Directorate of Education District Municipal Corporation South Karachi

Directorate of Education District Municipal Corporation South Karachi

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Directorate of Education District Municipal Corporation South Karachi, Education, Karachi.

03/10/2022

احتیاط کیجئے

03/10/2022

قرآن کریم کی بے حرمتی!

انظامیہ نا توجہی یا عوام الناس کی سادگی، ناسمجھی، بےوقوفی یا پھر جان بوجھ کر غیر ذمہ داری، قرآن کریم کی مسلسل بے حرمتی جاری۔۔۔
#قران

21/09/2022

دعائے صحت کی گزارش!

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ناپید عطاء صدر معلمہ کے بیٹے محمد حمزہ لیاقت نیشنل اسپتال میں ایڈمٹ ہیں ڈینگی بخار کی وجہ سے پلیٹلیٹس کم ہو گئے
تمام احباب سے دعا کی درخواست ہے اللہ اپنے محبوب کے صدقے میں جلد مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔
جملہ ملازمین دعا گو ہیں کہ پاک پرور دگار پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں جلد از جلد شفاء کاملہ و اجلہ مرحمت عطافرمائے- آمین

Photos from Directorate of Education District Municipal Corporation South Karachi's post 09/09/2022

📣طلبہ و والدین کیلئے خوشخبری ‛ اسکول مالکان کیلئے اہم ہدایات جاری ستمبر 7, 2022
ڈائریکٹوریٹ انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ نے حکم جاری کیا ہے کہ کوئی بھی سکول اپنی کاپیاں ‛ رجسٹر اور جرنلز وغیرہ شائع نہیں کر سکتا نہ ہی والدین کو خریدنے پر مجبور کر سکتا ہے ۔

محمکہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر سلمان رضا نے سرکلر جاری کر کے بعض اسکول مالکان کی من مانیوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ جس کے بارے میں طلبہ و طالبات اور والدین نے شکایات کر رکھی تھیں ۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق کوئی بھی اسکول والدین یا طلبہ کو اسکول کی شائع کردہ کاپیاں ‛ رجسٹر یا جرنلز خریدنے پر مجبور نہ کرے ‛ البتہ سکول کے نام و لوگو والے اسٹیکرز کتابوں وغیرہ پر لگانے کی اجازت ہو گی ۔

کوئی بھی سکول طلبہ یا والدین کو یونیفارم ‛ سکول بیگ ‛ کتابیں ‛ اسٹیشنری سکول سے فراہم نہیں کر سکتا نہ ہی کسی اسپیشل دکان سے خریدنے کی ترغیب دے سکتا ہے ۔ اور والدین کتابیں ‛ سکول بیگ وغیرہ عام مارکیٹوں سے ہی خریدیں ۔

اسکول مالکان کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ سکول کی منظور شدہ فیس کو نوٹس بورڈ پر آویزاں کریں اور طلبہ و والدین کی ڈیمانڈ پر ان کو منظور شدہ فیس کا اسٹیکچر فراہم بھی کریں ۔

اسکول مالکان کسی بھی صورت والدین سے یونیفارم کی فیس ‛ فوڈ آئٹمز ‛ ماں کا دن ‛ پھولوں کا دن ‛ رنگوں کا دن ‛ آم کا دن اور میوزک کا دن کے نام پر بھی پیسے نہیں لے سکتے ۔ کوئی بھی سکول مالک والدین سے دو ماہ کی فیس ایک ساتھ نہیں لے سکتا نہ ہی والدین و طلبہ کو دو ماہ کی فیس ایک ساتھ دینی چاہیئے ۔

اسکول مالکان 5 سال سے پہلے یونیفارم تبدیل نہیں کر سکتے اور یونیفارم تبدیل کرتے وقت وہ محکمہ تعلیم سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ سے لازمی اجازت و منظوری لے گا ۔

محمکے کی جانب سے ہدایات دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریگولیٹر اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001 کے رول 10 کیمطابق ہر اسکول لازمی طور پر کل بچوں کا 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم مہیا کرے گا ۔

اسکول مالکان تین ماہ تک فیس ادا نہ کر سکنے والے طلبہ کو کسی بھی قسم کی سزا یا جرمانہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں امتحان میں بیٹھنے سے روک سکتے ہیں ۔ اگر اس حوالے سے محمکہ کو شکایت موصول ہوئی تو محمکہ انوسٹیگیشن کرے گا اور سکول مالکان کیخلاف کارروائی عمل میں لائے گا ۔

