Islah-E-Muashra اصلاحِ معاشرہ

Islah-E-Muashra    اصلاحِ معاشرہ

Share

"مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ (ان شاءاللہ عزوجل) ✨

08/11/2025

حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ
کے دستِ حق پرست پرپانچ صد (۰۰۵) عیسائیوں کا مشرف بہ اسلام ہونا
حضرت
شیخ بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے
لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا
تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی، اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور
عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار
واقعہ ہوگا۔ تو میں نے اعوذباللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ
نہیں آنے دوں گا۔ جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار
ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں
یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت کہ تم ہمارے نزدیک اولیاء
اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو لیکن راہبوں کا لباس
پہن لو اور ہماری رضا کے لئے زنّار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار
نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس
پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا
مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات
سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا
بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر ممبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہو گئے۔ بڑے راہب نے جب
بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا ممبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویا اس
کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے توسب راہب اور علماء کہنے لگے اے
مرشد ربّانی کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے۔ ہم آپ کے ارشادات سے
ہدایت پاتے ہیں اورآپ کے علم کی اقتدا کرتے ہیں۔ بڑے راہب نے کہا کہ میرے
بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمّدی شخص آ بیٹھا ہے۔ وہ تمہارے
دین کی آزمائش کے لئے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔ سب نے کہا ہمیں وہ
شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اُس نے کہا بغیر دلیل اور
حجت کے اس کو قتل نہ کرو، میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل
پوچھتا ہوں اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے، ورنہ
قتل کردیں گے کیونکہ امتحان مرد کی عزّت ہوتی ہے یا رسوائی یا ذِلّت۔ سب
نے کہاآپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ تو وہ بڑا راہب ممبر
پر کھڑا ہوکر پکارنے لگا۔ اے محمّدی، تجھے محمّد کی قسم کھڑا ہو جا کہ سب
لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمةاللہ علیہ کھڑے ہو گئے۔ اس وقت آپ کی
زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے
کہا اے محمّدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے
ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل
کردیں گے۔ تو بایزید رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز
پوچھنا چاہتا ہے پوچھ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔ تو
اس پادری نے کہا۔
وہ ایک بتاؤجس کا دوسرا نہ ہو اور وہ دو بتاؤ جن کا
تیسرا نہ ہو اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو
اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو اور وہ سات جن
کا آٹھواں نہ ہو اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو اور وہ دس جن کا گیارہواں نہ
ہو اور وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو۔
اور وہ قوم بتاؤجو جھوٹی ہو اور
بہشت میں جائے اور وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے اور بتاؤ کہ
تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے اور الْذارِیاتِ ذروًا
کیا ہے اور اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے اور اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا
ہے اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور
سانس لے۔ اور ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے
ساتھ گفتگو کی اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو اور وہ
پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو اور وہ چار جو نہ
باپ کی پشت اور نہ شکم مادر سے پیدا ہوئے ۔ اور پہلا خون جو زمین پر بہایا
گیا۔ اور وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور
پھراس کو خرید لیا ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا
پسند فرمایاہو۔ اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی
عظمت بیان کی ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د
پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے۔ اور وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں
سے افضل ہیں اور کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں اور کون سے
پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں اور کون سے جانور سب جانوروں سے افضل
ہیں اور کون سے مہینے افضل ہیں اور کون سی راتیں افضل ہیں اور طَآمَّہ کیا
ہے۔ اور وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں
اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ میں اور تین پھُول سایہ میں
۔ اور وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو
اور نہ اُس پر حج فرض ہو۔ اور کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور
اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے۔ اور وہ چار چیزیں بتاؤ جن
کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہواور نقیر کیا ہے اور
قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے۔ اور
ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے اور گدھا ہینگتے وقت کیا
کہتا ہے اور بیل کیا کہتا ہے اور گھوڑا کیا کہتا ہے اور اونٹ کیا کہتا ہے
اور مور کیا کہتا ہے اور بلبل کیا کہتا ہے اور مینڈک کیا کہتا ہے جب ناقوس
بجتا ہے تو کیا کہتا ہے۔ اور وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی
ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے ۔ اور یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا
ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔
تو حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری
بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی
جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا
گواہ ہے۔

