Dr. Malik Asad Shahzad

Dr. Malik Asad Shahzad

Share

Its Me, Dr.Malik Asad Shahzad (Educational Consultant) ... A Doctor, A Teacher And A Youtuber... In

Home Page - Education In Karachi 17/01/2021

Admissions in Federal Urdu University (Evening) & Dawood University (BS Programs) will be started from tomorrow.

Complete Details will be uploaded here and website (www.educationinkarachi.NET)

Home Page - Education In Karachi LATEST NEWS Click on LATEST NEWS to get latest News of Education In Karachi ADMISSIONS UPDATE Click on ADMISSIONS UPDATE to see the Latest Admissions...

17/01/2021

🔴🔴 A L E R T 🔴🔴

16/01/2021

🔲 Board Paper Pattern Update 🔲
Is Saal Matric or Intermediate K Papers Srf MCQs Pattern se Lene Ke Tajveez Mustarad Kar De G*e Hai.


12/01/2021

*Spiecal Chance for 2008 to 2020*

*Karachi Inter Board* K Tehat * ALL Groups (Regular & Private)* K Tulaba Jin Ka *Enrollment/Registration (2008 Se 2020)* Tak Khatam Ho Gayi Ho Un K Liye Spiecal Chance Annual Examination Form Jama Karane Ka Elaan Kar Diya Hai. Exam Form *(11-March-2021)* Tak Jama karwa Sakty Hai.

05/01/2021

. ما خلقت ھذا باطلا

روئے زمین پر اب تک دریافت قریب ایک لاکھ بیس ہزار خوردبینی جاندار یعنی جراثیموں میں تقریباً چھ ہزار ایسے ہیں جو خرابیاں پیدا کرتے ہیں باقی یا تو بے ضرر ہیں یا ہمارے لیے مفید ہیں. ان چھ ہزار میں سےبھی صرف ڈیڑھ ہزار ہیں جو انسانوں میں بیماریاں پھیلاتے ہیں. ان بیماریاں پھیلانے والوں میں سر فہرست بیکٹیریا اور وائرس ہیں.

بیکٹیریاز کی اگر بحیثیت مجموعی بات کریں تو ان کو اشکال کے لحاظ سے پانچ اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے. ان میں گیند کی شکل کے کوکس coccus اور راڈ کی شکل کے بیسےلائی. Bacilli زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں. بیسے لائی کی قریب ڈھائی سو اقسام میں سے زیادہ تر انسانی جسم بطور خاص بڑی آنت میں پائی جاتی ہیں. انہی بے سے لائی میں سے ایک سب زیادہ مشہور اور بڑی مقدار میں پائی جانے والی قسم ای کولائی E coli کہلاتی ہے.

ای کولائی کی آگے مزید تقریباً سات سو اقسام ہیں جن میں زیادہ تر بے ضرر ہیں. جبکہ انکی کی کچھ اقسام زہرلیے مادے پیدا کرتی ہیں. جنہیں شیگا ٹاکسین ای کولائی کہتے ہیں. ان شیگا ٹاکسین ای کولائی میں ایک قسم جسے O157:H7 کا نام دیا گیا ہے. سب سے زیادہ بیماری پھیلانے کا باعث ہے. اس کی موجودگی ہر جگہ پر ہے. اس کی وجہ سے زیادہ تر پیٹ کے امراض جیسے پیچش، معدہ اور انتڑیوں وغیرہ درد ہوتا ہے.

یہ بڑی تعداد میں کھیتوں سے پھلوں سبزیوں کے ساتھ ہم تک پہنچتا ہے. اگر پھلوں اور سبزیوں کو درست طریقے سے نہ دھویا اور پکایا جائے تو یہ انسانوں میں داخل ہوجاتا ہے. زیادہ تر تو معدہ میں موجود تیزاب سے ختم ہوجاتا ہے مگر کم مقدار میں یا کھانے کے دوران یا بعد میں پانی کے استعمال کی صورت میں یہ آنتوں می چلا جاتا ہے. جہاں پھر یہ خرابی کا باعث بنتا ہے.

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق صرف اکیلا O157:H7 سال بھر میں امریکیوں کو اس قدر بیمار کرتا ہے. کہ انہیں سالانہ پاکستانی تقریباً ستر ارب روپیہ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے. جبکہ ہالینڈ جیسے چھوٹے سے ملک کو صرف ایک چھوٹے سے بیکٹیریا کی وجہ سے سالانہ سوادوارب روپیہ کا نقصان ہوتا ہے. یہ دونوں ممالک بہت ہی ترقی یافتہ ہیں جن کے باشندے یقینا انتہائی پڑھے لکھے اور حفطان صحت کے اصولوں کے پابند رہے ہوں گے. اسی حساب سے دیکھا جائے تو تو ساری دنیا میں اس ایک بیکٹیریا کی وجہ سے سالانہ کھربوں روپیہ کا نقصان ہوتا ہے.

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. یہ جو اربوں روپیہ اس O157:H7 کی پیدا شدہ خرابیوں پر خرچ ہوا وہ اصل میں کہاں گیا. ظاہر ہے وہ اس کی دواؤں پر، ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کی فیسوں کی مد میں، لیبارٹریوں کے ٹسٹوں کی مد میں یا پھر اس بیکٹیریا کے تدارک کیلئے کی جانیوالی نئی تحقیق پر خرچ ہوا. گویا اگر ایک طرف یہ نقصان ہے تو دوسری طرف ہزاروں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے. درجنوں فیکٹریاں اس کی ادویات اور ٹسٹ کرنے والی کٹس بنارہی ہیں جہاں ہزاروں لوگ برسرِ روزگار ہیں. دوسرے لفظوں میں ایک چھوٹی سی آنکھ سے دکھائی نہ دینے والی مخلوق دنیا بھر میں سالانہ کھربوں روپے کے کاروبار اور دولت کے بہاؤ کا باعث ہے.

یہ صرف ایک جراثیم کا ایک فائدہ ہے جسے ہم جان پائے ہیں. باقی انجانی مخلوق جانے ہمارے لیے کیا کیا غیر مرئی خدمات انجام دے رہی ہے. تو کیوں نہ کہیں..

ما خلقت ھذا باطلا فقنا عذاب النار
C
( ابن فاضل)

04/01/2021

📣 Today's Meeting Update.

Class 9 se 12 Tak 11 January Se Khulegi.
Class 1 se Class 8 Tak 20 January Se Khulegi.
Universities 1st February Se Khulegi.
Exams Her Haal Myn Hongay..Is Saal Koi Promote nhi hoga.


27/11/2020

🔲 MDCAT Update 🔲

There will be two Tests of MDCAT
1) 29th November for All Candidates except those who are Corona Positive.
2) 13th December for those who are Corona Positive.

~~~~~~~~~BEST OF LUCK~~~~~~~~~~~

07/11/2020

Heart Beat & Pace Maker-Animated Representation❤

05/11/2020

Working Of Human Heart-Animated❤

27/10/2020

MUST READ ,INFORMATIVE POST

ذیابیطس کی بیماری میں زخم آسانی سے کیوں نہیں بھرتے؟

جب میں یونیورسٹی آف اوکلاہوما (OU) کے ویٹیرن (VA) ہسپتال میں کام کرتی تھی تو ایک مرتبہ میں نے انتظار گاہ میں جاکر ایک مریض کا نام پکارا۔ ان صاحب نے اپنی وہیل چیئر گھمائی اور بولے وہ میں ہوں یا جو بھی میرا باقی رہ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں۔ یہ فوجی جنگوں میں بچ گئے تھے لیکن ذیابیطس نے ٹانگیں چھین لی تھیں۔ اس پر میں نے ایک چھوٹی سی کہانی بھی لکھی تھی جو ہیومینیٹیز (Humanities) کے میگزین میں چھپی تھی۔

ذیابیطس کی بیماری میں زخم آسانی سے کیوں نہیں بھرتے؟

ذیابیطس ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں جسم کا ہر نظام متاثر ہوتا ہے۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں خون کی چھوٹی نالیوں اور بڑی نالیوں سے ہونے والی بیماریاں شامل ہیں۔ ذیابیطس میں نیوروپیتھی (Neuropathy) ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں میں بے حسی ہوتی ہے۔ ایک بوڑھے صاحب جب کلینک میں پہنچے اور پیروں کے چیک اپ کے لیے انہوں نے جوتے اتارے تو یہ دیکھا گیا کہ ان کے جوتے کے اندر ان کے پوتے کی چھوٹی سی گیند چلی گئی تھی جس پر وہ سارا دن چلتے رہے اور اس کو محسوس نہیں کیا۔

اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ہر وقت جوتے پہن کر رہیں کیونکہ بے حسی کی وجہ سے اگر ان کا کسی چبھنے والی چیز پر پاؤں پڑے تو اس سے زخم ہوجاتے ہیں اور مریض کو معلوم تک نہیں ہوتا۔ کچھ سال پہلے اوکلاہوما میں شدید گرمی پڑی تھی۔ میرے ایک مریض ٹرک چلاتے تھے۔ ان کو پتا نہیں چلا کہ وہ اتنا گرم ہوگیا کہ جوتوں کے اندر پیر جل گئے۔ ان کے پیر کالے پڑ گئے تھے۔ کئی سال گزر گئے اور وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

پھر مجھے ان کے ایک رشتہ دار سے معلوم ہوا کہ پیروں کی انفکشن کی وجہ سے وہ مر چکے تھے۔ محسوس نہ کرنے کی وجہ سے شدید گرم پانی سے ذیابیطس کے مریضوں کے پیر جھلس جاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ پانی کا درجہء حرارت معلوم کرنے کے لیے ایک تھرمامیٹر استعمال کرلیا جائے یا پھر گھر میں جن کو ذیابیطس نہیں ہے، ان سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھو کر بتا دیں۔

جن افراد کے پیروں میں زخم پڑجائیں تو ذیابیطس کی وجہ سے خون کی نالیوں کے باریک ہوجانے کی وجہ سے وہاں آکسیجن ٹھیک سے نہیں پہنچتی اور اس کے علاوہ خون کے سفید جسیمے بھی آسانی سے نہیں پہنچتے جن کی مدد سے زخم کو بہتر ہونے میں مدد ملے۔ خون کے سفید جسیموں کا چوٹ لگنے کے بعد بچاؤ کے لیے آنا کیموٹیکسس (Chemotaxis) کہلاتا ہے۔ یہ نظام خون میں شوگر زیادہ ہونے کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے۔ خون کے سفید جسیمے کئی مختلف طرح کے ہوتے ہیں، کچھ بیکٹیریا اور وائرس سے لڑتے ہیں، کچھ خون کو بہنے سے روکتے ہیں، کچھ زخم بھرتے ہیں۔

