29/08/2021
Tahlil-ul-Quran
English teacher is also available. WhatsApp: 92347-3825012
We provide online Holy Quran Teaching with Nazra,Hifzul Quran, with Tajweed, Tarjuma and Tafseer-e-Quran We have male teachers for boys and female teacher for girls student.
29/08/2021
ایک ڈاکٹر تھے۔
(کاش اب بھی ایسے حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے لوگ ہر شعبے میں موجود ہوں)
اکثر ایسا ھوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لیئے لکھتے
کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔
اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لئیے؟
تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ھے۔
کہ جس کا نام ابوبکر ھو، عمر ھو، عثمان ھو، علی ھو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ھو
تو میں اس سے پیسے لوں۔
ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدینؓ، امہات المومنینؓ
اور بنات رسولﷺ کے ھم نام لوگوں سے پیسے نہ لیئے۔
یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔
امام احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رھے تھے
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ھوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ھے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کرے۔
اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یارسول اللہﷺ بڑے تو آپ ھی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ھے۔
مجدد الف ثانی رات کو سوتے ھوئے یہ احتیاط بھی کرتے
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ھوں
اور بیت الخلا جاتے ھوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ھوں اس کی کوئی سیاھی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔
ادب کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ھے
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ھی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ھوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اھمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ھم میں سے نہیں۔
ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہﷻ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے۔
اور جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔
ایک دوست کہتے ہیں کہ
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ھے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالانکہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ھے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ھے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ھے،
اچھا ھے دل کے ساتھ رھے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،
چنانچہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ھوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ھے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ھے۔
والدین کی طرح
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہؓ کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔
حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباسؓ
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابیؓ خود ھی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ھوتے اور کہتے
کہ آپؓ تو رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ھوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ھوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔
کتنی ھی مدت ھمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ھے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ھوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے
جب کہ اب شاگرد کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ھے۔
مسلمان تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ھی محدود نہ تھا
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ھی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ھی رہتا تھا۔
ابن عمرؓ جا رہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ھو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔
اسلامی تہذیب کمزور ھوئی تو بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اھمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ھوگئے اور شاگرد استاد کے برابر۔
جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔
اسلام اس مساوات کا ھرگز قائل نہیں کہ جس میں ابوبکرؓ اور ابوجہل برابر ھو جائیں۔
ابو بکرؓ ابوبکرؓ رہیں گے اور ابو جہل ابو جہل رھے گا۔
اسی طرح استاد، استاد رھے گا اور شاگرد، شاگرد۔
والد، والد رھے گا اور بیٹا، بیٹا۔
سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ھے
اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ھی تہذیب کا حسن ھے۔
مغربی تہذیب کا مسلمان معاشروں پہ سب سے بڑا وار (شاید) اسی راستے سے ھوا ھے
جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رھے ہیں۔
عریانی اور فحاشی کا برا ھونا سب کو سمجھ میں آتا ھے
اس لیئے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ھے
جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اھمیت کا سمجھ آنا مشکل ھے
اس لیئے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ھے
منقول
*حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرمایا : محض زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا ، کام کرنے سے کام چلتا ہے ، ایک بزرگ نے بہت اچھی بات کہی ، بڑے کام کی بات ہے کہ اے عزیزو ! بزرگوں کے ملفوظات یاد کرنے کا اہتمام نہ کرو بلکہ اس کی کوشش کرو کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ تمہاری زبان سے بھی وہی نکلنے لگے جو ان کی زبان سے نکلا۔ اس کی ایک مثال ہے کہ ایک قلعہ ہے اس میں رسد جمع کرنا ہے تو پانی کا ایک بہت بڑا حوض تیار کرایا اور اس کو بیرونی پانی سے بھر لیا مگر اس سے اچھا یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا کنواں اندر کھود لو ، گو پانی تھوڑا ہو گا مگر آتا رہے گا ، برابر خرچ کرتے رہو ، نکالتے رہو ، کمی نہ ہو گی ۔ اسی طرح اپنے اندر کنواں کھود لو۔
*حضرت تھانوی ؒ کے اصول و ضوابط ، صفحہ : 69*
جو شخص تلاوت قرآن پر دوام اختیار کرتا ہے اس کی زبان اس کے لئے نرم ہو جاتی ہے اور اس کی قرات کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور جب وہ روزانہ تلاوت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو قرأت اس پر بھاری ہو جاتی ہے اور اس کے لئے مشقت بن جاتی ہے -ابن حجر رح
زبان نبوت سے عطا ہونے والا نجات کا راستہ
۱۔اپنی زبان کو قابو
۲۔بلاضرورت گھر سے مت نکلو
۳۔اپنی خطاؤں پر روتے رہو
(مسند احمد۔روایت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ)
حضرت أبو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا
جہالت کی تین علامتیں ہیں:
۱۔خود پسندی
۲۔لا یعنی گفتگو کی کثرت
۳۔جس چیز سے دوسروں کو منع کرے خود وہی کرتا پھرے
اتباع سنت :
حضور ﷺ کی پیروی کرنے کےدو نتائج اور ظاہر ہوں گے ۔۔۔
يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
(اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا )۔۔۔ یہ ایک عجیب بات ہے ۔۔۔۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ آپ کسی سے سے محبت کریں تو آپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرے ۔۔۔ چنانچہ اگر ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرنے لگے اور اس سے بڑھ کر ہمارے لیے سعادت کی اور کیا بات ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بنا دیا کہ تم اس سے جتنی محبت کرنا چاہو ۔۔ ۔ کرو لیکن تمہاری محبت اس وقت معتبر ہو گی جب تم میرےرسول کی پیروی کرو گے ۔۔۔ جب تم میرے رسول کا اتباع کرلو گے تو میں محبت کا جواب محبت سے دوں گا اور اگر میرے رسول کی پیروی نہ کی تومیری طرف سے محبت کا جواب محبت سے نہیں ملے گا۔۔۔
وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ
(اور تمہارے گناہوں کا بخش دیگا) معلوم ہو ا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے ۔۔۔ اسی طرح اگر اس سے گناہ ہو بھی جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمادیتے ہیں ۔۔۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے اپنے آپ کو سنت کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال دیاتھا ۔۔۔ لباس وپوشاک میں ۔۔۔گفتگو میں ۔۔۔۔کھانے پینے میں ۔۔۔۔اٹھنے بیٹھنے میں ۔۔۔چلنے پھرنے میں ۔۔۔۔ نماز میں ۔۔۔عبادات میں ۔۔۔۔معاملات میں ۔۔۔۔ تجارت میں ۔۔۔۔ محنت و مزدوری میں غرضیکہ ہر چیز میں وہ دیکھتے تھے کہ ہمارے رسول کا اس میں کیا طریقہ تھا؟
ماخوذ از:" آج کا سبق "صفحہ 283
مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
بیکاری کی نحوست :
پان کی دکان پر، چائے کے سدابہار ہوٹلوں پر، اور گلیوں اور شاہراہوں کے ٹکڑوں پر ، یہ ہم عمروں کی بھیڑکیسی ؟
جو ہنسی مذاق میں مشغول اور ادھر ادھر گنہگار نگاہیں ڈالنے میں مصروف ہیں۔ جائیے قریب جاکر معلوم کر لیجئے ؟ ہر ایک اپنی شناخت "اسلامی نام " سے بتا دے گا ۔ لیکن یہ مفت میں یہاں کھڑے ہو کر گناہ لوٹنے میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں ؟ کیا انہیں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے ؟ہاں ! مگر روکے ٹوکے کون؟ اگر غیر روکے گا تو اس کی عزت کی خیر نہیں اور والدین کو اپنے پیاروں کی بیکاری اور مٹر گشتی پرفکر ہوتی تو رونا ہی کس بات کاتھا ؟
معاشرہ میں بے کاری کا رحجان اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے ۔ بیکاری ہزار خرابیوں کے پروان چڑھنے کا سبب بنتی ہے ۔ بیکاری سے برائیوں کے چونچلے کھلتے ہیں ۔
آدمی مصروف رہے تو بے شمار برائیوں سے خود بخود بچارہتا ہے ۔ غیر قوموں میں اس کا خاص اہتمام ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ابتداء ہی سے تعلیم کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں اپنے کاروبار میں ساتھ لگا نے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ مگر مسلمان معاشرہ میں اولاً تعلیم ہی ضرورت سے کم ہے اور تعلیم ہے بھی تو اس کے ساتھ بیکاری اور بری صحبت جیسی خرابیاں بھی ساتھ لگی ہوئی ہے ۔ ضرورت ہے کہ اس سلسلہ میں قومی بیداری پیدا کی جائے اور والدین کو آگاہ کیا جائے کہ وہ اپنی اولاد کو بیکاری کے عیب سے بچائیں ۔ ورنہ اولاد جہنم کا ایندھن بن جائے گی ۔
آنحضرت ﷺ کو بری عادتوں سے بچوں کو بچانے کا کس قدر خیال تھا اس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ آپ ﷺ نے ہدایت دی ہے کہ جب بچہ بڑا ہو جائے تو اس کا بستر الگ کر دو ۔ اور ہم عمروں کو ایک جگہ نہ لیٹنے دو ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح جب وہ جوان ہوں تو انکی شاد یوں کی فکر کرو۔(مشکوٰۃ )
ماخوذ از:" آج کا سبق "صفحہ53
مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
زبان کی حفاظت عافیت کی ضمانت:
ایک صاحب علم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کاغذ پر لکھ کر دیوار سے لٹکا دیا کہ چالیس دن تک زبان کے استعمال میں خوب احتیاط کرنی ہے کیونکہ زبان ایک اژدہا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے وغیرہ۔
ہم چند ساتھی مل کر چالیس روزہ یہ کورس کر رہے ہیں ۔ ان چالیس دنوں میں غیبت ، جھوٹ ، بحث بازی ایسے الفاظ جن سے اپنی بڑائی کا شبہ ہو ۔ ایسا لہجہ جس میں مخاطب کو تکلیف ہو ۔ ایسی باتیں جن سے کسی کو ایذا پہنچے ایسی گفتگو جس سے کسی کے معاملات میں بے جا مداخلت ہوتی ہو۔ طعنہ زنی ، چغلی اور فضو ل گپ بازی سے بچنے کی ان شاء اللہ کوشش کریں گے ۔
رات کو محاسبہ کریں گے کہ ہم اس کوشش میں کامیا ب ہوئے یا نہیں ؟ اگر کوئی غلطی ہو گی تو خود کو سزا دیں گے ۔ چالیس دن کا یہ مجاہد ہ زندگی بھر کیلئے مفید ہو سکتا ہے ۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ قبر سامنے ہے۔ موت منہ پھاڑے قریب سے قریب تر آرہی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کتنے ہی لوگ اپنی زبان کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے اور اللہ تعالیٰ معاف کرے آج تو زبان ہمارے ایمان واعمال کو قینچی کی طرح کاٹ رہی ہے چاٹ رہی ہے ۔ دانستہ جھوٹی باتیں روح کو گندا کررہی ہیں ۔
برتنوں ، جوتوں اور جھاڑو پر بڑے بڑے اچھے اچھے مسلمان گھنٹوں لڑتے ہیں اور شیطان خوشی سے بغلیں بجاتا ہے۔ طعنہ زنی اور غیبت جیسی برائیوں نے گھروں کو جہنم بنادیا ہے ۔
اسی لیے ہم چند ساتھیوں نے زبان بندی کا فیصلہ کیا ہے اور ہمارے سامنے حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔"من صمت نجا" جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ۔ زبان ٹھیک جہاں ٹھیک اور زبان درست ہونے کافائد ہ دل کو بھی ملتا ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان ان باتوں کا مذاکرہ ضروری ہےبلکہ گھروں میں تو "آداب زندگی " نامی کتاب کی باقاعدہ تعلیم ہونی چاہیے جوحضرت اقدس حکیم الامت مولانا اشر ف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ۔ اگر اس پر عمل ہو تو انسان واقعی انسانی اخلاق اپنانے والا بن سکتا ہے ۔
ماخوذ از:" آج کا سبق "صفحہ51
مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
نبیﷺنے فرمایا:
*ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے کے برتن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔*
ایک آدمی نے کہا: کیا اس وقت ہم تھوڑے ہوں گے؟
آپ نے فرمایا: *(نہیں) بلکہ تم کثرت میں ہو گے، لیکن جھاگ کے مانند ہو گے (جس کا کوئی وزن ہی نہیں ہوتا) اللہ تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وھن ڈال دے گا۔*
پوچھا گیا: *وھن* سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: *دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔*
(سنن أبی داود: 4297)
قابلیت اور قبولیت:
دنیاوی معاملات میں قابلیت کا سکہ چلتا ہے ، اگر قابلیت کے ساتھ ساتھ وسائل بھی میسر ہوں تو سونے پہ سہاگہ ہے لیکن اللہ جل شانہ کے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ، بارگاہ الہٰی میں قابلیت کی جگہ قبولیت کا اصول ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
"اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال ودولت کو نہیں دیکھتے بلکہ تمہارے اخلاص اور اعمال کو دیکھتے ہیں "
جس شخص میں جتنا زیادہ اخلاص ہو گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اتنا ہی معتبر ہو گا ۔۔۔
نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ابو لہب علم ودانش میں کسی سے کم نہ تھا ، ابوجہل کی کنیت ہی ابوالحکم تھی لیکن ان کی دانش ، ان کا مال ودولت انکے کسی کام نہ آیا۔
حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو اگر چہ جنت کی بشارت دنیا میں ہی مل چکی تھی لیکن ان پر خوف خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ کاش میں کوئی درخت ہو تا جو کا ٹ دیا جاتا ۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بسا اوقات ایک تنکا ہاتھ میں لیتے اور فرماتے کہ کاش میں یہ تنکا ہو تا ، کبھی فرماتے کاش مجھے ماں نے جنا ہی نہ ہو تا ، ایک مرتبہ صبح کی نماز میں سورہ یوسف پڑھ رہے تھے " إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ پر پہنچے تو روتے روتے آواز نکلی ، تہجد کی نماز میں بعض مرتبہ روتے روتے گر جاتے اور بیمار ہو جاتے تھے ۔۔۔
اس طرح حضرات صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم اور اولیا ئے امت رحمہم اللہ کے واقعات سے سیر و تاریخ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔۔۔ وہ شخص عقلمند بھی ہے اور کامیا ب بھی جو بارگا ہ الہٰیہ میں قبولیت کی فکر میں رہتا ہے ۔۔۔دل میں خوف خدا رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت پانے کا طریقہ کیا ہے ؟ وہ بھی قرآن مجید میں مذکور ہے ۔
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
بے شک اللہ تعالیٰ متّقین سے ہی قبول کرتے ہیں انسان تقویٰ اختیار کرے ، جلوت وخلوت میں ، معاشرتی وکاروباری امور میں خوف خدا کو ملحوظ رکھے ، جائز ناجائز ، حلال وحرام کا خیال رکھے تو وہ یقیناً بارگا ہ الہٰیہ میں قبولیت اور اس کے نتیجے میں نجات پائے گا۔
ماخوذ از:" آج کا سبق "صفحہ48
مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Shah Faisal Colony Karachi City
Karachi
75230