Jamal UL Quran

Jamal UL Quran

Share

📖 Online Islamic education for kids, youth & women
👳‍♂️ Qualified Ulama as teachers
🧕 Female teachers for girls

10/07/2025

اگر نماز پڑھنے کا بلکل بھی دل نہ کرے تو نمازوں کے صرف فرض ادا کریں اگر یہ بھی مشکل لگے تو کچھ دن فجر اور مغرب کی نماز پڑھ کر دیکھیں۔ پھر آہستہ آہستہ کچھ دن تک ساری نمازیں پڑھنا شروع کریں۔

اگر اذان ہو گئی ہو تو جو بھی کام آپ کر رہے ہوں پہلے نماز ادا کریں۔ نماز میں دیر اور ستی بلکل مت کریں۔ اگر کوئی نماز رہ جائے اسے قضا پڑھیں۔

نماز سے کچھ دیر پہلے وضو کر لیں تا کہ جب اذان ہو تو دیر اور سستی نہ کریں۔ جس چیز کی وجہ سے نماز چھوڑ رہے ہیں آپ، جان لیں کہ وہ چیز ٹھیک نہیں۔ اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں، صحبت کا بہت اثر ہوتا ہے نیک دوست بنائیں۔

استغفار کریں۔ جب بھی گناہ ہو فوراً سے استغفر اللہ پڑھتے رہیں، دعائیں کریں۔

فارغ وقت میں قرآن کی تلاوت کیا کریں نماز میں بھی قرآن کی سورتیں اور دعائیں پڑھتے ہیں۔ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھا کریں تجوید ٹھیک کریں اپنی۔ کوشش کریں کہ سوچیں . اور گناہوں سے بچیں۔ موبائل کا کم استعمال کریں۔ positive دینی لیکچرز سن لیا کریں ان شاء اللہ

07/07/2025

🌟 Jamal ul Quran Online Academy 🌟
📖 Quran o Sunnat ki roshni mein ghar baithe asaan aur asar dar taleem!

Hum bachon, khawateen aur baron ke liye online Islamic courses faraham kar rahe hain:
✅ Noorani Qaida
✅ Quran Nazira
✅ Hifz-e-Quran
✅ Islami Aqaid aur Fiqhi Masail
✅ Namaz, Taharat, Duain aur Ahadith

📅 Flexible class timings | 👩‍🏫 Tajurba kaar ustad | 💻 Complete online system

📲 Abhi rabta karein aur apne liye ya bachon ke liye dakhla hasil karein.
📥 Inbox karein: “Start” likh kar!

24/05/2020

تمام احباب کو ایڈمن اجنبی، باباجی کے طرف بہت بہت عید مبارک ہو
اللہ تعالیٰ یہ عید تمام امت مسلمہ کے خوشیوں کی ابتداء اور نوید سحر ثابت کرے
آمین

18/05/2020



*خلاصہ و اہم نکات*

*پارہ نمر08 ( وَلَوْ أَنَّنَا)*

قریش مکہ کا کہنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرنے کے بعد زندہ ہونے کا جو دعویٰ کرتے ہیں اس کا عملی ثبوت پیش کرنے کے لئے عرب کے بڑے دادا قُصَی (جوکہ نیک اور محترم شخصیت تھے) کو زندہ کرکے دکھا دیں، وہ اگر آپ کی تصدیق کردیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا اگر ہم ان پر فرشتے نازل کردیں جو ان سے باتیں کرنے لگیں اور آج تک مرنے والی ہر چیز کو زندہ کرکے ان کے سامنے اکٹھا کردیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ صرف آپ ہی کی مخالفت نہیں ہورہی ہے بلکہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو بھی ایسی ہی صورتحال سے سابقہ پڑتا رہا ہے۔ شیطان کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ہر نبی کے مخالفین ایسے ہی بنا سنوار کر دھوکہ دینے کے لئے ہر دور میں اعتراضات کرتے رہے ہیں مگر ایسی باتوں سے بے ایمان، منکرین آخرت ہی متاثر ہوتے ہیں۔ اللہ اگر چاہتے تو یہ ایسی نازیبا حرکتیں نہ کرتے۔ آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر اپنے کام میں لگے رہئے، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جب اللہ نے واضح کتاب نازل فرمادی تو میں فیصلہ کرنے کے لئے کسی اور کو کیوں تلاش کروں؟ تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف کی آئینہ دار ہیں انہیں کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ لوگوں کی بے دلیل باتوں کو مان کر انسان گمراہ ہوسکتاہے، اللہ ہدایت یافتہ اور گمراہوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ مردار اور ذبیحہ میں فرق کرنے پر مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کا مارا ہوا کھاتے نہیں ہو اور اپنا مارا ہوا کھالیتے ہو۔ قرآن کریم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ شیطان کے ایجنٹ کٹ حجتی کے لئے اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے، لہٰذا مردار جانور کا کھانا گناہ ہے جبکہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہوا جانور کھانا تمہارے ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر ان کی باتوں سے متاثر ہوگئے تو تم بھی مشرکین کے زمرے میں شمار کئے جائوگے۔ جس طرح مردہ اور زندہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح کفر کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اور ایمان کی روشنی میں چلنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب انہیں کوئی آیت سنائی جائے تو اسے ماننے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ ان آیتوں کی وحی اللہ ہم پر کیوں نہیں اتارتا؟ اللہ بہتر جانتے ہیں کہ کس پر وحی اتارنی ہے کس پر نہیں۔ مجرموں کو ان کے جرائم کی وجہ سے ذلت ورسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اللہ ہدایت دینا چاہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں اور جس کی گمراہی کا فیصلہ کریں اس کا سینہ تنگ کردیتے ہیں جیسے کوئی شخص بلندی پر چڑھ رہا ہو۔
بلندی پر چڑھتے ہوئے سینہ تنگ ہونے کی مثال اعجازِ قرآنی کی معرکۃ الآراء مثال شمار ہوتی ہے۔ اس لئے کہ طب جدید کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دَم گھٹنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ آج سے سوا چودہ سو سال پہلے اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تمام جنات و انسانوں سے قیامت کے دن باز پرس کی جائے گی اور ہر ایک کو احتساب کے عمل سے گزرنا ہوگا جبکہ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہیں، پھر یہ بتایا کہ مجرموں کی گرفت کے لئے اللہ کا ضابطہ ہے کہ ظالم کی بے خبری میں گرفت نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے مستغنی اور رحیم ذات ہے۔ وہ اگر انسانوں کو ختم کرکے کسی دوسری قوم کو لانا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر کھیتیوں اور جانوروں میں مشرکانہ رسوم و رواج کی مذمت کرتے ہوئے اسے شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ اللہ زمین سے کیسے کیسے باغات پیدا کرتا ہے، جن میں سہارے کی محتاج بیلیں اور بغیر سہارے کے پروان چڑھنے والے پودے ہوتے ہیں۔ کھجوریں، مختلف ذائقہ والے ملتے جلتے اور غیر متشابہ پھل ہوتے ہیں۔ یہ سب انسانی خوراک اور صدقہ و خیرات کے لئے اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ ان میں اسراف نہ کیا جائے۔ چھوٹے بڑے جانور بھی کھانے کے لئے اللہ نے پیدا کئے۔ ان کے بارے میں شیطانی تعلیمات کی پیروی نہ کریں۔ نر اور مادہ کو شمار کرکے عام طور پر آٹھ قسم کے پالتو جانور ہیں۔ بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ۔ اللہ نے ان میں سے کسی کو حرام قرار نہیں دیا تو تم لوگ ان کے نر یا مادہ یا ان کے حمل کو حرام کیوں کرتے ہو؟ مشرک کہتے ہیں کہ ہم اللہ کی اجازت سے شرک کرتے ہیں۔ کیا یہ اپنے دعوی پر کوئی دلیل یا دست آویز پیش کرسکتے ہیں؟ اس کے بعد تمام انبیاء علیہم السلام کا دس نکاتی مشترکہ پروگرام پیش کیا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہے۔ اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تنگی کے خوف سے اولاد کے قتل سے گریز، برائی کے کاموں سے پرہیز، بے گناہ کے قتل سے بچنا، یتیم کے مال کو ناجائز استعمال نہ کرنا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، قول و فعل میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا، اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کرنا اور صراط مستقیم کی پیروی کرنا پھر موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کی کتاب کا تذکرہ پھر نزولِ قرآن کی بشارت کہ اس میں برکت بھی ہے، رحمت بھی اور ہدایت بھی۔ پھر دین میں تفرقہ اور دھڑے بندی کرنے والوں کی مذمت، پھر امت محمدیہ کی فضیلت کہ نیکی پر دس گنا اجر اور گناہ پر ایک سے زیادہ کی سزا نہیں ملے گی۔ محمدی تعلیمات کے ملت ابراہیمی کے عین مطابق ہونے کا اعلان۔ ابراہیمی طرز زندگی کی وضاحت کہ تمام بدنی و مالی عبادت اور جینا اور مرنا بھی اللہ ہی کے لئے ہے۔ ’’جو کرے گا وہی بھرے گا‘‘ کا ضابطہ اور سورہ کے آخر میں امتحان کے نقطہ نظر سے انسانوں میں فرقِ مراتب اور زمین کی خلافت کا استحقاق اور اللہ کے سریع العقاب ہونے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ غفور رحیم ہونے کی خوشخبری بھی شامل ہے۔

*سورہ الاعراف*

جنت اور جہنم کے درمیان واقع ایک چبوترا ہے، جس پر ان لوگوں کو عارضی طور پر ٹھہرایا جائے گا، جن کی حسنات و سیئات برابر ہوں گی۔ أعراف کا تذکرہ اس سورہ میں موجود ہے اس لئے اسی نام سے پوری سورہ کو موسوم کردیا گیا۔
یہ سورہ دو سو چھ آیتوں اور چوبیس رکوع پر مشتمل ہے۔ یہ ایک طویل مکی سورہ ہے جو تقریباً سوا پارہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے پہلی سورہ الانعام کا مرکزی مضمون ’’توحید‘‘ تھا اور اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’رسالت‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنت و جہنم اور قیامت کے موضوع پر بھی گفتگو موجود ہے۔ سورہ کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور علیہ السلام کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کی تسلی کے لئے ’’وحی الٰہی‘‘ کے منکرین کا انجام ہے کہ اگر مشرکین مکہ آپ پر نازل شدہ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔ یہ لوگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں ’’وحی الٰہی‘‘ کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست و نابود کردیا گیا۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ آج کے دور کا فرقہ بندیوں، پارٹی بندیوں اور جنگ و جدل کا شکار ہونے والا انسان درحقیقت ایک ہی باپ کی صلب سے پیدا ہونے والا اور ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے۔ یہ سب کالے اور گورے، امیر و غریب، شاہ و گدا ایک ہی گھرانے کے افراد اور ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور انہیں باہمی افتراق و نزاع کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔ خالقِ انسان کی نگاہ میں اس انسان کی قدر و منزلت کیا ہے؟اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانیت کے جدامجد آدم علیہ السلام کو مسجود ملائکہ بناکر اعزاز و اکرام کے ساتھ اس کے اصلی گھر جنت میں بھیج دیا اور شیطان کی ازلی دشمنی بتانے کے لئے شجر ممنوعہ کو استعمال کرواکر جدوجہد اور معرکۂ حق و باطل کے طویل اور صبر آزما امتحان کے لئے اسے زمین پر اتاردیا۔ چار مرتبہ اس انسان کو یا بنی آدم ’’اے آدم کی اولاد‘‘ کہہ کر پکارا۔ یہ نداء اس سورہ کے ساتھ خاص ہے۔ شیطان کے شر سے بچنے کے لئے انتہائی پرحکمت خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’اے بنی آدم! جس شیطان نے تمہارے والدین کا لباس اترواکر انہیں جنت سے نکلوادیا تھا کہیں تمہیں بھی فتنہ میں مبتلا کرکے جنت سے محروم نہ کردے۔‘‘ اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنۃ، اصحاب النار اور اصحاب الأعراف کے نام سے تین گروہ ذکر کئے۔ اس گروہ کا تذکرہ صرف اسی سورہ میں ہے۔ اس کے بعد وہ منظر پیش کیا گیا، جس میں جنت والے، جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور صلاح و تقویٰ پر مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ کیسا منظر ہوگا جب جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہوں گے اور جہنم والے عذاب کی اذیت و کربناکی میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالہ اور پانی کے دو گھونٹ بھیک مانگ رہے ہوں گے اور اصحاب الأعراف اپنی فصیل سے دائیں بائیں جھانک کر جنت و جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے اور ان سے گفتگو کریں گے۔ اہل جنت کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے جبکہ اہل جہنم بدشکل، سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے۔ اسی اثناء میں اللہ کا منادی آواز لگائے گا:’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ نیکیوں کا بدلہ جنت ہے جو صلحاء کو مل گئی اور اللہ کے راستہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے اور من مانے طریقہ پر اللہ کے احکام کو اپنی خواہشات کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے ظالم اور منکرین آخرت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب کا طوق ان کے گلے میں ڈالا گیا‘‘۔ اس کے بعد آسمان و زمین کے پیدا کرنے، دن رات کے آنے جانے، ہوائوں کے چلنے اور بارش کے برسنے اور درختوں اور پودوں کے زمین سے نکلنے میں غور و خوض کرنے کی دعوت دے کر پہلے انبیاء علیہم السلام کا طویل تذکرہ شروع کردیا۔
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ قوم نے انہیں گمراہ قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا۔ ان کی رسالت کا انکار کیا، جس پر اللہ نے پانی کا عذاب مسلط کرکے انہیں ہلاک کردیا اور اپنے نبی کو کشتی کے اندر بچالیا۔ ہود علیہ السلام کا تذکرہ کہ انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی انہوں نے ہود علیہ السلام کو بے وقوف اور ناسمجھ قرار دے کر انکار کیا۔ اللہ نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب مسلط کرکے ہلاک کردیا اور اپنے نبی اور ان کے متبعین کو بچالیا۔ پھر قوم ثمود کا تذکرہ، صالح علیہ السلام نے انہیں دعوت توحید دی۔ انہوں نے انکار کیا اور بیجا مطالبے شروع کردیئے۔ کہنے لگے کہ پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرکے دکھائو جو نکلتے ہی بچہ جنے۔ جب اونٹنی معجزانہ طریقہ پر ظاہر ہوگئی تو انہوں نے اسے قتل کرکے اپنے اوپر عذاب مسلط کرلیا۔ ان کی بستی پر ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ ان کا نام و نشان مٹ کر رہ گیا۔
پھر قوم لوط اور ان کی بے راہ روی کا تذکرہ۔ لوط علیہ السلام نے انہیں بدفعلی جیسے گھنائونے جرم سے منع کیا تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے کہ تم بہت پاکباز بنتے ہو۔ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔ اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کرکے انہیں تباہ کردیا۔
پھر قوم مدین کا تذکرہ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور تجارت میں بددیانتی سے منع کرکے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں راہ گیر مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہنے کا حکم دیا، جس پر وہ لوگ بگڑگئے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی مخالفت پر اتر آئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے ۔ ایک ایمان والا اور دوسرا کفر والا۔ لہٰذا اپنے انجام کا انتظار کرو عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ فیصلہ کردیں گے۔

*اہم نکات*

❣جو دین کی بات نہیں ماننا چاہتا وہ فرشتے اترتے دیکھ کر یا مردوں کو بولتا سن کر بھی نہیں مانے گا ۔

❣اکثریت کی پیروی کے بجائے حق کی پیروٰ ی میں نجات ھے ۔اکثریت تو بھٹکانے والی ھے ۔

❣ھر طرح کے گناہ سے بچنا ۔گناہ وہ ھے جو دل میں کھٹکے ۔

❣جس کو ہدایت کی توفیق مل جائے اسکا سینہ کھل جاتا ھے ۔عمل کر نا آسان ھو جاتا ھے ۔

❣درجات کا تعین عمل کے مطابق ھو گا ۔اللہ ہر ایک کا عمل جانتا ھے ۔قیامت کے دن معلوم ھو جائے گا کون عمل میں آگے رہا۔

❣ایمان وعمل لازم وملزوم ھیں ایمان لا کر عمل کرنا ضروری ھے کیونکہ عمل ،ایمان میں دا خل ھے ۔

❣جو دین میں اختلاف کرتے ھوئے فرقہ پرستی پر ابھاریں اور گروہوں میں بٹ جئیں ان کا نبیؐ سے کوئی تعلق نہیں ۔

❣اللہ کے ہاں ایک نیکی کا اجر 10 گنا جبکہ ایک برائی کا بدلہ اسی کے مطابق ھے ۔

❣اعمال کے درجے میزان میں متعین ھونگے ،بھاری پلڑے والے کامیاب جبکہ ہلکے پلڑے والے خسارے میں ھونگے ۔

❣شیطان نے سجدے کا انکار تکبر کی وجہ سے کیا تو اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ھے ۔

❣لباس زینت اور ستر پوشی کا ذریعہ ھے ۔جس مقصد کے لئے اللہ نے بنانے اور پہننے کا حکم دیا اسکو پورا کرنا ھے ۔

❣کھاو،پیئو ،پہنو مگر اسراف نہیں کرنا کہ یہ اللہ کو پسند نہیں ۔

❣اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے اور تکبر کرنے والے کے لئے جنت میں داخلہ محال ھے ۔اسکا اوڑھنا بچھونا جہنم ھوگی ۔

❣جنت کی خوبصورتی یہ ھے کی اہل جنت کے دلوں سے کینہ کدورت نکال کر جنت میں بھیجا جائے گا ۔

❣انکساری وخاموشی ۔خوف وامید کے ساتھ رب کو پکارنا دعا کے آداب میں سے ھے ۔

❣تمام انبیاء نے ایک اللہ کی عبادت کرنے اور غلط کام چھوڑ دینے کی طرف دعوت دی ۔

عمل سے زندگی بنتی ھے جنت بھی جھنم بھی۔۔

_طالبِ دعا حفیظ الرحمن سعیدی

18/05/2020

آٹھویں پارے کا خلاصہ

آٹھویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لاکھڑا کر دیتے تو وہ ایمان لانے والے نہیں تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی‘ جب مشرکین مکہ اور کفار عرب نے رسول کریمﷺسے مختلف طرح کی نشانیوں کو طلب کرنا شروع کیا۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہئیں ‘کبھی وہ کہتے کہ اگر تم سچے ہوتو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور کبھی وہ کہتے کہ ہمارے آبا جودنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول کریم ﷺکو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کافروں کی نشانیاں طلب کرنے والی بات کوئی حق پرستی پر مبنی نہیں‘ بلکہ یہ تو صرف اور صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔
جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی نشانی کے اسلام کو قبول کر لیا‘ جبکہ مکہ کے بہت سے کافر متعدد نشانیوں کو دیکھ کر بھی مسلمان نہ ہوئے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے سے انسان گمراہ ہو جا تا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں‘ جس چیز پر غیر اللہ کا نام لیا جائے ‘اُسے کھانا درست نہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ اللہ نے یہودیوں پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا‘ لیکن یہودیوں کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہو گئے۔ بخاری ومسلم نے ابوہریرہ رض سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا: ''اللہ کی مار ہو یہود پر جب چربی ان کے لیے حرام کر دی گئی تو اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔‘‘
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں ‘جنہوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کردیا اور اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے جائز کیے ہو ئے رزق کو حرام قرار دیا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب فصلوں کی کٹائی کا دن آئے ‘اس دن اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا کرو ۔جب اللہ تعالیٰ ہر چیز عطافرماتے ہیں تو اس کا حق بھی بروقت ادا ہونا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رزق کی‘ ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا‘ جو انسانوں پر حرام ہیں۔ پہلا رزق‘ جو انسانوں پر حرام ہے ‘وہ مردار ہے‘ اسی طرح بہتا ہوا خون انسانوں پر حرام ہے‘ اسی طرح خنزیر کا گوشت بھی انسانوں پر حرام ہے اور اسی طرح غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ بھی انسانوں پر حرام ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا کہ وہ اپنے اور اپنے آباواجداد کے بارے میں کہیں گے‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا توہم اور ہمارے آباواجداد ہرگز شرک نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے اللہ تعالیٰ مزید کہتے ہیں کہ اے نبی آپ ان کو کہہ دیجئے کہ( جو اللہ نے تحریر کیا ہے)کیا تم اس کو جانتے ہو؟اگر جانتے ہو تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو ۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ لوگ غلطی تو خود کرتے ہیں‘ لیکن خو اہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بعض کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک نہیں کرنا چاہیے‘ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے‘ اپنی اولاد کو بھوک کے خوف سے قتل نہیں کرنا چاہیے‘ فحاشی چاہے چھپی ہوئی ہو ‘چاہے علانیہ ہو‘ اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے ‘کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے‘ یتیم کے مال کو نا جائز طریقے سے استعمال نہیں کرنا چاہیے‘ ترازو کو صحیح طریقے سے پکڑ نا چاہیے‘ جب بات کی جائے عدل سے کرنی چاہیے‘ چاہے قریبی عزیز بھی اس کی زد میں آئے اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے یا اس کے نام پر کیے گئے وعدوںکو پُوراکرنا چاہیے اور ان تمام نصیحتوں کا بنیا دی مقصد انسانوں میں عقل اور تقویٰ کو پیدا کرنا ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی بڑی شدت سے مذمت کی ہے ‘جو اپنے دین میں تفرقہ پیدا کرتے اور گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوںکا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے کیے سے آگاہ کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو ایک بُرائی کرے گا‘ اس کو ایک ہی کا بدلہ ملے گا‘ لیکن جو ایک نیکی کرے گا ‘اُسے اس جیسی دس نیکیاں ملیں گی اور انسانوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب علیہ السلام کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ بے شک میری نمازیں میری قربانیاں میرا جینا اور میرا مرنا سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے والا ہوں ۔
اس کے بعد سورہ اعراف ہے اور اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ پیارے حبیب علیہ السلام جو قرآن آپ پر نازل کیا گیا ہے‘ آپ اس کی پیروی کریں ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے وزن کا ذکر کیا ہے کہ کل قیامت کو وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہو گا تو جس کا پلڑا بھاری ہو گا وہ کامیاب ہو گا اور جس کا پلڑا ہلکاہو گا تو یہ وہ لوگ ہیں‘ جنہوں نے ہمارے آیات کو رد کر کے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا ۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اوران کے لئے مختلف طرح کے پیشے بھی بنائے اور پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں آنے کے آداب کا بھی ذکر کیا کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد میں آنا چاہیے ۔
اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے مناظر کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے ہم پا چکے ہیں‘ جس کا وعدہ ہمارے رب نے کیا تھا کیا تم کو بھی وہ کچھ مل گیا ‘جس کا تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا ‘تو وہ جواب میں کہیں گے ہاں۔ اس پر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر‘ اسی طرح اہل ِنار جہنمیوں سے تقاضا کریں گے کہ جو اللہ نے ان کو پانی اور رزق عطا کیا ہے۔ اس میں سے ان کو بھی دیا جائے تو اہل جنت کہیں گے اللہ نے اس کھانے اور پینے کو اہل نار پر حرام کر دیا ہے۔
اللہ نے اس پارے میں اصحاب اعراف کا بھی ذکر کیاہے۔اصحاب اعراف ایسے لوگ ہوں گے‘ جو جہنم کے عذاب سے محفوظ ہوں گے‘ لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے ۔ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا ۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہنا چاہیے ۔بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے ۔اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے ‘جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں‘ ان کا تفصیلی ذکر سورہ ہود میں ہو گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)

18/05/2020


*خلاصہ و اہم نکات*

*پارہ نمر07 ( وَإِذَا سَمِعُواْ)*

ابتداء میں عیسائیت کے منصف مزاج اور معتدل طبقہ کی تعریف کی گئی ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ قریش مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حضور علیہ السلام کی اجازت سے مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے عیسائیوں کے ملک حبشہ چلی گئی۔ مشرکین نے ان کا تعاقب کیا اور غلط بیانی کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کو مسلمانوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی۔ نجاشی نے انہیں طلب کرکے سوالات کئے۔ مسلمانوں کے نمائندہ جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرآن کریم کی سورہ مریم پڑھ کر سنائی۔ نجاشی اور اس کے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر رقت طاری ہوگئی۔ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے ڈبڈبانے لگیں اور کلام الٰہی سے متأثر ہوکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور مسلمانوں کو سرکاری مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھہرانے کا اعلان کردیا۔ ان کی اور اس قسم کے دوسرے عیسائیوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کو سنتے ہیں تو حق کو پہچان کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاکر اسلام کی حقانیت کے گواہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد حلال و حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی ہے۔ قسم کی اقسام اور کفارہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ شراب اور جوے (قمار) کی حرمت کا حتمی فیصلہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شیطان اس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں۔ مسلمانوں کو ام الخبائث کے استعمال سے باز آجانا چاہئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے جب فہل انتم منتہون (کیا تم باز نہیں آئوگے؟) کا قرآنی جملہ سنا تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بے اختیار پکار اٹھے انتہینا یا ربنا (اے ہمارے رب! ہم باز آگئے)
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اس کی جزا کا بیان ہے۔ محرم کو مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے کہ سمندر میں حجاج کے قافلہ کو ضرورت پیش آسکتی ہے۔ کعبۃ اللہ کی مرکزیت اور بقاء انسانیت کی علامت ہونے کا بیان ہے۔ خبیث اور طیب میں امتیاز برتنے کی تلقین ہے کہ کسی چیز کی قلت و کثرت اچھائی کا معیار نہیں ہے۔ حلال و حرام، مطیع و عاصی، بھلا اور برا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ بیجا سوال کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ مختلف حوالوں سے جانور مخصوص کرنے کی مذمت کی گئی ہے کہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی یا اس قسم کے ناموں سے جانوروں کے تقدس کی اسلامی تعلیمات میںکوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآنی تعلیمات کے خلاف آباء و اجداد کی ناجائز تقلید سے منع کیا گیا ہے۔ فساد زدہ معاشرہ میں تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہے تو گمراہ اور نافرمانوں کے غلط اثرات سے محفوظ رہوگے۔ قیامت کے دن کے بے لاگ محاسبہ کی یاددہانی کراتے ہوئے بتایا کہ اس ہولناک دن میں انبیاء علیہم السلام بھی جوابدہی کے لئے اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے صاحب عزیمت رسول جنہیں مردوں کو زندہ کرنے، بینائی اور برص کے لاعلاج مریضوں کو چنگا کرنے اور مٹی کے جانوروں میں اللہ کے حکم سے روح پھونکنے کے معجزات عطاء کئے گئے تھے۔ انہیں بھی احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ عیسائیوں نے تمہیں اور تمہاری والدہ کو اپنا معبود کیوں بنا رکھا تھا۔ وہ نہایت عجز و انکساری سے عرض کریں گے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میں نے تو آپ کی توحید و الوہیت کی تبلیغ کی تھی۔ میرے بعد لوگوں نے اپنی طرف سے میری اور میری والدہ کی عبادت شروع کردی تھی۔ یہ آپ کے بندے ہیں آپ ان کے ساتھ جو بھی معاملہ فرمائیں، معاف کریں یا عذاب دیں یہ آپ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج کے دن سچائی کے علمبردار ہی عظیم الشان کامیابیوں سے ہمکنار ہوسکیں گے۔ ان کے لئے دائمی طور پر باغات اور بہتی نہریں تیار ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہیں وہ اللہ سے راضی ہیں۔
اس سے پہلے مائدہ (دسترخوان) کا واقعہ بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے کہنے لگے: اے عیسیٰ! اپنے رب سے کہئے کہ ہمیں جنت کے کھانے کھلائے۔ اللہ نے ایک دسترخوان اتارا، جس میں انواع و اقسام کے جنتی کھانے تھے۔ خیانت کرنے اور بچا کر رکھنے سے انہیں روکا گیا تھا، مگر انہوں نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے خیانت کے مرتکب افراد کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردیا۔

*سورة الانعام*

یہ مکی سورہ ہے۔ چونکہ اس سورہ میں انعام (چوپائے) اور ان سے متعلقہ انسانی منافع کا تذکرہ ہے۔ نیز جانوروں سے متعلق مشرکانہ و جاہلانہ رسوم و رواج کی تردید کی گئی ہے۔ اس لئے اس سورہ کا نام ’’الانعام‘‘ رکھا گیا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ایک ہی رات میں بیک وقت اس شان سے اس سورہ کا نزول ہوا کہ اس کے جلوس میں ستر ہزار فرشتے تسبیح و تحمید میں مشغول تھے۔ اس کا مرکزی مضمون توحید کے اصول و دلائل کا بیان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رسالت و آخرت کے موضوع پر بھی بڑی آب و تاب کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ دعوت کا کام کرنے والوں کو دلائل و براہین کے تیز دھار اسلحہ سے مسلح کیا گیا ہے۔ دلائل کا انداز کہیں الزامی ہے تو کہیں مطمئن کرنے کے لئے عقل و خرد کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے۔
سورہ کی ابتداء سے ہی دو خدائوں (یزدان واھرمن) کے عقیدے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین کا خالق اور ظلمت و نور کا خالق ایک ہی ہے اور وہ قابل تعریف ’’اللہ‘‘ ہے۔ پھر رسالت محمدی کے منکرین کی مذمت کرتے ہوئے قرآن کریم کی حقانیت کا اثبات کیا اور دھمکی دیتے ہوئے فرمایا کہ کتنی ہی قومیں ہیں جنہیں ہم نے اقتدار سے نوازا اور پھر بارشیں برساکر ان کے باغات کو سرسبز و شاداب بنایا اور انہیں معاشی خوشحالی عطا کی مگر وہ ہماری نافرمانی اور بغاوت سے باز نہ آئے تو ہم نے ان کے جرائم پر ان کی گرفت کرکے تباہ و برباد کردیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لے آئے لہٰذا تمہیں ہلاک کرکے دوسروں کو تمہاری جگہ دے دینا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ یا تو فرشتہ ہم سے آکر آپ کو نبی تسلیم کرنے کے لئے کہے یا ہمارے نام پر اللہ تعالیٰ خط بھیج دیں تو آپ کی نبوت کو تسلیم کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر ہم نے خط بھیج بھی دیا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے چھوکر اسے دیکھ بھی لیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہم فرشتے کو بھیجیں تو وہ بھی انسانی شکل میں ہی آئے گا اور ان کا اعتراض پھر بھی برقرار رہے گا۔ حضور علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اگر آپ کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو آپ سے پہلے انبیاء کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے۔ دنیا میں نکل کر دیکھیں وہ لوگ کیسے عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر دلائل جاری رکھتے ہوئے فرمایا اگر آپ پر کوئی مصیبت آجائے تو اسے اللہ ہی ٹالتے ہیں اور اگر وہ آپ کو فائدہ پہنچائیں تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر قیامت کا تذکرہ شروع کردیا کہ ہم جب انہیں قیامت میں جمع کرکے پوچھیں گے تو یہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے۔ یہ لوگ آپ کی بات سنتے ہیں مگر ان کی بدعملی کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں اس لئے قرآن کی باتوں کا یہ اثر قبول نہیں کرتے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بس زندگی دنیا ہی کی ہے۔ قیامت کے دن ہم انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کرکے پوچھیں گے اب بتائو یہ سچ ہے یا نہیں؟ پھر انہیں اپنے کفر کی سزا برداشت کرنی پڑے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کی ہدایت کے لئے اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کردی جائیں تو شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں، لیکن اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ یہ ہٹ دھرم ایمان نہیں لائیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر آپ ان کا اعراض برداشت نہیں کرسکتے تو زمین کے اندر کوئی سرنگ کھود کر یا آسمان پر سیڑھی لگاکر ان کی مطلوبہ نشانی کہیں سے ڈھونڈ کر لے آئیے۔۔آپ ان سے کہئے! اگر اللہ کا عذاب تم پر آجائے یا قیامت برپا ہوجائے تو کیا پھر بھی تم غیراللہ کو پکاروگے؟ ظاہر ہے کہ ایسے مشکل وقت میں اپنی مصیبتیں دور کرنے کے لئے تم اللہ ہی کو پکارتے ہو اور اپنے شرکاء کو بھول جاتے ہو۔ پہلی اقوام پر ہم نے تنگدستی اور بیماری ڈالی مگر وہ راہ راست پر نہیں آئے پھر ہم نے انہیں آرام و راحت دی اس پر بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز آنے کی بجائے سرکشی و ضلالت میں مزید ترقی کرگئے تو ہم نے اچانک انہیں ایسا پکڑا کہ وہ مبہوت ہوکر رہ گئے۔ ان کا نام و نشان مٹ گیا اور ظالموں کی جڑیں کٹ کر رہ گئیں۔
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ کے خزانے میرے اختیار میں نہیں ہیں اور نہ میں علم غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں فرشتہ ہونے کا دعویدار ہوں، میں تو اپنے رب کی وحی کا پابند ہوں۔ جن لوگوں کو اللہ کا خوف ہے اور اپنے رب کے سامنے جمع ہونے سے ڈرتے ہیں آپ انہیں قرآن کریم کے ذریعہ ڈراتے رہئے۔ اللہ کے علاوہ اس دن کوئی حمایتی اور سفارشی نہیں بن سکے گا۔ مشرکین مکہ کے متکبر اور ہٹ دھرم سرداروں کو اپنے ساتھ مانوس کرنے اور ہدایت کے راستہ پر لانے کی امید میں آپ ایسے مخلص اور غریب اہل ایمان کو اپنی مجلس سے نہ دھتکاریں جو اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے صبح و شام اس کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بھی امتحان کا ایک حصہ ہے کہ کافر و متکبر لوگ غریب مسلمانوں کو دیکھ کر حقارت سے ایسے جملے کسیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر ترجیح دی ہے؟ اللہ شکر گزاروں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، ایمان والے جب آپ کے پاس آئیں تو ان کے لئے سلامتی کی دعاء کریں اور انہیں اپنے رب کی رحمتوں کی خوشخبری سنائیں اور اگر نادانی کے ساتھ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اسے توبہ اور اپنی اصلاح کی تلقین کرکے امید دلائیں کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں۔ ہم اسی طرح وضاحت سے اپنی آیات بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا طریقہ کار واضح ہوجائے۔ پھر نظام کفر سے دوٹوک براء ت کے اظہار کی تلقین ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ مطلوبہ نشانیاں نبی کے اختیار میں نہیں ہیں۔ یہ اللہ کا اختیار ہے۔ غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں بحر و بر کی ہر چیز کا علم اسی کے پاس ہے۔ درختوں سے گرنے والا ایک پتہ یا زمین کی پنہائیوں میںکوئی دانہ اور کوئی بھی خشک و تر اس کے علم سے خارج نہیں ہے۔ اللہ کی قدرت اور اس کے حفاظتی نظام کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور یہ بتایا کہ اللہ کے عذاب کی مختلف صورتیں ہیں۔ آسمان سے بھی نازل ہوسکتا ہے۔ زمین سے بھی نکل سکتا ہے اور فرقہ واریت میں شدت کی بناء پر باہمی جنگ و جدل کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنی ستارہ پرست قوم کے ساتھ مناظرہ کا بیان ہے کہ ستارے، چاند، سورج ڈوب جاتے ہیں اور ڈوبنے والا محتاج اور کمزور ہے رب نہیں ہوسکتا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی امتیازی خوبی کا بیان ہے اور وہ ان کا یہ اعلان ہے ’’میں نے اپنا رخ ہر طرف سے موڑ کر یکسوئی کے ساتھ آسمان و زمین کے خالق کی طرف کرلیا اور میں مشرکین میں سے نہیں‘‘ پھر کمال اختصار کے ساتھ تین سطروں میں اٹھارہ انبیاء و رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے اور ان کی طرز زندگی کو اپنانے کی تلقین ہے۔
پھر قرآن کریم کے عموم و شمول اور اس کی حقانیت کا بیان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے و الوں کو روز قیامت ذلت و رسوائی اٹھانی پڑے گی۔ پھر قدرت خداوندی کی کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت ہے۔ اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کرتا ہے۔ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالتا ہے۔ (مادی طور پر جیسے مرغی سے انڈہ اور انڈے سے مرغی اور روحانی طور پر جیسے کافر کے گھر میں مسلمان اور مسلمان کے گھر میں کافر پیدا کرنا) دن وہی نکالتا ہے۔ سکون حاصل کرنے کے لئے رات کو لے آتا ہے۔ سورج چاند کو حساب کے لئے مقرر کیا ہے۔ خشکی و تری میں راستہ متعین کرنے کے لئے ستارے اسی نے بنائے ہیں۔ اسی نے ایک جان (آدم علیہ السلام) سے تمام انسان پیدا کرکے ان کی عارضی رہائش گاہ (دنیا) اور ان کی مستقل رہائش گاہ آخرت کو بنایا۔ آسمان سے پانی برسا کر کھیتیاں اور باغات پیدا کئے جن کے اندر سبزیاں، پھل، کھجوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے پھل بھی ہیں۔ پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں۔ علم، سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لئے قدرت الٰہی اور وحدانیت کے واضح دلائل ہیں۔ مشرکین مکہ کی تردید کی جن کا عقیدہ تھا کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں اللہ کی بیویاں ہیں اور فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور عیسائیوں کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی بیوی ہی نہیں ہے۔ اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وحی کی اتباع کی تلقین کی اور مشرکین کے معبودوں کی برائی کرنے سے روکا کیونکہ وہ ضد اور مقابلہ میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔ یہ لوگ قسمیں کھاکر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مطلوبہ نشانی دکھادی جائے تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ نشانیاں دکھانا تو اللہ کیلئے کوئی مشکل نہیں مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے۔☘

*اہم نکات*

توجہ سے اللہ کا کلام سننا اتنا اثر انگیز ھے کہ آنکھیں آنسووں بہانے لگتی ھیں اور دل حق کو پہچان کر عمل پر آمادہ ھو جاتا ھے ۔

حق بات اور عمدہ بات کرنے سے جنت لازم ھو جاتی ھے۔

ارادتا کھائی گئی جھوٹی قسم کا کفارہ 10 مساکین کو کھانا کھلانا یا لباس پہنانا یا ایک گردن آزاد کرنا ۔اگر استطاعت نہ ھو تو 3 دن کے مسلسل روزے رکھنا ھے ۔

دین سیکھنے کے لئے ضروری سوال کرنے میں ھی بھلائی ھے ۔غیر ضروری سوال کر کے مشکل پیدا نہیں کرنی ۔

قیامت کے دن سچوں کو انکی سچائی کے بدلے جنت ،اللہ کی رضامندی اور بڑی کامیابی ملے گی ۔

اللہ ہر حال اور عمل سے واقف ھے اس لئے چھپ کر بھی غلط کام نہیں کرنا ھے ۔

شکر گزاری پر نعمت ملنا اللہ کی رضا کا جبکہ نافرمانی کے باوجود نعمت ملنا ڈھیل دینے کے مترادف ھے ۔

رب کے قریب مگر دنیاوی لحاظ سے کم حیثیت لوگوں کو خود سے دور نہیں کرنا کیونکہ ایمان کی وجہ وہ سب سے زیادہ قیمتی ہیں ۔

غیب کی کنجیاں یا بحروبر کے خزانے ،زمین پر گرنے والا پتا یا اسکی گہرائیوں میں دب جانے والا دانہ سب کا جاننے والااللہ ھے ۔

اللہ اپنے بندوں پر غالب ھے ۔جب چاھے فرشتہ بھیج کر روح قبض کر سکتا ھے ۔

اللہ کی خاطر ابراھیم ؑ نے سب کنبہ چھوڑ دیا تو اللہ نے نسل انبیاء اور صالحین پیداکر کے بہترین جزادی ۔

قرآن کو پڑھ کر جو عمل کرے گا ۔اسکی زندگی برکتوں سے مالا مال ھو جائے گی ۔۔۔

*ختم شد*

_طالبِ دعا_ *💗 حفیظ الرحمن سعیدی 💗*

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Shah Waliullah Road
Karachi
75660

Opening Hours

Monday 09:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 23:00