❌حنفی حضرات کا اس آیت سے فاتحہ نہ پڑھنے کا استدلال غلط ہے۔
اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔
سورة اعراف۔ آیت 204 ۔ مکی ہے۔
👈یہ ان کافروں کو کہا جا رہا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو کہتے
تھے
﴿ لا تسمعو الھذا القرآن والغوا فیہ﴾ حم السجدة 26
یہ قرآن مت سنو اور شورکرو ان سے کہا گیا کہ اس کے بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالی تمہیں ہدایت سے نوازدے ۔
اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاو۔
بعض ائمہ دین اسے عام مراد لیتے ہیں یعنی جب بھی قرآن پڑھا جائے چاہے نماز ہو یا غیر نماز سب کو خاموشی سے قرآن سننے کا حکم ہے اور پھر وہ اس عموم سے استدلال کرتے ہوئے جہری نمازوں میں مقتدی کے سورہ ٴ فاتحہ پڑھنے کو بھی اس قرآنی حکم کے خلاف بتاتے ہیں ۔
🌹لیکن جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ ٴ فاتحہ پڑھنے کی تاکید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ان کے نزدیک اس آیت کو صرف کفار کے متعلق ہی سمجھنا صحیح ہے جیسا کہ اس کے مکی ہونے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
لیکن اگر اسے عام سمجھا جائے تب بھی اس عموم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں کو خارج فرما دیا اور یوں قرآن کے اس عموم سے باوجود جہری نمازوں میں مقتدیوں کا سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہوگا۔
کیونکہ قرآن کے اس عموم کی یہ تخصیص صحیح و قوی احادیث سے ثابت ہے۔
جہری نمازوں میں بھی سورة فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہوگا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔
محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت
یا اللہ میری میرے والدین کی عزیز واقارب کی اور اُمتِ مسلمہ اور اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما میری توبہ قبول فرما مُجھے نمازِ باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمامیری غیب سے مدد فرما میری روزی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی اور برکت عطا فرما میری مُشکلات کو آسان فرما میری میرے بہن بھائیوں کی تمام جائز حاجات کو پورا فرما۔ جو مسلمان بھائ پریشان حال ہیں انکی پریشانیوں کو دور فرما جو مسلمان بیمار ہیں انکو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرما جو لوگ دعا کا کہتے ہیں یا اللہ میں نہیں جانتا تو غیب کا علم جانتا ہے اُن سب کی جائز حاجات کو قبول منظور فرما آمین ثم آمین دعاؤں کا طالب فہیم احمد اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا جزاک اللّہ خیر کم
بریلوی مسلک کے بہت بڑے عالم اور پیر افضل قادری صاحب نے 44 سال شرک اور بدعت میں گزارنے کے بعد کیسے دین حق کو قبول کیا آپ سب حضرات تحسب کا چشمہ اتار کر انکی گفتگو کو ضرور سنیں تحقیق کرنے سے ہی انسان کو اصلی اور نقلی کا فرق معلوم ہوتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi