07/08/2026
وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ تعلیم سندھ اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سے مؤدبانہ اپیل
سندھ کے سرکاری اسکولوں کے نئے اوقاتِ کار پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے سابقہ ٹائمنگ بحال کی جائے۔
وجوہات:
🕌 دوپہر 2:30 بجے چھٹی ہونے کی وجہ سے اساتذہ کے لیے نمازِ ظہر بروقت اور باجماعت ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ بعض دنوں میں اسی وقت کے آس پاس نمازِ عصر کا وقت بھی شروع ہو جاتا ہے۔
🕌 جمعہ کے دن 1:00 بجے چھٹی کے باوجود کئی علاقوں میں نمازِ جمعہ 1:15، 1:30 یا اس کے بعد ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے اساتذہ بروقت مسجد نہیں پہنچ پاتے۔
📖 بہت سے طلبہ اسکول کے بعد مدرسے جاتے ہیں۔ 2:30 بجے چھٹی ہونے کی صورت میں وہ تقریباً 3:00 بجے مدرسہ پہنچتے ہیں اور شام دیر سے گھر واپس آتے ہیں، جس سے ان کی دینی تعلیم، آرام اور گھریلو معمولات متاثر ہوتے ہیں۔
امید ہے کہ حکومتِ سندھ، وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ تعلیم اور سیکریٹری تعلیم اساتذہ، طلبہ اور والدین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ اسکول ٹائمنگ بحال کرنے پر غور کریں گے۔