09/09/2025
پہاڑ ٹوٹ بھی جائیں تو حوصلے نہ ٹوٹیں گے
❣اگر نظریہ مضبوط ہو تو راستے خود کھلتے ہیں
قرآن و حدیٽ کی تعلیمات اور روحانی علاج بھی کیا جاتا ہےتڑپتی سسکتی انسانیت کے لیے سکون کا
مرکز آئیے
09/09/2025
پہاڑ ٹوٹ بھی جائیں تو حوصلے نہ ٹوٹیں گے
❣اگر نظریہ مضبوط ہو تو راستے خود کھلتے ہیں
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھی تو ہو❣
17/08/2025
`طوفان ، محض قدرتی ہی نہیں ...`
ہم صدیوں سے سمجھتے آئے ہیں کہ بارش، دھوپ، آندھی اور طوفان محض قدرتی عمل ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں برسوں سے آسمانوں کے موسم کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے پر کام کر رہی ہیں۔ کہیں بادلوں کو مصنوعی طور پر پیدا کیا جاتا ہے، کہیں ان کا پیٹ پھاڑ کر پانی برسا دیا جاتا ہے، کہیں طوفان کی رفتار کم کی جاتی ہے، اور کہیں خشک سالی مسلط کر دی جاتی ہے۔ عوام کے سامنے اسے سائنسی تجربہ یا زرعی ضرورت کا نام دیا جاتا ہے، لیکن پسِ پردہ یہ جنگ کا ایک نیا ہتھیار ہے۔ 1960 کی دہائی میں امریکہ نے ویتنام کی زمین کو کیچڑ میں بدل کر فوجی راستے مسدود کیے، روس نے چرنوبل کے تابکار بادل ماسکو سے دور برسا دیے، چین آج تبتی سطح مرتفع پر اتنا بڑا منصوبہ چلا رہا ہے کہ پورے ایشیا کے موسم پر اثر پڑے گا۔ اور ہارپ جیسے پروجیکٹس، جنہیں آئنوسفیئر کی تحقیق کہا گیا، ان پر یہ الزام ہے کہ یہ موسم بدلنے، بادل پھاڑنے اور زمین ہلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے آسمان میں کیمیائی لکیریں چھوڑ کر بارش کو روکنے یا لانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اور قومیں اس کھیل کی بس تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ترقی اور تحقیق کے لیے ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز سیاسی ہتھیار بن چکی ہیں۔ دشمن کو گولی چلائے بغیر تباہ کرنے کا سب سے آسان راستہ ہے کہ اس کا موسم اس کے خلاف کر دو۔ ایک دن قحط، دوسرے دن سیلاب، ایک طرف خشک کھیت، دوسری طرف پانی میں ڈوبے شہر۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھتے کہ جنگ صرف بندوق اور توپ سے نہیں بلکہ بادلوں اور بارش سے بھی لڑی جا سکتی ہے، ہم اس فریب میں جیتے رہیں گے کہ قدرتی آفات واقعی قدرتی ہیں۔ قوم کو جاگنا ہوگا، ورنہ ہمارے آسمانوں پر بھی کوئی اور قابض ہو جائے گا اور ہم نیچے صرف پانی یا خاک میں ڈوبے اپنی بربادی دیکھتے رہیں گے۔
16/08/2025
"بااختیار اور باوقار لوگ عقاب کی مانند ہوتے ہیں، جو ہمیشہ تنہا پرواز کرنا پسند کرتے ہیں۔"
عقاب ایک ایسا پرندہ ہے جو اپنی بلند پروازی، خودداری اور تنہائی پسند طبیعت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح طاقتور، صاحبِ بصیرت اور باکردار لوگ اکثر بھیڑ سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنی راہ خود متعین کرتے ہیں، اپنے فیصلوں کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ تنہائی میں سکون اور ارتقاء تلاش کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بلندی کا راستہ ہمیشہ الگ اور تنہا ہوتا ہے۔
عظمت ہمیشہ ہجوم میں نہیں، بلکہ انفرادیت اور تنہا
جدوجہد میں پنہاں ہے۔
معاویہ خان
15/08/2025
اللّٰهُمَّ احْفَظْ بِلادَنَا وَبِلادَ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْهَا آمنَةً مُطْمَئِنَّةً، وَادْفَعْ عَنْهَا كُلَّ سُوءٍ وَفِتْنَةٍ، وَارْزُقْ أَهْلَهَا رِزْقًا طَيِّبًا، وَوَفِّقْنَا لِخِدْمَتِهَا فِي طَاعَتِكَ.
اے اللہ! ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، انہیں امن و سکون والا بنا، ہر قسم کے نقصان اور فتنے سے بچا، اس کے باسیوں کو پاکیزہ رزق عطا فرما، اور ہمیں اس کی خدمت تیری اطاعت میں کرنے کی توفیق دے۔
اللہم آمین 🤍🇵🇰
15/08/2025
❣😍
15/08/2025
آج جمعة المبارک ہے سورہ کہف پڑھنا نہ بھولیۓ گا
09/08/2025
نشرِمکرر
المیہ یہ ہے کہ ٪99 موجودہ مسلمان نسل جانتی ہی نہیں کہ بنی اسرائیل کی سرخ گائے کی قربانی، مسجد الاقصیٰ کا شہید ہونا، تابوتِ سکینہ، ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور دجال کے آنے میں کیا تعلق ہے؟
اور اکثریت تو اس بات کو محض افواہ سمجھ رہی ہے تو سب سے پہلے عوام کو چاہیئے کہ درج ذیل باتیں جان لیں، تاکہ مکمل بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
#ہیکلِ_سلیمانی
مختصر یہ کہ ہیکلِ سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی، جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی۔ تاکہ لوگ اس کی طرف مُنہ کر کے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
حضرت سلیمان کی وفات کے بعد اس کے تین حصّے کر دیئے گئے۔ بیرونی حصّے میں عام لوگ عبادت کرتے، دوسرے میں علماء، جو کہ انبیاء کی اولادوں میں سے ہوتے اور تیسرے حصّہ جسے سب سے مقدس سمجھا جاتا تھا، وہاں تابوتِ سکینہ کو رکھا گیا۔ جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی، سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
پھر وقت گزرتا رہا، اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ہوتے رہے۔ یہ قوم بد سے بدتر ہوتی رہی، اور یہ کسی بھی طرح اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
یہ ایک جانب عبادتیں کِیا کرتے، دوسری جانب اللّٰہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللّٰہ پاک ناراض ہو گئے۔ ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیاء بھی بھیجے گئے، لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی۔ حتٰی کہ ان کی شکلیں تبدیل کر کے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں۔ لیکن یہ گناہوں سے باز نہ آئے، تب اللّٰہ نے ان پر لعنت کر دی۔
ہیکلِ سلیمانی کو دو مرتبہ مختلف بادشاہوں کے ہاتھوں منہدم کیا گیا۔ جس کی اب ایک دیوار بچی ہے، جسے “دیوارِ گریہ” کہتے ہیں۔ جہاں یہ یہودی جا کر آہ و زاری (عبادت) کرتے ہیں۔
#تابوتِ_سکینہ
روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، اسے “شمشاد” کہتے ہیں۔ جسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیاء سے ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تھا۔ اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصاء، من و سلویٰ، اور دیگر انبیاء کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ہر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے۔ مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے، اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔
۵٨٦ ق۔ م میں بخت نصر نے ہیکل تباہ کر کے تابوتِ سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توہین سے بچانے کے لئے اسے اللّٰہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا۔ جس کا کسی انسان کو علم نہیں، (لیکن اب یہودی اس کی تلاش میں پورے کرۂِ اَرض کو کھود ڈالنا چاہتے ہیں)۔
کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوا، اللّٰہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسبِ معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ کے مصلوب ہونے کے ۷٠ سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللّٰہ کا عذاب نازل ہوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔
یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ہیروڈس کے بنائے ہوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
جس کے بعد یہودی پوری دُنیا میں رُسوا و ذلیل ہو کر رہ گئے۔ لیکن اپنی ازلی فطرت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اب یہ مزید گِری ہوئی حرکتوں پر اْتر آئے ہیں، جو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
اسرائیلیوں کی جانب سے ریڈ ہیفر کی قربانی کی خبریں انٹرنیٹ پر ٹرینڈ کر رہی ہیں، اس معاملے پر سوشل میڈیا کا کیا موقف ہے۔
غالباً 29 مارچ کو اسرائیلی دجال (جھوٹے مسیحا) کو بلانے کے لیے ایک سرخ گائے کی قربانی دیں گے، اس کے کچھ وقت کے بعد وہاں تھرڈ ٹیمپل (ہیکلِ سلیمانی) کو تیسری مرتبہ مسجد اقصٰی کو شہید کر کے تعمیر کیا جائے گا اور اسی طرح 8 اپریل کو مکمل سورج گرہن کی خبریں بھی سُننے میں آئی ہیں۔
“صدیوں پر محیط سرخ ہیفر کی قربانی”
