Wasim Munir

Wasim Munir

Share

Humanitarian | Biomedical Engineer

Exploring local & global affairs, and sharing short reflections from everyday life. YouTuber

Passionate about learning, teaching, writing, and creating meaningful impact. Bridging healthcare and computing with AI in healthcare.

19/06/2026

🌿 جمعۃ المبارک 🌿

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گناہوں کی معافی، دل کا سکون، رزق میں برکت اور ایمان پر استقامت عطا فرمائے۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ

18/06/2026

ہم اکثر دوسروں کی زندگی کا صرف روشن حصہ دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی کی زندگی کا سفر مکمل طور پر خوبصورت نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے اندر کچھ درد، کچھ جدوجہد اور کچھ ایسی کہانیاں لیے پھرتا ہے جن کا علم صرف اسے اور اس کے رب کو ہوتا ہے۔

Photos from Wasim Munir's post 18/06/2026

لوگ چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں،
دولت مندوں کے در پر قیام کرتے ہیں۔

حسن کی چمک ہو تو ہجوم ساتھ چلتا ہے،
وقت بدلے تو وہی لوگ کنارہ کرتے ہیں۔

مطلب کی زنجیروں میں بندھی ہیں اکثر رفاقتیں،
فائدہ نہ رہے تو تعلقات بھی دم توڑتے ہیں۔

طاقت ور کے گرد محفلیں سجی رہتی ہیں،
کمزور کو مگر سب نظر انداز کرتے ہیں۔

حسرتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں شب و روز،
اپنی ہی حقیقت سے اکثر فرار کرتے ہیں۔

جب تک خزاں نہ آئے، سب بہار کے دیوانے ہیں،
پتے جھڑ جائیں تو درخت بھی بھلا دیتے ہیں۔

یہ دنیا عجب دستور رکھتی ہے اے دوست،
وقت گزر جائے تو لوگ اپنا بھی بھول جاتے ہیں۔

17/06/2026

اولاد کا غم اور ایک کمزور ریاست کی قیمت

اولاد کوئی بھی ہو، اپنے والدین کو بے حد عزیز ہوتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کی خوشی کے لیے اپنی بے شمار خواہشات قربان کر دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ان سے زیادہ پڑھے لکھے ہوں، زیادہ کامیاب ہوں، بہتر زندگی گزاریں اور معاشرے میں ان سے بلند مقام حاصل کریں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اپنی اولاد کے لیے والدین سے زیادہ مخلصانہ فیصلے کر سکے۔ بعض اوقات والدین سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثریت اپنی اولاد کو کامیاب اور خوشحال دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کی کمائی، وقت، محنت اور امیدیں اپنے بچوں پر لگا دیتے ہیں۔

لیکن ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک لمحے کی غفلت، کسی ادارے کی نااہلی، کسی بااثر شخص کی زیادتی یا کسی حادثے کی وجہ سے وہی اولاد والدین سے ہمیشہ کے لیے چھن جاتی ہے۔ کوئی بچہ کھلے گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، کوئی سڑک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی جرائم کی نذر ہو جاتا ہے، اور کبھی کسی طاقتور کی غلطی یا لاپرواہی کسی معصوم زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

قدرت کا اصول یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کا جنازہ اٹھائے۔ یہ ایک فطری اور متوقع حقیقت ہے۔ لیکن جب والدین کو اپنی اولاد کا جنازہ اٹھانا پڑ جائے تو اس سے بڑا دکھ شاید دنیا میں کوئی نہیں۔ اس وقت صرف ایک جان نہیں جاتی بلکہ والدین کی امیدیں، خواب اور زندگی کا ایک مقصد بھی دفن ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں چکوال میں ایک نو سالہ بچی پولیس فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اس واقعے نے ایک اور سوال بھی کھڑا کر دیا ہے۔ اگر یہ بچی آسٹریلوی شہریت نہ رکھتی تو کیا اس کیس کو اتنی ہی توجہ ملتی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے پاکستانیوں کے ذہن میں موجود ہے۔ ایک مضبوط ریاست اپنے ہر شہری کے لیے کھڑی ہوتی ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔ جب کسی طاقتور ملک کا شہری متاثر ہوتا ہے تو اس کے حکمران آواز اٹھاتے ہیں، وضاحت طلب کرتے ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں عام پاکستانیوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی، لیکن ان کے لیے وہ آواز بلند نہ ہو سکی جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔

اسی احساسِ عدم تحفظ کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل، بہتر نظام اور زیادہ محفوظ زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ صرف بہتر معاشی مواقع نہیں بلکہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا رحم و کرم فرمائے، ہمارے حکمرانوں کو عوام کی خدمت اور انصاف کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے ملک کو ایسا مضبوط، محفوظ اور باوقار بنائے کہ ہر پاکستانی دنیا میں سر اٹھا کر چل سکے۔

17/06/2026

As of today, crude oil prices are around USD 79 per barrel. However, petrol prices in Pakistan are still around Rs. 374 per litre. During 2024–25, when crude oil prices were also around USD 79–80 per barrel, petrol prices in Pakistan were approximately Rs. 260 per litre. Why is petrol still about Rs. 114 per litre more expensive? This additional Rs. 114 directly affects the prices of all products and increases the overall cost of living.

آج کے دن خام تیل کی قیمت تقریباً 79 امریکی ڈالر فی بیرل ہے، لیکن پاکستان میں پٹرول کی قیمت اب بھی تقریباً 374 روپے فی لیٹر ہے۔ مالی سال 2024–25 میں جب خام تیل کی قیمت 79 سے 80 امریکی ڈالر فی بیرل تھی، اُس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 260 روپے فی لیٹر تھی۔ آخر پٹرول آج بھی تقریباً 114 روپے فی لیٹر زیادہ مہنگا کیوں ہے؟ یہ اضافی 114 روپے تمام مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور عوام کے لیے مجموعی مہنگائی میں اضافہ کرتے ہیں۔

Reference: https://markets.businessinsider.com/commodities/oil-price Accessed on June 17, 2026

16/06/2026

..محرم الحرام 1448 ہجری..

اللہ تعالیٰ یہ نیا اسلامی سال ہم سب کے لیے امن، برکت، صحت اور کامیابیوں کا باعث بنائے۔ آمین۔

16/06/2026

دولت جمع کرنا یا انسانیت کی خدمت؟

حال ہی میں مجھے مختلف شخصیات کے فلاحی اور سماجی کاموں کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا۔ پاکستان میں ہماری فنکار برادری کے بہت سے افراد نے بھی معاشرے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ حال ہی میں، میں نے حدیقہ کیانی کے بارے میں لکھا تھا جنہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی کئی معروف شخصیات اپنی شہرت اور دولت کو صرف ذاتی آسائش کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر شکیرا برسوں سے تعلیم اور بچوں کی فلاح کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی فاؤنڈیشن بھی تعلیم کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آفیشل گیت "Dai Dai" سے حاصل ہونے والی رائلٹیز عالمی تعلیمی فنڈ کے لیے وقف کی گئی ہیں۔

ایک اور بات جو شکیرا کی شخصیت میں نمایاں نظر آتی ہے، وہ ان کا نسبتاً سادہ طرزِ زندگی ہے۔ اربوں ڈالر کی شہرت اور دولت رکھنے کے باوجود ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو غیر ضروری نمود و نمائش سے دور رکھتی ہیں۔ ان کی توجہ مہنگی اشیاء، شاہانہ رہائش یا پرتعیش طرزِ زندگی کی نمائش کے بجائے اپنے کام اور فلاحی سرگرمیوں پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

اس کے برعکس اگر ہم اپنے معاشرے، خصوصاً بعض معروف شخصیات اور سیاسی اشرافیہ کو دیکھیں تو اکثر اوقات مہنگے ملبوسات، قیمتی بیگز، لاکھوں اور کروڑوں روپے کی گھڑیاں، شاہانہ رہائش گاہیں اور پرتعیش طرزِ زندگی نمایاں نظر آتا ہے۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، بلکہ ترجیحات کا ہے۔ اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ انسان کتنی مہنگی چیزیں استعمال کرتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنی دولت اور وسائل کا کتنا حصہ دوسروں کی بھلائی اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ تحریر موسیقی یا فن کے بارے میں نہیں بلکہ ترجیحات کے بارے میں ہے۔ انسان کے پاس دولت کتنی ہے، یہ اہم نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ دولت کہاں خرچ ہوتی ہے۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو اربوں کی دولت رکھنے کے باوجود نسبتاً سادہ زندگی گزارتے ہیں اور اپنی کمائی کا بڑا حصہ فلاحی کاموں پر صرف کرتے ہیں۔

میں یہاں کسی مذہبی، سیاسی یا قومی بحث میں نہیں جا رہا، صرف ایک عمومی اصول کی بات کر رہا ہوں: جو شخص اپنی محنت سے کماتا ہے، سادہ زندگی اختیار کرتا ہے اور اپنی دولت کا حصہ انسانیت کی خدمت پر خرچ کرتا ہے، وہ یقیناً قابلِ احترام ہے۔

شاید ہمیں بھی اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف دولت جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔

15/06/2026

Judicial System: The Difference Between Rank 1 and Rank 130

According to the 2025 World Justice Project (WJP) Rule of Law Index, Denmark ranks first among 143 countries for its judicial system, while Pakistan stands at 130th place. This gap is not merely a difference in numbers, it reflects a difference in the quality, speed, and credibility of justice.

Denmark has consistently remained among the world's top-performing judicial systems because of its commitment to swift, transparent, and impartial justice. Citizens trust the courts because they believe that the law applies equally to everyone.

In Pakistan, however, even simple cases can take years or decades to conclude. In many instances, 10, 20, or even 30 years pass before a verdict is reached. Sometimes litigants pass away before their cases are resolved. Delayed justice often becomes denied justice.

It is also a common public perception that influential and high-profile individuals frequently find ways to escape accountability, while ordinary citizens spend years navigating court proceedings. Such disparities weaken public trust in the justice system.

If Pakistan truly seeks sustainable development, economic growth, and social stability, it must strengthen its judicial institutions, ensure judicial independence, and provide timely justice to all citizens.

A famous saying attributed to Hazrat Ali (RA) states: "A system based on disbelief may survive, but a system based on injustice cannot endure."

This principle remains as relevant today as ever.

15/06/2026

عدالتی نظام

دنیا میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کی کارکردگی کو جانچنے والے عالمی ادارے World Justice Project (WJP) کی 2025 رینکنگ کے مطابق 143 ممالک میں ڈنمارک کا عدالتی نظام پہلے نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان کا نمبر 130 واں ہے۔ یہ فرق صرف نمبروں کا نہیں بلکہ انصاف کے معیار، رفتار اور عوامی اعتماد کا فرق ہے۔

ڈنمارک کئی سالوں سے مسلسل دنیا کے بہترین عدالتی نظام رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فوری، شفاف اور غیر جانبدار انصاف ہے۔ وہاں عدالتوں پر عوام کا اعتماد بہت زیادہ ہے، اور لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں چھوٹے چھوٹے مقدمات بھی سالہا سال چلتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات 10، 20 بلکہ 30 سال گزر جاتے ہیں، مقدمہ ختم نہیں ہوتا لیکن فریقین کی زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ انصاف میں تاخیر اکثر انصاف سے محرومی کے مترادف بن جاتی ہے۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بااثر اور ہائی پروفائل افراد سنگین الزامات کے باوجود قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھا کر بچ نکلتے ہیں، جبکہ ایک عام اور غریب شہری برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے۔ یہی احساسِ محرومی عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔

اگر پاکستان واقعی ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے عدالتی نظام کو مضبوط، آزاد اور تیز رفتار بنانا ہوگا۔ جب تک قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوگی، سرمایہ کاری، امن و امان اور معاشی ترقی بھی متاثر رہیں گے۔

حضرت علیؓ سے منسوب ایک مشہور قول ہے: "کفر کا نظام چل سکتا ہے، لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔"

یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے اور عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Karachi