"آن لائن قرآنی عربی کورس" برائے خواتین جلد شروع کیا جائے گا۔
تفصیلات 👇🏻👇🏻👇🏻
Iqra online academy
اقرا آن لائن اکیڈمی آپکو عربی،قرآنی عربی، خطابت،نقابت،تحریر، جغرافیہ، سیرت، نماز کورسز مہیا کرے گی
صرف خواتین کے لیے
15/03/2025
https://youtu.be/vXZf8Xpdeec?si=WdTxAgxvYjRgnSoN
What is Taqwa? | How Fasting in Ramadan Builds True Piety What is Taqwa? How Does Fasting Help Attain It? 🌙Taqwa is the essence of a believer’s life, guiding us towards righteousness and closeness to Allah. But how...
27/02/2025
جنید جمشید مرحوم ایک لیکچر میں بتا رہے تھے کہ انہوں نے انگلینڈ میں ایک معروف برینڈ کا سویٹر خریدا۔۔ چھ ماہ پہن کر سوچا کہ اب پاکستان جا رہا ہوں وہاں گرمی کا موسم ہے تو کہاں پہنا جائے گا اسے واپس ہی کر دیتا ہوں۔۔
قرب و جوار میں اس برینڈ کی آؤٹ لیٹ سرچ کی۔۔ وہاں جا کر سویٹر کاونٹر پر رکھا اور کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں میں واپس کرنا چاہتا ہوں۔۔ انہوں نے پوچھا اس کی خریداری کی رسید۔۔ میں نے کہا۔۔نہیں ہے۔۔ پھر پوچھا کب لیا تھا۔۔ جواب دیا یاد نہیں۔۔ اس نے پوچھا آپ تبدیل کرنا چاہیں گے یا ری فنڈ لینا۔۔ جواب دیا ری فنڈ کر دیں۔۔ اس نے کہا اوکے نو پرابلم۔۔ پچاس پاؤنڈ کا خریدا تھا اور اب چھ ماہ بعد پچاس پاؤنڈ واپس مل گئے۔ میں نے جیب میں ڈالے اور دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ صحیح بے وقوف بنایا ہے ان انگریزوں کو۔۔
پھر کہتے ہیں جب دین کی طرف آیا۔۔ تو۔۔۔
مکمل پڑھنے کے لیے پہلا کمنٹ دیکھیں
27/02/2025
صرف خواتین کے لیے
23/12/2024
خواتین کے شرعی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نوعیت کا ایک منفرد کورس ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیلات زیر نظر پوسٹ میں موجود ہیں۔ ایک نظر دیکھ لیجیے اور کورس کر لیجیے۔
ہیپناسس اور روایتی سائیکالوجی میں ایک بنیادی فرق۔۔۔
عجیب ترین واقعہ...
ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔
سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔
اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔
سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔
شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔
سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔
سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔
لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔
لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے، کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔
انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔
لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔
سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں، اس لیے
اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔
شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔
جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔
اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی
سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔
ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔
پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، *تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ* تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔
پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔ شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔
آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے،
ہر پانچ سال بعد لوگ بھیس بدل کر ہمارے پاس آتے ہے نادیدہ قوتیں پھر سب کچھ دہرانے کا کہہ کر الیکشن کرواتی ہے اور ووٹ ووٹ کھیل کر عوام کو پھر سے چونا لگاتی ہے۔
ہر دفعہ ایک نیا منظر، نیا لباس، نیا بہروپ ، نئی شکل اور نیا حربہ جس سے عوام دھوکہ کھا کر اعتبار کرتی ہے ؛
پڑھ نے کیلئے شکریہ❣️
از بندۂ خدا
یہ سارے نمونے ہمارے پاکستان کے ہی حصے میں کیوں آتے ہیں 🤣😀🤣😀🤣
پاکستان میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی سامنے آگئی، انوکھا دعویٰ کر ڈالا
*استاد کے حقوق🪷*
ایک بزرگ نے استاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا:
1. التَّعْظِيمُ لَهُ: استاذ کا حترام کرو۔
2. التَّوْقِيرُ لِمَجْلِسِهِ: استاذ کی جگہ کو محترم جانو۔
3. حُسْنُ الِاسْتِمَاعِ إِلَيْهِ: استاذ کی گفتگو غور سے سنو۔
4. الإِقْبَالُ عَلَيْهِ: استاذ کی جانب اپنا رخ رکھو، یعنی پشت مت کرو۔
5. لَا تَرْفَعَ عَلَيْهِ صَوْتَكَ: اپنی آواز کو استاذ کی آواز سے بلند نہ کرو۔
6. لَا تُجِيبَ أَحَداً يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُجِيبُ: اگر کوئی سوال کرے تو جواب نہ دو، بلکہ استاذ کو دینے دو۔
7. لَا تُحَدِّثَ فِي مَجْلِسِهِ أَحَداً: استاذ کی مجلس میں بیٹھ کر کسی سے کلام نہ کرو۔
8. لَا تَغْتَابَ عِنْدَهُ أَحَداً: استاذ کے پاس بیٹھ کر کسی کی غیبت نہ کرو۔
9. تَدْفَعَ عَنْهُ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَكَ بِسُوءٍ: استاذ کی برائی بیان کی جائے تو اس کا دفاع کرو۔
10. تَسْتُرَ عُيُوبَهُ وَ تُظْهِرَ مَنَاقِبَهُ: استاذ کے عیوب پر پردہ ڈالو اور ان کے فضائل کو ظاہر کرو۔
11. لَا تُجَالِسَ لَهُ عَدُوّاً: استاذ کے دشمن کے ساتھ نہ بیٹھو۔
12. لَا تُعَادِيَ لَهُ وَلِيّاً: استاذ کے دوستوں سے دشمنی نہ کرو ۔
واقعی سچ ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi
Karachi