سرخ گائے کی قربانی یہودی روایت میں ایک اہم رسم ہے۔ یہودی قانون کے مطابق موسیٰ کے زمانے سے لے کر اب تک صرف نو سرخ گائے کی قربانی دی گئی ہے۔ سرخ گائے کی راکھ کو پاک کرنے کی رسم میں استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ قربانیاں صدیوں پر محیط ہوئیں، ان کے درمیان اہم فرق تھا۔ دسویں سرخ گائے کا یہودی روایت کے مطابق انتظار کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یروشلم میں تیسرے ہیکل کی دوبارہ تعمیر سے منسلک پاکیزگی کی رسومات کے لیے ضروری ہے۔
وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
یہ قربانی 2000 سال کے بعد ہو رہی ہے۔ بنیادی طور پر جب یہودی مقدس ہیکل کی تعمیر کرتے ہیں تو وہ تعمیر کے آلات کو پاک کرنے کے لیے سرخ گائے کی راکھ کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ کیا سبب بن سکتا ہے؟
یہ مقدس تورات کے مطابق اختتامی اوقات کا آغاز ہے۔ سلسلہ ایسے چلتا ہے۔۔۔
1۔ سرخ گائے کی قربانی
2۔ اوزار کو صاف کریں
3۔ الاقصٰی کو مسمار کرنا
4۔ تیسرے مندر کی تعمیر
5۔ جھوٹے مسیحا کی آمد
6۔ امام مہدی کی آمد
7۔ عیسٰی کی آمد
8۔ قیام
سرخ گائے کی قربانی اس سال کے وسط تک ہو گی (مارچ کے آخر تک جون تک) اس کی جلد، گوشت، خون اور ہڈی سمیت تمام سامان کو جلا کر پاک پانی میں ملا دیا جائے گا اور پھر وہ پانی جسم کو پاک کر دے گا۔ پادری قربانی کر رہا ہے، جس کے بعد اسے تیسرے ہیکل کی بنیاد کے اِرد گِرد سات بار چھڑکایا جائے گا۔ یہ مسیح کے دور (دجال کے دور) کا استقبال کرے گا۔
یہ قربانی زیتون کے پہاڑ پر کی جانی ہے، جو کیدور وادی کے راستے مندر میں شامل ہوتی ہے۔
جیسے ہی یہ ہو گا تو اس کے کچھ وقت کے بعد الاقصٰی کو شہید کر دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں امام مہدی کا ظہور ہو گا۔
#دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا، اس کا تعلق یہودی خاندان سے ہو گا۔ اسے عام طور پر ایک آنکھ کا اندھا بتایا جاتا ہے اور اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” لکھا جائے گا۔ وہ یروشلم کو فتح کر کے پوری دنیا کا سفر کرے گا، مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر۔
ایک جھوٹے مسیحا کے طور پر، بہت سے لوگ اس کے فریب میں آ کر اس کی صفوں میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کی مدد شیاطین کی فوج کرے گی۔ اس کی مرضی کے سب سے زیادہ قابل اعتماد حمایتی یہودی ہوں گے، جن کے لیے وہ خدا کی مانند ہو گا۔ اس کی واپسی پر بہت سے کمزور ایمان والے لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔
کی پہلی 10 اور آخری 10 آیات ہمیں دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اسے روزانہ پڑھنے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ برائے مہربانی اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ ہماری اُمت کا سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور بہت سے لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ براہِ کرم اس کے بارے میں جانیں اور اپنا ایمان بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ دجال ہمارے ایمان سے کھیلنے والا ہے۔
اللّٰہ مسجد اقصٰی اور فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ اللّٰہ ہم سب مسلمانوں میں اتحاد قائم کرے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
(آمین یارب العالمین بجاہ)
09/08/2025
✨اللّہ رب العزت نے فرمایا:
اگرمیں نے تمام چیزیں قسمت میں لکھی ہوتیں ۔ تو میں اپنے بندوں کو دعا مانگنا نہ سکھاتاـ اسلیۓ ناممکن کو ممکن بنانے والی صرف ایک چیز ہے اور وه ہے ـ " دعا "۔
مانگو اپنے اس رب سے جو تمھیں تمھاری سوچ سے بھی زیاده دے سکتا ہے۔
اللّہ
ہماری دعاؤں کو ہمارے حق میں بہترین طریقے سے قبول و منظور فرمائے
آمین یا رب العالمین✨💚
09/08/2025
جُنید بغدادی کہتے ہیں
ایک دن میرے اُستاد نے کہا تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں انہیں کٹوا کے آنا۔
میری جیب میں پیسے نہیں تھے.
حجام کی دُکان پر پہنچا تو وہ گاہک کے بال کاٹ رہا تھا۔
میں نے کہا:
"اے بزرگ! اللّٰه کے نام پہ بال کاٹ دو گے؟"
یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کو چھوڑ دیا:
کہنے لگا:
"پیسوں کے لیے تو روز کاٹتا ہوں، اللّٰه کے لیے آج کوئی آیا ہے۔"
حجام روتا تھا اور بال کاٹتا جاتا۔
جنید بغدادی کہتے ہیں
میں نے سوچا کہ زندگی میں جب کبھی پیسے ہوئے تو اس کو ضرور دوں گا۔
عرصہ گزر گیا جنید بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔
ایک دن اسی حجام سے ملنے کے لیے گئے،
واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔
حجام کہنے لگا:
"جُنید تو اتنا بڑا صوفی ہوگیا،
تجھے اتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللّٰه کے لیے کیا جائے
اس کا معاوضہ مخلوق سے نہیں لیتے۔۔!"
