے نکال کر اس آیہ مبارکہ کی مصداق کو پنجتن پاک کے ساتھ حصر کرنے کے بعد وحدت سیاق سے تمسک لینا یا امھات المومنیں کو اہل بیت اطہارؑ کے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی کوئی معنی رکھتا ہے ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi