23/02/2024
*اگر آپ کے بچے کو بعض حروف یا الفاظ کی ادائیگی میں مشکل ہو تو اسے اگنور مت کریں ۔*
بچوں میں ڈس لیکسیا (Dyslexia) کا مرض کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کریں؟
25/05/2018 گوہر تاج مشی گن (امریکہ)
شناخت اورعلامات:۔
ڈس لیکسیا کی ماہر سیلی ای شیوٹز کے مطابق سب سے پہلا اشارہ بچوں میں دیر سے بات شروع کرنا اور دو سال کی عمر تک بھی نامکمل فقرے ادا کرنا ہے۔ وہ نظموں کو یاد کرنے میں بھی دشواری سے گزرتے ہیں۔ مندرجہ بالا علامات عموماً بچوں میں پائی جاتی ہیں۔
1) دشواری سے اور آہستہ آہستہ پڑھنا۔
2) بظاہر ذہین نظر آنے کے باوجود پڑھنے، لکھنے اور ہجے کرنے میں انتہائی مشکل کا سامنا کرنا۔
3) حروف یا الفاظ کو الٹی سمت میں پڑھنا مثلاً انگریزی کے حروف b اور d یا p اور q کے درمیان ہمیشہ کنفیوژن کا ہونا، اسکے علاوہ الفاظ جیسے Won کو Now یا Rat کو Tar پڑھنا۔
4) کچھ حروف کو کھا جانا مثلاً Cart کے بجائے Cat پڑھنا۔
5) حروف کو لفظوں میں خود سے شامل کر دینا یا اصل حرف کے بجائے دوسروں کو پڑھنا مثلاً Cat کو Cart پڑھنا یا Left کو Felt پڑھنا۔
6) حروف کی صوتی ادائیگی میں دشواری اور بعض دفعہ درست ادائیگی کے باوجود صحیح تلفظ کی ادائیگی سے قاصر ہونا۔
7) بعض دفعہ ایک لفظ کو دوسرے ہم معنی لفظ سے بدل دینا، مثلاً Dog کو Pup، حروف کو اوپر سے نیچے سیدھے سے الٹے سمت کی وجہ سے پڑھنے اور پھر لکھنے کے عمل کو مررر رائٹنگ (Mirror Writing) بھی کہا جاتا ہے جو مشہور مصور لینارڈوڈی وانچی کے لکھے خطوط میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ڈس لیکسیا تھا۔
8) تختہ سیاہ سے اتارنے میں دشواری ہوتی ہے اور تحریر کا خط ناقص، حروفِ تہجی میں چھوٹی بڑی اشکال کا امتزاج نظر آتا ہے۔ بعض الفاظ نامکمل ہوتے ہیں۔ ڈس لیکسیا کی اس قسم کو کہ جس میں لکھائی متاثر ہوتی ہے، Disgraphia یا ڈس گرافیا کہا جاتا ہے۔ ایسے بچے تحریر کو اپنے اظہار کا اچھا طریقہ بنانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
9) پڑھتے وقت اپنی سطروں کو کھو دینا، بڑے الفاظ کا تلفظ غلط ادا کرنا۔
10) پریشانی یا دباﺅ میں ہکلاہٹ۔
11) حساب میں دشواری جس کو ڈس کیلکولائی (Discalculi) بھی کہا جاتا ہے، دراصل ڈس لیکسیا ہی کی ایک شکل ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق عموماً 12 سال یا اسکےک بعد بھی 60 فیصد بچے حساب کے بنیادی سوالات حل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ تھامس ایڈیسن نامور موجد ہونے کے باوجود حساب کے معاملے میں کمزور تھا لہٰذا اسکا معاون حساب حل کرنے کا کام کرتا تھا۔ ایسے بچے عموماً ہاتھ کی پوروں یا انگلیوں پر حساب کرتے ہیں، ان کو وقت بتانے یا عام حساب کتاب میں بھی دشواری ہوتی ہے۔
ڈس لیکسیا کے اثرات:۔
پڑھنے میں کمزوری کے اثرات صرف جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ کمزوری نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب کرتی ہے اور نہ صرف متاثر کنندہ بلکہ والدین اور بہن بھائی بھی اسکے زیراثر ہوتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ میں بالخصوص کہ جہاں عموماً کتابی علم تک معلومات محدود ہیں، ایسے افراد شرمساری، ذہنی دباﺅ، ہیجان، عدم اعتمادی اور عزتِ نفس کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔
اگر ہم اپنے ماضی میں جھانکیں تو اکثر بچے نظر آئیں گے کہ جن کو باآواز بلند کتاب پڑھنے میں جھجک مانع ہوتی تھی۔ شرم و خوف سے ان کا چہرہ جھکا ہوا ہوتا اور استادکی جانب سے احمق اور نالائق جیسے الفاظ کی بوچھاڑ انکی قسمت تھی۔
ان کو اعتماد کی کمی دوسری نئی چیزیں سیکھنے سے روکتی ہے۔ صبح اسکول جاتے وقت ان کی طبیعت مضمحل ہوتی ہے خصوصاً جس دن ان کا کوئی ٹیسٹ ہوتا ہے اور اگر انکے بہن بھائی اچھے طالب علم ہوتے ہیں تو ان پر گھریلو یا اسکول کا دباﺅ دوہرا ہوجاتا ہے۔
وہ اپنی کم علمی کی ناکامی کا ذمہ دار اپنے آپ کو ٹھہراتے ہیں حالانکہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ایک ڈس لیکسک بچے کے ذہن کو نارمل ذہن کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنی خفت اور شرمندگی چھپانے کیلئے کبھی یہ جماعت کے مسخرے کا روپ دھارتے ہیں تو کبھی تکلیف اور پریشانی پہنچانے کا ذریعہ اور یہ بڑے ہو کر معاشرے کا مجرم بھی بن سکتے ہیں۔
نیشنل سینٹر آف ایجوکیشن کے مطابق امریکہ کی جیلوں کے ایک تہائی مجرم قیدی لرننگ ڈس ایبلٹی یا سیکھنے کی اہلیت میں خرابی کا شکار ہیں۔
اسی طرح برٹش ڈس لیکسیا ایسوسی ایشن کی جون 2004ءکی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق کہ جو 34 نوعمر مجرموں پر کی گئی، 56 فیصد مجرم ڈس لیکسیا کی علامات کا شکار تھے۔
تدارک یا علاج:۔
گو ڈس لیکسیا ایک اعصابی بے ربطگی ہے لیکن اسکا علاج طب کے بجائے تعلیم میں مضمر ہے یعنی پڑھنے کے عمل کی دشواری پر علم سے قابو پانا جس کو ”علاج بذریعہ بالواسطہ پڑھنا“ کہا جاسکتا ہے۔
یہ ”علمی“ علاج بالعموم گھروں میں اور اسکولوں کے علاوہ کلینک اور پرائیویٹ اساتذہ کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔
اس کیلئے تعلیم دان، زبان اور گفتگو کے معالج، تعلیمی نفسیات دان اور تربیت یافتہ ماہر تعلیم خصوصی سے مدد لی جاسکتی ہے۔
اس سلسلے کے کچھ پروگرام حسب ذیل ہیں۔ آئی ای پی (Individualized Education Programme) یا انفرادی تعلیم کا پروگرام، یہ پروگرام بچوں کی اہلیت اور استعداد کے حساب سے انکی کامیابیوں کے مطلوبہ مقاصد یا مقام کو متعین کرتا ہے۔
اس میں بچے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کو ان کی کامیابیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور کمزوریوں پر قابو پانے میں بھی محنت کی جاتی ہے۔
مستعمل طریقہ علاج:۔
1997ءمیں امریکہ کی کانگریس نے ایسے بچوں کی دشواری کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ریڈنگ پینل (NRP) کے ماہرین کی خدمات طلب کیں کہ جس کی ذمہ داری اس سے متعلق تجاویز پر غور کرنا ہے۔
اسکے تحت جو سب سے بہترین کارگر طریقہ ہے وہ بچوں میں حروفِ تہجی کی صوتی یا آواز شناسی پر زور دینا ہے یعنی حروف کو پہچان کر ان کی آواز مخصوص آواز کی مدد سے لفظ پڑھنا، صوتی مشق اور حروف کی آواز سے لفظوں کی ہم رشتگی Phonic یا صوتی طریقہ تدریس کہلاتا ہے۔
ملٹی سنسری (Multisensory) پروگرام جس میں ایک سے زیادہ حواسِ خمسہ کو استعمال میں لایا جاتا ہے جس میں دیکھنے، ہاتھ سے لکھنے، دہرانے، چھوٹے اور آواز سننے کے عمل پر ترتیب وار عمل کیا جاتا ہے۔
اسکی بنیاد آرٹن، گیلہنم طریق پر رکھی گئی جو ڈس لیکسیا کی تحقیق کے بانی ٹی آرٹن تعلیم دان این گیلن ہیم نے دریافت کیا، اور بھی کئی طریقے اسکی بنیاد پر دریافت کئے گئے اور پاکستان کے کم وسائل علمی اداروں میں بھی اپنائے جاسکتے ہیں
لیکن آج کل جدید تکنیک کے حوالے سے کچھ اور طریقے بھی عمل میں لائے گئے ہیں اور چونکہ اب پاکستان کے جدید شہروں میں کمپیوٹر عام ہیں تو کم از کم وہاں ضرور چند پروگرامز مثلاً Fast Forward پروگرام پر عمل ہوسکتا ہے کہ جس میں مختلف ذہنی سطح پر تعلیمی پروگرام ترتیب دئیے گئے ہیں جو بچہ ہیڈ فون لگا کر استعمال کرسکتا ہے۔
پڑھنے کے علاوہ کچھ ایسی تیکنیکس کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے جو پڑھنے میں مدد کے بجائے لکھائی اور پڑھائی کو آسان بناتی ہیں مثلاً A ٹیک کہ جس میں لکھائی کے بجائے کی بورڈ (Keyboard) کا استعمال ہے، اس میں ہجے جانچنے کا بھی نظام ہوتا ہے۔
آواز پہچاننے کا انتظام، یہ سافٹ وئیر مثلاً ڈرگن نیچرلی اسپیکنگ جو خود بخود کہے ہوئے الفاظ کو ورڈ پروسیسنگ فائل پر ٹائپ کرتا ہے۔ اسکے علاوہ کمپیوٹر پر لکھے الفاظ کو آواز میں تبدیل کرنے والے پروگرامز جس میں مطلوبہ درسی متن کمپیوٹر آپ کے سامنے آواز میں پڑھ کر سناتا ہے۔
ریڈنگ پین بھی ایک ایسا ہی آلہ ہے کہ جو لکھے ہوئے متن کو آواز میں تبدیل کردیتا ہے۔ بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی لے جایا جاسکتا ہے۔ یہ پین جب کمپیوٹر پر لکھی سطر پر رکھا جاتا ہے تو ان الفاظ کو بلند آواز میں پڑھتا اور انکی تعریف پیش کرتا ہے۔
گو عام کلاس کے کمرے میں بھی ایک ڈس لیکسک بچے کو پڑھایا جاسکتا ہے لیکن ایک استاد کے ساتھ انفرادی توجہ یا چھوٹے گروپ میں تعلیم کا نتیجہ بہت ہی اچھا ہوتا ہے۔
دماغی ورزش (Brain Gymnastics):
دماغی ورزش کے طریقے ڈاکٹر پال ڈاینیشن (پی ایچ ڈی چائلڈ ڈویلپمنٹ اور ایجوکیشنل اسپیشلسٹ) اور انکی اہلیہ گیل ڈاینیشن (ماہرِ حرکات) کی 30 سالہ تحقیق کا نچوڑ ہیں اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کارگر ثابت ہورہے ہیں۔
گو اس جدید سائنسی تعلیمی طریقوں کے موضوع کو احاطہ کرنے کیلئے علیحدہ جامع مضمون کی ضرورت ہے مگر فی الوقت یہ جانئے کہ جسم کی صحت کیلئے جسمانی ورزش بہت ضروری ہے اور دماغ جسم کا اہم حصہ ہے۔
یہ دماغی ورزشیں نہایت سادہ اور ارزاں ہیں مثلاً سبق شروع کرنے سے پہلے پانی پینا کہ جو ذہنی دباﺅ کو کم کرکے ذہن کو مرکوز کرتا ہے
اور ایک مثال ہے کہ اپنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو کالر کی ہڈی کے نیچے رکھ کر آہستہ آہستہ ملیں اور دوسرا ہاتھ ناف کے اوپر رکھیں۔
یہ طریقہ دماغ کی جانب خون کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ کھڑے ہو کر اپنا سیدھا ہاتھ الٹے پیر کے گھٹنے پر رکھیں، پھر الٹا ہاتھ سیدھے پیر کے گھٹنے پر، اس عمل کو بار بار دہرائیں۔
یہ ورزش دماغ کے سیدھے اور الٹے حصے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور دونوں جانب معلومات کا تبادلہ کرتی ہے۔ اسی طرح کی اور بے شمار مشقیں خصوصاً ڈس لیکسک یا عام بچوں کیلئے مددگار ہیں۔
تدارکی تدابیر کے نتائج:۔
ء میں ہونے والی ایٹن فورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق ان سب طریقوں سے نہ صرف پڑھنے کی اہلیت میں اضافہ ہوا بلکہ دماغ کی استعداد میں بھی نمایاں تبدیلی نوٹ کی گئی۔
اب کچھ اور معالجوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں کہ جن میں جسمانی حرکات یا توازنِ بصارت اور غذائیت میں ردوبدل کی گئی، مثلاً بصری علاج میں پڑھتے وقت اگر ایک آنکھ کو ڈھانک دیا جائے تو ماہرین کے مطابق اس سے بچے کے ذہن کو مربوط رکھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ڈس لیکسیا میں حروف کے الٹ جانے اور گڈمڈ ہوجانے کی ایک بنیادی وجہ دہری بصارت یا ڈبل وژن سمجھی جاتی ہے اور آنکھ کے ڈھکنے سے اس پر فرق پڑتا ہے، یہ طریقہ بالخصوص 6-9 سال کی عمر کیلئے انتہائی مناسب ہے۔
مشقِ مسلسل:۔
ہمارے اسکولوں میں دہرانے کا مسلسل عمل ابھی بھی مستعمل ہے۔ یہ عمل ڈس لیکسک بچوں کیلئے سودمند ہے یعنی اتنا دہرانا کہ اس پر مہارت ہوجائے۔
غذائی علاج مثلاً اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا استعمال جو مچھلی میں پایا جاتا ہے اور دماغ اور بینائی کیلئے مفید ہے۔
محرک جین کے پتہ ہونے کے بعد مستقبل میں جین تھراپی بھی علاج کی ایک صورت ہوسکتی ہے۔
ممکن یہ بھی ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسی دوا دریافت ہوسکے کہ دماغ میں زبان سے تعلق رکھنے والے مرکزے یا میگنو سیل کی خرابی کو دور کرسکے۔
مزید کیا حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے؟
بحیثیت والدین ہمارا فرض بچوں کی عزتِ نفس کو مجروح ہونے سے بچانا، ان کو مسلسل حوصلہ دینا اور مستقل مزاجی سے اپنی معاونت، محبت اور مدد فراہم کرنا ہے۔
بحیثیت استاد ضروری ہے کہ ہماری تدریس کا معیار بلند ہو، طبیعت میں تحمل، مستقل مزاجی اور حساسیت اور ہر وہ طریقہ آزمانے کا جذبہ ہو جو بچے کیلئے مددگار ہو۔
گو ڈس لیکسیا کی ماہر سوزن ہال کے مطابق ایسے بچوں پر بہترین کام کے جی یا پہلی جماعت میں ہوتا ہے لیکن جس وقت بھی شناخت ہوجائے پوری ذمہ داری سے بچے کی مدد کی جائے۔
بچوں کو ناقص العقل، احمق یا کام چور جیسے الفاظ سے مخاطب کرنے سے گریز کیا جائے، ان کو ان کے مخصوص طرائق سے علم آشنا کیا جائے تو وہ یقیناً معاشرے کا فعال کردار بن سکتے ہیں۔
وہ مشہور ہستیاں جو واضح طور پر ڈس لیکسک تھیں آج انسانی تاریخ کا معتبر حوالہ ہیں۔
ان میں شامل الیگزینڈر گراہم بیل، مائیکل فیراڈے، تھامس ایڈیسن، پکاسو، چرچل، بنسن، کرسٹین اینڈریسن کے علاوہ ٹام کروز اور وہوبی گولڈبرگ محض چند نمایاں نام ہیں۔
تفصیل لمبی ہے لیکن ہمارے تعاون سے بہت سے نام ہمارے ملک کے افراد کے بھی ہوسکتے ہیں جو ہماری آنے والی تاریخ کا حوالہ بن سکتے ہیں۔
گوہر تاج مشی گن