04/04/2026
ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں…
مگر آج ایسا لگتا ہے جیسے ہم ادھورے ہیں۔
ہماری ماں نے ہمیں اپنے خون پسینے سے پالا…
دن رات محنت مزدوری کر کے ہمیں پڑھایا، لکھایا،
ہماری شادیاں کیں، ہمیں انسان بنایا…
مگر آج…
ہم میں سے ایک بھائی اپنی دنیا میں اتنا کھو گیا ہے
کہ ماں کی آنکھوں کے آنسو بھی اسے واپس نہیں لا سکے۔
وہ زندہ ہے… مگر ہمارے لیے جیسے کہیں کھو گیا ہے۔
رات کے اس پہر میں جب سب سو جاتے ہیں،
ہماری ماں جاگتی رہتی ہے…
ایک بیٹے کی یاد میں،
اور ایک ننھے پوتے کی جدائی میں۔
ہمارا چھوٹا سا بھتیجا جب ہفتے میں ایک بار آتا ہے،
تو گھر میں خوشیوں کی بہار آ جاتی ہے…
مگر جب وہ واپس جاتا ہے تو
اس کے آنسو اور اس کی باتیں دل چیر دیتی ہیں:
"مجھے یہاں سے واپس نہیں جانا…"
اور پھر…
ہم میں سے کوئی اسے چھوڑنے جاتا ہے
اور پیچھے رہ جاتی ہے ایک ماں…
جو چپکے چپکے روتی ہے…
بھائی…
اگر یہ پڑھ رہے ہو تو واپس آ جاؤ،
ماں آج بھی تمہارا انتظار کرتی ہے۔
💔
31/03/2026
کبھی دل چھوٹا نہیں کیا ۔
اور نہ کبھی اپنی روح کو اس خواہش کا گمان ہونے دیا ہے کہ
میں یہاں سے چاہے کیوں نہیں پی سکتا ۔
جہاں پر میری پوری دن کی کمائی ایک ہزار روپے ہو ۔
اور اس ٹی سٹال پر
ایک وقت کا ناشتہ 1280 کا بن رہا ہو ۔
ہاں یہ خواہش اور یہ جستجو ضرور رہی ہے کہ کبھی تو
یہ ٹی سٹال اپنا ہوگا ۔
اور یقینا ہو سکتا ہے ۔
بمقام ایف 10 مرکز اسلام اباد ۔
اللہ حامی و ناصر ۔
31/03/2026
دیکھو جناب ہم نے اتنی بھی غربت دیکھی ہے کہ 100 روپے کا ایک پیکٹ لیا اس میں اٹھ پیس تھے چھ کھائے اور دو دوپہر کے لیے رکھ دیۓ 🥲🥲
نزد کائنات ہوٹل ٹریول ہوٹل ۔
29/03/2026
عنقریب سولر پینلز کے ریٹ دھڑم سے گرنے والے ہیں
27/03/2026
یا رب
نوجوانی میں کسی کو بے روزگاری عطاء نہ کرنا میرے رب ۔ 😭
27/03/2026
🥲🥲🥲
زندگی میں نا بہت سے مشکل پل آتے ہیں ۔ but
گزانے پڑھتے ہیں ۔
اللہ حامی و ناصر
26/03/2026
تمام مری بلوچ قوم کو میرا سلام ہو
الحمدللہ اقبال کا خاندان مل گیا ہے۔
سال دوہزار چار میں بہن بھائی گم ہوگئے تھے۔ ہم نے تلاش کے لئے پوسٹ لگائی تھی کچھ دیر قبل فیملی کنفرم ہوچکی ہے۔
مری قوم سے تعلق رکھنے والے بھائیوں نے ہماری پوسٹ پورے بلوچستان کے گروپوں میں شئیر کی الحمدللہ تین گھنٹوں میں خاندان مل گیا۔
انکی فیملی لورالائی بلوچستان میں ہے۔
آپ سب دوستوں کا تہہ دل سے بہت شکریہ
25/03/2026
اس لڑکے کا نام محمد اقبال ہے اور والد کا نام کریم بخش ہے۔ قوم مری بلوچ ہے۔
یہ سال دوہزار چار کی بات ہے جب اقبال اور اسکی بہن بچپن میں گھر سے چیز لینے نکلے تھے اور دور نکل کر بھٹک گئے۔
ریسکیو ہوکر ایک شیلٹر میں پہنچے۔ شیلٹر میں اقبال جوان ہوا اور باہر نکل آیا محنت مزدوری شروع کی۔ کورٹ میں کیس کرکے اپنی بہن کو شیلٹر سے نکال کر اپنی تحویل میں لیا اور مناسب رشتہ دیکھ کر شادی کروادی۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ ہوگیا آج تک یہ بہن بھائی اپنے خاندان سے دور ہیں۔
اقبال کا کہنا ہے کہ انکی رہائش کراچی کے علاقے پختون آباد منگھوپیر میں تھی اپنا گھر تھا ،پھر کسی وجہ سے بلدیہ ٹاؤن منتقل ہوگئے تھے اور بسم اللہ چوک میں کرائے کے مکان میں رہنے لگے تھے۔
والد کریم بخش کی دو شادیاں تھیں۔
سگی والدہ کے دو نام تھے ثمینہ اور ممتاز ۔ سوتیلی ماں کا نام پروین تھا۔
بھائیوں کے نام رحیم علی اور محمد یوسف۔
بہنوں کے نام میرزادی،گلی،گل بی بی اور شہزادی۔
شییلٹر سے نکلنے کے بعد اقبال بلدیہ ٹاؤن گیا وہاں بہت کوشش کی انکا گھر نہیں ملا۔ والد کی سفید داڑھی تھی اور بسم اللہ چوک میں اپنی کلینک میں بیٹھتے تھے۔
اقبال نے جب اپنی زندگی اور بہن کےلے لئے قربانی کی داستان سنائی تو ایک طرف دل بہت اداس ہوا اور دوسری طرف ایک بھائی کا بہن کے لئے مضبوط سہارا بننا دیکھ کر اچھا بھی لگا۔ بہن دو بچوں کی ماں بننے کے بعد اپنے والدین کو اور زیادہ یاد کرنے لگی ہے اور اولاد کے غم کا احساس ہوا کہ انکے گم ہونے کے بعد ماں باپ پر کیا گزری ہوگی۔
کراچی کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ عام کریں تاکہ دو بہن بھائی اپنے خاندان سے مل سکیں ۔
آپکا ایک شئیر انکی زندگیوں میں خوشیاں لوٹا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
25 Mar 2026
25/10/2025
جن کا سگنیچر اس لسٹ میں نہیں ہے وہ اپنا سگنیچر دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں