Islamic Info Zone

Islamic Info Zone

Share

Islamic Info Zone is based on sharing Islamic content and knowledge Best for Islamic Information regarding Quran, Fiqah, what is Islam..? What is Fiqah …?

Love with Allah, Beliefs Allah, Beliefs Prophet Muhammad SAWW, Beliefs Quran, Beliefs Sahaba (R.A), Dua

24/12/2025

خدا کے وجود پر ہونے والے مناظرے کے بعد سوشل میڈیا پر رویوں کے بارے میں ایک اہم گزارش

وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا - اور لوگوں سے ہمیشہ اچھی بات کرو (سورۃ البقر، آیت نمبر 83)

حالیہ دنوں میں مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود کے موضوع پر ہونے والے مناظرے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا ایک دلچسپ اور متنوع نمونہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مشاہدے کے مطابق ردعمل دینے والوں کو بنیادی طور پر تین گروہوں میں دیکھا جا سکتا ہے:

۱. وہ گروہ جو مفتی صاحب کے مؤقف اور طریقہ بحث سے متفق ہے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ سراہ رہا ہے۔
۲. وہ گروہ جو جاوید اختر صاحب کے استدلال اور علمی انداز کو معقول اور قابل احترام سمجھتا ہے۔
۳. وہ گروہ جس کا ردعمل محض علمی اختلاف سے آگے بڑھ کر دین اسلام پر حملے، علمائے کرام کی توہین اور مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا زبان کے استعمال تک جا پہنچا ہے۔

یہ تحریر خاص طور پر تیسرے گروہ کے رویے پر مرکوز ہے۔

میرا مشاہدہ ہے کہ اس تیسرے گروہ میں سے بیشتر افراد کا بنیادی مقصد سنجیدہ علمی بحث نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر شہرت، فالوورز میں اضافہ، اپنے مواد کی ریچ اور انگیجمنٹ بڑھانا ہے۔ ان کے پاس نہ تو کوئی مستند علمی بنیاد ہوتی ہے، نہ ہی معقول دلائل۔ یہ لوگ جذبات کو ہوا دے کر اور متنازعہ بیانات دے کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ایسے افراد کو کسی علمی مجلس یا چھوٹے سے عالم کے سامنے بھی دلیل کا چیلنج کر دیا جائے تو ان کا مؤقف بکھر جاتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ ہلچل پیدا کرنا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین سے میری گزارش ہے کہ:

۱. تیسرے گروہ کے ایسے توہین آمیز یا محض ہنگامہ خیز مواد کو کسی صورت لائک، شیئر یا کمنٹ نہ کریں۔ یہی ان کی "کامیابی" ہے۔
۲. جذبات میں آکر ان سے مباحثے میں الجھنے سے گریز کریں — یہ ان کی مقصدیت (یعنی ریچ اور انگیجمنٹ بڑھانا) کو ہی تقویت دیتا ہے۔
۳. اگر کوئی مواد قابل اعتراض، گستاخانہ یا پلیٹ فارم کی پالیسیوں کے خلاف ہے، تو براہ راست اسے "رپورٹ" کر دیں۔ نظرانداز کرنا اور آگے بڑھ جانا بہترین حکمت عملی ہے۔

اسی طرح پہلے اور دوسرے گروہ کے تمام احباب سے اپیل ہے کہ اپنی رائے اور مؤقف کا اظہار ادب، احترام اور علمی شائستگی کے دائرے میں رکھتے ہوئے کریں۔ مناظرے یا بحث کا مقصد محض "جیت" نہیں، بلکہ حق بات کو واضح کرنا اور علم میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اختلاف رائے انسانی معاشرے کا حصہ ہے، لیکن اس کا اظہار باہمی احترام اور اخلاقی حدود کے ساتھ ہونا چاہیے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اعتدال اور توازن کی راہ اختیار کریں۔ اپنے خیالات پیش کریں، دوسروں کے خیالات سنیں، مگر ہمیشہ بااخلاق گفتگو، شائستگی اور انسانی احترام کو اپنا شعار بنائیں۔

یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا پر ہمارا رویہ ہماری شخصیت اور ایمان کی عکاسی کرتا ہے
ہماری گفتگو دوسروں کے لیے مثال بن سکتی ہے، اس لیے اسے ہمیشہ بااخلاق اور مثبت رکھیں

01/07/2025

🕊️ میدانِ کربلا و خونِ آشام
ایک خراجِ عقیدت، ایک دعوتِ بیداری

مختصر تمہید
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپؓ کے رفقا (شہدائے کربلا) کے موضوع پر چھ اقساط پر مشتمل اس سلسلہ وار تحریر کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ "میدانِ کربلا و خونِ آشام" ایک ایسا عنوان ہے جو صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر کی تمہید ہے۔ اس موضوع پر لکھنا، بات کرنا، یا اس کا احاطہ کرنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سی بات ہے۔ مگر ایک چھوٹی سی کوشش ہے کہ کسی طرح سے ذکرِ سیدنا حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت، عقیدت، اور شہدائے کربلا کی یاد سے دلوں کو کچھ جلا ملے، اور ایمان کو کچھ تازگی نصیب ہو۔

قسط 1: تمہید — ذکرِ حسینؓ، ذکرِ حق
ایک ایسی داستان جو صرف تاریخ نہیں، بلکہ ہر دور کے ضمیر کی عدالت ہے۔

حضرت امام حسینؓ، نبی کریم ﷺ کے نواسے، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے فرزند، اور جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ آپؓ کی ولادت 5 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے آپؓ کو اپنی آغوش میں پالا، آپؓ کے کان میں اذان دی، اور فرمایا: "حسین منی و انا من الحسین"۔ آپؓ کی سیرت علم، حلم، شجاعت، اور تقویٰ کا حسین امتزاج تھی۔ آپؓ نے نہ صرف دین کی حفاظت کی بلکہ اس کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ، اور اپنے وفادار رفقا کی قربانی پیش کی۔
کربلا کے سفر میں آپؓ کے ساتھ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے وفا، صبر، اور استقامت کی وہ مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ حضرت علی اکبرؓ، حضرت عباسؓ، حضرت قاسمؓ، حضرت مسلم بن عقیلؓ، حضرت حبیب بن مظاہرؓ، حر بن یزیدؓ، اور دیگر جانثارانِ حسینؓ نے اپنے خون سے تاریخ کے صفحات کو روشن کر دیا۔
یزید بن معاویہ نے جب خلافت سنبھالی تو اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو حکم دیا کہ امام حسینؓ سے بیعت لی جائے۔ امامؓ نے انکار فرمایا، کیونکہ یزید کی شخصیت اور طرزِ حکومت اسلامی اصولوں کے منافی تھی۔ یزید نے بیعت کے لیے خفیہ ملاقات، دھمکی، اور جبر کا راستہ اختیار کیا، مگر امام حسینؓ نے فرمایا: "مثلی لا یبایع لمثله" یعنی "مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا"۔
یہ انکار محض سیاسی نہیں تھا، بلکہ ایک اصولی اعلان تھا کہ دینِ محمدی ﷺ کو ملوکیت اور فسق و فجور کے ہاتھوں گروی نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی انکار نے امامؓ کو مدینہ سے مکہ، اور مکہ سے کربلا کے سفر پر روانہ کیا۔
کربلا، عراق کے شہر کوفہ سے تقریباً 80 کلومیٹر دور دریائے فرات کے کنارے واقع ایک ویران میدان ہے۔ یہ وہی مقام ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے حضرت ام سلمہؓ کو کربلا کی مٹی دے کر فرمایا تھا: "جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا نواسہ شہید ہو گیا"۔
کربلا صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آسمان نے سب سے مقدس خون کو زمین پر گرتے دیکھا، اور زمین نے سب سے پاکیزہ قدموں کو اپنے دامن میں سمیٹا۔

اختتامِ کلام برائے قسط 1
یہ تمہید اس سفرِ عشق کا آغاز ہے جو ہمیں حسینؓ کے قافلے سے جوڑتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ حق کی راہ میں تنہا ہونا شکست نہیں، بلکہ عزیمت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف قیام کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

اگلی قسط میں ہم بات کریں گے: قسط 2: یزیدیت کیا تھی؟ حسینیت کیا ہے؟ جہاں ہم خلافتِ یزید، اس کے طرزِ حکومت، اور امام حسینؓ کے اصولی موقف کا تجزیہ کریں گے۔
🔗 معتبر حوالہ جات
• مضامین ڈاٹ کام: حضرت امام حسینؓ اور حادثۂ کربلا
• جامعہ بنوری ٹاؤن: نواسۂ رسولؐ شہیدِ کربلا
• اصلاح المسلمین: سیرت امام حسینؓ

#کربلا #امامحسین #شہدائےکربلا #یومعاشورہ

28/06/2025

پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری — ایک خوش آئند قدم!

الحمدللہ! عالمی رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ کی پوزیشن میں بہتری کی خبر یقیناً قابلِ مسرت ہے۔
یہ ایک شروعات ہے... اور اگر ہمارا رب چاہے، تو ان شاء اللّٰہ وہ دن بھی دور نہیں جب پاکستان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر لے گا۔

مگر اس منزل کو پانے کے لیے صرف حکمرانوں کو نہیں بلکہ ہم سب کو — عوام اور خواص کو — اپنے معاملات، اپنے رویّے، اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں دینی جذبات تو موجود ہیں، جو کہ ایک خوش آئند اور بہت اچھی بات ہے الحمد اللّٰہ، مگر معاشرتی رویّوں میں بگاڑ، بددیانتی، بےحسی، اور ناانصافی جیسی بیماریاں بھی گہرائی تک موجود ہیں۔
ہمیں اپنے قول و فعل کو سنوارنا ہوگا۔ صرف عبادات نہیں، بلکہ معاملات میں بھی دیانت، اخلاق، اور احساس کو اپنانا ہوگا۔

یہ میری ذاتی رائے ہے، جس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے —
مگر مقصد صرف ایک ہے:
پاکستان کی بہتری، اصلاحِ معاشرہ، اور قوم کی سرفرازی۔

اللّٰہ کرے ہم سب اپنی ذمہ داریاں سمجھیں، اور اپنا کردار ادا کریں۔ آمین۔

#کراچی **istan #اسلام #اسلامی
**iatani **istanifashion **iatanchinabangladesh 🇨🇳 **istanzindabad **i **istan
**istan **istani **istanipassport

Photos from Islamic Info Zone's post 27/06/2025

#خلفائےراشدین #عمربن #عمر #عمرفاروق #عمرالفاروق #کراچی **istan #اسلام #اسلامی

27/06/2025

امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

از:مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
حصہ پنجم (آخری حصہ)

سانحۂ شہادت

حضرت عمر فاروق ؓ نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ مجھے تیرے راستے میں موت آئے اورتیرے نبی ﷺ کا شہر نصیب ہو۔اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور اس کا عجیب انتظام فرما۔حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا ایک مجوسی غلام فیروز نامی تھا،اس نے ایک مرتبہ اپنے مالک حضرت مغیرہ کی شکایت کی کہ وہ مجھ سے زیادہ محصول طلب کرتے ہیں ،حضرت عمر ؓ نے اس بے جا شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی ،اس نے غیض و غضب میں ایک تیز خنجر تیار کیا اور نمازِ فجر میں چھپ کر آکربیٹھ گیا،جب حضرت عمر ؓ نے تکبیرکہی، اس نے اس زورسے تین وار کیے جس سے امیر المؤمنین سیدناعمر فاروقؓ گر پڑے ،موت و حیات کی اس کشمکش میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا ،نماز مکمل ہوئی تو آپ نے صحابہ کو کہا کہ قاتل کا پتہ لگاؤ کہ کس نے مارا ،ابولؤلؤ نے تقریبا تیرہ صحابہ کو زخمی کردیا اور جب وہ بالکل گرفت میں آچکا تو از خود خنجر مار کر ہلاک ہوگیا،حضرت عمرؓ کو ۲۶/ذی الحجہ۲۳ھ کو خنجرمارا گیااوریکم محرم الحرام ۲۴ھ کو شہادت عظمی کا سانحہ پیش آیااورتدفین عمل میں آئی ،آپ کی خلافت دس سال پانچ مہینے اکیس دن رہی۔(طبقات ابن سعد:۲/۱۲۳)آپ کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنے دورفیقوں کے پہلو میں جگہ ملے ،حضرت عائشہ نے امیر المؤمنین کی اس تمنا کو پورا کیا اور حجرہ میں تدفین کی اجازت دی۔

—————————————–

دارالعلوم ‏، شمارہ : 10، جلد:103‏، صفر المظفر 1441ھ مطابق اكتوبر 2019ء

#خلفائےراشدین #عمربن #عمر #عمرفاروق #عمرالفاروق #کراچی **istan #اسلام #اسلامی

27/06/2025

امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

از:مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
حصہ چہارم

غلاموں کے ساتھ حسن سلوک

سیدنا عمرؓ جس طرح اپنی رعایا اور دوسرے افراد کی راحت رسانی کی فکر میں رہتے اور ان کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہتے اسی طرح آپ خادموں اور غلاموں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے کہ غلام و آقا ،مالک و مملوک کا فرق نہیں ہوتا اور ان کو آرام پہنچانے میں آگے رہتے ،حضرت عمرؓ جن کی عظمت سے باطل کے دل لزرتے اور بدن کانپتے تھے وہ اتنے رحم دل اور خیر خواہ تھے کہ ان کی رحم دلی اور خیر خواہی سے غلام بھی سکون و اطمینان محسوس کرتے تھے۔حضرت عمر ؓ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو صفوان بن امیہؓ نے دعوت دی ،اور کھانا ایسے بڑے برتن میں لایاگیا جس کو چا ر آدمی اٹھا سکتے تھے ،خادموں نے کھانا لاکر رکھ دیا اور واپس ہونے لگے ،حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں کھاؤ گے تو ان خادموں نے کہا کہ نہیں ہم بعد میں کھا لیں گے۔یہ بات سن آپ سخت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ : اللہ تعالی لوگوں پر رحم کرے یہ ابھی تک طبقات میں بٹے ہوئے ہیں ؟پھر خدام کو حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ چناںچہ سب نے کھانا کھا یا۔( سیدنا عمر فاروق کی زندگی کے سنہرے واقعات:۸۷)آپ نے عیسائی اور غیر مسلم خادموں اور غلاموں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور خیر خواہی کا معاملہ فرمایا اور ان کی راحت کا پورا اہتمام فرمایا۔