کوئی بھی اسکول لیٹ فیس نہیں سکتا اور لیٹ فیس ہونے کی صورت میں سکول مالکان پابند ہیں کہ وہ والدین و طلبہ کو بلا کر ان کا موقف بھی سن لیں اور اس کے بعد ان کو دو نوٹس جاری کریں گے ۔

رول 12 کے مطابق اسکول میں باقاعدگی سے والدین اور اساتذہ کی باہمی ایسوسی ایشن PTA کا اجلاس ہوا کرے گا تاکہ معمولی نوعیت کے مسائل حل اور مشاورت کا عمل جاری رہ سکے

08/09/2022

ڈینگی بخار !
ڈینگی ایک وئرل بیماری ہے
6 دن تک آثر رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔

06/09/2022

میٹرک 2023 کے امتحانات میں ٪20 فیصد سلیبس کم کرنے یا پھر سمارٹ سلیبس کرنے پر غور شروع
زرائع

06/09/2022

دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا میں 3240 ملی میٹر ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں زیادہ ہونے والی بارشوں کی فہرست میں پاکستان 145 نمبر پر ہے جہاں سالانہ ایورج 494 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہونے والی بارشوں کی فہرست میں بنگلہ دیش تیسرے نمبر پر ہے کبھی آپ نے سنا بنگلہ دیش پر اللہ کا عذاب آیا۔ کبھی آپ نے سنا کہ یورپ کے کئی ممالک جہاں کم و بیش پورا سال بارش ہوتی ہے کوئی ملک سیلاب کی نظر ہوگیا ۔؟؟

یہ منجن صرف اور صرف آپ کو پاکستان میں بکتا ہوا ملے گا کہ سیلاب میں غریب عوام کے مال مویشی جھونپڑیاں دکانیں کاروبار تباہ ہوئے اور ان سب پر یہ اللہ کا عذاب ہے جبکہ بڑے شہروں کے بڑے بڑے محلات میں رہنے والے تمام حاجی صاحبان اللہ کے ولی تھے اس لیے اللہ کا عزاب ان پر نازل نہیں ہوا ۔۔۔

اصل معاملہ آپ کو کوئی نہیں بتائے گا کہ میرے سادہ لوح معصوم پاکستانیوں اس ملک میں تمہارا خون تمہاری لاشیں تمہاری عصمت تمہاری مفلسی کو باقائدہ بیچا جاتا ہے۔ یہاں جان بوجھ کر ڈیم نہیں بنائے جاتے کہ عوام کو سستی بجلی ملے گی تو عوام خوشحال ہونگے کاروبار پروان چڑھیں گے صنعتیں لگیں گی ۔۔ اور خوشحال عوام مطلب تعلیم اور شعور اور تعلیم شعور کا مطلب اس ملک میں کرپٹ سیاستدانوں اور ان کے سہولت کاروں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ۔۔

سونے پر سہاگہ دیکھیے کہ ایک طرف کراچی سندھ خیبر پختونخوا بلوچستان اور اندرون پنجاب کے بیشتر علاقوں کے پاس پینے کو صاف پانی نہیں فصلیں بنجر ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ہر دوسرے سال پانی سیلاب کی شکل میں اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ آدھا ملک ڈوب کر تباہ ہو جاتا ہے۔

اس ملک میں ڈیم بنائے گئے ہوتے تو نہ پینے کے پانی کا مسئلہ ہوتا نہ کاشتکاری کی زمینیں بنجر ہوتیں نہ ہی بجلی کا مسئلہ ہوتا ۔۔

کیا آپ کا ذہن یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ ہم پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود ایٹم بم تو بنا سکتے ہیں لیکن چند ملک دشمن عناصر کی وجہ سے ڈیم نہیں بنا سکتے ۔۔؟؟ اصل میں ہمارے اربابِ اختیار بنانا ہی نہیں چاہتے ۔۔ پہلے آپ کو امپورٹڈ مہنگی گندم کھلا کر مال کمائیں گے پھر آپ کو مہنگی بجلی فروخت کریں گے پھر آپ کو سیلاب میں ڈبوئیں گے اور آگر آپ خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے تو آپ کے نام پر ملنے والی غیر ملکی امداد ہڑپ کریں گے ۔۔

