26/08/2026
*وہ بڑے ہو کر خود سمجھ جائیں گے* ۔
بیٹی کو دوسرے گھر جانا ہے اس لیے جو وہ کہے اسے لے کر دے دو نہ جانے کل اس کے حالات کیسے ہوں۔
بیٹے تو کمانے میں لگ جاتے ہیں ابھی ان کے بخرے اٹھا لو کل کو یہ نخرے اٹھانے والے بن جائیں گے۔
*ہمارے بچے کی زبان سے نکلتا ہی ہے کہ ہم وہ چیز اس کے سامنے حاضر کر دیتے ہیں۔*
*ہم کماتے ہی اولاد کے لیے ہیں* ۔۔۔
⭕ *یہ وہ تمام جملے ہیں جنہیں سن کر پلنے والے بچے اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں۔*
👈اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجنا جہاں والدین کے معاشی اسٹیٹس سے زیادہ بڑے اسٹیٹس کے بچے پڑھنے آتے ہیں۔ وہاں جب مڈل کلاس گھرانوں کے بچوں کی ان امیر زادوں سے دوستیاں ہوتی ہیں تو وہ انہیں اپنے طرز زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ ہم فلاں جگہ گھومنے گئے۔ ہمارے بابا نے یہ خرید کر دیا تب یہ مڈل کلاس گھرانوں کے بچے اپنے والدین سے بھی یہی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
اگر والدین یہ ڈیمانڈ پوری نہ کر سکیں تو بچے انہیں اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے والدین دقیانوسی ہیں، ان کے پاس اتنے پیسے کیوں نہیں جتنے فلانے کے پاس ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
▪️ *تربیت کا شدید فقدان*
▪️ *اولاد کی پوجا*
▪️ *بغیر کسی حدود میں رہ کر کی گئی جینٹل پرینٹنگ,*
▪️ *تربیت کے بغیر اولاد کو مہنگے تعلیمی اداروں میں بھیجنا۔*
▪️ *اور اولاد کو مہنگے تحفوں کی لالچ میں کامیابی کی جدوجہد کے لیے اکسانا۔*
یہ عام محرکات ہیں جو اس طرح کے واقعات کے پیچھے ہوتے ہیں۔
👈اس لیے اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ انہیں قناعت پسندی کا نمونہ بن کر دیکھائیں۔
نہ خود دکھاوے کے پیچھے بھاگیں اور نہ بچوں کو یہ تعلیم دیں۔
👈بچوں کو برانڈز کا عادی نہ بنائیں۔ ہر چیز ہر وقت خرید کر نہ دیں۔ بچوں کی پرورش میں مناسب حدود کا تعین کریں اور انہیں ایسے تعلیمی اداروں میں نہ بھیجیں جو آپ کی معاشی سطح سے بہت بلند ہیں کیوں کہ پھر بچوں کی خواہشات پورا کرتے کرتے ہی عمر گزر جائے گی۔
افسوسناک حقیقت یہ یے کہ ہمارے بچے ایسے ہوتے نہیں ہیں، ہم انہیں ایسا بنا دیتے ہیں۔
فیض عالم