جانوروں پر رحم

حضرت عمر فاروق ؓ دین کے معاملہ میں جتنے سخت اور مضبوط تھے ،رہن سہن کے لحاظ اور حقوق کی ادائیگی کے اعتبار سے اتنے ہی نرم اور رحم دل تھے ،ذمہ داری کو پورا کرنے ،اور انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لیے تڑپنے والے تھے ،آپ کی رحم دلی اور خیر خواہی انسانوں کے علاو ہ جانوروں پر بھی تھی، جانوروں پر زیادہ بوجھ ڈالنا ،ان کو غیر ضروری استعمال کرنا،ان کے چارہ کا صحیح انتظام نہ کرنا آپ کو بہت ہی ناگوار گذرتا،اور کسی ایک جانور کا بھی مالک کی بے جا زیادتیوں کا شکار رہنا بھی آپ کو رنج و غم میں مبتلا کردیتا تھا ،خو ف و خشیت اور احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ فرمایا کہ:اگر بکری کا کوئی بچہ فرات کے کنارے مرگیاتو اللہ تعالی قیامت کے دن عمر سے سوال کرے گا۔ (مناقب عمرؓ: ۱۵۳)احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم عمرؓ کو ایک بڑی فتح کی خو ش خبری دینے حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا کہ تمہارا قیام کہا ہے؟ہم جگہ بتائی آپ ہمارے ساتھ اس مقام پر آئے اور ہماری سواریوں کے قریب آکر ان کو دیکھنے لگے،پھر فرمایا کہ کیا تم اپنی سواریوں کے بارے میں اللہ سے نہیںڈرتے؟تم جانتے ہو کہ ان کا بھی تمہارے اوپر حق ہے؟ان کو کھلا کیوں نہیں چھوڑدیا تاکہ یہ زمین پر چل پھر سکیں۔( سیدنا عمرکی زندگی کے سنہرے واقعات:۲۱۷)ایک مرتبہ آپ نے مچھلی کھانے کی خواہش ظاہر فرمائی ،آپ کے غلام یرفأ نے لمبا سفر کرکے مچھلی حاضر کی اور آکر اپنی سواری کا پسینہ پوچھنے لگا ،حضرت عمر نے دیکھ کر فرمایا کہ عمر کی خواہش پوری کرنے میں ایک جانور کو اس قدر تکلیف اٹھانی پڑے۔اللہ کی قسم !عمر اسے نہیں چکھے گا۔( حوالۂ سابق:۲۱۱)یہ حالت ہے اس عظیم المرتبت انسان کی اور اس بے مثال شخصیت کی کہ جو دین کے معاملہ میں شمشیر بے نیام ہوجا تی،اور حق کے سلسلہ میں آہنی تلوار لیکن مخلو ق کا مسئلہ ہو تا یا انسانوں کی بھلائی اور جانوروں کی خیر خواہی کا سوال تو پھر اپنے آپ کو اس درجہ مٹادیتے کہ دنیا والے ان کی اداؤں پر آج بھی رشک کرتے ہیں ،اللہ تعالی نے ان حضرات کو کچھ اس انداز میں تیار فرما یا تھا کہ دنیا ہر دور میں ان سے سبق سیکھے اور راہِ عمل کو استوار کرے۔

بیت الما ل کااستحکام

آپ نے خدمت خلق کے میدان میں جو اہم کام انجام دیئے اس میں نظام بیت المال کا استحکام بھی ہے ،حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی خلافت میں جو بیت المال قائم فرمایا تھا ،حضرت عمر نے اس کے نظام کو مضبوط و مستحکم فرمایا اور اصول وضابطوں کے ساتھ اس کو جاری کیا ،اپنی اولاد کے مال و دولت کو اس میں لگا دیا اور خود سادگی کی زندگی گذاردی۔مولاناشاہ معین الدین ندویؒ رقم طراز ہیں کہ: ابن سعد کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ایک مکان بیت المال کے لیے خاص کرلیاتھا لیکن وہ ہمیشہ بند پڑا رہتا تھا اور اس میں کچھ داخل کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی ،چناں چہ وفات کے وقت بیت المال کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک درہم نکلا۔حضرت عمر نے تقریباً ۱۵ھ میں ایک مستقل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلس شوری کی منظوری کے بعد مدینہ منور میں بہت بڑا خرانہ قائم کیا، دارالخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اور صوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے افسرجداگانہ مقرر ہوئے۔صوبہ جات اور اضلاع کے بیت المال جس قدر رقم جمع ہوجاتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعداختتامِ سال صدر خزانہ یعنی مدینہ منور کے بیت الما ل میں منتقل کردی جاتی تھی ،صدر بیت المال کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ دار الخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے صرف اس کی تعداد سالانہ تین کروڑدرہم تھی۔( خلفائے راشدین:۹۰)

#خلفائےراشدین #عمربن #عمر #عمرفاروق #عمرالفاروق #کراچی **istan #اسلام #اسلامی #اسلامیه

26/06/2025

امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

از:مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
حصہ سوم

راتوں کو گشت

حضرت عمر ؓ نے حکمرانی کرنے اور نظام سلطنت کو چلانے کا بے مثال انداز دیا ہے ،ایک حاکم کی کیا فکریں ہونی چاہیے اور رعایا کی خبر گیری کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرناچاہیے اس کو بہتر طور پر آپ نے پیش کیا اور بتایا کہ جس کے دل میں خوف ِخدا،اور آخرت کا احساس ہوتا ہے تو پھر وہ تخت اور حکومت کے ملنے کے بعد اپنی عوام کی فکروں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔چناں چہ حضرت عمرؓ کا معمول تھا کہ آپ راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے ،جب لوگ آرام وراحت کے لیے گھروں میں چلے جاتے آپ حالات سے آگہی حاصل کرنے اور پریشان حالوں کی پریشانیوں سے واقف ہونے کے لیے باضابطہ چکر لگاتے ،اور جوکوئی مصیبت زدہ ملتا ،پریشان حال نظر آتا، مسافر یا اجنبی غم کا شکار دکھائی دیتا تو خلیفہ وقت خاموشی سے کام انجام دے جاتے اور احساس تک ہونے نہیں دیتے کہ یہ وہی عمر جس کی عظمت کے ڈنکے عالم میں بج رہے ہیں۔ایک رات آپ گشت کررہے تھے کہ مدینہ کے تین میل فاصلہ پر مقام حراء پہنچے،دیکھا کہ ایک عورت پکارہی ہے اور دوتین بچے رورہے ہیں ،پاس جاکر حقیقت حال دریافت کی ،اس نے کہا بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں ان کو بہلانے کو خالی ہانڈی چڑھادی ہے ،حضرت عمر اسی وقت مدینہ آئے ،آٹا ،گھی ،گوشت اور کھجوریں لے کر نکلے ،ساتھ آپ کا غلام اسلم بھی تھا اس نے کہا کہ میں لیے چلتا ہوں ،مجھے دیدیجئے۔آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرا بوجھ تم نہیں اٹھا ؤ گے۔پھر آپ خود ہی سامان لے کر اس عورت کے پاس آئے،اس نے کھانا پکانے کا انتظام کیا،حضرت عمر خود چولہا پھونکتے تھے ،کھانا تیار ہواتو بچے خوشی خوشی اچھلنے لگے ،حضرت عمر دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔( خلفائے راشدین :۱۲۷)رات میں گشت کے دوران آپ نے بے شمار پریشانوں کی امداد کی اور آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ تنہائیوں میں ناجانے کتنے لوگ پریشانی سے دوچا ر ہوں گے تو ا ن کے کام آیا جائے ،اس سلسلہ میں بہت واقعات ہیں جس سے آپ کی ہمدردی اور فکرمندی اور رعایا کی خبر گیری کا جذبات نمایاں نظر آتے ہیں۔

