26/11/2024
بلا شبہ آپ مجموعہ کمالات تھے نہ کوئی آپ جیسا تھا ،نہ کوئی آپﷺجیسا ہو سکے گا ،جس نے آپ ﷺکوجیسا پایا ویسا تعبیر کیا۔چناچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بے تکلفی کے ایک موقع پر حضور ﷺ کے مبارک چہرہ کی تعریف کرتے ہوئے حضورﷺ کو عرب کے ایک مشہور شاعر ہذلی کی غزل کے اس شعر کا مصداق ٹھہرایا ۔
وَ إذَا نَظَرْتُ إلٰیْ أسِرَّۃِ وَجْھِہِ بَرِقَتْ کَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَھَلَّلِ
ترجمہ:"جب میں نے اس روئے تابا ں پر نظر ڈالی ،تو اس کی شان رخشندگی ایسی تھی جیسے کہ کسی بادل کے ٹکڑے میں بجلی کوندرہی ہو۔"
مولا نا عبد العزیزرحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب سیرت مصطفی ﷺ کے صفحہ نمبر 32 پرروضۃ الفائق کے حوالہ سے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی پیدئش کا واقعہ ذکر فرما تے ہیں ۔ کہ یمن میں ایک عامر نامی بت پرست تھا جوشب ولادت بسعاد ت ﷺمیں اپنے بت خانے میں بیٹھاتھا اسی اثنا میں جناب ﷺ کا نور مبارک مشرق و مغرب شمال و جنوب میں پھیل گیا ۔خدا کے چاہنے سے اسکی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ گیا ۔آسمان سے فرشتے اترتے ہوئے ،درخت اور پہاڑ سجدہ ریز نظر آنے لگے۔عامر حیران ہوگیا یکایک نداسنی
"ولد النبی المنتظر و الذی یخاطبہ الحجر و الشجر و ینشق لہ القمر"
کہ وہ نبی جلو افروز ہو گئے جنکا انتظار تھا ۔۔۔اور جن سے شجر و حجر بات چیت کریں گئے۔۔۔اور جن کیلئے چاند ٹکڑے ہوجائے گا"عامر کی بیوی بھی پاس بیٹھی تھیں عامر نے پوچھا کہ ۔۔تو نے بھی یہ ندا سنی؟عامر کی بیوی نے کہا کہ سنی ہے ۔۔۔لیکن تم اس کہنے والے سے پوچھو کہ وہ نبی کون ہے ۔۔۔عامر کی قسمت جاگ اٹھی ۔۔۔انھوں نے عرض کیا
"ایھا الھاتف ما اسم ھذا المولود ؟"
اے ندالگانے والے اس پیدا ہونے والے کا کیا نام ہے؟
"فقال اسمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم "
تو اس ندا لگانے والے نے کہا کہ ان کا نام ِنامی محمد ہے ۔۔۔عامر کی ایک لڑکی کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا تھی جب اس نے اس نور کو دیکھا تو دعا کی کہ اگر اس نور میں برکت ہو تو مجھےاسمیں سے حصہ عطا ہو جائے۔اللہ تعالی نے اس نور کی برکت سے اسے تندرست کر دیا ۔جب عامر نے بیٹی کی حالت دیکھی تو اشتیاق اور بڑھ گیا چناچہ کمر بستہ ہو کر اس نور کی سمت کو تلاش کرتے کرتے مکہ مکرمہ عبد المطلب کے در ِدولت پر پہنچا تو جناب عبد المطلب کی خدمت میں عرض کرنے لگا کہ ان دنوں آپ کے گھر میں جو نوری فرزند پیدا ہوا ہے خدا کے واسطے مجھے دکھا دو۔۔۔جناب عبد المطلب جناب صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا لائے۔جوں ہی عامر نے ان کا دیدار کیا جاں بحق ہوگئے ۔(قسط نمبر :2 کتبہ محمد طہ)