19/01/2023
Want to learn Quran? Join Us.
We are here to help you,
We provide best Qurra(Quran teachers) to kids and adults(male and female) for Hifz and Nazra in English and Urdu Languages.
19/01/2023
18/01/2023
10/01/2023
09/01/2023
https://www.fiverr.com/share/grzx6a
Haleemasadia437: I will be your online quran educator, learn quran with me for $5 on fiverr.com For only $5, Haleemasadia437 will be your online quran educator, learn quran with me. | Assalam-u-Alaikum!Dear Parents and Students,Are you looking for a Quran teacher?We are here to help you. we have certified Quran teachers.We have females Teachers also for | Fiverr
08/01/2023
Haleemasadia437: I will be your online quran educator, learn quran with me for $5 on fiverr.com For only $5, Haleemasadia437 will be your online quran educator, learn quran with me. | Assalam-u-Alaikum!Dear Parents and Students,Are you looking for a Quran teacher?We are here to help you. we have certified Quean teachers.We have females Teachers also for | Fiverr
16/08/2022
Want to learn Quran?We here to help you,We provide best Qurra(Quran teachers) to kids and adults(male and female) for Hifz and Nazra in English and Urdu Languages.whatsapp number:+923112649469
29/07/2022
*Assalamualaikum!*
Do you or your children want to memorize and learn the Holy Qur'an? So let your children learn the Holy Qur'an online at home, under your supervision.
*Why us*:
We provide qualified & expert tutors to teach kids, adults, and women with Tajweed
1: Affordable charges
2: Five classes weekly
3: Qualified & polite staff
4: No age limit for students
5: Set your desired time for classes
6: Access to true teaching of Islam
7: One to one online classes (via Skype and Zoom)
*Our Student will learn*:
1. Quran
2. Nazra
3. Norani Qaida
4. Tajweed
5. Prayers & the method of offering prayer
6. Duas
7. Memorization
8. Islamic etiquettes
** *Trial classes*
3 days free trial classes.
*Contact* for lesson plan, class timing and Fee structure.
Whatsapp: +923112649469
29/07/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: ماہر قرآن کی فضیلت
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا على اثنين : رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار
ترجمہ:
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صرف دو اشخاص کے بارے میں حسد جائز ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی اور وہ شخص بعض اوقات کے علاوہ دن رات کے اکثر حصہ میں اس قرآن میں مشغول رہتا ہے دوسرا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو دن و رات کے اکثر حصہ میں خرچ کرتا ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح:
حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے سے نعمت کے زوال اور اپنے لئے اس نعمت کے حصول کی تمنا کرنا چناچہ حضرت میرک (رح) فرماتے ہیں کہ حسد کی دو قسمیں ہیں (١) حقیق۔ (٢) مجازی۔ حقیقی کا مطلب تو یہی ہے کہ کسی شخص سے نعمت کے زائل ہوجانے کی خواہش و تمنا کرنا حسد کی یہ قسم احکام قرآنی اور تعلیمات حدیث کے پیش نظر تمام علماء امت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے مجازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اپنے لئے اس کے حصول کی خواہش و تمنا کرنا بغیر اس آرزو کے کہ وہ دوسرے شخص سے زائل ہو مجازی حسد کی قسم غبطہ کہلاتی ہے جسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ حسد مجازی یعنی غبطہ (رشک) اگر دنیاوی امور کے سلسلہ میں ہو تو مباح ہے اور اگر دینی امور کے سلسلہ میں ہو تو پھر وہ مستحب ہوگا۔ مثلا کسی شخص کو مسجد بناتا ہوا دیکھ کر یہ آرزوں و خواہش کرے کہ کاش اگر میرے پاس بھی روپیہ ہو تو میں بھی ایسی مسجد بناؤں۔ یہ رشک پسندیدہ ہے اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے۔ بہرکیف یہاں حدیث میں حسد سے مراد غبطہ ہے مگر اس حدیث میں غبطہ کی اجازت صرف انہیں دو چیزوں میں منحصر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی نعمت ان دو نعمتوں سے بڑھ کر نہیں ہے کہ جس کے حاصل ہونے کی خواہش کی جائے چناچہ اسی لئے مظہر فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت حاصل ہوجانے کی آرزو و خواہش کرے۔ ہاں اگر وہ نعمت ایسی ہو کہ قرب الٰہی کا ذریعہ بنتی ہو جیسے تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور ان کے علاوہ دوسری نیکیاں و بھلائیاں تو ایسی نعمت کے حصول کی خواہش و آرزو پسندیدہ ہوگی۔ قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی چناچہ اس کو قرآن اس طرح یاد ہو جیسا کہ ہوناچا ہئے اس طرح قرآن میں مشغول رہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتا ہو، اس کے مفہوم و معنی کو یاد کرتا ہو اس کے علم و احکام میں غور و فکر کرتا ہو، یا پھر یہ کہ اس کے امر و نواہی پر عمل کرتا ہو یا اس کو نماز میں پڑھتا ہو۔
28/07/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: ماہر قرآن کی فضیلت
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران
ترجمہ:
حضرت عائشہ (رض) راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ماہر قرآن ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور بزرگ و نیکوکار ہیں اور وہ شخص کہ جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ثواب ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح:
ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے ! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔
16/07/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کے درجہ کی بلندی اور پستی
وعن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين . رواه مسلم
ترجمہ:
حضرت عمر بن حطاب (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعہ کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