Fahm-ul-Quran for All

Fahm-ul-Quran for All

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fahm-ul-Quran for All, Education Website, Karachi.

02/11/2024

11/10/2024

04/10/2024
12/08/2024

12/08/2024

Photos from Fahm-ul-Quran for All's post 23/07/2024

28/07/2023

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ ۙ الۡخَنَّاسِ

ترجمہ
اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے ،

تفسیر
اصل میں «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ وسواس کے معنی ہیں بار بار وسوسہ ڈالنے والا ۔ اور وسوسے کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقے یا طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی جا رہی ہو اسے یہ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ انداز اس کے دل میں ایک بری بات ڈال رہا ہے ۔ وسوسے کے لفظ میں خود تکرار کا مفہوم شامل ہے ، جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے ۔ چونکہ انسان صرف ایک دفعہ بہکانے سے نہیں بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے در پے کوشش کرنی ہوتی ہے ، اس لیے ایسی کوشش کو وسوسہ اور کوشش کرنے والے کو وسواس کہا جاتا ہے ۔ رہا لفظ خناس ، تو یہ خنوس سے ہے جس کے معنی ظاہر ہونے کے بعد چھپنے یا آنے کے بعد پیچھے ہٹ جانے کے ہیں ، اور خناس چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے اس لیے اس کے معنی یہ فعل بکثرت کرنے والے کے ہوئے ۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے کو بار بار وسوسہ اندازی کے لیے آدمی کے پاس آنا پڑتا ہے ، اور ساتھ ساتھ جب اسے خناس بھی کہا گیا تو دونوں الفاظ کے ملنے سے خود بخود یہ مفہوم پیدا ہو گیا کہ وسوسہ ڈال ڈال کر وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پھر پے در پے وسوسہ اندازی کے لیے پلٹ کر آتا ہے ۔ بالفاظ دیگر ایک مرتبہ اس کی وسوسہ اندازی کی کوشش جب ناکام ہوتی ہے تو وہ چلا جاتا ہے ، پھر وہی کوشش کرنے کے لیے دوبارہ ، سہ بارہ اور بار بار آتا رہتا ہے ۔
وسواس الخناس کا مطلب سمجھ لینے کے بعد اب اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب کیا ہے ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پناہ مانگنے والا خود اس کے شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہے ، یعنی اس شر سے کہ وہ کہیں اس کے اپنے دل میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے خلاف جو شخص بھی لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا پھرے اس کے شر سے داعی حق خدا کی پناہ مانگتا ہے ۔ داعی الی الحق کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ اس کی ذات کے خلاف جن جن لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے جا رہے ہوں ان سب تک خود پہنچے اور ایک ایک شخص کی غلط فہمیوں کو صاف کرے ۔ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ اپنی دعوت الی اللہ کا کام چھوڑ چھاڑ کر وسوسہ اندازوں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کو صاف کرنے اور ان کے الزامات کی جواب دہی کرنے میں لگ جائے ۔ اس کے مقام سے یہ بات بھی فروتر ہے کہ جس سطح پر اس کے مخالفین اترے ہوئے ہیں اسی پر خود بھی اتر آئے ۔ اس لیے اللہ تعالی نے دعوت حق دینے والے کو ہدایت فرمائی کہ ایسے اشرار کے شر سے بس خدا کی پناہ مانگ لے اور پھر بے فکری کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں لگا رہ ۔ اس کے بعد ان سے نمٹنا تیرا کام نہیں بلکہ رب الناس ، ملک الناس اور الہ الناس کا کام ہے ۔
اس مقام پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وسوسہ عمل شر کا نقطہ آغاز ہے ۔ وہ جب ایک غافل یا خالی الذہن آدمی کے اندر اثر انداز ہو جاتا ہے تو پہلے اس میں برائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔ پھر مزید وسوسہ اندازی اس بری خواہش کو بری نیت اور برے ارادے میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ پھر اس سے آگے جب وسوسے کی تاثیر بڑھتی ہے تو ارادہ عزم بن جاتا ہے اور آخری قدم پھر عمل شر ہے ۔ اس لیے وسوسہ انداز کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ شر کا آغاز جس مقام سے ہوتا ہے ، اللہ تعالی اسی مقام پر اس کا قلع قمع فرما دے ۔
دوسرے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو وسوسہ اندازوں کے شر کی ترتیب یہ نظر آتی ہے کہ پہلے وہ کھلے کھلے کفر ، شرک ، دہریت ، یا اللہ اور رسول سے بغاوت اور اللہ والوں کی عداوت پر اکساتے ہیں ۔ اس میں ناکامی ہو اور آدمی دین اللہ میں داخل ہی ہو جائے تو وہ اسے کسی نہ کسی بدعت کی راہ سجھاتے ہیں ۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو معصیت کی رغبت دلاتے ہیں ۔ اس میں بھی کامیابی نہ ہو سکے تو آدمی کے دل میں یہ خیال ڈالتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے گناہ کر لینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں ، تاکہ یہی اگر کثرت سے صادر ہو جائیں تو گناہوں کا بار عظیم انسان پر لد جائے ۔ اس سے بھی اگر آدمی بچ نکلے تو بدرجہ آخر وہ کوشش کرتے ہیں کہ آدمی دین حق کو بس اپنے آپ تک ہی محدود رکھے ، اسے غالب کرنے کی فکر نہ کرے ، لیکن اگر کوئی شخص ان تمام چالوں کو ناکام کر دے تو پھر شیاطین جن و انس کی پوری پارٹی ایسے آدمی پر پل پڑتی ہے ، اس کے خلاف لوگوں کو اکساتی اور بھڑکاتی ہے ، اس پر گالیوں اور الزامات کی بوجھاڑ کراتی ہے ، اسے ہر طرف بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پھر شیطان اس مرد مومن کو آ کر غصہ دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب کچھ برداشت کر لینا تو بڑی بزدلی کی بات ہے ، اٹھ اور ان حملہ آوروں سے بھڑ جا ۔ یہ شیطان کا آخری حربہ ہے جس سے وہ دعوت حق کی راہ کھوٹی کرانے اور داعی حق کو راہ کے کانٹوں سے الجھا دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سے بھی اگر داعی حق بچ نکلے تو شیطان اس کے آگے بے بس ہو جاتا ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے «وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ» ’’ اور اگر شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی اکساہٹ محسوس ہو تو اللہ کی پناہ مانگو ‘‘ ( الاعراف 200 ۔ حم السجدہ 36 ) ۔ «وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ» ’’ کہو ، میرے پروردگار میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘ ( المومنون 97 ) «اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ» ’’ جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انہیں چھو بھی جائے تو وہ فوراً چونک جاتے ہیں اور پھر انہیں ( صحیح راستہ ) صاف نظر آنے لگتا ہے ‘‘ ( الاعراف 201 ) ۔ اور اسی بنا پر جو لوگ شیطان کے اس آخری حربے سے بچ نکلیں ان کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے «وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ» ’’ یہ چیز بڑے نصیبے والے کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی ‘‘ ( حم السجدہ 35 ) ۔
اس سلسلے میں ایک بات اور بھی نگاہ میں رہنی چاہیے ۔ وہ یہ کہ انسان کے دل میں وسوسہ اندازی صرف باہر سے شیاطین جن و انس ہی نہیں کرتے بلکہ اندر سے خود انسان کا اپنا نفس بھی کرتا ہے ۔ اس کے اپنے غلط نظریات اس کی عقل کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اس کی اپنی ناجائز اغراض و خواہشات اس کی قوت تمیز اور قوت ارادی اور قوت فیصلہ کو بد راہ کرتی ہیں ۔ اور باہر کے شیاطین ہی نہیں ، انسان کے اندر اس کے اپنے نفس کا شیطان بھی اس کو بہکاتا ہے ۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ایک جگہ فرمائی گئی ہے کہ «وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ( ق ، 16 )» ’’ اور ہم اس کے اپنے نفس سے ابھرنے والے وسوسوں کو جانتے ہیں ۔‘‘ اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے مشہور خطبہ مسنونہ میں فرمایا ہے «نعوذ باللہ من شرور انفسنا» ’’ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے ۔‘‘

