السلام علیکم
مفہوم قرآن۔
( قرآن مجید۔ معاشرتی احکام و ہدایت: والدین )
( پھر جب یحیٰی پیدا ہو کر بڑے ہو گئے تو ہم نے ان سے فرمایا: )" اے یحیٰی! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔" اور ہم نے بچپن ہی میں ان کو دانائی بھی عطا کر دی تھی، اور خاص اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی بھی۔ اور وہ بڑے پرہیزگار تھے، اور اپنے والدین کے خدمت گذار! نہ وہ سرکش تھے ، نہ نافرمان۔
( ۱۹: مریم ، ۱۲۔۱۴ )
مفہوم حدیث.
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے کہا۔ ہاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت اور راحت رسانی میں جدوجہد کرو۔ یہی تمہارا جہاد ہے۔
( سنن ابی داؤد )
Deen e Islam
Islamic teaching from Quran and Hardee's.
16/06/2023
16/04/2023
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
.
.
.
.
15/04/2023
اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی ، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ۔
Bukhari shareef-1957
رمضان ( کے روزے ) فرض ہونے سے پہلے مسلمان عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ۔ عاشوراء ہی کے دن ( جاہلیت میں ) کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان فرض کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ ” اب جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے ۔“
Sahih Bukhari #1592
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ نبی ﷺ رمضان میں ( رات کو ) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ ( رات میں ) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور ۔ پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے ۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر آپ ﷺ چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں ؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں
سوتا ۔
Bukhari shareef-1147
رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی ۔ صحابہ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ یہ نماز پڑھی ۔ دوسری رات بھی آپ ﷺ نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا ۔ لیکن نبی کریم ﷺ اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے ۔ صبح کے وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے ۔ میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے ۔ یہ رمضان کا واقعہ تھا ۔
Bukhari shareef - 1129
آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔
Bukhari Shareef -37
رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ جواد ( سخی ) تھے اور رمضان میں ( دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب ) جبریل آپ ﷺ سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے ۔ جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے ، غرض آنحضرت ﷺ لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari #6
کتاب وحی کے بیان میں
Status: صحیح
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Karachi