ذیابیطس میں یہ خلیے ٹھیک سے کام نہیں کرسکتے اس لیے زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں اگر ایک چھوٹا سا بھی زخم ہوتو اس کو فوری توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ نہایت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اگر دو دن بھی انتظار کرلیں تو وہ قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔ کچھ مریضوں میں انگلیاں، پیر یا پوری ٹانگیں کاٹنے کی نوبت تک آسکتی ہے۔

اگر کسی ذیابیطس کے مریض کی کوئی بھی سرجری ہونے والی ہو تو ان کی ذیابیطس کا کنٹرول میں ہونا ضروری ہے ورنہ یہ زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کی ہدایات کے مطابق ہیموگلوبن اے ون سی (Hemoglobin A 1 c) 7 فیصد ہونی چاہیے۔ جن افراد کی ذیابیطس کا کنٹرول بہتر ہو، ان کے زخم مناسب علاج سے سے بھر جاتے ہیں۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہوگئی ہو ان میں اگر سی سیکشن کی ضرورت پڑ جائے تو وہ زخم بہت مشکل سے بھریں گے۔ لاڑکانہ کے شیخ زائد ہسپتال میں روزانہ صبح نرسیں سی سیکشن (C۔ Section) کے بعد بستر پر لائن سے لیٹی خواتین کے پیٹ دبا کر پیپ نکال رہی ہوتی تھیں۔ اگر ان خواتین کو ذیابیطس بھی ہو تو ان کا بہتر ہونا یا زندہ بچ جانا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔

ذیابیطس میں خود کو پیروں کے زخموں سے کیسے بچاسکتے ہیں؟
خون میں شوگر کی مقدار کو نارمل دائرے میں رکھیں
تمام ضروری ویکسینیں لگوائیں۔ خاص طور پر ٹیٹینس (Tetanus)
اگر نیوروپیتھی ہو تو اس کا علاج کریں۔ ذیابیطس کی نیوروپیتھی پر الگ سے لکھا مضمون دیکھیں۔
اپنے پیر وں کو روزانہ دیکھیں۔ جو افراد جھک کر تلوے نہیں دیکھ سکتے، وہ زمین پر ایک آئینہ رکھ کر اس میں پیر کے تلوے دیکھ سکتے ہیں۔

گھر میں جوتے یا چپل پہن کر چلیں۔
موزے تنگ نہ پہنیں تاکہ ان سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو
ذیابیطس کے خاص جوتے پہنیں جو انفرادی ضرورت کے لحاظ سے بنے ہوں۔

اگر پیر میں زخم ہوں تو اس کو صاف رکھنا اور مناسب اینٹی بایوٹک لینے کی ضرورت ہوگی۔
جو زخم اوپر دی گئی تمام ہدایات پر عمل پیرا ہونے کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوں تو پھر ہائپر بیرک چیمبر (Hyperbaric chamber) میں علاج کرسکتے ہیں۔ اس میں ایک بند ڈبے میں پریشر سے آکسیجن داخل کرکے مریض کو ہر روز کئی گھنٹے کے لیے لٹا دیتے ہیں۔ اس طرح پیروں کی طرف آکسیجن کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ کئی اسٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طریقے سے ذیابیطس کے مریضوں کے پیر کے زخم جلدی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ کچھ مریضوں میں پیروں کی طرف جانے والی شریانوں کا بائی پاس بھی کرتے ہیں تاکہ پیروں میں خون کی سپلائی بڑھائی جاسکے۔ کچھ مریضوں میں ان باریک شریانوں میں دل کی شریانوں کی طرح اسٹینٹ بھی ڈالا جاتا ہے۔

اگر ہڈیوں میں انفیکشن بیٹھ چکی ہو تو ہڈیوں کا ٹرانسپلانٹ (Cadaver bone transplant) بھی ہوتا ہے۔ اس طریقے میں مردہ افراد کی ہڈیاں ذیابیطس کے مریض کے پیروں میں سے انفکشن میں مبتلا ہڈیوں کو نکال کر لگا دیتے ہیں۔ اس طرح بھی کئی لوگ اپنی ٹانگیں کھونے سے بچ چکے ہیں۔ذیابیطس کی بیماری میں زخم آسانی سے کیوں نہیں بھرتے؟

جب میں یونیورسٹی آف اوکلاہوما (OU) کے ویٹیرن (VA) ہسپتال میں کام کرتی تھی تو ایک مرتبہ میں نے انتظار گاہ میں جاکر ایک مریض کا نام پکارا۔ ان صاحب نے اپنی وہیل چیئر گھمائی اور بولے وہ میں ہوں یا جو بھی میرا باقی رہ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں۔ یہ فوجی جنگوں میں بچ گئے تھے لیکن ذیابیطس نے ٹانگیں چھین لی تھیں۔ اس پر میں نے ایک چھوٹی سی کہانی بھی لکھی تھی جو ہیومینیٹیز (Humanities) کے میگزین میں چھپی تھی۔

