Fashioncollect

Fashioncollect

Share

My Name Muhammad Ismail Rind
Principal
M.I.R Educator School System

25/07/2025

بارش کی بوندیں یوں ٹپک رہی تھیں جیسے اس کی آنکھوں سے بچھڑنے پر آنسوں ٹپکے تھے
بارش تو ظالم ہے یوں نا ٹپک ٹپک کربرس، تیرے برسنے پر وہ مجھے بھول جانے والا شخص یاد آتا ہے
بادلوں سے کہہ دو کہ وہ تمیں اپنے آغوش سے یوں نا آزاد کرے کہ ٹپک ٹپک کر کسی کی یاد ستائے
بارش قصور نہیں تمہارہ برسنا، تو برسے جا، اس کا بھی کب قصور تھا بچھڑنہ وہ تو رسم نبھاکر گیا ہے
ایم اسماعیل رند

23/07/2025

یونہ رند ہمیشہ مسکرایا کرو، حسین،دلکش،موسم کو دیکھ کر
یہاں موسم کی طرح لوگ بدل جاتے ہیں حالات دیکھ کر۔
ایم اسماعیل رند

Photos from Fashioncollect's post 11/07/2025

اردو / English
لنڈ محلہ عیسب کلمتی گوٹھ میں قادر نگر گھگھر پھاٹک سے 4کلو میٹر پر واقعے ہے۔ اس علاقے کے لوگ دہاڑی پر کام کرنے والے ہیں ۔ایک کماتا ہے تو 10افراد اس کو کہاتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے وہ تن کے کپڑے بھی سالوں میں خریدتے ہیں۔ لنڈ محلہ میں کوئی بھی بنیادی سہولیات میسر نہی۔ یہاں پر کوئی اسکول موجود نہی۔ بچے دور دراز سنسان گلیوں سے ہوتے ہوئے اسکول جاتے ہیں۔ اسکول دور اور آگاہی نا ہونے سے بچوں کو تعلیم نہی دی جاتی۔ خاص طور لڑکیوں کو۔ اس ضمن میں کیے گئے سروے بعد ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اپنی مدد آپ تحت یہاں کے بچوں کیلئے پرائمری تک فری تعلیم کیلئے فری اسکول کھولا جائے۔ تاکہ ان غریب بے بس لوگوں کے بچوں کو تعلیم دے ان کے پائوں پر کھڑا کرنے ہے تاکہ وہ بھی ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔ مندرجہ بالا تصویر ایک مقامی مسجد میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے لی گئی ہے۔ میرے ساتھ اصغر مگسی۔ قاری نصر اللہ و دیگر موجود ہیں۔
آپ تمام مخیر حضرات سے اس کار خیر میں مدد کی اپیل ہے۔
آپ کے دوائوں کا طلبگار
محمد اسماعیل رند
03002758826

Lund Mohalla is located 4 km from Ghaghar Phatak. The people of this area are daily wage workers. If one earns, 10 people call him. Due to inflation, they even buy clothes for years. There are no basic facilities available in Lund Mohalla. There is no school here. Children go to school through remote, deserted streets. Due to distance and lack of awareness, children are not given education. Especially girls. After the survey conducted in this regard, we have decided to open a free school for the children here up to primary level with our help. So that the children of these poor and helpless people can be educated and stand on their feet so that they too can live a good life. The above picture was taken while talking to people in a local mosque.
An appeal to all the philanthropists to help in this good cause.
Muhammad Ismail Rind
03002758826

02/08/2024
12/01/2024

جب بیٹیاں بیوہ یا طلاق یافتہ ہوجائیں۔۔
تو پھر گھر نہیں بٹھائی جاتیں.پڑھیں تھوڑا تاریخ کو بھی..

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب
(ان کی بیٹی)حفصہ بیوہ ہوگئیں۔۔
اور ان کے شوہر خنیس بن حذافہ سہمی جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور بدر میں شرکت کرنے والے تھے۔۔
مدینہ میں انتقال کرگئے۔۔
تو میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا اور
(اپنی بیوہ بیٹی)حفصہ کا ذکر کیا۔۔
اور ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں۔۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں غور کرکے جواب دوں گا۔۔
میں کئی رات ٹھہرا رہا۔۔
پھر ملاقات ہونے پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ مجھے فی الحال نکاح کرنے پر اطمینان نہیں ہوا۔۔
پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں۔۔
تو میں (اپنی بیوہ بیٹی) حفصہ کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں۔۔
حضرت ابوبکر خاموش ہوگئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔۔
مجھ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس سرد مہری سے اس سے بھی زیادہ رنج ہوا۔۔
جتنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انکار سے ہوا تھا۔۔
میں کئی راتیں ٹھہرا رہا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے حفصہ کے نکاح کا پیغام بھیجا۔۔
میں نے فورا ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کردیا۔۔
اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے تو کہنے لگے کہ شاید تم کو میرا جواب نہ دینا ناگوار گزرا ہوگا۔۔
میں نے کہا ایسا ہی ہے۔۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میں نے تم کو اس وجہ سے جواب نہ دیا تھا کہ رسول اللہ کا ان کا تذکرہ کرنا میرے علم میں آیا تھا۔۔
اور میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
ہاں اگر رسول اللہ ﷺ حفصہ سے نکاح کا ارادہ ترک کردیتے تو میں ان سے نکاح کرلیتا۔۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث 4005 کتاب المغازی)
ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی طرح خود ہی اپنی بیوہ بیٹی کے نکاح کا پیغام پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیا۔۔
اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ خلفائے راشدین میں سے ہیں۔۔
جس سے پتہ چلا کہ بیوہ یا مطلقہ کے دوسرے نکاح کو عیب نہیں سمجھنا چاہیے ۔۔
اور یہ بھی پتہ چلا کہ لڑکی والوں یا لڑکی کے سر پرستوں کو خود کسی لڑکے یا اس کے سر پرست کو نکاح کا پیغام دینا جائز ہے۔۔
اور یہ عمل غیرت و حیاء کے خلاف نہیں۔۔
مگر آج کل لڑکی والوں کی طرف سے خود کسی جگہ نکاح کا پیغام بھیجنا عیب سمجھا جاتا ہے۔۔.
اور اگر کوئی جواب نہ دے تو ہم اسے اپنی غیرت کا مسئلہ بنالیتے اور ہمیشہ کی قطع تعلقی بن جاتی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
Karachi