ضرورت مندوں کی خدمت

حضرت عمر ؓ کے خدمت خلق کا انداز بھی بڑا نرالا تھا ،گلیوں میں گشت لگاتے ہی تھے ،نظام خلافت ایسا بنایا تھا کہ کوئی ضرورت مند محروم نہ رہنے پائے ،حکام اور عمال بھی ایسے متعین فرمائے تھے جو ہروقت راحت رسانی کی فکر میں کوشاں رہتے ،ساتھ میں خود امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ بھی ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنے میں لگے رہتے ،بلکہ آپ کی زندگی پوری انسانیت کی خدمت میں گذری ،اسی میںآپ کو مزہ آتا اور دل کو سکون و راحت نصیب ہوتی۔حضرت طلحہؓ فرماتے ہیں کہ ایک تاریک رات میں میں نے حضرت عمر ؓکو دیکھا کہ ایک گھر میں داخل ہوگئے ،اس کے بعد دوسرے گھر میں داخل ہوئے ،صبح میں نے اس مکان میں داخل ہو کر دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھی بیٹھی ہے،میں نے اس بوڑھی سے پوچھا کہ وہ کون تھے تجھے معلوم ہے ؟اس نے کہا کہ وہ اسی طرح میرے پاس آکر میری ضروریا ت کو پوری کرکے چلے جاتے ہیںاورصفا ئی ستھرائی کر کے واپس ہوجاتے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ تو عمرؓ ہیں۔( مناقب عمر بن الخطاب:۶۸)ایک رات آپ مدینہ کے ایک راستے سے گذررہے تھے تو دیکھا کہ ایک خیمہ لگاہوا نظر آیا جو کل نہیںتھا ،اس کے باہر ایک بدوی بیٹھا ہوا ہے اور اندر سے رونے کی آواز آرہی ہے۔حضرت عمر ؓفوری اس کے قریب گئے ،حال دریافت کیا، رونے کا سبب معلوم کیا ،اس نے کہا کہ میری بیوی دردزہ میں مبتلا ہے اور کوئی خاتون نہیں جو اس مشکل وقت میں میر ی مدد کرسکے۔حضرت عمرؓ گھر تشریف لائے اہلیہ محترمہ حضرت ام کلثوم ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آج تمہیں نیکی کمانے کا ایک موقع دیا ہے، کیا تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گی؟بیوی نے کہا کہ ضرور آپ بتلائیے! کیا کام ہے ؟آپ نے فرمایا کہ ایک اجنبی عورت دردزہ میں مبتلا ہے اس کے پاس کوئی عورت نہیں لہذا تم جلدی سے ضرورت کاسامان لے کر میرے ساتھ چلو،حضرت ام کلثوم آپ کے ساتھ نکل گئی ،حضرت عمر نے ہانڈی خود اٹھالی ،خیمہ آتے وہ اندر چلے گئی ،باہر آپ نے آگ جلا کر ہانڈی چڑھادی ،کچھ دیر بعد اندر سے آواز آئی کہ امیر المؤمنین !اپنے دوست کو بیٹے کی خوشخبری سنادیجئے۔جیسے اس دیہاتی نے امیر المؤمنین کا لفظ سنا تو گھبرا گیا،آپ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، اطمینان رکھو،پھر جو کھانا تیار ہوا تھا اندر دے دیا کہ اس خاتون کو کھلایا جائے ،اس کے بعد آپ نے اس بدوی سے کہا کہ تم بھی کھالو بہت دیر سے بھوکے ہو اور یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ صبح آجاؤ،بچے کا روزینہ مقرر ہوجائے گا۔(اخبار عمرؓ:۳۴۶بیروت)سیدنا عمرؓ کی مبارک زندگی میں اس طرح کے کئی واقعات ہیں کہ آپ نے خاموشی کے ساتھ لوگوں کی مدد کی ،پریشان حالوں کی خدمت کی اور محتاجوں کی ضروریات کی تکمیل فرمائی۔
#خلفائےراشدین #عمربن #عمر #عمرفاروق #عمرالفاروق #کراچی **istan #اسلام #اسلامی

26/06/2025

امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

از:مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
حصہ دوم

عادل حکمران

سیدنا عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں عد ل و انصاف کی بہترین مثال قائم فرمائی ،اور عادل حکمران بن کر تعلیمات ِعدل کو دنیا میں پھیلادیا،مساوات و برابری ،اور حقوق کی ادائیگی کا حد درجہ اہتمام فرمایا۔ ابن عباسؒسے مروی ہے کہ : تم عمرؓ کا ذکر کیا کرو،کیوں کہ جب تم عمر کو یاد کرو گے تو عدل و انصاف یاد آئے گا اور عدل وانصاف کی وجہ سے تم اللہ کو یاد کروگے۔( اسدالغابہ :۴/ ۱۵۳ دار الکتب العلمیہ بیروت) ایک مرتبہ قیصر نے اپنا ایک قاصد حضرت عمر ؓ کے پاس بھیجا تاکہ احوال کا جائزہ لے اور نظام و انتظام کا مشاہد ہ کرے ،جب وہ مدینہ منورہ آیا تو اس کو کوئی شاہی محل نظر نہیں آیا ،اس نے لوگوں سے معلوم کیا کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہے ؟صحابہ نے کہا کہ ہمارا کوئی بادشا ہ نہیں ہے ،البتہ ہمارے امیرہیں جو اس وقت مدینہ سے باہر گئے ہوئے ہیں ،قاصد تلاش کرتے ہوئے اس مقام پر آگیا جہاں امیر المؤمنین سیدنا عمر ؓدھوپ کی گرمی میں سخت ریت پر اپنے درہ کو تکیہ بنائے آرام فرمارہے تھے، پسینہ آپ کی پیشا نی سے ٹپک رہا تھا ،جب اس نے دیکھا تو سیدنا عمر ؓکا جاہ وجلال او ررعب سے وہ گھبراگیا اس نے کہاکہ ؛اے عمر ! واقعی تو عادل حکمران ہے ،اسی لیے تو آرام سے بغیر کسی پہرہ اور حفاظتی انتظامات کے تنہا خوف اور ڈر کے بغیر آرام کررہا ہے،اور ہمارے بادشاہ ظلم کرتے ہیں اس لیے خوف و ہراس ان پر چھایا رہتا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا دین حق ہے ،میں اگر قاصد بن کر نہیں آتا تو مسلمان ہوجا تا ،لیکن میں جاکر اسلام قبول کروں گا۔( اخبار عمرؓ لعلی الطنطاوی:ـ۳۲۷)

