Mufti Sufyan Buland

Mufti Sufyan Buland

Share

Mufti, Trainer, Counselor, Consultant, Motivational Speaker & Shariah Advisor for Commerce & Halal.

08/06/2026

*🎯 سفر، اقامت اور نمازِ قصر کے اصول*

اگر کوئی شخص اپنے وطنِ اصلی (یعنی مستقل جائے سکونت) سے ایسے سفر پر نکلے جو اس کے شہر یا گاؤں کی حدود سے تقریباً 48 میل (77.25 کلومیٹر) یا اس سے زائد ہو، تو حدودِ شہر یا گاؤں سے نکلتے ہی وہ شرعاً مسافر شمار ہوگا۔
اب اگر وہ کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں پہنچ کر وہاں 15 دن یا اس سے زیادہ ٹہرنے کی نیت کرلے تو وہ اس جگہ پر مقیم شمار ہوگا اور اس پر مقیم کے احکام جاری ہوں گے اور اگر وہاں قیام کی نیت 15 دن سے کم ہو تو وہ بدستور مسافر ہی رہے گا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص ایک عارضی وطن میں دو تین دن قیام کرے، پھر کسی دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور اس کا مجموعی یا مستقل قیام کسی ایک مقام پر 15 دن کا نہ ہو تو وہ مسلسل مسافر ہی شمار ہوگا، جب تک کسی ایک شہر یا گاؤں میں 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہ کر لے۔

نوٹ : واضح رہے کہ یہاں "شہر یا گاؤں" سے مراد اس کی اصل مستقل آبادی اور مرکزی علاقہ ہے، نہ کہ اس کے اندرونی محلے یا ذیلی بستیاں، کیونکہ ایک ہی شہر یا گاؤں کے تمام محلّات اور ذیلی آبادیاں شرعاً ایک ہی حکم میں شمار ہوتی ہیں، جب تک وہ اسی مرکزی آبادی کے تابع ہوں۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)

08/06/2026

*🎯 مسنون اذکار و وظائف کا اہتمام کیجیئے !*

مسنون اعمال کا اہتمام کیجیئے، اور دیگر مجربات و وظائف اپنے مرشد و شیخ سے پوچھ کر ہی اختیار کریں، یوٹیوب اور سوشل میڈیا مختلف اوراد و وظائف سے بھرے ہوئے ہیں، نہ یہ ممکن ہے کہ سب کو اپنایا جائے اور نہ یہ درست ہے، اگر زندگی کو صرف وظائف تک محدود کردیا جائے تو عملی ذمہ داریاں متاثر ہوجاتی ہیں، اس لئےسنت کی پابندی، مرشد کی رہنمائی اور ہر موقع پر اعتدال رکھنا ہی اصل راہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)

08/06/2026

*🎯 جہت قبلہ کی طرف قضائے حاجت ممنوع ہے !*

بیت الخلاء کو قبلہ رخ بنانا مکروہ ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا لازم اور ادبِ شرعی کا تقاضہ ہے، اگر کسی گھر میں بیت الخلاء اس طرح بنا ہوا ہو تو اگر ممکن ہو تو اس کی سمت تبدیل کر دی جائے تاکہ قبلہ کی بے ادبی لازم نہ آئے، اور اگر تبدیلی ممکن نہ ہو، مثلاً کرایہ کا مکان ہو تو ایسی صورت میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ نہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور نہ پیٹھ قبلہ کی طرف، کیونکہ جہتِ قبلہ کا احترام شریعت میں مطلوب اور احادیث سے ثابت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)

08/06/2026

*🎯 عورت میں نحوست کا غلط نظریہ*

اگر کوئی عورت ذکر یا تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو تو اس کے پیچھے دوسری عورت اپنی انفرادی نماز کی نیت باندھ کر نماز ادا کر سکتی ہے، اس سے نماز میں کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا، یہ سمجھنا کہ عورت کا آگے ہونا نماز میں نحوست یا عدمِ جواز کا سبب ہے، یہ عوامی غلط فہمی اور بے اصل باتوں میں سے ہے، شریعت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)

08/06/2026

*🎯 نفلی اعمال میں قضا کی نیت کرنا*

فرض اعمال کی قضا، خواہ نماز ہو یا روزہ، اس کو الگ سے ادا کرنا ضروری ہے، نفلی عبادات میں قضا عبادات کی نیت کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ قضا عبادات و اعمال ذمہ پر باقی رہتے ہیں اور ان کی ادائیگی لازم ہے، نفلی عبادات و اعمال اپنی جگہ مستقل اور اضافی ثواب کا ذریعہ ہیں، مگر ان سے فرض کی تلافی نہیں ہوتی، اس لئے بہتر یہی ہے کہ پہلے ذمہ پر لازم قضا نمازوں اور روزوں کو ادا کیا جائے، پھر نفلی اعمال کا اہتمام کیا جائے، تاکہ ذمہ بری الذمہ ہو سکے۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌏 دارالریـــان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درسـگاہ)

08/06/2026

*🎯 خواتین کے نام یا کنیت؟ کیا بہتر ہے ؟*

خواتین کے ناموں کو شادی بیاہ کے کارڈ یا عمومی کارڈ پر آج کے دور میں عمومی پلیٹ فارم پر عام کرنا فتنہ سے خالی نہیں ہے، پھر جبکہ دھوکہ دہی اور فراڈ عام ہے، تو اس میں زیادہ بہتر ہے کہ خواتین کے ناموں کا عمومی افشاء نہ کیا جائے، تاہم یہ بات شرعا تو ممنوع نہیں ہے مگر یہ ضرور ہے کہ خواتین کے نام میں إخفاء کیا جائے، عورت کے لئے پردہ ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کے نام کو بھی پردہ میں رکھا جائے، ہمارے عرف میں شرفاء لوگوں کا یہی مزاج ہے، اور معاشرتی احکامات میں عرف کا بڑا دخل ہے!!
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 23 فروری 2022ء
🌎 معهد الإمام سفیان الثوری

08/06/2026

*🎯 زوجین میں سمجھداری*

جب زوجین میں کسی بات پر اختلاف ہو تو فون پر یا ایس ایم ایس پر بحث نہ کریں بلکہ اس موضوع پر تحمل کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں تاکہ جھگڑا نہ بڑھے، فون اور واٹس ایپ نہ آس پاس کا ماحول سامنے ہوتا ہے، نہ ایک دوسرے کے چہرے کے تاثرات، نہ باڈی لینگویج، نہ طبیعت کا اثر، خرابی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ایک دوسرے کے مکمل ماحول اور رویہ کو دیکھے بغیر بات کی جائے!!

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 13 فروری 2022ء
🌎 معهد الإمام سفیان الثوری

08/06/2026

*🎯 قسموں کی ارزانی، ایک خطرناک معاشرتی رویہ*

ہماری روزمرہ زندگی میں ایک عجیب سی بے احتیاطی در آئی ہے، بات بات پر قسم کھانا گویا معمول بن چکا ہے، کبھی غصہ میں، کبھی انا کی تسکین کے لئے، اور کبھی محض اپنی بات کو وزن دینے کے لئے ہم فوراً زبان سے نکال دیتے ہیں: "قسم ہے، اب کبھی نہیں کروں گا!" یا "اللہ کی قسم، اب اس سے کوئی تعلق نہیں!" وغیرہ وغیرہ
یہ الفاظ بظاہر ہلکے محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے۔
قسم کوئی عام جملہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کے نام کو گواہ بنانا ہے، شریعت مطہرہ میں اس کی بڑی اہمیت ہے، اسی لئے بلا ضرورت اور جذبات کے بہاؤ میں قسم کھانا پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا، شریعت میں بھی بہت کم ایسے معاملات ہیں جہاں قسم کھانا ناگزیر ہوتا ہے، ہر جگہ قسم کھانے والا عرفا "جھوٹا" اور "دھاندلی مزاج" والا قرار دیا جاتا ہے مگر افسوس! ہم نے اسے اپنی گفتگو کا ایک عام حصہ بنالیا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند لمحوں کے غصے میں کھائی گئی قسم، تھوڑے ہی وقت بعد ٹوٹ جاتی ہے، اور پھر اس کے کفارے کی ذمہ داری بھی سر پر آجاتی ہے، کاروباری معاملات ہوں یا گھریلو مسائل، یہ رویے عام ہوتے نظر آرہے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہیں۔

*📌 قسم کھانے کے متعلق چند نصوص*
☆ تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ "اس قرآنی آیت سے معلوم ہوا کہ زیادہ قسمیں کھانا مکروہ ہے اور یہ بھی کہ زیادہ قسمیں کھانے والا اللہ پر جرأت کرنے والا ہے نہ وہ صالح پرہیزگار ہوتا ہے اور نہ لوگوں میں صلح کرانے کے اندر وہ اعتبار کے قابل ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ یا تو قسم ٹوٹ جاتی ہے یا اس سے ندامت ہوتی ہے۔ (البقرة : 224)

☆ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ "خَيْرُكُمْ قَرْنِي،‏‏‏‏ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،‏‏‏‏ فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ بَعْدَهُ أَوْ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ ثُمَّ ذَكَرَ:‏‏‏‏ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ،‏‏‏‏ وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ،‏‏‏‏ وَيُنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ،‏‏‏‏ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ" (رواہ النسائی عن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رضی اللہ عنه : 3840)
(ترجمه) تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے ثم الذين يلونهم کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر (قسمیں) مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔

☆ نذر ماننا بھی چونکہ ایک طرح سے قسم کی طرح ہے، سو شریعت مطہرہ نے اس سے بھی روکا ہے حالانکہ نذر کے ذریعہ بندہ عبادت کا عمل ہی انجام دیتا ہے مگر چونکہ اس میں بھی ایک گونہ کمزوری کا پہلو ہے، اس لئے پسند نہیں کیا گیا، ایک روایت میں وارد ہے کہ "لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنْ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ" (رواہ مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه: 4241)
(ترجمه) تم نذر نہ مانو کیونکہ نذر سے تقدیر کو کچھ فائدہ نہیں، اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے۔

☆ ایک اور روایت میں ارشاد ہے کہ "إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ (رواہ ابن ماجه عن عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی اللہ عنه : 2209)
(ترجمه) کاروبار (خرید و فروخت) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہوجاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے۔

*📌 قسم کھانے کا ایک خطرناک نفسیاتی پہلو*
قسم کھانے کا ایک اور خطرناک نفسیاتی پہلو بھی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے بچے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ یہ سیکھتے ہیں کہ معمولی باتوں پر قسم کھانا ایک عام رویہ ہے، اور پھر اسے توڑ دینا بھی کوئی بڑی بات نہیں، یوں ایک طرف تو ان کے دل میں قسم کی عظمت باقی نہیں رہتی حالانکہ یہاں رب العالمین کا نام لیا گیا ہے، دوسری طرف وہ بھی اپنی من مانی کے لئے قسمیں کھانا شروع کر دیتے ہیں جس سے گھریلو ماحول میں تناؤ کی کیفیت آجاتی ہے، نیز یہ الفاظ بھی بسا اوقات ہمیں غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدہ بنادیتے ہیں، یوں ہم تربیت کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں، پھر یہی چھوٹی باتیں آگے چل کر بڑے کردار کی بنیاد بنتی ہیں !!

حقیقت یہ ہے کہ مضبوط انسان وہ نہیں جو غصہ میں سخت الفاظ بول دے، بلکہ وہ ہے جو اپنے جذبات پر قابو رکھے، ارشاد نبوی کے مطابق پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت زبان پر قابو رکھے، زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ایک ذمہ داری ہے، اور قسم تو اس سے بھی بڑھ کر ایک عہد ہے، ہمیں چاہیئے کہ اپنی گفتگو میں سنجیدگی پیدا کریں، قسم کو آخری حد سمجھیں، نہ کہ روزمرہ کا ہتھیار۔
اگر ہم نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا تو نہ صرف ہم خود دینی ذمہ داریوں میں الجھتے رہیں گے، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ایک غیر سنجیدہ طرزِ عمل کا عادی بنادیں گے، اپنے رویوں کا جائزہ لیں، اور قسم کو اس کی اصل عظمت کے ساتھ برتیں، بڑوں کا کہنا ہے کہ "پہلے تولیں، پھر بولیں"
یہی فکری سنجیدگی ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔

✍️ مفتی سفیان بلند
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
🗓️ 19 اپریل 2026ء | الأحد
🌎 دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

08/06/2026

*🎯 حاجت اصلیہ کا مدار*

شریعت مطہرہ نے انسانی ضروریات اور حوائج (حاجت : کی جمع ہے) کا اعتبار کیا ہے اور انہی حوائج کی بنیاد پر زکوة و صدقہ فطر و قربانی کے احکام متفرع ہوتے ہیں، سو جس کے پاس حوائج اصلیہ سے زائد اسباب و متاع موجود ہو، اس کو مختلف احکامات میں دیکھا جاتا ہے۔
انسان کی بنیادی ضروریات و حوائج پانچ ہیں :
① روٹی (نفقه)
② کپڑا (لباس)
③ مکان (سکنی)
④ شادی (نکاح)
⑤ سواری (مرکب) اور ساتھ میں تعلیم و تجارتی و صنعتی آلات کو بھی حاجت میں شمار کیا جاتا ہے۔
گویا ضرورت حقیقیہ اور حاجتِ اصلیہ وہ بنیادی تقاضے ہیں جن پر انسان کی بقاء اور اس کی عزت و وقار کا دارومدار ہوتا ہے، یعنی اگر یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو آدمی کو "ضرر" (نقصان) ہوسکتا ہے، اس کی جان کو خطرہ یا آبرو کو نقصان کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے، اس کے برخلاف وہ اسباب و متاع جس سے آدمی کو عملاً کوئی فائدہ نہ پہنچ رہا ہو اور جو اس کی روزمرہ ضروریات میں داخل نہ ہو، وہ زائد شمار ہوتا ہے، مثلا مہنگے کپڑے، مہنگے جوتے اور دیگر وہ چیزیں جو کبھی استعمال ہی نہیں ہوتیں، وہ سب ضرورت سے زائد اشیاء شمار کی جاتی ہیں، جس کے پاس یہ ضرورت سے زائد اشیاء ہوں اور نصاب زکوة میں سے کچھ نہ ہو تو اس پر اگرچہ زکوة لازم نہیں ہے مگر وہ زکوة لے بھی نہیں سکتا بشرطیکہ یہ اشیاء نصاب زکوة کی مالیت کے بقدر ہوں۔
(واضح رہے کہ ان حوائج زائدہ کا نصاب زکوة کے برابر ہونے کے سبب صدقہ فطر اور قربانی بھی لازم ہوجاتی ہے)
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کی ضروریات یکساں نہیں ہوتیں، ہر شخص کے حالات، پیشہ، ماحول اور موسم کے مطابق اس کی حاجات بدلتی رہتی ہیں، نیز علاقوں اور قوموں کے حساب سے بھی عرف بدلتا رہتا ہے، شریعت نے اس میں عرف کا بھی اعتبار کیا ہے، بس ایک آسان سا اصول یہ رکھا ہے کہ جو چیز واقعی استعمال میں ہو اور اس کی ضرورت پیش آتی ہو تو وہ حاجت اصلیہ میں داخل رہے گی بشرطیکہ وہ تجارت کے لئے نہ ہو، چنانچہ وہ اشیاء جو نہ زیرِ استعمال ہوں اور نہ ہی ان کی حقیقی ضرورت باقی ہو، وہ اضافی سمجھی جائیں گی۔

☆ الْحَاجة الْأَصْلِيَّة هِيَ مَا يدْفع الْهَلَاك عَن الْإِنْسَان تَحْقِيقا كَالنَّفَقَةِ ودور السُّكْنَى وآلات الْحَرْب وَالثيَاب الْمُحْتَاج إِلَيْهَا لدفع الْحر وَالْبرد أَو تَقْديرا كَالدّين فَأن الْمَدْيُون مُحْتَاج الى قَضَائِهِ بِمَا فِي يَده من النّصاب دفعا عَن نَفسه الْحَبْس الَّذِي هُوَ كالهلاك
(كتاب قواعد الفقه - الحاء - ص 257، الشاملة)

☆ وقد فسَّرَ ابنُ مالِكٍ من الحَنفيةِ الحاجةَ الأصليَّةَ تَفسيرًا دَقيقًا، فقالَ: هي ما يَدفَعُ الهَلاكَ عن الإِنسانِ تَحقيقًا كالنَّفَقةِ ودُورِ السُّكنى وآلاتِ الحَربِ والثِّيابِ المُحتاجِ إليها لِدَفعِ الحَرِّ والبَردِ. أو تَقديرًا كالدَّينِ، فإنَّ المَدينَ يَحتاجُ إلى قَضائِه بما في يَدِه من النِّصابِ ليَدفعَ عن نَفسِه الحَبسَ الذي هو الهَلاكُ، وكآلاتِ الحِرفةِ وأثاثِ المَنزلِ ودَوابِّ الرُّكوبِ وكُتبِ العِلمِ لِأهلِها، فإنَّ الجَهلَ عندَهم كالهَلاكِ، فإذا كانَ له دَراهِمُ مُستحَقةٌ ليَصرِفَها إلى تلك الحَوائِجِ صارَت كالمَعدومةِ، كما أنَّ الماءَ المُستحَقَّ لِصَرفِه إلى العَطشِ كانَ كالمَعدومِ، وجازَ عندَه التَّيمُّمُ.
(ص497 - كتاب موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة ياسر النجار - الشرط الرابع الزيادة على الحاجات الأصلية - ص 497، الشاملة)

✍️ مفتی سفیان بلند
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
🗓️ 19 اپریل 2026ء | الأحد
🌎 دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

08/06/2026

*🎯 مطلقہ عورت کے نکاح، گواہوں کی حیثیت اور نفقۂ اولاد کا حکم*

ایک سوالنامہ موصول ہوا جس کو پڑھ کر چند امور سامنے آئے، ان کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے:

*اوّلًا: مطلقہ یا ثیبہ عورت کے نکاح کا حکم*
شرعاً ثیّبہ (یعنی وہ عورت جو پہلے نکاح کرچکی ہو، پھر خواہ بیوہ ہوگئی ہو یا مطلقہ ہوگئی ہو) اپنے نکاح کے معاملہ میں خود اختیار رکھتی ہے، لہٰذا اگر عدت پوری ہوچکی ہو تو وہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنا نکاح کرسکتی ہے، اور اس کے لئے شرعاً باپ، بھائی یا بالغ بیٹے کی اجازت شرط نہیں ہے، البتہ اولیاء اور اہلِ خاندان سے مشورہ کرنا، ان کو باخبر رکھنا بہتر، مناسب اور باعثِ مصلحت ہے، تاکہ بعد میں نزاع، بدگمانی یا خاندانی بگاڑ پیدا نہ ہو۔

*ثانیًا: نکاح کے صحیح ہونے کے لئے بنیادی شرائط*
نکاح کے انعقاد کے لئے شرعاً چند بنیادی چیزیں ضروری ہیں، مثلاً:
1- ایجاب و قبول (یعنی نکاح کا واضح انعقاد)
2- زوجین کا باہمی رضا مند ہونا
3- دو معتبر گواہوں کی موجودگی
4- نکاح میں کسی شرعی مانع کا نہ ہونا

لہٰذا اگر یہ نکاح واقعۃً دو مسلمان، عاقل، بالغ مرد گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ منعقد ہوا ہو تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اگرچہ گواہ نامحرم ہوں یا عورت کے لئے اجنبی ہوں، کیونکہ گواہ کے معتبر ہونے کے لئے عورت کا ان کو ذاتی طور پر جاننا شرط نہیں ہے، بلکہ اصل شرط یہ ہے کہ وہ شرعی اعتبار سے گواہی کے اہل ہوں اور وقتِ نکاح میں واقعی موجود ہوں۔

