05/07/2025
اے بابا!
"علی اکبر کا لاشہ خیبر کے دروازے سے زیادہ بھاری تھا۔"
- امام حسین علیہ السلام
Our aim is to share true teaching of Imam's As.
05/07/2025
اے بابا!
"علی اکبر کا لاشہ خیبر کے دروازے سے زیادہ بھاری تھا۔"
- امام حسین علیہ السلام
04/07/2025
"شہید کربلا حضرت جون بن حویؑ"
وہ کیسا منظر ہوگا جب مدینہ چھوڑنے سے قبل ایک ٧٠ سالہ ضعیف سیاہ فام شخص نے امام حسین علیہ السلام سے درخواست کی ہوگی کہ وہ بھی ان کے ہمراہ کوفہ جانا چاہتا ہے۔ جب امام حسین علیہ السلام نے اُس شخص سے کہا ہوگا کہ آپ نے اہل بیت علیھم السلام کی بہت خدمت کرلی اب آرام کیجئے۔ جب اُس سیاہ فام شخص نے بھرائی آواز میں کہا ہوگا کہ جانتا ہوں آپ مجھے کیوں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے، اس لیے کہ میں سیاہ فام ہوں۔ اور جب امام حسین علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اس ستر سالہ شخص کی پیشانی کا بوسہ لیکر اسے سینے سے لگایا ہوگا۔ میرا دل کہتا ہے کہ دیکھنے والوں کو حسینؑ کے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بلال رض کی یاد آگئی ہوگی۔
۔
یہ جون بن حویؑ تھے، کربلا کے منور و معطر شہید۔ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مولا علیؑ کے وفادار۔ اُنہوں نے حبشہ میں اسلام قبول کیا، ہجرت کرکے مدینہ آئے اور امام علیؑ کی غلامی اختیار کی۔ امام حسنؑ و حسینؑ کا ساتھ پایا، امام علیؑ نے اُنہیں ابوذرؑ کے سپرد کیا، ابو ذر غفاریؑ کے قرب میں رہے، یہاں تک کہ اُن ہی ساتھ جلاوطن کرکے شام بھیجے گئے اور کلمہ حق کی پاداش میں ایک بار پھر جبل الامل نامی پہاڑی قصبے میں جلاوطن کیے گئے۔ موجودہ لبنان میں موجود جبل الامل کا علاقہ آج محبان اہلیبیتؑ کا مرکز ہے، جب کسی عالم کے نام کے ساتھ الآملی لکھا دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ ابوزرؑ اور جونؑ کی محنت ہے، شیخ حُر الآملیؒ کا نام کس نے نہیں سنا ہوگا؟
جونؑ اور ابوذرؑ کے تعلق کو بیان کرنے کیلئے اس سے بہترین مثال اور کیا ہوگی کہ زیارتِ ناحیہ میں جونؑ اور ابوذر غفاریؑ کا نام ایک ساتھ آیا ہے۔ گویا جونؑ وہ ہستی ہے جس نے کربلا میں اپنے آقا اپنے دوست ابوذر غفاریؑ کی نیابت بھی کی۔
۔
جون بن حویؑ کا ابوذر غفاریؑ کے ساتھ تعلق ابوذرؑ کی مظلومانہ شہادت کے ساتھ ختم ہوگیا۔ ابوذر غفاریؑ جیسا جلیل القدر صحابی رسولؐ جس کے تقوے کو رسولِ خداؐ نے عیسیؑ کے تقوے سے تشبیہ دی، وہ اس قدر مظلومانہ انداز سے شہید کیوں ہوا، اس کا سوال "صحابہ دے نوکروں" کو ضرور دینا چاہئے، ہم شیعہ عرض کرتے ہیں تو رافضی کہلاتے ہیں۔
۔
آپ جون بن حویؑ کی عظمت دیکھیے۔ حبشہ میں مسلمان ہوئے، ہجرت کرکے رسولِ خداؐ کی خدمت میں مدینہ آئے، امام علیؑ کے ساتھ رہے اور ابوذرؑ کی ہمراہی میں شام اور جبل الامل سے ہوتے ہوئے ساٹھ ھجری میں دوبارہ امام حسینؑ کے سامنے اس انداز سے آکھڑے ہوئے کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میرا آقا ابوذرؑ تو شہید ہوچکے، میں یقینا اسی لیے زندہ ہوں کہ آپ کے ساتھ شہید ہوسکوں۔
یہ ستر سالہ بوڑھا جب گھوڑے سے گرا تھا تو اپنے سر کو امام حسینؑ کے زانو پر پایا تھا۔ وہ جونؑ جس نے مدینہ میں امام حسینؑ سے شکوہ کیا تھا کہ شاید آپ مجھے اس لیے نہیں لے جانا چاہتے تھے کہ میں سیاہ فام ہوں، میرے پسینے سے بدبو آتی ہے، اُسی جونؑ نے اپنا سر زانوئے حسینؑ پر پایا۔ خدا جانے یہ منطر دیکھ کر بھی کسی کو حسینؑ کے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بلال رض یاد آئے ہونگے یا نہیں؟
یہ وہ موقع تھا جب جونؑ کا سر اپنے زانو پر رکھ کر امام حسینؑ نے وہ تاریخی دعا کی تھی کہ اے پروردگار جونؑ کا چہرہ منور کردے، اس کے پسنے کو معطر کردے۔ کہتے ہیں کہ دعا ختم ہوتے ہی جونؑ کا جسم خوشبو سے معطر ہوگیا تھا، چہرہ نور کی مانند چمک اُٹھا تھا۔ یہ کربلا کا منور و معطر شہید تھا جو حبشہ سے ہوتا ہوا کربلا پہنچا تھا کہ اپنا خون، خون مطھر حسینؑ کے ساتھ شامل کرسکے۔
۔
ضریح امام حسینؑ کے بالکل سامنے، گنج شہیداںؑ میں مدفوں جون بن حویؑ، حُر بن یزید الریاحیؑ کی طرح کربلا کا وہ منفرد و لازوال کردار ہے جو کربلا کو حادثہ اور اقتدار کی جنگ کہنے والوں کو تاحشر جواب دیتا رہے گا کہ یہ حق و باطل کا وہ آفاقی معرکہ ہے جس میں اپنا نام شامل کروانے کیلئے میں نے حبشہ سے کربلا ہجرت کی۔
" اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ"
۔
#محمد #محمد #و
03/07/2025
8 محرم الحرام
حضرت عباسؓ علمدار کی ولادت 4 شعبان سن 26 ہجری اور شہادت میدان کربلا میں سن 61 ہجری میں ہوئی، آپ حضرت علیؓ اور حضرت بی بی ام البنین کے فرزند ہیں،حضرت عباس کو "ابوالفضل”، "علمدار” اور ’’ باب الحوائج بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت عباسؓ علمدار کو نہایت خوش چہرہ نوجوان ہونے کے ناطے قمر بنی ہاشم کا لقب دیا گیا۔آپ کربلا میں اپنے بھائی حسین ابن علی کے لشکر کے علمدار تھے۔
8 محرم الحرام حضرت عباسؓ کے مصائب سے منسوب ہے، آپ اپنی شجاعت میں اپنی مثال آپ تھے، میدان کربلا میں فوج اشقیا پر آپ کے نام سے لرزا طاری ہوجاتا تھا۔
حضرت عباسؓ علمدار عاشور کے دن خیمہ حسینی میں پیاس سے بلکتے بچوں کیلئے پانی لینے دریائے فرات پہنچے اور فوج اشقیا کو للکارا ۔ آپ نے مشک بھری اور واپس جانے لگے تو اس دوران گھات لگائے اشقیاء نے پانی کے مشکیزے کو تیر کا نشانہ بنایا اور آپ کے دونوں ہاتھ قلم کرکے شہید کردیا.
حضرت عباسؓ علمدار نے بازوں کے جدا ہونے کے باوجود کربلا کے میدان میں صبر و شجاعت اور وفاداری کے وہ جوہر دکھائے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی !!!
میرا سلام ہــو ان پاک بازوں ـــ پـر جـو
مـشکـــ سکینـہؓ بچاتــے ہـوئــے قـلـم ہـو گئـے۔۔
شیر علیؑ..
شہنشاہِ وفاؑ..
افضل الشہداؑ..
قمرِ بنی ہاشمؑ...
سقائے سکینہؑ..
ثانيِ حیدرؑ
دُعائے فاطمہؑ...
طاقت دلِ شبیرؑ...
حضرت سیّدنا مولا غازی عباس علمدار
اے خدا! موت جب آنی ہے تو پھر یوں آئے
علی اکبر (ع) کے مصائب پہ جگر پھٹ جائے!💔
30/06/2025
اِن مجلسوں کو اجرِ رسالت کہا گیا
روزِ ازل سے رونے کو فطرت کہا گیا
دِل کی لُغت میں اسکو محبت کہا گیا
یعنی اسے بتول کی سنت کہا گیا
ہر رونے والی آنکھ کو میرا سلام ہے
یہ مجلسِ حُسین علیہ السلام ہے
چشمِ خُدا میں اسکا بڑا احترام ہے.
سلام یا حسین علیہ السلام
روایات میں ملتا ہے کہ خدا نے ایک فرشتہ خلق کیا ہے جو محرم کا چاند ہوتے ہی امام حسینؑ کا خون بھرا کرتہ لے کر ساری دنیا کا طواف کرتا ہے اور اسے پرچم کی طرح لہراتا جاتا ہے جس کے اثر سے ہر مومن عزادار کے دل کی کیفیت بدل جاتی ہے اور فضا سوگوار ہو جاتی ہے
ہائے مظلوم حسینؑ💔
28/06/2025
سرخ چاند کا ظہور !!!
سیاہ رات ہوگئی اور اس چاند کا ظہور ہوگیا ہے جو سرخ ہے۔اُس چاند کا ظہور ہوگیا ہے جس نے زہرا ع کے گھر کے چودھویں کے کئی سارے چاندوں کو سرُخ کردیا۔ اس چاند کا ظہور ہوگیا ہے جس نے بنو ہاشم کے چاند کو سرخ کردیا۔ لیلی ع کا چاند اس چاند کے بعد بس چند دنوں کا مہمان ہے۔ ہاشم کا قمر ع اس قمر کے بعد بس چند ہی دنوں کا مہمان ہے۔ وہ چاند جو ابھی تک کھل کر ظاہر بھی نہ ہوا وہ چاندبھی چند دنوں بعد بابا ع کی گود میں چھپ جائے گا۔
وہ چاند بادلوں سے ظاہر ہوگیا ہے جس نے حقیقی انوار سے خود نور حاصل کیا مگر آج مشیت کے تحت وہ ہی چاند اعلان کررہا ہے ان انوار کو سرخ کرنے کی۔سیاہ رات ،سرخ چاند، عراق کا کوئی صحرا،کنبہ بنی ہاشم ع آہستہ آہستہ منزل حق کی جانب قدم بڑھارہے ہیں۔
ماحول میں بے چینی ہے ۔ہوائیں بے چین ہیں، نیلگوں آسمان افسردہ ہے، چرند پرند گھبراہٹ کا شکار ہیں، صحرا کی ریت پریشان ہے اور یہ سب چاند کی جانب حسرت و یاس سے دیکھ رہے ہیں اور چاند، ہاں آسمان پر نمودار ہوا نامکمل سرخ چاند آج ظاہر نہیں ہونا چاہتا تھا مگر مشیت الٰہی کے تحت ظاہر ہونا پڑا۔
گرچاند آج نہ نکلتا تو سورج پلٹانے والا کا بیٹا اس کو نکلنے کا حکم دیتا ،گر چاند آج نہ نکلتا تو ستارے جس در پر سجدہ کرتے تھے اس در کی مالکن کا پسر آج اسے حکم دیتا۔ چاند کہتا: اے حسین ع مجھے حکم نہ دیں کیونکہ میرے ظاہر ہونا سکینہ ع کی یتیمی کا اعلان ہے ،اصغر ع کے ننھے گلے پہ تیرکا نشان ہے، علی اکبر ع کے کلیجے پر برچھی کا پیام ہے،قاسم ع کی پامالی کا سامان ہے، عباس ع کے بازو کٹنے کا اقرار ہے، چادر تطہیر ع نیزوں پر بلند ہونے کا اظہار ہے۔
لیکن حسین ع پلٹ کر گویا یوں کہتے کہ وعدہ ہے نانا سے دین بچانے کا، خدا کا دین بچانا ہے بے شک گھر لٹ جائے، گھر بے شک لٹ جائے دین کو بچانا ہے، اے چاند مجھے معلوم ہے کہ تیرا آج ظاہر ہونا آل محمد ع پر ہونے والے ظلم و ستم کا اعلان ہے مگر آل محمد ع عشق خدا میں محو ہے اور عشق حقیقی کا مظاہرہ ہم ہر حال میں کریں گے۔تو ظاہر ہوجا اے چاند۔
اور پھر محرم کا چاند نمودار ہوا۔ حسرت ویاس کی تصویر بنا، بے بس و لاچار چاند ظاہر ہوا، تکلیف و غم کا چاند عیاں ہوا، ماتم کرتا ہوا بادلوں پر ہویدا ہوا، اشک برساتا ہوا نمایاں ہوا، پرسہ کرتے ہوئے سیاہ بادلوں میں مکشوف ہوا اور پھر سارے عالم میں سکتہ طاری ہوگیا۔
28/06/2025
پیغمبر اکرم ص نے فرمایا:
بے شک شہادت حسینؑ ابن علیؑ کی وجہ سے مومنین کے دلوں میں ایک ایسی حرارت ایجاد ہوگی جو ہرگز سرد نہیں ہوگی۔
(مستدرک الوسائل، ج 10، ص318، ح12085)