یک زمانہ صحبت با اُولیا
بہتر اَز صَد سالہ طاعتِ بے ریا

پھر فرمایا کہ تمہارا سوال کہ
ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالےٰ واحد قہار ہے اور وہ دو
جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں ( سورة بنی اسرائیل
آیت ۲۱) اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہووہ عرش اور کرسی اور قلم ہیں اوروہ
چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل ، زبور
اورقرآن مقدس ہیں اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں
اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں
اور زمینوں کو پیدا فرمایا ( سورہ قاف، آیت ۸۳) اور وہ سات
جن کاٹھواں نہ ہووہ سات آسمان ہیں (سورہ ملک آیت ۳) اور وہ
آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اُٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں (سورہ حآقّہ، آیت ۷۱) اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل
کے نو فسادی شخص تھے (سورة نمل، آیت ۸۴) اوروہ د س جن
کاگیارواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ
ہو (سورة بقرہ، آیت ۶۹۱) اور وہ گیارہ جن کا بارواں نہ ہو
وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں۔ ان کا بارواں بھائی نہیں
(سورة یوسف، آیت ۴) اوروہ بارہ جن کا تیرواں نہ ہووہ
مہینوں کی گنتی ہے(سورہ توبہ، آیت ۶۳) اور وہ تیرہ جن کا
چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کا خواب ہے (سورة یوسف،
آیت۴) اور وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائی گی وہ یوسف علیہ السّلام کے
بھائی ہیں کہ اللہ تعالےٰ نے ان کی خطا معاف فرمادی ۔ (سورة
یوسف،آیت ۷۱) اور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائی گی وہ یہود و نصارےٰ کی
قوم ہے (سورة بقرہ، آیت ۳۱۱) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے
دین کو لاشی بتانے میں سچّا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیں گے اور تم نے جو
سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے
کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔ اور اَلزَّارِیَاتِ ذرْواً چار ہوائیں
ہیں ۔ مشرقی ، غربی، جنوبی، شمالی۔ اوراَلْحَامِلَاتِ وِقْراً بادل ہیں
لقولہ اللہ تعالیٰ (سورة بقرہ آیت ۴۶۱ ) اور اَلْجَا رِیَاتِ یُسْراً سمندر
میں چلنے والی کشتیاں ہیں اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْراً وہ فرشتے ہیں
جوپندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔ اور
وہ چودہ جنہوں نے رَب تعالیٰ کے ساتھ گفتگوکی وہ سات آسمان اور سات زمینیں
ہیں (سورة حٰم السّجدہ، آیت ۱۱) اور وہ قبرجو مقبور کو لے کر
چلی ہو وہ یونس علیہ السّلام کو نگلنے والی مچھلی ہے۔ اور بغیر روح کے
سانس لینے والی چیزصبح ہے اور وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا
ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش
کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چار جو کسی باپ
کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السّلام کی بجائے ذبح
ہونے والا دنبہ اورصالح علیہ السلام کی اونٹنی اورآدم علیہ السلام اور
حضرت حوّا ہیں ۔ اور پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ
السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے جسے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔ اور وہ
چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے (سورة توبہ، آیت ۱۱۱) اوروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا
فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے (سورة
لُقمان، آیت ۹۱)اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اُسے
بُرا کہا ہو وہ عورتوں کا مکرہے (سورة یوسف، آیت ۸۲) اور وہ
چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھاہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ
علیہ السلام کا عصا ہے (سورة طٰہٰ آیت ۷۱) اور یہ سوال کہ
کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُ م البشر حضرت حوّا
اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت آسیہ اور حضرت مریم ہیں ۔ رَضی
اللہ تعالیٰ عنہنَّ اجمعین۔

باقی رہا افضل دریا وہ سیحون ، جیجون ،
دجلہ ، فرات اور نیل مصر ہیں ۔ او ر سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے اور سب
جانوروں سے افضل گھوڑا ہے اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان (سورة بقرہ ، آیت ۵۸۱) اور سب راتوں میں افضل رات لیلةالقدر ہے (سورة قدر، آیت ۳) اور تم نے پوچھا ہے کہ طاْمہ کیا ہے وہ
قیامت کا دن ہے۔ اور ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس
پتّے ہیں اور ہر پتّہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں
اور تین سایہ میں ۔ توہ وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں
اور تیس پتّے ہر ماہ کے دن ہیں۔ اور ہر پتّے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ
نمازیں ہیں دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور
باقی تین نمازیں اندھیرے میں۔ اور وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض
نہ ہو پھر اس نے حج کیا ہو اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ
السّلام کی کشتی ہے ۔ تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر
رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔ ان میں سے تین سو تیرہ
رسول ہیں اور باقی غیر رسول۔ تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور
ذائقہ مختلف ہے حالانکہ جڑ ایک ہے۔وہ آنکھیں، ناک،منہ،کان ہیں۔ کہ مغزسر
ان سب کی جڑ ہے۔ آنکھوں کا پانی نمکین ہے۔اور منہ کا پانی میٹھا ہے۔اور
ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے ۔تم نے نقیر (سورة نسا آیت
۴۲۱) ،قطمیر ( سورة فاطر آیت ۳۱) ،فتیل (بنی اسرائیل آیت ۱۷)۔
سبدولبد،
طمّ ورَمّ کے معانی دریافت کیے ہیں۔کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا
ہے اس کونقیر کہتے ہیں اور گٹھلی پرجو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر
کہتے ہیں اور گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتیہے اسے فتیل کہتے
ہیں۔سبدولبدبھیڑبکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی
آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طمّ ورَمّ کہا جاتا ہے۔ اور گدھا ہینگتے وقت
شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے لَعَنَ اللّٰہ ُالْعَشَّار۔ اور
کتا بھونکتے وقت کہتا ہے وَیْلُ لِاَھِلِ اْلنَّارِمِنْ غَضَبِ
الْجَبَّارِ۔ اور بیل کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ۔ اور گھوڑا
کہتا ہے سُبْحَانَ حَافِظِیْ اِذَا اَلتَقَت الْاَبْطَال َوَاشْتَعَلَتِ
الرِّجَالُ بِالرِّجَال اور اونٹ کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہ ُ وَکَفٰی
بِاللٰہِ وَکِیْلاَ اور مور کہتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسّتَوٰی
(سورہ طٰہٰ آیت ۵۱) ۔ اور بلبل کہتا ہے سُبْحَا نَ ا للّٰہ ِ حِیْنَ
تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (سورة روم آیت ۷۱)۔ اورمینڈک اپنی تسبیح
میں کہتا ہیسُبْحَانَ الْمَعْبُودِ فِیْ البَرَارِیْ وَالْقِفَارِ
سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ ( سورة نحل آیت ۸۶) اور ناقوس جب بجتا ہے
تو کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ حَقَّا حَقَّا اُنْظُرْ یَاْبنَ اٰدَمَ فِی
ھٰذِہِ الدُّنْیَا غَرْبًا وَّشَرْقًا مَّاتَرٰی فِیْھَا اَحَدًایَّبْقٰی۔
اور تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ
فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں (سورة نحل آیت ۸۶)
تم نے پوچھا ہے کہ جب رات ہو تی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے اور جب دن ہوتا
ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے جب دن ہوتا ہے تورات اللہ
تعالیٰ کے غا مض علم میں چلی جاتی ہے ۔ اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ
تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں
کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا کوئی
ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا نہیں ۔ سب
سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں تو آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم
سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ ہے کہ آسمانوں کی کنجی
اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے۔

تو وہ پادری سر بگر یباں ہوکر خاموش
ہو گیا تو سب پادری اس سے کہنے لگے کہ اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے
جواب دیئے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے وہ بولا کہ
جواب مجھے آتا ہے۔ اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو
گے۔ سب نے بیک زباں کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ۔ ہم ہر حالت میں آپ کی
موافقت کریں گے۔ تو بڑے پادری نے کہا آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَّمدُ رَّسُولُ اللہ ہے ۔ تو سب کلمہ پڑھ کر
مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ ڈالے ۔ غیب سے ندا آئی ۔ اے
بایزید ہم نے تجھے ایک زنار پہننے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ ان کے پانچ سو
زنار تڑواؤں ۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ

ہر کہ خواہد ہمنشینی باخُدا
اُو نشیند دَر حضورِ اُولیاء

24/10/2025

یا رسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں کرتے ؟🥲

ایک تُرک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہو کر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ یوں بیان کرتا ہے:
میں مسجد نبوی ﷺ میں کھڑا دیکھ رھا تھا کہ چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں، پھر ایک شخص نمودار ھوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اسے قابو کر لیا، اور اسکے ہاتھ جکڑ لیے، نوجوان نے کہا: مجھے دُعا اور توسل کی اجازت دے دو، میری بات سن لو! میں کوئی بھکاری نہیں ہوں ، نہ چور ہوں، پھر وہ جوان چیخنے لگا.
میں نے اسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اسے جانتا ہوں، میں بتاتا ہوں کہ میں نے اسے کیسے پہچانا، دراصل میں نے اسے کتنی ہی مرتبہ بارگاہ رسالت ﷺ میں روتے ہوئے دیکھا تھا، یہ ایک البانوی نوجوان تھا، جس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی اس کے سنہرے بال اور ہلکی سی داڑھی تھی، میں نے پولیس والوں سے کہا:
اس کا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ آخر کیا الزام ہے اس پر ؟
انہوں نے کہا: تو پیچھے ہٹ، اس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں.
لیکن میں نے پھر سے کہا: آخر اس کا تمہارے ساتھ کیا مسئله ہے؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے؟
انہوں نے کہا: یہ بنده چھ سال سے ادھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے، ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ہر بار ایک ہی چال سے بھاگ جاتا ہے، اور جا کر روضه رسول ﷺ میں پناہ لے لیتا ہے، ہم ادب کی وجہ سے اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاہتے ہیں.
میں نے پوچھا: تو اب اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ھم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے.
نوجوان مسلسل روئے جا رھا تھا اور کہہ رہا تھا: کیا ہو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو ؟
دیکھو! میں کوئی چور نہیں ہوں، میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا، میں تو ادھر بس محبتِ رسول ﷺ میں رہ رہا ہوں. پولیس والوں نے کہا نہیں، ایسا جائز نہیں ہے.
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللّٰه سے ایک عرض کر لینے دو:
پھر نوجوان نے اپنا منه گنبد خضراء کی طرف کر لیا.
پولیس والوں نے کہا: چل! کہہ جو کہنا ہے
تو نوجوان نے گنبد خضراء کیطرف دیکھا اور جو کچھ عربی میں کہا ، میں نے سمجھ لیا، وہ نوجوان کہہ رہا تھا:

یا رسول اللّٰه ﷺ!
کیا ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تھا؟ کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا ؟ کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا ؟ اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوار رحمت میں رہا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیئے.
یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں
یا رسول اللّٰه ﷺ! یا رسول اللّٰه ﷺ!آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ؟ يارسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ؟
اتنے میں نوجوان بے حال ہونے لگا تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا، ایک پولیس والے نے اسے ٹھڈا مارتے ہوئے کہا: او دھوکے باز! اٹھ.
لیکن نوجوان نے کوئی ردّ عمل ظاہر نہ کیا.
میں نے پولیس والوں سے کہا: یہ نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ، اور اس کے چہرے پر ڈالو، لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کر رھا تھا، ایک پولیس والے نے کہا: اسے دیکھو تو سہی کہیں یہ سچ مچ مر ہی نہ گیا ہو.
دوسرا پولیس والا کہنے لگا: اسے ہم نے کون سی ایسی ضرب لگائی هے ، جس سے یہ مر جائے، پھر انہوں نے ایمبولینس کو بلایا، وه ادھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے، انہوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی، اور نبض چیک کی تو کہنے لگے:
اسے تو مرے ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے ہیں.
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں، نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے، وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا، ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانؤوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتا تھا: ہائے! ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ... کاش! ہمیں معلوم ہوتا کہ اسے رسول اللّٰه ﷺ سے اتنی شدید محبت ہے، ہائے! ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے.
اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اسے وہاں سے اٹھا لیا، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئے، غسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا، میں انہیں کہتا تھا، مجھے بھی ہاتھ لگانے دو، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو، جب جنازہ تیار ہو کر نماز کے لیے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے کہا!
ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے، بس اتنا کافی ہے، اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے، میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کہہ رہا تھا کہ یا رسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رھے؟ دیکھا! رسول اللّٰه ﷺ نے مداخلت فرما دی اور ملک الموت نے اپنا فریضه ادا کر کے اسے آپ تک ہمیشہ کے لیے پہنچا دیا.

اللّٰه سبحانهٗ و تعالٰی ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جيسے اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی.
آمین یا ربّ العالمین

منقول

15/10/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Abaidullah, Saddiq Akbar, Ali Jan, Rao Muhammad Hussain, Naseebullah Soomro, Tanzeel Arman, Sohail Khan, Shahjehan Khan, Mubashir Jan, Sahil Ashraf, M Zulqarnain M***a, Naveed Afridi, Akram Butt, Riaz Riaz Ahmed, Gul Baz Khan, Sadab Hussain, शिवनाथ बाबा, Shan Sarparah, Israr Khan, Muhammad Amin Nadeem, Imran Quteshi, Firoz Alam, Ihsan Ullah Gohar, Istyak Ali, Imran Khan, Muhammad Arham, Amjad Amjad, Nadeem Iqbal, Zahid Ali, Zulfiqar Ahmmad Zulfiqar, Anwr Ali, Jani Jani, Abdul Hamed, Arif Siddiqui, Muhammad Ali, Khan Mix Red, Syed Masarat Qadri, Rashid Blooch, Abubakar Nagori, Muhammad Waseem, Gulzar Ahmad, Jamshed Khan, Ufkoos Ufkoos, Rana Waseem Rana Waseem, Irfan Malik, Burhan Bin Ibrahim, Sharif Daad, Mir Tayub Mir Tayub, M Rashid Pahore, Arfan Gee

15/10/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

15/10/2025
15/10/2025

یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ صحت‘‘۔
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے

اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی، اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘
مثلاً ،گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی۔ مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں

‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے
‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے
‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘
آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں
‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘

ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘
ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی۔
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے۔

‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا
‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں
‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں
‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘

ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘
آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔
گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘
انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے
‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے
شوگر
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی۔

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔
ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے

ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے
ہم سیدھا چل سکتے ہیں
دوڑ لگا سکتے ہیں
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں

‘ ہم آنکھوں سے دیکھ
کانوں سے سن
ہاتھوں سے چھو
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

15/10/2025

حضرت یوسف بن علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"عارف صحیح معنوں میں اس وقت تک عارف نہیں ہو سکتا جب تک اس کی یہ حالت نہ ہو جائے کہ اگر اس کو حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام جیسی بادشاہی دی جائے تو ایک لمحے کے لیے بھی وہ اسے اللہ سے غافل نہ کر سکے"

کہا جاتا ہے کہ:
"عالم کی پیروی کی جاتی ہے اور عارف سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے"

حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"عارف غیر اللہ کی طرف نگاہ نہیں کرتا اور نہ اللہ کے سوا کسی کا کلام بولتا ہے نیز وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنے نفس کا محافظ نہیں سمجھتا"

بزرگوں کا قول ہے کہ:
"عارف اللہ کے ذکر کے ساتھ انس حاصل کر چکا ہوتا ہے جو اسے اس کی مخلوق سے بے نیاز کر دیتا ہے وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور ذلت اختیار کرتا ہے تو وہ اسے اپنی مخلوق میں عزت عطا کرتا ہے"

حضرت ابو طیب سامری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"معرفت یہ ہے کہ اللہ مسلسل انوار کے ساتھ بندے کے باطن پر مطلع ہو"

سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"عارف وہ ہوتا ہے جو خود خاموش رہے اور اللہ اس کے اسرار بیان کرے" -

(رسالہِ قشیریہ)

Anwaar e Sultania انوارِسلطانیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi