حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں مار کر نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر دو۔
( ابو داؤد، ۱ / ۲۰۸، الحدیث: ۴۹۵)
حقِ چار یار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
“I must strive to reform myself and people of the entire world”
*نیکی کی طرف بلائیے، ثواب پائیے!*
مفہوم حدیث رسول اللّٰه ﷺ
رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی،
اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔
[سنــن ابــن ماجہ -206]
*فرمان خاتم النبیینﷺ*
*اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي*
ترجمہ:
میں خاتمُ النّبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
(ترمذی، 4 / 93 ، حدیث : 2226)
تاجدار ختم نبوتﷺ
زندہ باد
01 صفر 1446ھ
07 اگست 2024ء
*صفر کا مہینہ منحوس نہیں ...*
مفہوم حدیث رسول اللّٰه ﷺ
سیدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے فرمایا :
چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، کھوپڑی کے اُلو کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں۔
|[ سنن إبن ماجه : ٣٥٣٩، صحيح ]|
18 1446ھ
25 2024ء
*
مفہوم حدیث رسول الله ﷺ
سیدنا أبو ھریرہ رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا کہ ﷲ عزوجل فرماتا ہے:
عزت میرا پہناوا اور بڑائی میری چادر ہے، پس جو شخص ان میں سے کوئی چیز مجھ سے کھینچے گا تو میں اسے عذاب دوں گا
|[ صحیح مسلم : ٢٦٢٠ ]|
*جس کی لوگ پرواہ نہ کریں !*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں،
کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا۔*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ -4116»~
اللّٰہ کریمﷻ اپنے کرم سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور اہل جنت میں سے بناۓ۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اللہ سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور اللہ کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔،،
(سنن الترمذی: حدیث:3789)
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو اپنے اموال سے خوش نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی اُنہیں خوش کر سکتی ہے۔
*(شعب الایمان، ج2، ص245)*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم ! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔
*( مسند احمد حدیث نمبر 5479)*
کیا آپ جانتے ہیں؟
• شہزادۂ گلگوں قبا، امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام حسین رضی الله عنہ وأرضاہ کی ولادت باسعادت ہجرت کے چوتھے سال ۵ شعبان المعظم بروز منگل مدینہ منورہ میں ہوئی۔
• حضور پر نور سید عالم ﷺ نے آپ کا نام ’’حُسَین‘‘ اور ’’شَبّیر‘‘رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔
• آپ کی کنیت ابو عبد الله اور القاب سِبْطُ رَسُوْلِ الله (رسول الله کے نواسے) اور رَیْحَانَةُ الرَّسُوْل (رسول کے پھول) ہیں۔
• آپ کی مدت حمل چھ ماہ ہے، حضرت سیدنا یحیی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے علاوہ کوئی ایسا بچہ زندہ نہ رہا جس کی مدت حمل چھ ماہ ہوئی ہو۔
• حضور رحمت عالم ﷺ نے آپ کے سیدھے کان میں اذان دی اور بائیں کان میں تکبیر پڑھی اور اپنے دہن مبارک سے گھٹی عطا فرماتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔
• آپ اپنے نان جان حضور پرنور ﷺ کے سینۂ مبارکہ سے ناخن پائے اقدس (یعنی پاؤں مبارک کے ناخن شریف) تک مشابہ تھے۔
• جب آپ اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخسار (یعنی گال مبارک) سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضیا بار (یعنی اطراف روشن) ہو جاتے۔
• آپ کا مستقل علمی حلقہ مسجد نبوی میں لگتا تھا جس میں آپ لوگوں کو شرعی مسائل سے آگاہ فرماتے تھے۔
• آپ دن اور رات میں ایک ہزار (۱۰۰۰) رکعت نوافل ادا فرمايا كرتے تھے۔
• آپ کو حج کا بہت شوق تھا چنانچہ مروی ہے کہ آپ نے ۲۵ حج پیدل کیے۔
• بوقت شہادت، آپ کی عمر مبارک چھپن (۵٦) سال پانچ (۵) ماہ اور پانچ (۵) دن تھى۔
• آپ ۱۰ محرم الحرام ٦۱ ہجری جمعہ کے دن نہایت بہادری اور ہمّت سے حق پر لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
مأخوذ از:
سیر اعلام النبلاء، اسد الغابہ، معجم الصحابہ، شواھد النبوۃ، سوانح کربلا۔
فرمانِ تاجدار ختم نبوت مُصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ واصحابہ وسلم۔
*جس نے حسن و حُسین سے محبت کی تو بے شک اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی تو بلا شبہ اس نے مجھ سے دشمنی کی۔*
(ابن ماجہ ج 1 ص 96 الحدیث 143)
08 1446ھ
15 2024ء
مفہوم حـــــــدیثِ رســـول الله ﷺ
* سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔
* جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے،
* سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہو گا اور نہ حسد،
* ہر جنتی کی دو حورعین بیویاں ہوں گی، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جا سکے گا۔
[[صحیح بخاری -3254]]
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Gulshan E Iqbal
Karachi