Bazm e illam w Shaoor

Bazm e illam w Shaoor Revolution

ميری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی!علم و شعور عيداڻي ۾ اڄ درجه حفظ و ناظرہ جي طلبه و طالبات جي ماھانه ٽيسٽ جو مرحلو ...
21/09/2026

ميری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی!
علم و شعور عيداڻي ۾ اڄ درجه حفظ و ناظرہ جي طلبه و طالبات جي ماھانه ٽيسٽ جو مرحلو اختتام پزير ٿيو،

منجانب: بزمِ علم و شعور عیدانی

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

01/09/2026

حسبِ معمول ہفتہ وار بزمِ علم و شعور کا انعقاد ہوا، جس میں بچوں نے ، تلاوت ، نعت اور تقریر میں حصہ لیا ـ
خداوند عالم سے التجاء ہے کہ اے باری تعالیٰ ہمارے ان بچوں کو دین و دنیا دونوں میں ترقیاں ، عزتیں اور کامیابیاں عطا فرماء.
منجانب: بزمِ علم و شعور عیدانی

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

29/08/2026

ماہ نور "
ماہ ربیع الاول رواں دواں ہے ، دنیا بھر میں مقصودِ کائنات ﷺ کے میلاد کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں ـ باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس بابرکت مہینے کو ہم سب کے لیے رحمت، برکت، سکون اور خوشیوں کا ذریعہ بنائے۔
نبی کریم ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ قائم رکھے اور ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
منجانب: بزمِ علم و شعور کراچی.

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

28/08/2026

26/08/2026
جشنِ ولادت "
بزمِ علم و شعور کے زیرِ اہتمام بچوں نے بارہ ربیع الاول کی صبح علم و شعور عیدانی میں ریلی نکالی ـ
خداوند عالم ہماری نسلوں میں عشق رسالت کے چراغ تاقیامت روشن رکھے!
منجانب: علم و شعور عیدانی

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

24/08/2026

23/08/2026

بزم/ جشنِ میلاد النبی"
بچوں کی تربیت اور عشق رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سلسلے میں علم و شعور عیدانی میں بزمِ علم و شعور سجائی گئی ـ
خداوند عالم ہماری نسلوں میں تاقیامت عشق رسالت مآب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے چراغ روشن رکھے!
منجانب: بزمِ علم و شعور عیدانی

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

21/08/2026ھفتہ وار بزم علم وشعور دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کراچی ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰
23/08/2026

21/08/2026
ھفتہ وار بزم علم وشعور
دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کراچی

ہمارے بیج کو فالو ضرور کریں 🥰

خوشی کے مواقع کو ساز/ باجے بجا کر سیلبریٹ کرنا کیسا ؟ علامہ غلام رسول سعیدیؒ نور اللہ مرقدہ نے آلاتِ موسیقی کی ممانعت پر...
19/08/2026

خوشی کے مواقع کو ساز/ باجے بجا کر سیلبریٹ کرنا کیسا ؟
علامہ غلام رسول سعیدیؒ نور اللہ مرقدہ نے آلاتِ موسیقی کی ممانعت پر نہایت مدلل، مفصل تجزیہ فرمایا ہے، جو کہ پیشِ نظر ہے۔
آلاتِ موسیقی و غناء کی ممانعت پر آثارِ صحیحہ و اقوالِ صریحہ!
1. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي، سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: "لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ..."
عبدالرحمن بن غنم اشعریؓ کہتے ہیں کہ مجھے ابو عامر یا ابو مالک اشعریؓ نے حدیث بیان کی، اور بخدا! انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں یعنی آلاتِ غناء کو حلال قرار دیں گے۔ کچھ ایسے لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے۔ جب شام کو وہ اپنے جانوروں کو چَرا کر لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا، تو کہیں گے: 'کل آنا'۔ اللہ تعالیٰ پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کر دے گا، اور دوسرے لوگوں کو - شراب اور باجوں وغیرہ کو حلال کرنے والوں کو - مسخ کر کے قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔"
[صحیح بخاری]
اس حدیث میں "معازف یعنی آلاتِ غناء" کے حلال کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیے جانے کی وعید سنائی ہے۔ بندر اور خنزیر کی شکل میں تبدیل کیے جانے سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ حقیقتاً بندر اور خنزیر کی شکل میں متشکل کر دیے جائیں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے اخلاق یا ان کے قلوب، بندر اور خنزیر کے اخلاق اور قلوب کے ساتھ تبدیل کر دیے جائیں۔
2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ"
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "گھنٹی شیطان کا مزمار یعنی بانسری ہے۔"
[صحیح مسلم، ج: 2، ص: 837]
3.حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "گانے بجانے والی لونڈیوں کی خرید و فروخت نہ کرو، نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ۔ نہ اس کی تجارت میں خیر ہے، اور ان کی قیمت حرام ہے۔" اور اسی کی مثل میں یہ آیت نازل ہوئی: "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ"
[جامع ترمذی، ص: 205]
4. عَنْ جَابِرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نُهِيتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ: صَوْتِ مِزْمَارٍ عِنْدَ لَهْوٍ، وَصَوْتِ رَنَّةٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ"
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایسی دو آوازوں کے سننے سے منع کیا گیا ہے جن میں فسق و فجور ہے۔ ایک وہ آواز جو گانے بجانے اور مزامیرِ شیطان سے متعلق ہے، اور دوسری وہ آواز جو مصیبت کے وقت منہ نوچنے، گریبان پھاڑنے اور شیطانی چیخ و پکار سے متعلق ہے۔"
[المصنف لابن ابی شیبہ، ج: 3، ص: 393]
طوالت کے پیشِ نظر باقی آثار کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اب سلفِ صالحین اور فقہاء کرام کا نظریہ پیشِ نظر ہے۔
( راہی غفر لہ )
1. فقہاءِ مالکیہ کا مذہب
علامہ وشتانی مالکیؒ فرماتے ہیں کہ:
"الْغِنَاءُ مَمْنُوعٌ، وَبِغَيْرِ آلَةٍ كَرِهَهُ مَالِكٌ"
"آلات کے ساتھ گانا ممنوع ہے، اور آلات کے بغیر امام مالکؒ کے نزدیک مکروہ ہے۔
اس کے بعد علامہ قرطبی مالکیؒ ایک لمبی عبارت نقل کرتے ہیں جس میں انہوں نے آلاتِ موسیقی اور غناء کو ممنوع قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام ترمذیؒ اور دیگر محدثین نے حضرت انسؓ اور دیگر صحابہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"دو آوازیں ملعون اور فاجر ہیں، جن سے میں روکتا ہوں: مزمار کی آواز اور شیطان کی چیخ و پکار۔ گانے کے وقت یا مصیبت کے وقت، اور منہ پر تماچہ مارنا اور گریبان پھاڑنا۔
جعفر بن محمدؒ اپنے باپ سے، وہ اپنے دادا سے، وہ حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بُعِثْتُ بِكَسْرِ الْمَزَامِيرِ"
اس روایت کو ابو طالب غلانیؒ نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور ابن بشرانؒ نے عکرمہ، از ابن عباسؓ روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"بُعِثْتُ بِكَسْرِ الطَّبْلِ وَالْمَزَامِيرِ"
[الجامع لأحکام القرآن، ج: 14، ص: 56]
نوٹ: طوالت کے خوف سے پوری عبارت نقل نہیں کی۔
( راہی غفر لہ )
