27/01/2026
حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے آنحضورؐ کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی توفیق پائی۔ دورانِ جنگ آپؓ کی تمام تر توجہ آنحضورؐ کی طرف مبذول رہتی تھی۔ جب بھی آپؓ کو محسوس ہوتا کہ اس وقت آنحضورﷺ کو میری ضرورت ہے تو آپؓ ایک وارفتگی کے عالم میں آنحضورﷺ کی طرف لپکتے۔ آپؓ ان چند صحابہ میں سے ہیں جو غزوہ احد میں آنحضورؐ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں:جنگ احد میں جب آنحضورﷺ کو تیر لگا اور آپؓ کے گال مبارک میں خَود کی دو کڑیاں پیوست ہو گئیں تو میں آپؐ کی طرف بھاگا، ایسے میں مَیں نے ایک انسان کو دیکھا کہ وہ مشرق کی جانب سے اُڑتا چلا آتا ہے، اس پر مَیں نے دعا کی کہ یا اللہ! اسے اطاعت بنا دے۔ یعنی اللہ خیر کرے کوئی دشمن نہ ہو بلکہ آپؐ کا کوئی مطیع وفرمانبردار ہو۔ جب ہم دونوں وہاں پہنچے تو ابوعبیدہ مجھ پر سبقت لے جاچکے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابوبکر مَیں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ کام مجھے کرنے دیں اور یہ کڑیاں مَیں آنحضورؐ کے رُخ انور سے نکالوں۔ اس پر میں نے انہیں یہ کام کرنے دیا۔ اس پر انہوں نے اپنے دو دانتوں سے اس خود کی ایک کڑی کو پکڑ کر کھینچا، نتیجۃً کڑیاں دانتوں سمیت زمین پر گرگئیں، پھر آپ نے دوسری کڑی کو اپنے دوسرے دو دانتوں سے کھینچا سو وہ بھی کڑیوں کے ساتھ ہی گرگئے۔ اس موقع پر آپؓ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے رخ انور کو خون آلود کر دے، حالانکہ وہ انہیں ان کے ربّ کی طرف بلاتا ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو تین سو سوار دے کر سمندر کی طرف بھیجا تاکہ وہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے لیے گھات لگائیں۔ ابھی یہ لوگ راستے ہی میں تھے کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا بچا کھچا زادِ راہ میرے پاس جمع کروادیں۔ اس طرح کھجوروں کا ایک بورا جمع ہوگیا۔ وہ اس سے مجاہدین کو تھوڑا تھوڑا تقسیم کرنے لگے حتی کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آگئی۔
بالآخر وہ بورا بھی ختم ہوگیا تو انھیں مجبوراً کیکر وغیرہ کی پھلیاں اور پتے کھانے پڑے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کو "جیش الخبط" (پتوں والا لشکر) کہا گیا، پھر لوگوں نے اونٹ ذبح کرنے شروع کر دیے۔ اونٹوں کے ختم ہونے کا خدشہ پیداہوا تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اونٹ ذبح کرنے سے روک دیا۔ پندرہ دن میں یہ لوگ ساحل سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں ان کے لیے ایک ٹیلے جتنی مچھلی پھینک دی۔ اس قسم کی مچھلی کو عنبر کہا جاتا تھا ۔ انھوں نے پورے پندرہ دن اسے خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کا تیل بھی استعمال کیا۔ ان کے جسم پہلے سے زیادہ طاقتور اور خوب موٹے تازے ہوگئے ۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی کھڑی کی تو اونٹ سوار شخص اس کے نیچے سے صاف گزر گیا۔ مسلمانوں کو وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کرنی پڑی۔ وہ واپس مدینہ منورہ آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے مچھلی والا واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
(كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِّنْهُ)
" یہ رزق تھا، اللہ تعالیٰ نے تمھارے کھانے کے لیے بھیجا تھا۔ خود بھی کھاؤ اور اگر اس میں سے کچھ باقی ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔"
ایک صحابی نے آپ ﷺ کی خدمت میں اس مچھلی کا گوشت پیش کیا تو آپ نے تناول فرمایا۔ ((صحيح البخاري، المغازي، باب غزوة سيف البحر۔۔۔، حديث: 4360۔4362، وصحيح مسلم، الصيد والذبائح، باب إباحة ميتات البحر، حديث: 1935، والفتح الرباني: 21/142،141۔ ابن اسحاق نے اسے بسند حسن روایت کیا ہے، دیکھیے: السيرة النبوية لابن هشام: 4/372،371۔))
عمواس کے علاقے میں طاعون پھوٹی تو اس وقت اسلامی فوج وہاں تھی جس کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ فرما رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کو ان کے بارہ میں خدشہ پیدا ہوا۔ انہوں نے آپ کو لکھا کہ اگر میرا یہ خط شام کو ملے تو صبح سے قبل میرے پاس چلے آؤ اور اگر صبح کو ملے تو شام سے قبل چلے آؤ، مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ معاملہ فہم تھے فوراً اس کی تہ تک پہنچ گئے کہ آپ مجھے طاعون سے بچانا چاہتے ہیں، اس لیے بڑے باادب انداز میں معذرت لکھ بھیجی کہ مجھے حضور کا خط ملا ہے اور اس سے مَیں آپ کا قصد جان گیا ہوں، لیکن مَیں چونکہ اس وقت مسلمانوں کی فوج میں ہوں، میں ان کو اس مصیبت کے وقت چھوڑ نہیں سکتا، سو ازراہ کرم مجھے اس حاضری سے اجازت مرحمت فرمادیجیے۔ جب حضرت عمرؓکو آپ کا خط ملا تو وہ رو دیے۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات کی خبر آئی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر نہیں بھی آئی تو آ جائے گی کہ اس بیماری سے نجات کی کوئی راہ نہیں۔ مسلمان فوج کے بہت زیادہ عظیم لوگ اس میں شہید ہو گئے۔
حضرت ابوعبیدہؓ اردن کے ایک چھوٹے سے گاؤں غور میں دفن ہوئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر58 برس تھی۔ آپؓ کی نماز جنازہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پڑھائی۔
واللہ اعلم بالصواب ۔اگر لکھنے میں کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے ۔آمین،
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
ﷺ
ﷺ