15/05/2026
کس کس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک حیات ہیں؟؟؟
*
*
*
آئیں اپنے ماں باپ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے پہلے ?
15/05/2026
کس کس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک حیات ہیں؟؟؟
*
*
*
نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے اپنے والد کی شکایت لگائی تو کیا ہوا۔۔۔لازمی سماعت فرمائیں۔
*
*
*
ترقی چاہتے ہیں تو اپنے والدین کی خدمت کریں!
سابق کرکٹر مشتاق احمد کا والدین پر رقت آمیز جملے
*
*
*
والدین کچھ کہہ بھی دیں تو انہیں اف تک نہ کہو : کل انتقال کر جانیوالے معروف شاعر و نعت خواں سید سلمان گیلانی کی اپنے والد کے حوالے سے وہ غلطی جو انہیں برسوں رلاتی رہی ۔۔۔ 2001 میں سید سلمان اپنے والد کے ساتھ حج کرنے گئے ، مکہ سے مدینہ جانے کے لیے بسیں آئیں تو سب لوگ دھکم پیل کرکے سوار ہونے لگے مگر سید سلمان آرام سے کھڑے رہے کہ والد ضعیف ہیں جب سب لوگ بیٹھ جائیں گے اور دھکم پیل بند ہو گی تو یہ بھی آرام سے سوار ہونگے ، اس دوران سید سلمان کے والد نے انہیں کہا بیٹا تم بھی اپنی سیٹ رکھ لو تاکہ پریشانی نہ ہو ، مگر سید سلمان انتظار کرتے رہے کہ رش ختم ہو جائے انکے والد نے انہیں دوبارہ کہا پتر : تو وی سیٹ رکھ لے ۔۔۔۔ تو سید سلمان نے انہیں جواب دیا ابا جی : صبر کر جاؤ کیہڑی چھیتی اے تہانوں ۔۔۔ اس موقع پر انکے والد نے انہیں انتہائی بے چارگی اور بے بسی کے ساتھ دیکھا ۔۔۔۔ ان کا اس طرح بے بسی اور بیچارگی سے دیکھنا سید سلمان کو بعد میں برسوں تک رلاتا رہا ۔۔۔ کہ کاش وہ اپنے بوڑھے والد کو اس طرح غصے سے نہ مخاطب کرتے ، کاش وہ صبر کر جاتے ۔۔۔ یاد رہے کہ جب سید سلمان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ ایک مشاعرے کے سلسلے میں انگلینڈ میں تھے لہذا جنازے میں شرکت نہ کرسکے ۔۔۔۔ سید سلمان گیلانی نے ہر خاص و عام سے درخواست کی تھی کہ والدین کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں خاص طور پر جب والد یا والدہ علیل ہوں یا ضعیف ہوں انکی خدمت میں دنیا کا ہر کام چھوڑ دیں ۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم سید سلمان گیلانی کے درجات بلند فرمائے آمین
*
*
*
06/02/2026
کتنی خاموشی سے قسمت نے ہماری عمریں تقسیم کر د ہیں۔
کسی کے حصے میں ماں کے آنسو آئیں گے،
کسی کے حصے میں باپ کی ٹوٹی ہوئی کمر،
اور دسترخوان پر بیٹھتے ہیں،
ایک ہی بچپن بانٹتے ہیں…
مگر انجام کتنا الگ الگ لکھا ہوتا ہے۔
اس لیے جب ہم ساتھ ہیں…
تو ایک دوسرے کو تھام لو۔
کبھی کسی کی خاموشی کو نظرانداز نہ کرو،
کبھی کسی کے دل کو اکیلا مت چھوڑو۔
کیونکہ کل کو
ہم میں سے کسی کے جنازے پر
صرف یہی محبت ہی لوگ اکٹھے کرے گی۔
زندگی بہت مختصر ہے…
اور بہن بھائیوں کا رشتہ
اس سے بھی زیادہ نازک
*
*
*
آپ کے والد کی ہر چیز مقدس ہے۔
یہاں تک کے جوتے بھی جن کو دروازے کے سامنے دیکھ کر آپ کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔
آپ کے والد کی ہر چیز مقدس ہے۔۔۔۔
یہاں تک کے جوتے بھی جن کو دروازے کے سامنے دیکھ کر آپ کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔۔
*
*
*
دماغی ہسپتال میں ایک مریض نے اپنی ماں کو لکھا
شب بخیر، ماں،
یہاں کھانے میں نمک نہیں ڈالتے،
اور مجھے کھڑکیاں کھولنے کی اجازت نہیں دیتے۔
میں اب مزید یہ سختی برداشت نہیں کر سکتا۔
مجھے صرف یہ چاہیے
کہ دواؤں کی جگہ
میرے تکیے میں تمہاری خوشبو ہو۔
ہر بار کسی دورے کے بعد،
وہ مجھ سے وعدہ کرتے ہیں
کہ تم کل آؤ گی،
اور ہر گزرتے کل میں
بس تنہا رہ جاتا ہوں،
*
*
*
رشتوں کا احترام
علامہ حمید بن زنجویہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: آدمی کو چاہیے کہ اپنے چچا کی توقیر اور احترام کرے، خواہ وہ عمر میں اس سے چھوٹا ہو؛ اسی طرح بھانجی کو اپنی خالہ کا احترام کرنا چاہیے، چاہے وہ اس سے چھوٹی عمر کی ہو؛ کیوں کہ چچا باپ کی جگہ ہے اور خالہ ماں کے مقام پر.
[شرح السنة للبغوی، 13: 41]
یہ ہماری تہذیبی اور اخلاقی قدریں ہیں اور ان کا ماخذ سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہے. یہ دونو باتیں احادیث میں آئی ہیں. خالہ کے متعلق نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان ہے: الخَالَةُ بمنزِلَةِ الأُمِّ. خالہ ماں کے درجے میں ہے. (صحیح بخاری، 2699)
اور چچا کے متعلق فرمایا: إن عمَّ الرجلِ صنوُ أبيه. (ترمذی، 3761) بے شبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مانند ہوتا ہے.
(طاہر اسلام عسکری)
*
*
*
*
ماں باپ بھی یتیم ہوتے ہیں
لوگ سمجھتے ہیں یتیم وہ ہے جس کے ماں باپ نہ ہوں
مگر کبھی سوچا ہے؟
وہ ماں باپ بھی یتیم ہو جاتے ہیں، جن کے جیتے جی بچے ان کا سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
یتیمی صرف ماں باپ کے مرنے سے نہیں آتی
یہ اس وقت بھی آتی ہے جب اولاد، ماں باپ کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دے
جب گھر میں وہ ہوں مگر دل سے کوئی ان کے ساتھ نہ ہو،
جب بات کرنے والا نہ ہو، ان کی آنکھوں کا حال سمجھنے والا نہ ہو۔
ماں باپ کو بڑھاپے میں عزت اور محبت نہ دینا
ان کی زندگی کا سب سے بڑا یتیم خانہ بنا دیتا ہے۔
یاد رکھو
یتیم وہ بھی ہوتا ہے، جو اپنی اولاد کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا رہ جائے۔
*
*
*
*
*مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں۔*
```ایک بیٹا فخر علی شاہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہے ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور دوسری بیٹی فرح ناز فیصل بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہے دوسرا بیٹا قلندر علی شاہ کاروبار زمینیں اور باغات سنبھالتا ہے۔```
بھانجے طلحہ پٹھان نے علاج کے بہانے انہیں ٹنڈو جام لے جا کر یتیم خانے میں چھوڑ دیا جہاں وہ سات مہینے اپنی اولاد کے انتظار میں راہیں تکتے تکتے وفات پا گئیں ہیں۔
اتنی پڑھی لکھی اور بڑے عہدوں پر فائز اولاد ہو اور ماں لا وارثی میں یتیم خانے میں مرے تو ایسی اولاد کو "ڈوب کر مر جانا چاہیے۔"
*ایسی دنیا کی پڑھائی، ایسی دولت, ایسی مصروفیت, ایسی زندگی اور ایسی اولا پر لعنت کہ جس کے حاصل ہونے کے باوجود انسان انسانیت سے گر جائے۔*
یہ ان ماں باپ کے لیے سبق ہے جو بچوں کو دنیا کی پڑھائی کے لیے امریکا ، یورپ اسٹریلیا دنیا کے کونے کونے میں کہاں کہاں نہیں بھیجتے اور دین کی تعلیمات سے دور اور محروم رکھتے ہیں تو آخری میں پیرنٹس کا یہ انجام ہوتا ہے
*
*
*
*