*ثالثًا: اگر گواہان نکاح کے وقت موجود ہی نہ تھے*
البتہ اگر حقیقتِ حال وہی ہے جو سوال میں مذکور ہے کہ نکاح کے وقت صرف عورت اور وکیل موجود تھے اور کوئی دو گواہ موقع پر موجود نہ تھے، بلکہ بعد میں صرف نکاح نامہ میں نام درج کر دیئے گئے، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ محلِّ اشکال ہے بلکہ بغیر گواہان نکاح کے یہ عقد نامکمل ہے، گواہان کی موجودگی ضروری ہے۔
محض نکاح نامہ میں نام لکھ دینے سے نکاح درست نہیں ہوجاتا، بلکہ اصل اعتبار اس بات کا ہے کہ گواہان مجلسِ نکاح میں موجود ہوں اور ایجاب و قبول پر مطلع ہوں، اگر دو شرعی گواہ موجود نہ تھے، تو ایسا نکاح حقیقی طور پر منعقد نہیں ہوا۔
لہٰذا اس معاملہ میں صرف ظاہری دعویٰ یا کاغذی اندراج کافی نہیں ہے، بلکہ حقیقی صورتِ واقعہ کی تحقیق ضروری ہے، اگر واقعی گواہان موجود نہ تھے، تو تجدیدِ نکاح لازم ہوگی، یعنی شرعی طریقہ سے دوبارہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جائے۔

*رابعًا: وکیل کا اجنبی یا نامحرم ہونا*
عورت اگر ثیبہ ہو تو وہ اپنے نکاح کے لئے کسی مرد کو بھی وکیل بناسکتی ہے، خواہ وہ محرم ہو یا اجنبی مرد ہو، بشرطیکہ وہ وکالت واضح، معتبر اور واقعی ہو، لہٰذا صرف اس بنیاد پر کہ وکیل نامحرم یا اجنبی تھا، نکاح باطل نہیں ہوگا، اصل مدار گواہوں، ایجاب و قبول اور صحیح وکالت پر ہے۔

*خامسًا: سابق شوہر کی دی ہوئی سہولیات اور اخراجات کا حکم*
یہ مطلقہ خاتون سابق شوہر کے فراہم کردہ گھر میں رہتی ہے، ان کی دی ہوئی گاڑی اور اشیاء استعمال کرتی ہے، اور جو رقم (ان دونوں کے) بیٹے کے لئے سابق شوہر کی طرف سے آتی ہے اسی میں سے خرچ کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں تفصیل یہ ہے:

1- بیٹے کا نفقہ (رہائش، تعلیم، خوراک، ضروریات وغیرہ) باپ کے ذمہ شرعاً لازم ہے، لہٰذا اگر سابق شوہر اپنی اولاد کے لئے اخراجات دے رہا ہے تو یہ بالکل درست ہے۔

2- اگر گھر، گاڑی یا دیگر سہولیات بیٹے کے استعمال اور ضرورت کے لئے دی گئی ہوں، اور خاتون بھی اسی حیثیت سے اس سے فائدہ اٹھا رہی ہوں، تو اس میں اصلًا حرج نہیں۔

3- اگر سابق شوہر اپنی مطلقہ بیوی کو بطورِ احسان، تبرع یا رضامندی کچھ سہولیات یا مالی تعاون دیتا رہا ہو، تو جب تک وہ اپنی رضا سے دے رہا ہے، اس کے لینے میں بھی شرعاً مضائقہ نہیں۔

4- البتہ اگر کوئی چیز خاص طور پر صرف بیٹے کے لئے محدود ہو اور خاتون اس کو اپنی ذاتی ملکیت یا مستقل ذاتی تصرف کے طور پر استعمال کریں، تو پھر اس کی نوعیت باہمی وضاحت اور اجازت پر موقوف ہوگی۔

*سادسًا: خفیہ نکاح کا اخلاقی و معاشرتی پہلو*
اگرچہ بعض صورتوں میں شرعی شرائط پوری ہونے پر نکاح منعقد ہو جاتا ہے، لیکن خفیہ انداز، اہلِ خانہ سے مکمل پردہ داری، غیر واضح گواہی، اور غیر معتبر ماحول میں نکاح کرنا شدید فتنہ، بدگمانی، نزاع اور آئندہ قانونی و خاندانی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لئے شریعت کے مزاج، مصلحت اور احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ نکاح کو واضح، معتبر اور باقاعدہ طریقہ سے انجام دیا جائے تاکہ دیگر شرعی حدود کی رعایت ہو اور برائیوں اور گناہ کا خاتمہ ہو۔
واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 05 اپریل 2026ء
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi