Interesting&Informative Knowledge

Interesting&Informative Knowledge

Share

The example of man without education is blind. And education cames from Sharing. So if you have education then share it with your friends

10/07/2023

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (al-hijr 15:9)
Indeed, it is We who sent down the Qur’an and indeed, We will be its guardian.

26/11/2022

حیران کن داٸرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

"یہ تصویر کینیڈین ایکس رے اَبزرویٹری نے لی ہے۔یہ داٸرہ گیس سے بنا ہے۔ کینیڈین اسٹرونمرز کا ماننا ہے، کہ گیس کا یہ خوبصورت دائرہ تقریباً 23 نوری سال پر محیط ہے۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں، کہ یہ داٸرہ کتنا بڑا ہوگا۔ جبکہ یہ 17 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھیل بھی رہا ہے۔ یہ داٸرہ اتنا بڑا ہے، کہ کوٸی بھی اسپیس گاڑی اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ سکتی۔

ناسا کی تیز رفتار ٹیکنالوجی واجر وان 43 سالوں میں ایک نوری سال تک بھی نہیں گٸی، بلکہ صرف 20 نوری منٹ تک گٸی اور اسکے ساتھ رابطے منقطع ہونے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔مطلب ہم چاہتے ہوٸے بھی اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نہیں جاسکتے۔اس داٸرے میں تقریبا 88 quintillion صرف سورج جیسے ستارے مکمل طور پر فٹ ہوسکتے ہیں۔ جبکہ 88 quintillion ضرب 13 لاکھ زمینیں سماسکتی ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگاٸیں کہ یہ "داٸرہ" کس قدر بڑا ہوگا۔ہماری یہ یونیورس بہت ہی دلچسپ ہے"۔۔۔۔۔۔!!!‎

جب میرے سامنے اسی کوئی سائنسی تحقیق آتی ہے تو میں بلا اختیار قرآن مجید کی یہ آیت پڑھتا ہوں اور اس آیت کی حقیقت مزید واضع ہوجاتی ہے مجھ پر۔

سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَـقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ

عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟
(حم السجدہ آية ۵۳)

Photos from Interesting&Informative Knowledge's post 05/08/2022
25/04/2022

Golda Meir
تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں ۔ یہ 1973 ء کی بات ھے .. عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی .. ایسے میں ایک امریکی سینیٹر ایک اھم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا .. وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا .. اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم " گولڈہ مائیر " کے پاس لے جایا گیا .. گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سینیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی .. یہاں اس نے امریکی سینیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر ' چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آبیٹھی .. اس کے ساتھ اس نے توپوں طیاروں اور میزائلوں کا سودا شروع کر دیا .. ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی .. وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی .. ایک پیالی سینیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی .. پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سینیٹر سے محو کلام ھو گئی .. چند لمحوں کی گفت اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئیں .. اس دوران گولڈہ مائیر اُٹھی ' پیالیاں سمیٹیں اور اُنہیں دھو کر واپس سینیٹر کی طرف پلٹی اور بولی .. " مجھے یہ سودا منظور ھے .. آپ تحریری معائدے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے . یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا .. حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کردیا .. اس کا مؤقف تھا اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا .. گولڈہ مائیر نے کابینہ کے ارکان کا مؤقف شنا اور کہا .. " آپ کا خدشہ درست ھے لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ھم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کردیا تو تاریخ همیں فاتح قرار دے گی .. اور تاریخ جب کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ھے تو بھول جاتی ھے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا .. اس کے دستر خوان پر شہد ' مکھن جیم تھا یا نہیں ۔۔ اور ان کے جوتوں میں سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کی نیام پھٹے پرانے تھے .. فاتح صرف فاتح ھوتا ھے ۔ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا لہذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی .. آنیوالے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا ' اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے .. جنگ ھوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے .. ( یہ بھی ایک عجیب حقیقت ہے کہ امت مسلمہ کو بیسویں صدی میں کا ھاتھ تقسیم کردینے میں دو عورتوں ٹکڑوں میں رھا .. یعنی عربوں کو ختم کرنے میں گولڈہ مائیر کا اور عجم کے کو شکست دینے میں اندرا گاندھی کا .. ) جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا .. " امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذھن میں جو دلیل آئی تھی وہ فوراً آپ کے ذھن میں آئی تھی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کررکھی تھی .. ؟ " گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا چونکا دینے والا ھے .. وہ بولی .. " میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں ( مسلمانوں ) کے نبی ( محمد صلى اللہ علیہ وسلم ) سے لیا تھا .. میں جب طالبہ تھی تو مذاھب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا .. انہی دنوں میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سوانح حیات پڑھی .. اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا وصال ہوا تو اُن کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کیلئے تیل خریدا جا سکے .. لہذا ان کی اہلیہ عائشہ ( صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے اُن کی زرہ بکتر رھن رکھ کر تیل خریدا لیکن اس وقت بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں ۔۔ میں نے جب واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ھونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے هونگے .. لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ھیں ' یہ بات پوری دنیا جانتی ھے .. لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رھنا پڑے ' پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میںزندگی بسر کرنا پڑے ' تو بھی اسلحہ خریدیں گے ' خود کو مضبوط ثابت کرینگے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے .. " گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا مگر ساتھ ھی انٹرویو نگار درخواست کہ اسے " آف دی ریکارڈ " رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے .. وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ھو سکتی ھے وھاں دنیا مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی .. چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا .. پھر وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا .. یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا .. اس دوران ایک اور نامہ نگار ' امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا .. اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا .. اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بھیبیان کردیا جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھا .. اس نے کہا .. " أسے آپ یہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ھو رھی ھے .. " گولڈہ مائیر کا انٹرویو لینے والے نے مزید کہا .. " میں نے اس واقعہ کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا .. کیونکہ مجھے معلوم ھوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر ( جبل الطارق ) کے راستے اسپین فتح کیا تھا اس کی فوج کے آدھے ، زیادہ مجاھدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا .. وہ بہتر بہتر ( 72 ) گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے .. یہ وہ موقع تھا جب گولڈ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ھوگیا کہ سے " تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے “ جیم یہ مکھن نہیں۔۔۔۔۔۔

03/01/2022
10/10/2021

Hero who made invincible has left us 💔 at the age of 85.May Allah almighty Grant highest ranks in Jannah, Ameen
😢😢

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00