08/08/2025
میری اماں بہت ہی پیاری معصوم اور بہت مثبت خاتون تھیں ۔ چالیس سال سوکنوں کے ساتھ اکٹھی رہیں لڑائی تو بہت دور کی بات ہے کبھی کسی کی بات پہ منہ تک نہ بنایا ۔ میں پورے دعوے سے کہتی ہوں میری والدہ نے اپنی زندگی میں کسی سے لڑائی نہیں کی ۔
میرا پورا ننھیال اسی قدر شریف النفس معصوم اور خیر خواہ لوگوں پہ مبنی ہے ۔ ہم نے کبھی نیگٹو بات اماں کے منہ سے سنی ہی نہیں ۔
اماں کے کچھ جملے کانوں میں گونجتے ہیں تو سوچتی ہوں جب ہماری پیاری ماں نے کسی کے لیے کچھ برا کہا ہی نہیں تو ہم کہاں سے سیکھتے ۔
ہمارے گاؤں میں قتل ہوگیا ۔ مقتول اماں کے رشتےدار تھے ۔ کسی نے قاتل کو برا بھلا کہا اماں نے کہا اللہ اسے ہدایت دے اپنی زندگی بھی تو اجاڑ بیٹھا ۔ اسکے بیوی بچے رل جائیں گے ۔ ہم نے نہیں سنا اماں نے کسی کی بدخواہی کی کسی کو برا کہا کسی کے لیے برے الفاظ استعمال کیے ۔ قاتل تک کے لیے تو دعا گو رہیں کہ وہ مغفرت مانگ لے اللہ سے ۔
نانا کی جائیداد کے کچھ حصے پہ انکے چچا کے بیٹوں نے قبضہ کر لیا۔ ہماری اماں خالہ اور ماموں نے جرگہ بٹھایا انھوں نے جھوٹی قسم کھالی انھوں نے فٹ سے بات ختم کردی کہ ہم اب یہ جائیداد کبھی نہیں لیں گے ۔ بھلے انھوں نے جھوٹی قسم کھائی لیکن جب اللہ کو بیچ میں لے آئے تو ہم نے سب چھوڑدیا ۔ ہزاروں گواہان موجود تھے پراپرٹی کا کاغذ تھے آج بھی ہیں لیکن انھوں نے آئندہ اسکا نام نہیں لیا ۔
کبھی ہم نے شکایت کی کہ اماں فلاں نے برا کہہ دیا تو کہتیں کونسا تمھارے ساتھ لگ گیا ۔ جانےدو درگزر کردو ۔
ہم نے اپنی ساس کی شکایت کی ڈانٹ دیا کہ بیٹے سے محبت کرو تو اسکے پیاروں سے بھی کرو اور محبت میں انسان بہت کچھ سہہ لیتا ہے ۔ پھر کبھی کسی کی شکایت نہ کی ۔
میں اپنی والدہ کی فیاضی نرمی ایثار کے متعلق لکھوں تو کتابیں لکھ دوں ۔
کتنے دن سے اس سوچ میں گرفتار ہوں کہ جب کسی برے کو بھی برا کہنے کی ہماری ہمت نہیں ہوتی تو کیوں ۔
کیونکہ ماں کہتی تھی غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ۔ لوگوں کے گناہ وثواب پہ تم داروغہ نہیں ہو ۔ چور کی سزا بھی عدالت کےذمے ہے تمھارے نہیں تو اپنی زبان گندی مت کرنا ۔
ماں کے سکھائے سبق کبھی نہیں بھولتے ۔ مجھے بھی نہیں بھولتے ۔ کوئی کہے کہ یہ سبق غلط ہیں ۔ لوگوں کے گریبان پہ ہاتھ ڈالو تو بھی میں نہیں ڈالونگی۔ کیونکہ اپنی ماں کو غلط کہنا مشکل امر ہوتا ہے ۔
منقول
08/08/2025
مریضم یا رسول الله ﷺ مریضم
علاجِ دردِ دل اے چارہ گر کُن
ببر ایں جانِ مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہِ خیر البشر ﷺ کُن
ترجمہ: یا رسول الله ﷺ میں مریضِ عشق ہوں اور آپ ﷺ ہی میرے طبیب (معالج) ہیں، میرے دردِ دل کا بھی علاج ہو جائے، میری جان یہ اشتیاق رکھتی ہے (مشتاق ہے) کہ جا کر روضہ خیر البشر ﷺ پر فدا ہو۔