ذیابیطس کی بیماری میں زخم آسانی سے کیوں نہیں بھرتے؟

ذیابیطس ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں جسم کا ہر نظام متاثر ہوتا ہے۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں خون کی چھوٹی نالیوں اور بڑی نالیوں سے ہونے والی بیماریاں شامل ہیں۔ ذیابیطس میں نیوروپیتھی (Neuropathy) ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں میں بے حسی ہوتی ہے۔ ایک بوڑھے صاحب جب کلینک میں پہنچے اور پیروں کے چیک اپ کے لیے انہوں نے جوتے اتارے تو یہ دیکھا گیا کہ ان کے جوتے کے اندر ان کے پوتے کی چھوٹی سی گیند چلی گئی تھی جس پر وہ سارا دن چلتے رہے اور اس کو محسوس نہیں کیا۔

اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ہر وقت جوتے پہن کر رہیں کیونکہ بے حسی کی وجہ سے اگر ان کا کسی چبھنے والی چیز پر پاؤں پڑے تو اس سے زخم ہوجاتے ہیں اور مریض کو معلوم تک نہیں ہوتا۔ کچھ سال پہلے اوکلاہوما میں شدید گرمی پڑی تھی۔ میرے ایک مریض ٹرک چلاتے تھے۔ ان کو پتا نہیں چلا کہ وہ اتنا گرم ہوگیا کہ جوتوں کے اندر پیر جل گئے۔ ان کے پیر کالے پڑ گئے تھے۔ کئی سال گزر گئے اور وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

پھر مجھے ان کے ایک رشتہ دار سے معلوم ہوا کہ پیروں کی انفکشن کی وجہ سے وہ مر چکے تھے۔ محسوس نہ کرنے کی وجہ سے شدید گرم پانی سے ذیابیطس کے مریضوں کے پیر جھلس جاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ پانی کا درجہء حرارت معلوم کرنے کے لیے ایک تھرمامیٹر استعمال کرلیا جائے یا پھر گھر میں جن کو ذیابیطس نہیں ہے، ان سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھو کر بتا دیں۔

جن افراد کے پیروں میں زخم پڑجائیں تو ذیابیطس کی وجہ سے خون کی نالیوں کے باریک ہوجانے کی وجہ سے وہاں آکسیجن ٹھیک سے نہیں پہنچتی اور اس کے علاوہ خون کے سفید جسیمے بھی آسانی سے نہیں پہنچتے جن کی مدد سے زخم کو بہتر ہونے میں مدد ملے۔ خون کے سفید جسیموں کا چوٹ لگنے کے بعد بچاؤ کے لیے آنا کیموٹیکسس (Chemotaxis) کہلاتا ہے۔ یہ نظام خون میں شوگر زیادہ ہونے کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے۔ خون کے سفید جسیمے کئی مختلف طرح کے ہوتے ہیں، کچھ بیکٹیریا اور وائرس سے لڑتے ہیں، کچھ خون کو بہنے سے روکتے ہیں، کچھ زخم بھرتے ہیں۔

ذیابیطس میں یہ خلیے ٹھیک سے کام نہیں کرسکتے اس لیے زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں اگر ایک چھوٹا سا بھی زخم ہوتو اس کو فوری توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ نہایت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اگر دو دن بھی انتظار کرلیں تو وہ قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔ کچھ مریضوں میں انگلیاں، پیر یا پوری ٹانگیں کاٹنے کی نوبت تک آسکتی ہے۔

