24/12/2025
خدا کے وجود پر ہونے والے مناظرے کے بعد سوشل میڈیا پر رویوں کے بارے میں ایک اہم گزارش
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا - اور لوگوں سے ہمیشہ اچھی بات کرو (سورۃ البقر، آیت نمبر 83)
حالیہ دنوں میں مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود کے موضوع پر ہونے والے مناظرے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا ایک دلچسپ اور متنوع نمونہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مشاہدے کے مطابق ردعمل دینے والوں کو بنیادی طور پر تین گروہوں میں دیکھا جا سکتا ہے:
۱. وہ گروہ جو مفتی صاحب کے مؤقف اور طریقہ بحث سے متفق ہے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ سراہ رہا ہے۔
۲. وہ گروہ جو جاوید اختر صاحب کے استدلال اور علمی انداز کو معقول اور قابل احترام سمجھتا ہے۔
۳. وہ گروہ جس کا ردعمل محض علمی اختلاف سے آگے بڑھ کر دین اسلام پر حملے، علمائے کرام کی توہین اور مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا زبان کے استعمال تک جا پہنچا ہے۔
یہ تحریر خاص طور پر تیسرے گروہ کے رویے پر مرکوز ہے۔
میرا مشاہدہ ہے کہ اس تیسرے گروہ میں سے بیشتر افراد کا بنیادی مقصد سنجیدہ علمی بحث نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر شہرت، فالوورز میں اضافہ، اپنے مواد کی ریچ اور انگیجمنٹ بڑھانا ہے۔ ان کے پاس نہ تو کوئی مستند علمی بنیاد ہوتی ہے، نہ ہی معقول دلائل۔ یہ لوگ جذبات کو ہوا دے کر اور متنازعہ بیانات دے کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ایسے افراد کو کسی علمی مجلس یا چھوٹے سے عالم کے سامنے بھی دلیل کا چیلنج کر دیا جائے تو ان کا مؤقف بکھر جاتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ ہلچل پیدا کرنا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین سے میری گزارش ہے کہ:
۱. تیسرے گروہ کے ایسے توہین آمیز یا محض ہنگامہ خیز مواد کو کسی صورت لائک، شیئر یا کمنٹ نہ کریں۔ یہی ان کی "کامیابی" ہے۔
۲. جذبات میں آکر ان سے مباحثے میں الجھنے سے گریز کریں — یہ ان کی مقصدیت (یعنی ریچ اور انگیجمنٹ بڑھانا) کو ہی تقویت دیتا ہے۔
۳. اگر کوئی مواد قابل اعتراض، گستاخانہ یا پلیٹ فارم کی پالیسیوں کے خلاف ہے، تو براہ راست اسے "رپورٹ" کر دیں۔ نظرانداز کرنا اور آگے بڑھ جانا بہترین حکمت عملی ہے۔
اسی طرح پہلے اور دوسرے گروہ کے تمام احباب سے اپیل ہے کہ اپنی رائے اور مؤقف کا اظہار ادب، احترام اور علمی شائستگی کے دائرے میں رکھتے ہوئے کریں۔ مناظرے یا بحث کا مقصد محض "جیت" نہیں، بلکہ حق بات کو واضح کرنا اور علم میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اختلاف رائے انسانی معاشرے کا حصہ ہے، لیکن اس کا اظہار باہمی احترام اور اخلاقی حدود کے ساتھ ہونا چاہیے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ اعتدال اور توازن کی راہ اختیار کریں۔ اپنے خیالات پیش کریں، دوسروں کے خیالات سنیں، مگر ہمیشہ بااخلاق گفتگو، شائستگی اور انسانی احترام کو اپنا شعار بنائیں۔
یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا پر ہمارا رویہ ہماری شخصیت اور ایمان کی عکاسی کرتا ہے
ہماری گفتگو دوسروں کے لیے مثال بن سکتی ہے، اس لیے اسے ہمیشہ بااخلاق اور مثبت رکھیں