لیکن خبردار آپ نے اپنا دماغ بلکل استمعال نہیں کرنا اور اللہ کے قرآن کے نزول کی پہلی آیت "اقرا باسم ربک الذی خلق" پر بلکل بھی عمل نہیں کرنا۔۔ آپ نے بس یہ آندھی تقلید کرنی ہے کہ پاکستان بہت گنہگار ملک ہے اس لیے ہم پر اللہ کا عذاب آیا ہوا ہے .
Copied

05/09/2022

یوم دفاع
یوم دفاع پاکستان

یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے

اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے

اس دن سکول کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں6ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،

ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے،

6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔
1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا،

پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد’’رن آف کچھ‘‘ پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا

چونڈہ کے سیکٹر پر(ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا)کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری دی۔ ناصرف آرمی بلکہ تحصیل پسرور کےعام لوگوں نے بھی اپنی افواج کے ساتھ بڑھ چڑھ کر دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور دشمن کے اپنے ایریا میں گھس جانے کے باوجود اپنے دیہاتوں میں مورچے بنا کر ڈٹے رہے اور دشمن کا دکھایا کہ اہلیان پسرور کو روند کر پاکستان میں داخل ہونا اتنا آسان نہیں۔ دشمن ٹینکوں کی ایک بہت بڑی تعداد لیکر [سبز پیر موڑ]، معراجکے، درمان اور اور تحصیل ظفروال کے مختلف دیہاتوں سے اندر گھس آیا۔ جسے پھلورہ کے مقام پر پاکستانی قوم نے وہ سبق سکھایا کہ اسکی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔

پاکستان نیوی:۔ستمبر1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر رہیں۔ اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔ کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔پاکستان کے بحری،تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لیے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔ یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دورن پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔ پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہے۔ ہندوستان کے تجارتی جہاز’’سرسوتی‘‘اوردیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست وحفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔ 7ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔ پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی بھی شامل تھی۔ ہندوستان کے ساحلی مستقر’’دوارکا‘‘پرحملہ کے لیے روانہ ہوئی۔اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔ مذکورہ فلیٹ صرف 20منٹ تک اس دوار کا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو چکا تھا۔ پی این ایس غازی کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ ہندوستانی جہاز’’تلوار‘‘کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا مگر وہ بھی’’غازی‘‘ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔

پاک فضائیہ:۔ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے قابل فخرسپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمت عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیش نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف’’ہوا باز گھوڑوں کو تیار کر رکھا تھا‘‘جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیاررہنے کا حکم ہے۔ یہ ہمارے ہوا باز7ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹ پڑے۔ ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایا۔ تو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالد ین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کر دیا کہ حرمت وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں ۔ پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ’’ہلواڑا‘‘بنادیا۔پاک فضائیہ نے میدان جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ وہ فرمان قائد اعظم کے مطابقSecond to None ہے۔ پاکستانی شہری:۔1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کوپاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔ سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد،نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی ،نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کوناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔

05/09/2022

نیجی اسکول بجلی کے فیول ایڈجسمنٹ بھی بچوں کے فیس چالان میں ڈال وصول کر رہے ہیں۔

02/09/2022

Interior Minister for Interior Rana Sanaullah has launched the NADRA Biker Service for carrying out all the processes of Computerised National Identity Card (CNIC) applied in renewal and modification categories at the doorstep of the applicant.

The inauguration ceremony was held at National Database and Registration Authority (NADRA) Headquarters, Islamabad.

During Rana Sanaullah’s visit to the authority’s headquarters, the NADRA chairman Muhammad Tariq Malik briefed the Interior Minister about operations in Sindh, Balochistan and South Punjab which have been badly affected by devastating floods and heavy rains, according to the media statement.

The minister was informed that the monsoon rains and floods have caused heavy losses to the most of buildings of NADRA registration centres which are inundated under water; however, the equipment has been saved and evacuated. Houses of 150 NADRA employees in those areas have been damaged, the chairman informed.

02/09/2022

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اعلان کیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ حصہ اول و دوم کے سالانہ امتحانات برائے 2022ء کے آرٹس ریگولر گروپ اور امپروومنٹ آف ڈویژن کے عملی امتحانات 7 ستمبر 2022ء سے شروع ہورہے ہیں۔ عملی امتحانات میں شرکت کے خواہشمند اور اہل طالب علموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عملی امتحانات کا پروگرام 7ستمبر 2022ء سے قبل اپنے کالجز سے حاصل کرلیں.

01/09/2022

اہل ایمان قیامت کے دن حقوق العباد سے متعلق جوابدہ ہوں

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi
745000