اگر کسی ذیابیطس کے مریض کی کوئی بھی سرجری ہونے والی ہو تو ان کی ذیابیطس کا کنٹرول میں ہونا ضروری ہے ورنہ یہ زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کی ہدایات کے مطابق ہیموگلوبن اے ون سی (Hemoglobin A 1 c) 7 فیصد ہونی چاہیے۔ جن افراد کی ذیابیطس کا کنٹرول بہتر ہو، ان کے زخم مناسب علاج سے سے بھر جاتے ہیں۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہوگئی ہو ان میں اگر سی سیکشن کی ضرورت پڑ جائے تو وہ زخم بہت مشکل سے بھریں گے۔ لاڑکانہ کے شیخ زائد ہسپتال میں روزانہ صبح نرسیں سی سیکشن (C۔ Section) کے بعد بستر پر لائن سے لیٹی خواتین کے پیٹ دبا کر پیپ نکال رہی ہوتی تھیں۔ اگر ان خواتین کو ذیابیطس بھی ہو تو ان کا بہتر ہونا یا زندہ بچ جانا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔

ذیابیطس میں خود کو پیروں کے زخموں سے کیسے بچاسکتے ہیں؟
خون میں شوگر کی مقدار کو نارمل دائرے میں رکھیں
تمام ضروری ویکسینیں لگوائیں۔ خاص طور پر ٹیٹینس (Tetanus)
اگر نیوروپیتھی ہو تو اس کا علاج کریں۔ ذیابیطس کی نیوروپیتھی پر الگ سے لکھا مضمون دیکھیں۔
اپنے پیر وں کو روزانہ دیکھیں۔ جو افراد جھک کر تلوے نہیں دیکھ سکتے، وہ زمین پر ایک آئینہ رکھ کر اس میں پیر کے تلوے دیکھ سکتے ہیں۔

گھر میں جوتے یا چپل پہن کر چلیں۔
موزے تنگ نہ پہنیں تاکہ ان سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو
ذیابیطس کے خاص جوتے پہنیں جو انفرادی ضرورت کے لحاظ سے بنے ہوں۔

اگر پیر میں زخم ہوں تو اس کو صاف رکھنا اور مناسب اینٹی بایوٹک لینے کی ضرورت ہوگی۔
جو زخم اوپر دی گئی تمام ہدایات پر عمل پیرا ہونے کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوں تو پھر ہائپر بیرک چیمبر (Hyperbaric chamber) میں علاج کرسکتے ہیں۔ اس میں ایک بند ڈبے میں پریشر سے آکسیجن داخل کرکے مریض کو ہر روز کئی گھنٹے کے لیے لٹا دیتے ہیں۔ اس طرح پیروں کی طرف آکسیجن کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ کئی اسٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طریقے سے ذیابیطس کے مریضوں کے پیر کے زخم جلدی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ کچھ مریضوں میں پیروں کی طرف جانے والی شریانوں کا بائی پاس بھی کرتے ہیں تاکہ پیروں میں خون کی سپلائی بڑھائی جاسکے۔ کچھ مریضوں میں ان باریک شریانوں میں دل کی شریانوں کی طرح اسٹینٹ بھی ڈالا جاتا ہے۔

اگر ہڈیوں میں انفیکشن بیٹھ چکی ہو تو ہڈیوں کا ٹرانسپلانٹ (Cadaver bone transplant) بھی ہوتا ہے۔ اس طریقے میں مردہ افراد کی ہڈیاں ذیابیطس کے مریض کے پیروں میں سے انفکشن میں مبتلا ہڈیوں کو نکال کر لگا دیتے ہیں۔ اس طرح بھی کئی لوگ اپنی ٹانگیں کھونے سے بچ چکے ہیں۔

27/10/2020

Class 12th Commerce (Regular Group) Result has been announced.

🔘Passing Ratio: 100%

🔘Check your Result:

biek.edu.pk

23/10/2020

🔲 HSC Special Examinations Procedure 🔲
▪️Ye Forms or Exams Un Students K Lye Jo Apne Promotion Result Se Khush Nahe Hai▪️

◾Neche Dye Gaye Link Se Apne Group Ka Examination Form Download Kar K Print Karwae or Phr Fill Karey
https://biek.edu.pk/examinationforms.asp
◾Fill Karne K Bad Apne College Se Attest Karwae.

◾Voucher Fee Pay Karey (UBL ya JS Bank main)
▪️Jis Din Voucher Pay Karey, Usi Din Form Jama Karae.
◾Affidavit 50 Rupees Stamp Paper per Banwae.
◾Affidavit Sample Link:
https://biek.edu.pk/Press-Release/2020/Affidavit-14-10-2020.pdf

◾Form, Documents or Paid Voucher Courier K Zarye Board Office Bejh Dey.
"The Secretary, Board of Intermediate Education, North Nazimabad, Karachi"

🔘One Part (XI or XII) = 2100
Both Parts (XI + XII) = 3600

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00