2. فقہاءِ حنابلہ کا موقف ـ
علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ فرماتے ہیں: ساز کی تین قسمیں ہیں۔
پہلی: ستار، بانسری اور منہ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے، سارنگی، طنبور، رباب اور ہاتھ سے بجائے جانے والے تمام اقسام کے باجے۔ ان کا بجانا حرام ہے۔ جو شخص عادتاً باجوں کو سنے، اس کی شہادت مردود ہے۔
دوسری: دف۔ عورتوں کا شرعی خوشی کے مواقع پر دف بجانا جائز ہے، اور مردوں کے لیے بہرحال دف بجانا مکروہ ہے۔ کیونکہ عورتیں اور مخنث دف بجاتے ہیں، اور مرد کے دف بجانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ تو نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں۔
تیسری: چھڑی بجانا۔ یہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے ساتھ کوئی حرام یا مکروہ چیز ہو، جیسے تالی بجانا، گانا یا ناچنا۔ کیونکہ چھڑی نہ گانے بجانے کا آلہ ہے، نہ اس کے ساتھ گانا بجایا جاتا ہے، نہ اس کو تنہا سنا جاتا ہے۔ برخلاف گانے بجانے کے آلات کے۔ امام شافعیؒ کا بھی اس بحث میں یہی نظریہ ہے۔
3. فقہاءِ شافعیہ کا نقطۂ نظر
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:
"آلَاتُ الْمَلَاهِي كَالْمِزْمَارِ وَغَيْرِهِمَا لَا تُعَدُّ مِنَ الْمُبَاحِ، بَلْ مِنَ الْمُحَرَّمِ، وَلَا يَصِحُّ بَيْعُهَا لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا مَنْفَعَةٌ شَرْعًا"
"بانسری اور ستار کی طرح گانے بجانے کے آلات کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، کیونکہ ان آلات میں شرعاً منفعت نہیں ہے۔"
[شرح المہذب مع المجموع، ج: 9]
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
"وَلَا يَلْزَمُ مِنْ إبَاحَةِ الضَّرْبِ بِالدُّفِّ فِي الْعُرْسِ وَنَحْوِهِ إبَاحَةُ غَيْرِهِ مِنْ الْآلَاتِ كَالْعُودِ وَنَحْوِهِ"
"شادی وغیرہ کے موقع پر دف بجانے کے جواز سے لازم نہیں آتا کہ ان مواقع پر سارنگی وغیرہ دیگر گانے بجانے کے آلات کا استعمال جائز ہو۔"
[فتح الباری، ج: 2]
4. فقہاءِ احناف کا نظریہ
علامہ شمس الدین سرخسیؒ فرماتے ہیں:
"وَلَا شَهَادَةُ صَاحِبِ الْغِنَاءِ الَّذِي يُخَازِنُ عَلَيْهِمْ وَيَجْمَعُهُمْ"
"اس گانے بجانے والے کی شہادت قبول نہیں، جس کے پاس لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کو جمع کرتا ہے۔"
[المبسوط، ج: 16]
علامہ کاسانی حنفیؒ لکھتے ہیں کہ: جو شخص گانے بجانے کے آلات میں مشغول رہتا ہے، اگر وہ آلات مذموم نہیں ہیں، جیسے شاخ اور دف، تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس شخص کی عدالت ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ آلات مذموم ہیں، جیسے سارنگی وغیرہ، تو اس کی عدالت ساقط ہو جائے گی، کیونکہ یہ کسی اعتبار سے حلال نہیں ہیں۔
[بدائع الصنائع، ج: 6]
نوٹ: طوالت کی وجہ سے صرف اردو ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے۔
اور آگے دیگر فقہاءِ حنفیہ کا بھی یہی نظریہ ہے۔
علامہ اوزجندیؒ کی "فتاوی قاضی خان"، ملا علی قاریؒ کی "مرقاة"، علامہ شامیؒ کی "رد المحتار"، علامہ عینیؒ کی "عمدۃ القاری"، علامہ ابنِ نجیمؒ کی "البحر الرائق" میں اسی مفہوم کی عبارتیں مکتوب ہیں۔
[از: اکتساب شرح صحیح مسلم، جلد دوم، صفحہ: 266 تا 294]
ان احادیث و آثار کے بعد بھی اگر کوئی شخص دف کے علاوہ دیگر آلات کے جواز کا قائل ہو، تو وہ محض خواہش پرست اور جاہلِ مرکب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے اور باطل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
محرر: محمد صدیق راہی

ہمارے پیج کو فالو ضرور کریں 🥰

بزمِ علم و شعور سيرہ اسٹیڈی سینٹر 'اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی  پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر عنایت سے، بزمِ ع...
18/08/2026

بزمِ علم و شعور سيرہ اسٹیڈی سینٹر '
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر عنایت سے، بزمِ علم و شعور کے زیرِ اہتمام ایک پروقار محفل منعقد ہوئی جس میں تمام احباب نے شرکت فرمائی
اللہ تعالیٰ بزم علم و شعور کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقیاں عطا فرمائے,
پاران: سیرت اسٹڈی سینٹر کراچی

ہمارے پیج کو فالو ضرور کریں 🥰

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm e illam w Shaoor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share