زہد و سادگی

اللہ تعالی نے آپ کو جو بلند مقام ومرتبہ عطافرمایا تھا اور آپ کی حکمرانی کے چرچے طول وعرض میں پھیل چکے تھے لیکن اس کے باوجود بھی تواضع و سادگی اور زہد و تقوی میں غیر معمولی اضافہ ہی ہوتا گیا ،آپ ہر وقت اسی فکر میں رہتے کہ نبی کریم ﷺ نے جس حال میں چھوڑا اسی پر پوری زندگی گذرجائے ،عمدہ کھانوں ،بہترین غذاؤں اور اسبابِ تنعم سے ہمیشہ گریز ہی کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ اہل بصرہ کا ایک وفد حضرت عمرؓ کے پاس آیا ،ان لوگوں کے لیے روزانہ تین روٹیوں کا انتظام ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی بطور سالن کے روغن زیتون پایا ،کبھی گھی ،کبھی دودھ ،،کبھی خشک کیا ہوا گوشت جو باریک کرکے ابال لیا جاتا تھا ،کبھی تازہ گوشت اور یہ کم ہوتا تھا۔انھوں نے ایک روز ہم سے کہا کہ اے قوم ! میں اپنے کھانے کے متعلق تم لوگوں کی ناگواری وناپسندیدگی محسوس کرتا ہوں ،اگر میں چاہوں تو تم سب سے اچھا کھانے والا،تم سب سے اچھی زندگی بسر کرنے والا ہوجاؤں میں بھی سینے اور کوہان کے سالن اور باریک روٹیوں کے مزے سے ناواقف نہیں ہوں؛لیکن میں نے اللہ تعالی کا یہ فرمان سن رکھاہے کہ : اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعم بھا۔( طبقات ابن سعد:۲/۵۸)لباس و پوشاک میں بھی اسی طرح کی سادگی آپ نے اختیارکی جو ہر ایک کے لیے نہایت حیرت انگیز اور ایمان افروزہے۔حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ کے جسم پر جو لباس تھا اس میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے ( مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب ؓلابن الجوزی:۱۳۱) اس طرح بے شمار واقعات آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔

#عمر #عمرفاروق #خلفائےراشدین

#خلفائےراشدین #عمربن #عمر #عمرفاروق #عمرالفاروق #کراچی **istan #اسلام #اسلامی

25/06/2025

*حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی 6 نصیحتیں!!*

●فاتحِ فارس والقدس وشام●سسرِرسولﷺ●دامادِعلی المرتضیٰ ؓ●دعائے رسولﷺ●جانشینِ صدیق ؓ●بانیٔ ہجری تقویم●ابوحفص●خلیفۂ راشد ثانی●امیر المومنین سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
#مرادِنبیﷺ

25/06/2025

امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

از:مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
حصہ اول

اسلامی تاریخ کے عظیم انسان ،عبقری شخصیت،بے مثال حکمراںاور قائد،پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کے جاں نثار صحابی ؓ،امیر المؤمنین ،خلیفہ ثانی،عدل وانصاف ،حق گوئی وبیباکی کے پیکر مجسم حضرت عمر فاروقؓ کی حیات اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت رہی،اور آپ کے اسلام کے لیے خود نبی کریم ﷺ نے دعامانگی ،آپ کے قبول اسلام کے ذریعہ کمزور مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملااور خود رسول ﷺ کو ایک بے مثال رفیق وہمدردنصیب ہوا، بلاشبہ سیدنا عمر فاروقؓ کی ذاتِ گرامی سے اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فیض پہونچا،اور آپؓ کی زندگی اسلام لانے کے بعد پوری اسلام کے لیے وقف تھی،آپ نے بہت کچھ اصلاحات دین کے مختلف شعبوںمیں فرمائی ،اور ایک ایسا نظام دنیا کے سامنے پیش کیا کہ دنیا والے اس کی نہ صرف داد دینے پر مجبور ہوئے بلکہ اس کو اختیار کر کے اپنے اپنے ملکوں اور ریاستوںکے نظام کو بھی درست کیا۔اور بعض تو یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر دنیا کا نظام سنبھالنا ہو تو ابو بکر و عمر کو اپنا آئیڈیل بنایا جائے۔ ورع و تقوی ،خلو ص و للہیت ،سادگی و بے نفسی، انکساری اور عاجزی بے شمار خوبیوں سے اللہ تعالی نے نوازاتھا ،دنیا کے نظام کو چلانے اور انسانوں کی بہتر اندا ز میں خدمت کرنے کا خاص ملکہ عطافرمایا تھا ،جن کے ذریعہ اسلام دنیا کے دور دراز علاقوں میں پھیلایا ،اور اطراف عالم تک پہنچا ،جن کی عظمت اور شوکت کا رعب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو تھا اور بڑی بڑی سلطنتیں جن کے نام سے تھراتی تھیں ،ایسے عظیم انسان کے دل میں اللہ تعالی نے انسانیت کی خدمت ،رعایا کی خبر گیری ،مخلوق خدا کے احوال سے واقفیت کا عجیب جذبہ رکھا تھا۔راتوں کی تنہائیوں میں لوگوں کی ضروریات کو پوری کرنے اور ان کے حال سے آگاہ ہونے کے لیے گشت کرنا ،ہر ضرورت مند کے کام آنا اور ان کی خدمت انجام دینے کی کوشش میں لگے رہنا آپ کا امتیازتھا، آپ کی مبارک زندگی کے ان گنت پہلو اور گوشے ہیں اور ہر پہلو انسانیت کے لیے سبق اور پیغام لیے ہوئے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس رفیقِ خاص کے بہت سے فضائل بیان کیے اور ان کی عظمتوں کو اجاگر کیا۔ذیل میں ہم صرف ان کی بے مثال حکمرانی سے متعلق چیزوں کو پیش کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ا ن کی سادگی اور انکساری کے پہلو کو بھی بیان کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہو کہ جس کو اللہ تعالی نے ایک بڑی سلطنت کا فرماں روا،اور منصب ِخلافت کا مسند نشیں بنایا تھا لیکن وہ ان تمام کے باوجود مخلو قِ خدا کی خدمت میں کس طرح اپنے آپ کو مٹادیا تھا اور لوگوں کی بھلائی اور فائدہ کے لیے کن کن چیزوں کو بروئے کار لایا تھا ،بقول مولانا شاہ معین الدین ندویؒ کہ :فاروق اعظمؓ کی زندگی کا حقیقی نصب العین رفاہ عام اور بہبودی بنی نوع انسان تھا۔

**iatani **istanifashion **iatanchinabangladesh 🇨🇳 **istanzindabad **i **istan
#عمر #عمرفاروق #خلفائےراشدین

23/06/2025

آج کے تمام تجزیے کا نچوڑ شاید یہ ہے کہ دنیا ایک نئی یعنی تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے
اللّٰہ رب کریم کے حضور اہنے گناہوں پر توبہ و استغفار کرنے کی اشد ضرورت ہے اور رب العالمین کے حضور بدست دعا بلند کرنے کا وقت ہے کہ تمام عالم اسلام کی مدد و نصرت فرمائے آمین

**iatani **istanifashion **iatanchinabangladesh 🇨🇳 **istanzindabad **i **istan #ایران **istan #کراچی **istan #اسلام #اسلامی #علمیجنگ

22/06/2025

اسلامی معلومات، دل کو سکون دینے والے پیغامات اور روزانہ روحانی رہنمائی کے لیے

ہمارے پیج کو ابھی فالو کریں!

ان شاء اللّٰہ یہاں ہم شروع کرنے جا رہے ہیں:

قرآن و حدیث کی روشنی میں روزانہ سبق آموز باتیں

سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی

مسنون دعائیں

اتحاد، محبت اور اصلاحِ نفس کا پیغام

اور اگر کوئی اہم خبر ہوئی تو اس پر تجزیہ بھی ہوگا

اپنے ایمان کو تازہ رکھنے کے لیے آج ہی فالو کریں:
Islamic Info Zone


**iatani **istanifashion **iatanchinabangladesh 🇨🇳 **istanzindabad **i **istan #ایران **istan
#کراچی **istan #اسلام #اسلامی #اسلامییاددہانی #اسلامییاددہانی

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Kharadar Karachi Line
Karachi
75660