28/07/2023

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ
مَلِکِ النَّاسِ
اِلٰہِ النَّاسِ

ترجمہ
کہو ،میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب کی
انسانوں کے بادشاہ کی
انسانوں کے حقیقی معبود کی

تفسیر
یہاں بھی سورہ فلق کی طرح اعوذ باللہ کہنے کے بجائے اللہ تعالی کو اس کی تین صفات سے یاد کر کے اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے ۔
*ایک اس کا رب الناس ، یعنی تمام انسانوں کا پروردگار و مربی اور مالک و آقا ہونا ۔
*دوسرے اس کا ملک الناس ، یعنی تمام انسانوں کا بادشاہ اور حاکم و فرمانروا ہونا ۔
*تیسرے اس کا الہ الناس ، یعنی انسانوں کا حقیقی معبود ہونا ۔
=( یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ الہ کا لفظ قرآن مجید میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔
+ایک وہ شے یا شخص جس کو عبادت کا کوئی استحقاق نہ پہنچتا ہو مگر عملاً اس کی عبادت کی جا رہی ہو ۔
+دوسرا وہ جسے عبادت کا استحقاق پہنچتا ہو اور جو حقیقت میں معبود ہو ، خواہ لوگ اس کی عبادت کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں ۔ اللہ کے لیے جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اسی دوسرے معنی میں ہوا ہے )=
ان تین صفات کا مطلب یہ ہوا کہ میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو انسانوں کا رب ، بادشاہ ، اور معبود ہونے کی حیثیت سے ان پر کامل اقتدار رکھتا ہے ، جو اپنے بندوں کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے ، اور جو واقعی اس شر سے انسانوں کو بچا سکتا ہے جس سے خود بچنے اور دوسرے انسانوں کو بچانے کے لیے میں اس کی پناہ مانگ رہا ہوں ۔ یہی نہیں بلکہ چونکہ وہی رب اور بادشاہ اور الہ ہے ، اس لیے اس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں جس سے میں پناہ مانگوں اور جو حقیقت میں پناہ دے بھی سکتا ہو ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Website

Address


Karachi