26/04/2026
1. کراچی کی کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہد
لیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ پر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ باپ نشے کی حالت میں فوت ہو چکا تھا، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھتی تھی۔
گھر میں صرف ایک ہی خواب تھا: 17 سالہ بڑی بہن سدرہ ڈاکٹر بنے۔ سدرہ نے بارہویں جماعت میں پوزیشن حاصل کی تھی۔ دماغ کمپیوٹر جیسا، مگر فیس کے پیسے نہیں تھے۔
صبح 5 بجے شاہد بوری اٹھا کر نکلتا۔ کچرا کنڈیاں، گلیاں، دکانیں۔ پلاسٹک، لوہا، کاغذ (ردی) چنتا۔ شام کو کباڑی کو بیچ کر 80 سے 100 روپے ملتے تھے۔
2. باجی کی کتابیں اور بھائی کی بوری
سدرہ کا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا۔ سالانہ فیس 2 لاکھ روپے۔ ماں رو پڑی: "بیٹی، مجھے معاف کر دینا، ہم غریب ہیں۔"
شاہد نے ماں کی گود میں سر رکھا: "امی، آپ نہ روئیں۔ باجی ڈاکٹر بنے گی، میں ہوں نا!"
اگلے دن سے شاہد نے دو شفٹیں لگا دیں۔ صبح 4 سے 8 بجے تک کچرا، پھر اسکول۔ پھر شام 4 سے رات 10 بجے تک کچرا چننا۔ رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر خود بھی پڑھتا تھا۔
سدرہ روتی تھی: "بھائی، تم پڑھو، میں کام کر لوں گی۔"
شاہد ہنستے ہوئے کہتا: "باجی، دو دماغ خراب کرنے سے بہتر ہے کہ ایک ڈاکٹر پکا بن جائے۔ آپ بس پڑھیں۔"
3. سردی، طعنے اور ضدی بھائی
سردیوں کی رات تھی۔ شاہد کو 104 بخار تھا، مگر وہ بوری اٹھا کر نکل پڑا۔ کباڑی نے کہا: "مر جاؤ گے پاگل!"
شاہد نے جواب دیا: "چاچا، جب میری باجی کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہوگا، تب ہی میرا بخار اترے گا۔"
محلے والے طعنے دیتے تھے: "کچرا چننے والا، بہن کو ڈاکٹر بنائے گا؟ خواب دیکھنا چھوڑ دو!"
شاہد کوئی جواب نہ دیتا۔ بس ہر شام سدرہ کی فیس کے پیسے گنتا اور شکر ادا کرتا۔
4. 8 سال بعد، سول اسپتال
8 سال گزر گئے۔ شاہد اب 17 سال کا ہو گیا۔ خود میٹرک میں پوزیشن لی، مگر کالج نہ گیا۔ "باجی کا فائنل ایئر ہے۔"
نتیجہ آیا۔ سدرہ نے MBBS میں ٹاپ کیا۔ پورے کراچی میں نام ہو گیا۔ اخبار میں تصویر آئی: "کچرا چننے والے کی بہن ڈاکٹر بن گئی"۔
سول اسپتال میں پہلی نوکری ملی۔ پہلی تنخواہ 85 ہزار روپے۔ سدرہ نے وہ لفافہ شاہد کے ہاتھ پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
"یہ تمہاری کچرے کی کمائی ہے، بھائی! میرے ہاتھ میں جو اسٹیٹھوسکوپ ہے، اس کی ڈوری تمہاری بوری سے بندھی ہوئی ہے۔"
5. آج
آج ڈاکٹر سدرہ لیاری میں "شاہد کلینک" چلا رہی ہے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
اور شاہد؟ اس نے کچرا چننا نہیں چھوڑا، مگر اب اس کا اپنا کباڑ کا دکان ہے۔ 20 بچے اس کے پاس کام کرتے ہیں، مگر ایک شرط ہے:
"دن میں 2 گھنٹے میری دکان پر پڑھو گے، فیس میں بھر دوں گا۔"
دیوار پر ایک فریم لگا ہے۔ ایک طرف سدرہ کی ڈگری، دوسری طرف شاہد کی پھٹی ہوئی بوری۔
نیچے لکھا ہے:
"کچرے سے کامیابی تک کا سفر۔ محبت ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔"
شاہد کہتا ہے:
"لوگ کہتے ہیں میں نے بہن کو ڈاکٹر بنایا، مگر سچ یہ ہے کہ باجی کے خواب نے مجھے انسان بنا دیا۔"
ایک سبق سچ اور سچائی کی جیت کا۔۔۔
تعلیم بہت ضرور ہے