Mufti Sufyan Buland

Mufti Sufyan Buland Mufti, Trainer, Counselor, Consultant, Motivational Speaker & Shariah Advisor for Commerce & Halal.
(4)

26/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 014: Abdul Muttalib Aur Akhlaq-e-Hasana Ki Taleem
🎙️ Mufti Sufyan Buland
عبدالمطلب کی زندگی سے اخلاقِ حسنہ، مہمان نوازی، سخاوت، حیا، شرافت اور دیگر اعلیٰ اوصاف کے اہم اسباق کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

24/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 013: Abdul Muttalib Kon Thay?
🎙️ Mufti Sufyan Buland
عبدالمطلب کون تھے، ان کا اصل نام کیا تھا، خاندانِ نبوت ﷺ میں ان کا کیا مقام تھا اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا کیا تعلق تھا؟ عبدالمطلب کی شخصیت، حالات اور اہم واقعات کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

*🎯 ملاقاتیں جاری رکھیں، بدگمانیاں دور کریں!*آج مبلغِ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کی اقتداء میں نمازِ م...
21/09/2026

*🎯 ملاقاتیں جاری رکھیں، بدگمانیاں دور کریں!*

آج مبلغِ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کی اقتداء میں نمازِ مغرب ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، عصر تا مغرب حضرت والا دامت برکاتہم سے ملاقات اور کچھ دیر مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا، چند احباب بھی ملاقات کے لئے پہنچے ہوئے تھے، اس لئے کافی اچھی، سنجیدہ اور صحت مند گفتگو رہی، ایسی مجالس میں اصل لطف صرف ملاقات کا نہیں ہوتا بلکہ کسی بڑے کی قربت میں بیٹھنے، ان کے اندازِ گفتگو، مزاج، شفقت اور فکر کو قریب سے محسوس کرنے کا بھی ہوتا ہے۔
یہ مجلس ختم ہوئی تو ایک بات پھر دل میں یہ بات تازہ ہوگئی کہ بڑوں کو سمجھنے کے لئے ان کے قریب بیٹھنا ضروری ہے، ان کے ساتھ نشست و برخاست ضروری ہے۔
پہلے لوگ بڑوں کی خدمت میں جاتے تھے، ان کی مجلس میں بیٹھتے تھے، ان کی گفتگو سنتے تھے، ان کی صحبت اٹھاتے تھے، ان کے مزاج کو سمجھتے تھے اور پھر ان سے فیض پاتے تھے، اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چند سیکنڈ کی کوئی کلپ، کوئی مختصر ویڈیو یا سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ کو دیکھ کر ہم ایک شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں، حالانکہ جب تک آپ کسی کی مجلس میں کچھ وقت نہ بیٹھیں، اس کی صحبت نہ اٹھائیں، اس کے قریب نہ رہیں اور اسے مختلف حالات میں نہ دیکھیں، آپ اس کے بارے میں مکمل اور درست رائے کیسے قائم کرسکتے ہیں؟
سوشل میڈیا رابطہ کاری کا ذریعہ تھا، ہم نے اسے اصل رابطہ سمجھ لیا۔
یہ معلومات کے تبادلے کا ذریعہ تھا، ہم نے اسے پرکھنے کا آلہ سمجھ لیا۔
یہ باہمی ملاپ کا ذریعہ تھا، ہم نے اسے رد و قدح کا میدان بنا لیا۔
کل نکاح کے بعد مولانا صاحب دامت برکاتہم کی زیارت کے لئے جو ہجومِ عاشقاں تھا، اسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں میں ان کی محبت کے جو چراغ روشن فرمائے ہیں، وہ آج بھی اسی طرح روشن ہیں، یہی کیفیت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور امت کے دیگر اکابرین کے ساتھ بھی ہے، لوگ ان سے بالمشافہہ ملنے کو ترستے ہیں ولو کره الحاسدون!
چند ناقص کلپس، ادھوری گفتگو یا سیاق و سباق سے کٹی ہوئی ویڈیوز دیکھ کر کسی بزرگ، عالم یا دینی شخصیت کے بارے میں بدگمانی قائم کرلینا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے، ایک کلپ آپ کو ایک جملہ دکھا سکتی ہے، مگر ایک مجلس آپ کو ایک شخصیت سمجھا سکتی ہے۔
اس لئے کلپس سے زیادہ صحبت کو، تبصروں سے زیادہ ملاقات کو اور سنی سنائی باتوں سے زیادہ بالمشافہہ تعلق کو اہمیت دیجیئے۔
قربت اختیار کیجیئے، ملاقاتیں کیجیئے، تعلقات نبھائیے، بالمشافہہ بیٹھک کیجیئے، سوال کیجیئے، سنیئے، سمجھنے کی کوشش کیجیئے، ممکن ہے جس شخصیت کے بارے میں دور بیٹھ کر بہت کچھ سمجھ لیا تھا، اسی کی ایک مجلس آپ کے بہت سے اشکالات دور کردے۔
ہر کلپ حقیقت کی مکمل تصویر نہیں ہوتی، ہر پوسٹ کسی شخصیت کا مکمل تعارف نہیں ہوتی، اور ہر سنی سنائی بات رائے قائم کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔
رشتے دور بیٹھ کر نہیں، قریب بیٹھ کر سمجھ میں آتے ہیں، شخصیات کلپس سے نہیں، صحبت سے پہچانی جاتی ہیں۔
اس لئے بدگمانی کے بجائے قربت، تبصرے کے بجائے ملاقات اور رد و قدح کے بجائے حسنِ فہم کا راستہ اختیار کیجیئے، شاید آپ کو معلوم ہو کہ جن کے بارے میں دور بیٹھ کر بہت کچھ سمجھ لیا تھا، ان کے قریب جاکر ابھی بہت کچھ سمجھنا باقی تھا۔

✍️ مفتی سفیان بلند
مؤسس معهد الإمام سفیان الثوری
🗓 21 ستمبر 2026ء | الإثنين

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیــــرِ*
*🤲 دُعاؤُنا : دُمتُم بهِدَايةٍ و عَافِيـةٍ*
*🌏 𝑫𝒂𝒓𝒓𝒖𝒓𝒓𝒂𝒚𝒚𝒂𝒏 𝑨𝒄𝒂𝒅𝒆𝒎𝒚 𝑶𝒏𝒍𝒊𝒏𝒆*
(𝑻𝒉𝒆 𝑰𝒏𝒕𝒆𝒍𝒍𝒆𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝑨𝒄𝒂𝒅𝒆𝒎𝒚 𝒐𝒇 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕𝒊𝒄 𝑲𝒏𝒐𝒘𝒍𝒆𝒅𝒈𝒆)

*🎯 نکاح؛ سکون، محبت و مودّت کا سائبان*گذشتہ روز راقم کے بڑے بھتیجے کا نکاح تھا، اس موقع پر مبلغ اسلام حضرت مولانا طارق ج...
21/09/2026

*🎯 نکاح؛ سکون، محبت و مودّت کا سائبان*

گذشتہ روز راقم کے بڑے بھتیجے کا نکاح تھا، اس موقع پر مبلغ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے خاندان کے لئے باعثِ مسرت و سعادت تھی۔
حضرت والا دامت برکاتہم نے اپنے بیان میں سیرتِ طیبہ کے ایک نہایت اہم اور ہماری عملی زندگی سے گہرے تعلق رکھنے والے پہلو، یعنی ازدواجی زندگی پر گفتگو فرمائی۔ یہ موضوع اس لئے بھی اہم ہے کہ آج کل نکاح تو بہت ہورہے ہیں، مگر نکاح کے بعد زندگی کو نبھانے کا ہنر، اس کے حقوق و فرائض کا شعور اور تعلقات کو سنبھالنے کا سلیقہ نسبةً کم ہوتا جارہا ہے۔
آپ کی مستقل دعوت یہی ہے کہ سیرتِ طیبہ کو صرف سننے کی چیز نہ بنایا جائے بلکہ اسے پڑھا جائے، سنا جائے، سمجھا جائے، زندگی میں اتارا جائے اور عام کیا جائے، اس موقع پر بھی آپ کی گفتگو کا مرکز یہی تھا کہ ہماری ازدواجی زندگی کا نقشہ بھی ہمیں سیرتِ طیبہ ہی سے لینا چاہیئے۔
خاندان کے احباب نے بھی اس بیان کو بہت پسند کیا، کئی حضرات یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ہم نے اس سے پہلے ازدواجی زندگی پر اس انداز کا بیان نہیں سنا، واقعی! ایسے بیانات مستقل ہونے چاہیئے۔
آج نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں تو ہورہی ہیں، مگر نکاح کے بعد کی زندگی کے حوالے سے بہت سی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں، حالانکہ نکاح کا رشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت مبارک بھی ہے اور نہایت نازک بھی، اسے محبت، سمجھ داری، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنا پڑتا ہے، ورنہ یہی رشتہ جو دنیا میں سکون کا ذریعہ بن سکتا تھا، آزمائش کا سبب بھی بن جاتا ہے، ازدواجی زندگی دراصل توازن کا نام ہے، یہاں صرف محبت کافی نہیں ہے بلکہ محبت کے ساتھ ذمہ داری بھی چاہیئے، صرف حقوق کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ فرائض کی ادائیگی بھی ضروری ہے، صرف اپنی بات منوانا نہیں ہے بلکہ دوسرے کی بات سمجھنا بھی آنا چاہیئے۔
مرد کے لئے نرمی، شفقت، برداشت اور حسنِ معاشرت ضروری ہے، جبکہ عورت کے لئے احترام، تعاون، وفاداری اور گھر کے نظم میں ساتھ دینا اہم ہے، دونوں ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
مرد اپنے اختیار کو شفقت میں ڈھالے اور عورت اپنی ذمہ داری کو محبت کے ساتھ نبھائے، دونوں انا کے بجائے ایثار کو، غصہ کے بجائے تحمل کو اور شکایت کے بجائے گفت و شنید کو اختیار کریں، یہی وہ ازدواجی توازن ہے جو گھر کو سکون، محبت اور تربیت کا مرکز بنا دیتا ہے۔
اسی توازن کو ایک سادہ تعبیر میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ مرد "نرمی" اختیار کرے اور عورت "تابعداری" کرے (یہ ازدواجی زندگی کی تمام ہدایات کا خلاصہ ہے) پھر یہ گاڑی چلتی ہے، نرمی اس کا ایندھن ہو اور تابعداری اس کا تیل، تو گھر کی گاڑی محبت اور اعتماد کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتی ہے، اور ایسے ہی ماحول میں بہترین نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔
آج کی نوجوان نسل کو نکاح سے پہلے نکاح سیکھنے کی ضرورت ہے، فقہ النکاح اور فقہ الزواج کی مستقل تعلیم و تربیت ضروری ہے۔
اپنے حقوق سیکھیں، اپنی ذمہ داریاں سمجھیں، خاندانی زندگی کا شعور حاصل کریں، جذباتیت کے بجائے تحمل مزاجی پیدا کریں اور یہ سمجھیں کہ نکاح صرف دو افراد کا باہمی ملاپ نہیں، دو خاندانوں کا باہمی رشتہ بھی ہے اور یہ رشتہ و ملاپ وقتی نہیں ہے بلکہ تاحیات ہے۔
جب کسی نوجوان لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہوتا ہے تو گویا دونوں خاندان اپنے اعتماد کی ایک امانت ان کے سپرد کرتے ہیں، خاندان کے بزرگ گویا یہ کہتے ہیں کہ اب زندگی کے سفینہ کا چپّو تمہارے ہاتھ میں ہے، اب تمہیں اسے محبت، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ ساحل تک پہنچانا ہے۔
یہ تم پر ہے کہ اس سفینہ کو منزل تک لے جاتے ہو، راستے ہی میں چھوڑ دیتے ہو یا اپنی نادانی سے اسے طوفانوں کے حوالے کردیتے ہو۔
غور کیجیئے! کائناتِ انسانی کا سب سے پہلا رشتہ ہی میاں بیوی کا قائم ہوا اور انسانی زندگی کے آخری حصہ میں بھی جب اولاد اپنے اپنے گھروں میں آباد ہوجاتی ہے تو اکثر پھر وہی دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہ جاتے ہیں، جنہوں نے زندگی کا سفر ساتھ شروع کیا تھا۔
یہ رشتہ کتنا عجیب، مقدس اور حکمتوں سے بھرا ہوا ہے کہ شریعت نے شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کے لئے چار ماہ دس دن کی عدت اور سوگ کے احکام رکھے، جبکہ عام افراد کے انتقال پر سوگ کی مدت صرف تین دن ہے، اسی طرح نکاح کے ذریعے رشتہ مصاہرت قائم ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں بیوی کے اصول و فروع ہمیشہ کے لئے شوہر پر حرام ہوجاتے ہیں اور بیوی کے بعض قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بھی نکاح کی ایسی پابندیاں عائد ہوتی ہیں کہ مثلاً بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن، خالہ یا پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جاسکتا، شریعت کے یہ احکام اس رشتے کی حرمت، نزاکت اور غیر معمولی اہمیت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
نکاح؛ صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک ایسی فطری اور مقدس حقیقت ہے جس میں محبت بھی ہے، ذمہ داری بھی، سکون بھی، آزمائش بھی، نسل کی بقا بھی اور بے شمار حکمتیں بھی۔
شاید اسی لئے نکاح کو صرف کرنے کی نہیں بلکہ سمجھنے اور نبھانے کی بھی ضرورت ہے۔
حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کی اس گفتگو نے ماضی کے دھندلے اسباق تازہ کردیئے، یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ نکاح صرف ایک دن کی تقریب نہیں، بلکہ پوری زندگی کی ذمہ داری ہے، صرف دو افراد کا ساتھ نہیں، بلکہ دو خاندانوں کا اعتماد ہے، صرف وقتی محبت کا نام نہیں بلکہ محبت کو نبھانے کا تاحیات عہد ہے۔
سیرتِ طیبہ ہمیں صرف مسجد و منبر کے آداب نہیں سکھاتی، یہ ہمیں گھر بسانا بھی سکھاتی ہے، رشتے نبھانا بھی، اختلاف کو سنبھالنا بھی، محبت کو باقی رکھنا بھی اور نسلوں کی تربیت کرنا بھی۔
نوجوانو ! نکاح کو محض ایک معاشرتی رسم کے طور پر نہ سمجھو بلکہ اس کو قدرت کے نظام فطرت کا تحفہ اور زندگی کا مکمل نظام کے سمجھو، نکاح کیوں رکھا گیا؟ اس میں سکون کی حکمت کیا ہے؟ میاں بیوی کے مزاج، حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن کیسے قائم ہوتا ہے؟ دو افراد کا یہ تعلق خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تعمیر سے کیسے جڑ جاتا ہے؟ اور محبت، ذمہ داری، وفا اور ایثار مل کر ایک گھر کو گھر کیسے بناتے ہیں؟
حضرت مولانا دامت برکاتہم کی گفتگو سے واپسی پر ذہن میں فلسفہ نکاح کا ایک پورا موضوع ابھر آیا جو زمانہ طالبعلمی میں پڑھا تھا، ان شاء اللہ! کبھی فرصت ملی تو "فلسفہ نکاح" کے عنوان سے اس موضوع کے ان پہلوؤں کو سمیٹنے کی کوشش ہوگی تاکہ نکاح کو صرف ایک تقریب کے طور پر نہیں بلکہ سکون، محبت، مودت، عبادت، ذمہ داری اور نسلوں کی تعمیر کے ایک عظیم نظام کے طور پر سمجھا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو سیرتِ طیبہ کے نور سے آباد فرمائے، میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے سکون، رحمت، راحت بھرا لباس اور خیر کا ذریعہ بنائے، اور ہمارے خاندانوں کو ایسی نسلیں عطا فرمائے جو گھروں سے دین، محبت اور اخلاق لے کر معاشرے میں روشنی پھیلائیں۔ آمین۔

✍️ مفتی سفیان بلند
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
🗓 21 ستمبر 2026ء | الإثنين

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیــــرِ*
*🌍 𝑴𝒂'𝒉𝒂𝒅 𝑺𝒖𝒇𝒚𝒂𝒏 𝑺𝒂𝒐𝒓𝒊 (𝑴𝑺𝑺)*
(𝑻𝒉𝒆 𝑰𝒏𝒕𝒆𝒍𝒍𝒆𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝑨𝒄𝒂𝒅𝒆𝒎𝒚 𝒐𝒇 𝑺𝒉𝒂𝒓𝒊𝒂𝒉 𝑺𝒄𝒊𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔)

19/09/2026

008 - Fikr O Amal | Bemari ke Fazail aur Sehat Mand Zindagi | Mufti Sufyan Buland Official

18/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 012: Hashim Bin Abde Manaf Ki 4 Bari Khidmaat
🎙️ Mufti Sufyan Buland
ہاشم بن عبد مناف کی 4 بڑی خدمات، رفاہی خدمات، عالمی تعلقات، قیامِ امن اور سفر و تجارت کے اہم پہلوؤں کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

17/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 011: Hashim Bin Abde Manaf Kon Thay?
🎙️ Mufti Sufyan Buland
ہاشم بن عبد مناف کون تھے، ان کا اصل نام کیا تھا، قریش میں ان کا کیا مقام تھا اور خاندانِ نبوت ﷺ سے ان کا کیا تعلق تھا؟ ان کی شخصیت، خدمات اور نسل سے متعلق اہم سیرتی پہلوؤں کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

12/09/2026

007 - Fikr O Amal | Islamic Banking aur Mufti Taqi Usmani Sahab | Mufti Sufyan Buland Official

11/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 010: Abde Manaf Kon Thay?
🎙️ Mufti Sufyan Buland
عبد مناف کون تھے، ان کا اصل نام کیا تھا، ان کا قریش میں کیا مقام تھا اور خاندانِ نبوت ﷺ سے ان کا کیا تعلق تھا؟ عبد مناف کے حالات اور ان کی نسل سے آگے چلنے والے معروف خاندانوں کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

10/09/2026

Seerat Hi Zindagi Hai ﷺ
سیرتِ طیبہ کے واقعات، اسباق اور عملی رہنمائی پر مشتمل ایک خصوصی سلسلہ۔
Episode 009: Dar-un-Nadwah Kya Hai? Aur Wahan Kya Hota Tha?
🎙️ Mufti Sufyan Buland
دارالندوة کیا تھا، اسے کس نے قائم کیا اور قریش کے لیے اس کی کیا اہمیت تھی؟ اس کے قیام اور وہاں ہونے والی اہم سرگرمیوں کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنے کی ایک کوشش۔
سیرت کو جانیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Sufyan Buland posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mufti Sufyan Buland:

Shortcuts

Share