Wasim Munir

Wasim Munir Humanitarian | Biomedical Engineer

Exploring local & global affairs, and sharing short reflections from everyday life. YouTuber
(1)

Passionate about learning, teaching, writing, and creating meaningful impact. Bridging healthcare and computing with AI in healthcare.

پپو یار تنگ نہ کر ۔ عوام ضروری کام سے سو رہی ہے۔
08/09/2026

پپو یار تنگ نہ کر ۔ عوام ضروری کام سے سو رہی ہے۔

بلاعنوان ۔۔۔
05/09/2026

بلاعنوان ۔۔۔

چوری بھی، سینہ زوری بھی!آج کل کا زمانہ بھی عجیب ہو گیا ہے۔ لوگ چوری بھی کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کی چوری کی نشاندہی کر د...
03/09/2026

چوری بھی، سینہ زوری بھی!

آج کل کا زمانہ بھی عجیب ہو گیا ہے۔ لوگ چوری بھی کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کی چوری کی نشاندہی کر دے تو الٹا اسی پر برہم ہو جاتے ہیں۔ غلط کام کرنے والے کو شرمندگی نہیں ہوتی، بلکہ وہ شکایت کرنے والے پر دباؤ ڈالتا ہے، دھمکیاں دیتا ہے، اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات الٹی قانونی کارروائی بھی کروا دیتا ہے۔ یعنی جرم کرنے والا طاقتور ہو تو مظلوم بن جاتا ہے، اور حق کی بات کرنے والا مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ انصاف کا ترازو بعض اوقات حق اور باطل کے بجائے طاقت، دولت اور اثر و رسوخ سے متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کے پاس پیسہ اور طاقت ہے، وہ ناجائز قبضہ بھی کر لے تو اس کے پاس اپنے دفاع کے کئی راستے ہیں۔ دوسری طرف جو شخص حق پر ہو مگر کمزور ہو، اس کے لیے اپنا حق ثابت کرنا بھی ایک جنگ بن جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف عدالتوں یا اداروں تک محدود نہیں رہا۔ گھر میں بچوں کو درست بات سمجھائیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں، باہر کسی کو غلط کام سے روکیں تو وہ بھی برا مانتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سچ بولنا، غلط کو غلط کہنا اور کسی کو درست راستہ دکھانا بھی ایک خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے: جس معاشرے میں طاقتور کا جرم معاف اور کمزور کا حق مشکوک ہو جائے، وہاں خوشحالی صرف ایک خواب رہ جاتی ہے۔

جب تک ہمارے فیصلے طاقت اور تعلقات کے بجائے حق، قانون اور انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوں گے، نہ اداروں کو سکون ملے گا، نہ معاشرے کو اور نہ ہی عام انسان کو۔ چوری ختم کرنے سے پہلے ہمیں اس ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا جس میں چوری پکڑے جانے پر شرمندگی کے بجائے سینہ زوری کی جاتی ہے۔

#انصاف #حق #سچ #قانون #کرپشن #معاشرہ #پاکستان

02/09/2026

ہم آخر کیسے معاشرہ ہیں؟

ہم اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم، سچا مسلمان، عاشقِ رسول ﷺ اور خدا کی پسندیدہ مخلوق کہتے ہیں، مگر ذرا اپنے کردار اور روزمرہ کے رویوں کو بھی دیکھیں۔

صفائی کا خیال نہیں، سڑکوں اور گلیوں میں کچرا پھینکنا معمول، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عام، ملاوٹ اور دھوکا دہی سے لے کر رشوت اور سفارش تک، ہر سطح پر ہم دوسروں کو برا کہتے ہوئے خود بھی وہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔

ہم مذہب کی بات بہت کرتے ہیں، مگر حقوق العباد، دیانت، انصاف، برداشت، سچائی اور حسنِ اخلاق کو اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہم مسلک، زبان، ذات، برادری، سیاست اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم ہیں، اور اختلافِ رائے کو دلیل کے بجائے گالی اور تضحیک سے جواب دینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایماندار ہو، مگر ٹیکس سے بچنے کا راستہ بھی تلاش کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس رشوت نہ لے، مگر اپنا کام نکلوانے کے لیے رشوت دینے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر، استاد، مکینک، دکاندار اور سرکاری افسر ایمانداری سے کام کریں، مگر جہاں موقع ملے وہاں اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

اصل مسئلہ صرف حکمران نہیں، ہم خود بھی ہیں۔

ہم معجزے کے منتظر رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ملک بدل دے، لیکن خود اپنی عادتیں، رویے اور کردار بدلنے کے لیے تیار نہیں۔

اسلام صرف کلمہ پڑھنے کا نام نہیں۔ اسلام کردار، امانت، انصاف، رحم، صفائی، سچائی اور حقوق العباد کا بھی نام ہے۔

اگر ہم واقعی اپنے ملک اور دین سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہوگا۔

ملک تب بدلے گا جب ہم "وہ" سے پہلے "میں" کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔

#کردار #اسلام #پاکستان #معاشرہ #اصلاح #دیانتداری #انصاف

بلاعنوان۔۔۔
24/08/2026

بلاعنوان۔۔۔

172 روپے کی گیس، 958 روپے کا بل! آخر کیوں؟میرے گھر کا اس ماہ گیس کا بل 958 روپے آیا ہے۔ بل کی تفصیل دیکھیں تو میری اصل گ...
22/08/2026

172 روپے کی گیس، 958 روپے کا بل! آخر کیوں؟

میرے گھر کا اس ماہ گیس کا بل 958 روپے آیا ہے۔ بل کی تفصیل دیکھیں تو میری اصل گیس کی کھپت کے چارجز صرف 172 روپے ہیں۔

اس کے بعد 40 روپے میٹر رینٹ، پھر 600 روپے فکسڈ چارجز اور اس کے بعد مختلف ٹیکسز شامل کرکے بل تقریباً 958 روپے تک پہنچ گیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک صارف نے صرف 172 روپے کی گیس استعمال کی ہے، تو اسے تقریباً 960 روپے کا بل کیوں ادا کرنا پڑ رہا ہے؟

چلیں، میٹر رینٹ بھی سمجھ آتا ہے، لیکن 600 روپے کے مستقل فکسڈ چارجز اس وقت بھی لیے جا رہے ہیں جب گیس کا استعمال انتہائی کم ہو۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا بل ادا کرنے کے باوجود 24 گھنٹے گیس دستیاب نہیں۔ صبح مخصوص اوقات میں، دوپہر میں اور رات کو گیس آتی ہے، اور بعض اوقات مقررہ وقت پر بھی گیس دستیاب نہیں ہوتی۔ آج ہفتے کے دن دوپہر کے وقت ہمارے گھر میں گیس موجود نہیں تھی، لیکن بل اپنی جگہ پورا موجود ہے۔

172 روپے کی گیس استعمال کریں اور 958 روپے ادا کریں!

یہ صرف میرے گھر کا مسئلہ نہیں، یہ ہزاروں عام صارفین کا سوال ہے۔ اگر گیس کی قیمت استعمال کے مطابق ہے تو پھر اتنے بڑے فکسڈ چارجز کیوں؟ اور اگر فکسڈ چارجز ضروری ہیں تو پھر صارف کو اس کے بدلے میں قابلِ اعتماد اور مسلسل گیس کی فراہمی کیوں نہیں ملتی؟

عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بجلی، پٹرول، تعلیم، صحت اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں کم استعمال کے باوجود کئی گنا زیادہ بل واقعی سوال پیدا کرتا ہے۔

حکومت اور SSGC سے ایک سادہ سا سوال ہے:
عام صارف آخر اپنی شکایت لے کر کہاں جائے؟

#مہنگائی #پاکستان

22/08/2026
Happy Independence Day 🇵🇰
14/08/2026

Happy Independence Day 🇵🇰

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wasim Munir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Wasim Munir:

Shortcuts

Share