Qari Farman Ali Online Quran Academy

Qari Farman Ali Online Quran Academy

Share

قابل اعتماد پروفیشنل ٹیچر جناب حافظ قاری فرمان علی صاح?

07/11/2024
04/11/2024

حمد و ثنا اور توبہ و استغفار

جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات سے دعا کیا کر:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

’’اے اللہ! مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعا، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6849۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت جمع کردیں گے۔

03/11/2024

Surat No 93 : سورة الضحى - Ayat No 7

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾
اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی
7 اس آیت کے ترجمہ میں بڑے بڑے مدعیان علم نے بری طرح ٹھوکر کھائی ہے اس لیے اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش فرمائیے۔ ضالا : ضلالت سے اسم فاعل ہے۔ عام طور پر ضلالت کا یہی مفہوم سمجھا جاتا ہے راہ راست سے بھٹک جانا، گمراہ ہونا، عقیدہ وعمل میں غلط راستہ اختیار کرنا۔ علمائے اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ حضور سرور عالم (علیہ الصلوۃ والسلام) اعلان نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی عقیدہ اور عمل کی ہر کجی سے معصوم تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مشرکانہ ماحول میں عمر بسر کی، لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی شرک نہیں کیا۔ زمانہ جاہلیت کی لغویات سے حضور کا دامن ہمیشہ محفوظ رہا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ عرب معاشرہ جس قسم کی فکری اور عملی گمراہیوں میں مبتلا تھا، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے ہمیشہ بالکل منزہ اور مبرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی سابقہ زندگی کو آپ کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون (10 ۔ 16) میں نے اپنی عمر اس سے پہلے تمہارے درمیان گزاری ہے۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ سورة النجم کی اس آیت میں ماضل صاحبکم وما غوی بھی حضور سے عقیدہ اور عمل کی گمراہی کی نفی کی گئی ہے۔ ان آیات کی موجودگی میں، تاریخ کی اٹل شہادت کے باوجود یہاں ضالا کا معنی گمراہ یا بھٹکا ہوا کرنا خود بڑی ضلالت ہے۔ العیاذ باللہ۔:: علمائے تفسیر نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بہت سے اقوال بیان کیے ہیں۔::1 ۔ ضلالت کا لفظ غفلت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لا یضل ربی ولا ینسی (طہ : 52) ای لایغفل : میرا رب نہ کسی چیز سے غافل ہوتا ہے اور نہ کسی چیز کو فراموش کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں ضالا بمعنی غافل مستعمل ہوا ہے۔ یعنی آپ قرآن اور احکام شرعیہ کو پہلے جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کا علم بھی بخشا اور احکام شرعیہ کی تفصیلات سے بھی آگاہ فرمایا۔ ای لم تکن تدری القرآن والشرائع فھداک اللہ الی القرآن وشرائع الاسلام۔ ضحاک، شہر بن حوشب وغیرہما سے یہ قول منقول ہے۔::2 ۔ جب پانی دودھ میں ملایادیا جائے اور پانی پر دودھ کی رنگ وغیرہ غالب آجائے تو عرب کہتے ہیں ضل الماء فی اللبن کہ پانی دودھ میں غائب ہوگیا۔ اس استعمال کے مطابق آیت کا معنی ہوگا کنت مغمورا بین الکفار بمکۃ فقواک اللہ تعالیٰ حتی اظہرت دینہ (کبیر) یعنی آپ مکہ میں کفار کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت عطا فرمائی اور آپ نے اس کے دین کو غالب کیا۔::3 ۔ ایسا درخت جو کسی وسیع صحرا میں تنہا کھڑا اور مسافر اس کے ذریعے اپنی منزل کا سراغ لگائیں اس کو بھی عربی میں الضال کہتے ہیں۔ العرب تسمی الشجرۃ الفریدۃ فی الفلاۃ ضالۃ اس مفہوم کے اعتبار سے آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جزیرہ عرب ایک سنسان ریگستان تھا جس میں کوئی ایسا درخت نہ تھا جس پر ایمان اور عرفان کا پھل لگا ہوا ہو۔ صرف آپ کی ذات جہالت کے اس صحرا میں ایک پھلدار درخت کی مانند تھی۔ پس ہم نے آپ کے ذریعہ سے مخلوق کو ہدایت پخشی۔ (کبیر) فانت شجرۃ فریدۃ فی مغارۃ الجہل فوجدتک ضالا فھدیت بک الخلق۔::4 ۔ کبھی قوم کے سردار کو خطاب کیا جاتا ہے لیکن اصلی مخاطب قوم ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی معنی ہے۔ ای وجد قومک ضالا فھداھم بک اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کو گمراہ پایا اور آپ کے ذریعہ سے ان کو ہدایت بخشی۔ علامہ ابو حیان اندلسی اپنی تفسیر میں اس مقام پر للکھتے ہیں کہ ایک رات خواب میں اس آیت کی ترکیب پر غور کر ررہا تھا کہ فوراً میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہاں مضاف محذوف ہے۔ اصل میں عبارت یوں ہے۔ وجدرھطک ضالا فھدابک۔::5 ۔ حضرت جنید قدس سرہ سے منقول ہے کہ ضالا کا معنی متحیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم کے بیان میں حیران پایا تو اس کے بیان کی تعلیم فرمادی۔::6؎ امام رازی کہتے ہیں کہ الضلال بمعنی المحبۃ کما فی قولہ تعالیٰ انک فی ضلالک المقدیم۔ یعنی یہاں ضلال سے مراد محبت ہے۔ جس طرح سور یوسف کی اس آیت میں ہے۔ مذکورہ آیت کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی محبت میں وارفتہ پایا تو ایسی شریعت سے بہرہ ور فرمایا جس کے ذریعہ آپ اپنے محبوب حقیقی کا تقرب حاصل کرسکیں گے۔ علامہ پانی پتی نے اس قول کو بایں الفاظ بیان کیا ہے۔:: قال بعض الصوفیۃ معناہ وجدک محبا عاشقا مفرطا فی الحب والعشق۔۔ فھداک۔۔ الی وصل محبوبک حتی کنت قاب قوسین او ادنی۔ یعنی بعض سوفیا فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی محبت اور اپنے عشق میں از حد بڑھا ہوا پایا تو آپ کو اپنے محبوب کے وصال کی طرف رہنمائی کی یہاں تک کہ آپ قاب قوسین او ادنی کے مقام پر فائز ہوئے۔:: علامہ آلوسی نے اس آیت کے ضمن میں یہ واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک بار حضور عہد طفولیت میں اپنے دادا جان سے الگ ہو کر مکہ کی گھاٹیوں میں چلے گئے۔ حضرت عبدالمطلب نے بہت تلاش کیا لیکن آپ نہ ملے جس سے آپ کی بےچینی بہت بڑھ گئی اور غلاف کعبہ کو پکڑ کر بارگاہ الٰہی میں فریاد کرنی شروع کردی۔ حضور کسی گھاٹی میں گھوم رہے تھے۔ اسی اثناء میں ابوجہل اپنی اونٹنی پر سوار اپنے ریوڑ کو ہانک کر لا رہا تھا۔ اس نے جب حضور کو دیکھا تو اپنی اونٹنی کو بٹھا یا اتر کر حضور کو جالیا اور اپنے پیچھے بٹھایا اور خود آگے بیٹھا اور اونٹنی کو اٹھنے کا اشارہ کیا لیکن اونٹنی اٹھنے کا نام ہی نہ لیتی۔ جب بڑی کوشش کے باوجود اس نے جنبش نہ کی تو ابوجہل حیران رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کو قوت گویائی بخشی اور اس نے کہا یا احمق ھو الامام وکیف یکون خلف المقتدی۔ اے بیوقوف یہ امام ہیں اور امام مقتدی کے پیچھے کھڑا نہیں ہوا کرتا اس نے ناچار آپ کو اٹھا کر آگے بٹھایا تو اونٹنی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے ذریعے اپنی والدہ تک پہنچایا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس امت کے فرعون ابو جہل کے ذریعے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جد امجد تک پہنچایا۔

03/11/2024

Surat No 93 : سورة الضحى - Ayat No 5

وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾

اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے

5 حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کی اشاعت و ترقی کے لیے ہر وقت فکر مند رہا کرتے۔ دین حق کی سربلندی کے لیے حضور نے اپنی تمام قوتیں اور کوششیں مرکوز کر رکھی تھیں۔ ایک لمحہ بھی چین سے نہ گزرتا تھا۔ اپنی امت کی بخشش و مغفرت کا خیال ہر وقت مضطرب رکھتا تھا۔ ان تمام تفکرات اور اضطرابات کو یہ فرما کر دور کردیا کہ آپ کا رب اپنے لطف وکرم کا آپ پر وہ مینہ برسائے گا کہ آپ کا قلب مبارک خورسند ومسرور ہوجائے گا۔ علامہ سید محمود آلوسی (رح) اس کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ھو عدۃ کریمۃ شاملۃ لما اعطاہ اللہ تعالیٰ عزوجل فی الدنیا من کمال النفس وعلوم الاولین والاخرین و ظہور الامر وعلاء الدین بالفتوح الواقعۃ فی عصرہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفی ایام خلفاہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ووغیرھم من الملوک الاسلامیۃ وفشو الدعوۃ والاسلام فی مشارق الارض ومغاربھا ولما ادخر جل وعلالہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فی الاخرۃ من الکرامات التی لا یعلمہا الا ھو۔ جل جلالہ وعم نوالہ۔::ترجمہ یہ اللہ تعالیٰ کا کریمانہ وعدہ ہے جو ان تمام عطیات کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضور کو دنیا میں سرفراز فرمایا یعنی کمال نفس، اولین وآخرین کے علوم، اسلام کا غلبہ دین کی سربلندی، ان فتوحات کے باعث جو عہد رسالت میں ہوئیں اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئیں یا دوسرے مسلمان بادشاہوں نے حاصل کیں اور اسلام کا دنیا کے مشارق ومغارب میں پھیل جانا۔ نیز یہ وعدہ ان عنایات اور عزت افزائیوں کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کے لیے آخرت کے لیے محفوظ رکھی ہیں جن کی حقیقت اور نہایت کو اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی نہیں جان سکتا۔::علامہ آلوسی نے یہاں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے ایک روایت نقل کی ہے۔::حرب بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے امام مذکور سے پوچھا کہ جس شفاعت کا ذکر اہل عراق کیا کرتے ہیں کیا یہ حق ہے ؟ آپ نے فرمایا بخدا حق ہے۔ مجھ سے محمد بن حنفیہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی۔ ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال اشفع لامتی حتی ینادی ربی ارضیت یا محمد فاقول نعم یا رب رضیت۔:: *حضرت سیدنا علی سے مروی ہے کہ حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں اپنی امت کے لیے شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میرا رب مجھے ندا کرے گا اور پوچھے گا یا محمد کیا آپ راضی ہوگئے۔ میں عرض کروں گا ہاں میرے پروردگار میں راضی ہوگیا۔::* اس کے بعد امام باقر نے اس شخص سے کہا کہ اے اہل عراق تم یہ کہتے ہو کہ *قرآن کریم کی سب سے امید افزا آیت یہ ہے* ۔ یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا۔ *لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ کتاب الٰہی میں سب سے زیادہ امید افزا آیت یہ ہے ولسوف یعطیک ربک فترضی۔::* امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ حدیث نقل کی ہے : عن ابن عمر انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلا قول اللہ تعالیٰ فی ابراہیم (علیہ السلام) فمن تبعنی فانہ منی وقولہ تعالیٰ فی عیسیٰ ان تعذبھم فانھم عبادک الایۃ فرفع (علیہ السلام) یدیہ وقال اللہم امت امتی وب کی۔ وقال اللہ تعالیٰ یا جبرائیل اذھب الی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقل لہ انا سنرضیک فی امتک ولا نسوک۔:: ترجمہ : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک روز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی فمن تبعنی فانہ منی (یعنی جس نے میری پیروی کی وہ میرے گروہ سے ہے) پھر یہ آیت پڑھی جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی ان تعذبھم الایۃ۔ (یعنی اگر تو نہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں) پھر اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھایا اور عرض کی الٰہی میری امت، میری امت، پھر حضور زاروقطار رونے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ فوراً میرے حبیب کے پاس جاؤ اور اسے جا کر یہ پیغام پہنچاؤ کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے معاملہ راضی کریں گے اور کبھی آپ کو پریشان نہیں کریں گے۔:: یہاں رب کی اضافت اس ضمیر کی طرف ہے جس کا مرجع حضور کی ذات ہے۔ اس میں لطف و محبت کا جو اظہار کیا گیا ہے وہ ارباب ذوق سے مخفی نہیں۔

02/11/2024

موت کا ذائقہ

31/10/2024

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔

30/10/2024

ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 101 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات۔


1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

2 غصے کو قابو میں رکھو
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،
سورۃ القصص، آیت نمبر 77

4 تکبر نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 23

5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 22

6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11

9 والدین کی خدمت کیا کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

‏10 والدین سے اف تک نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 58

12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282

13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36

14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280

15 سود نہ کھاؤ،
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

16 رشوت نہ لو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

17 وعدہ نہ توڑو،
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،
سورۃ ص، آیت نمبر 26

21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

28 بدگمانی سے بچو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

29 غیبت نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

30 جاسوسی نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

31 خیرات کیا کرو،
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو
سورة المدثر، آیت نمبر 44

33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

34 فضول خرچی نہ کیا کرو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،
سورة البقرۃ، آیت 262

36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،
سورة البقرة، آیت نمبر 114

40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 256

44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

47 جنسی بدکاری سے بچو،
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،
سورة البقرة، آیت نمبر 286

50 منافقت سے بچو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

55 بخیل نہ بنو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

56 حسد نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

62 صحیح راستے پر رہو،
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

67 جوا نہ کھیلو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

68 ہیرا پھیری نہ کرو،
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

69 چغلی نہ کھاؤ،
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

73 طہارت قائم رکھو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،
سورۃ النور، آیت نمبر 27

82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔
سورة توبہ، آیت نمبر 105

85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،
سورۃ النور، آیت نمبر 31

90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

98 خود کو لالچ سے بچاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

101 مجرموں پر ترس نہ کھاؤ. انہیں سر عام سزائیں دیا کرو
سورة نور،

حافظ محمّد اسلام نصیر پور کلاں

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Karachi

Opening Hours

Monday 05:00 - 23:59
Tuesday 05:00 - 23:59
Wednesday 05:00 - 23:59
Thursday 05:00 - 23:59
Friday 11:00 - 23:59
Saturday 05:00 - 23:59
Sunday 05:00 - 23:59