*کال کرنے کے آداب*
تحریر: اختر کریم
ہمیں مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کو کال کرنی پڑتی ہے جو وائس یا ویڈیو کال بھی ہو سکتی ہے۔ عام طور پر وائس کال، ٹیکسٹ میسیجز اور وائس میسجز استعمال کرنے کا زیادہ رجحان ہے لیکن بعض اوقات ہمیں ویڈیو کال بھی کرنی پڑتی ہے کال کرنے سے پہلے اگر مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیا جائے تو سب کے لئے آسانی پیدا ہو سکتی ہے
وائس کال اور ویڈیو کال کی کئی قسمیں ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں
1. Emergency Call
2. Routine Call
3. Courtesy Call
4. Commercial Call
5. Business Call
6. Feedback Call
7. Complaint Call
8. Gup Shup Call
9. Miscellaneous Calls
10. Fake & Obnoxious Calls
کال یا تو آپ خود کرتے ہیں یا آپ کو ریسیو ہوتی ہیں ان تمام کالز کے لیے الگ الگ طریقہ کار اور اوقات کار ہیں جن پر عمل کرنے سے کالرز اور رسیور دونوں کے لئے آسانی پیدا ہوتی ہے اور کال کی اثر انگیزی بھی قائم رہتی ہے۔
ایمرجنسی کال کا نہ تو کوئی مخصوص طریقہ کار ہے اور نہ ہی وقت کیونکہ ایمرجنسی کال کا مطلب ہی یہی ہے ایمرجنسی کال کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں مثلآ کسی حادثے کی خبر، کسی کی موت کی خبر یا کوئ ہنگامی صورتحال وغیرہ۔ اگر آپ کسی کو ایمرجنسی کال کر رہے ہیں تو اس بات کا اطمینان کر لیں کہ آپ نے صحیح نمبر ڈائل کیا ہے اور کیا کہنا ہے۔ ایمرجنسی کال کرنے کی صورت میں ہمیشہ پہلے اپنا نام اور جگہ کا نام بتائیں یہ تصور نہ کریں کہ آپ جسے کال کر رہے ہیں اسکے پاس آپ کا نمبر موبائل میں پہلے سے موجود ہے خاص طور پر اگر آپ کسی کو رات کے وقت فون کر رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ فون اٹینڈ کرنے والے شخص نے آپ کا نام دیکھے بغیرفون اٹینڈ کیا ہو اس لیے یہ اطمینان کر لیں کہ آپ کو پہچان لیا گیا ہے اس کے بعد انتہائی مختصراً اپنا مدعا بیان کریں ایمرجنسی کال کی صورت میں بات کو لمبا مت کریں۔
کسی حادثے سے یا اس طرح کی کسی اور ایمرجنسی کال رسیو ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کسی اور ذرائع سے بھی اس کی تصدیق کر لی جائے کیونکہ کہ کچھ جعل ساز اس طرح کی جھوٹی کال کر کے کوئی فراڈ کر سکتے ہیں۔
گھر، خاندان یا آفس وغیرہ میں کسی ممکنہ ایمرجنسی کی صورت میں اپنے موبائل کو کبھی بھی سائلنٹ موڈ میں مت رکھیں تاکہ بر وقت کال اٹینڈ کی جا سکے۔ نیز ایک متبادل نمبر بھی دے کر رکھیں۔
آپ جب بھی کسی کو نارمل فون کریں تو وقت کا خاص طور پر خیال رکھیں یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ آپ نے کال کیوں کی ہے ایمرجنسی کے علاوہ نارمل حالات میں کال کی جا رہی ہے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ کال ریسیو کرنے والا شخص ڈرائیونگ نہ کر رہا ہو، کھانے کے اور نماز کے اوقات میں کال مت کریں، رات کو دیر سے کال مت کریں اگر آپ کو اس شخص کی روٹین/ معمولات کا علم ہے تو اسے مدنظر رکھتے ہوئے کال کریں۔ کال اٹینڈ ہونے کی صورت میں بہتر ہے کہ یہ پوچھ لیا جائے کہ آپ اس وقت کہاں ہیں اور کیا آپ بزی تو نہیں یا کیا آپ سے بات ہو سکتی ہے ؟ اجازت ملنے کی صورت میں اپنی بات کی جائے۔
اپنے باس اور سینئیر کو فون کرنے سے پہلے اگر ایمرجنسی نہ ہو تو بہتر ہے کہ میسج کر کے اجازت لے لی جائے تاہم میسج کا جواب نہ آنے کی صورت میں کال کر لی جائے کیونکہ کئی دفعہ میسج وقت پردیکھا نہیں جاتا۔ بات مکمل ہونے کی صورت میں پہلے باس/سینئیر کو کال منقطع کرنے دیں۔
عام حالات میں کال کرنے کی صورت میں یا کال اٹینڈ کرنے کی صورت میں پہلے سلام کیجئے۔ اگر باس/سینئیر کی کال اٹینڈ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو کال کاٹنے سے بہتر ہے کہ فون کا آن/آف والا بٹن پریس کر دیا جائے اسطرح فون سائلنٹ موڈ میں چلا جائیگا۔ فارغ ہونے کے فوراً بعد کال کر لیں۔
بزنس و کاروباری کال کے دوران ذاتی و نجی باتوں سے پرہیز کریں۔
کمرشل کال اٹینڈ کرنے کی صورت میں کبھی بھی اپنی ذاتی معلومات ہرگز نہ دیں اور شک ہونے کی صورت میں بہتر ہے کہ کال منقطع کر دیں۔
اگر آپ کو کسی ایسے جاننے والی کی کال آتی ہے جس کا نمبر پہلے سے آپ کی فون بک میں موجود ہے لیکن آپ اس آواز کو پہچان نہیں پا رہے تو بہتر ہے کہ کال بند کرکے دوبارہ اس شخص کو فون کریں اور کچھ سوالات پوچھ کر تسلی کریں اور پھر بھی شک ہو تو کسی اور کو فون کرکے اس کے بارے میں معلوم کریں موبائل چھیننے یا گم ہونے یا اس شخص کے اغوا ہونے کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے۔ یا spoofing کے زریعے کسی کا موبائل نمبر استعمال ہو سکتا ہے۔
کال کے دوران اگر آپ کو محسوس ہو کہ سامنے والا مصروف ہے تو بہتر ہے کہ صرف ضروری بات کرکے کال بند کر دی جائے بعض اوقات لوگ مروت میں منع نہیں کرتے لیکن آپ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے ۔
باس اور سینئرز کو بھی اپنے جونیئرز کو کال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اس وقت کہاں پر موجود ہیں اوران کے اردگرد کا ماحول بات کرنے کے لئے سازگار ہے یا نہیں کیونکہ عام طور پر لوگ باس کا فون فورا اٹینڈ کر لیتے ہیں چاہے وہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہ بھی ہوں
کسی کی کال ریکارڈ کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی اقدام ہے کسی بھی ریکارڈ شدہ کال کو کسی دوسرے کو ہرگزفارورڈ نہ کریں یا سوشل میڈیا پر وائرل نہ کریں یہ ایک جرم ہے.
اسی طرح کسی کا وائس میسج اسکی اجازت کے بغیر آگے کسی کو مت بھیجیں۔ تقریباً تمام جدید موبائل فونز میں کال ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر آٹو ریکارڈنگ آن ہے تو تمام کال آپکے موبائل سیٹ میں ریکارڈ ہوتی رہیں گی اور کسی دوسرے کے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔ فون ریپرنگ کے لئیے دینے سے پہلے تمام کال ریکارڈ ڈیلیٹ کریں۔
آپکی کال مندرجہ ذیل جگہوں پر ریکارڈ اور انہی جگہوں سے لیک ہو سکتی ہے؛
1۔ آپکے اپنے موبائل فون میں
2۔ جسے آپ کال کر رہے ہیں اسکے موبائل فون میں
3۔ نیٹ ورک کے ڈیٹا بیس میں
4۔ دورانِ ٹرانسمیش کسی بھی ایسی جگہ جہاں کوئ اسپیشل equipment موجود ہو۔
5۔ اس مقام پر کسی Bugging device میں تاہم اس میں صرف آپکی یکطرفہ آواز ریکارڈ ہوگی۔
گپ شپ کال عام طور پر قریبی دوستوں اور عزیزوں کو کی جاتی ہے اس دوران اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوئ اہم اور سیکرٹ بات ڈسکس نہ کی جائے اور ارد گرد کے ماحول کا خیال رکھا جائے۔
*چند ضروری ہدایات*
1۔ کسی بھی صورت میں دوران ڈرائیونگ فون استعمال نہ کریں۔
2۔ وائس میسج اور کال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے بیک گراؤنڈ میں شور موجود نہ ہو
3۔ بغیر اجازت یا پیشگی اطلاع کے بغیر کبھی بھی کسی کو ہر گز ویڈیو کال مت کریں جب تک کہ پہلے سے طے شدہ نہ ہو کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ جس شخص کو ویڈیو کال کر رہے ہیں وہ اس وقت کس حالت میں ہے۔
4۔ کمپلین یا فیڈبیک کال کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ متعلقہ ڈیٹا لکھ لیا جائے جیسے شناختی کارڈ نمبرز، میٹر نمبر وغیرہ۔
5۔ اگر کسی دوسرے کو کال/میسج کرنے کے لئے فون دینا پڑے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کال فارورڈ کا کوڈ نہ ڈائل کر لے اسطرح آپکی کال اسکے نمبر پر فارورڈ ہو جائینگی۔
6۔ موبائل فون پر گفتگو کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپکی کال کہیں نہ کہیں ریکارڈ ہو رہی ہے۔
7۔ اپنے ذاتی کوائف کسی بھی صورت میں فون پر کسی کو نہ دیں۔
8۔ کسی کو مذاق میں حادثے کی خبر نہ دیں۔
9۔ رانگ کال آنے کی صورت میں لمبی بات نہ کریں۔
10۔ غیر ضروری میسیجز کے جوابات مت دیں۔
11۔ خواتین رانگ کال آنے والے نمبر فوری طور پر بلاک کر دیں اور کسی میسیج کا جواب نہ دیں۔
12۔ دھمکی آمیز فون کو ریکارڈ کریں اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔
13۔ انعامی اسکیم اور انعامات نکلنے والی تمام کالز کو جعلی سمجھیں چاہے کوئی جتنا بھی یقین دلائے۔
14۔ فیسبک میسنجر یا اسطرح کے دوسرے میسنجرز سے آنے والی کالز اور میسیجز میں موجود ہدایات پر عمل نہ کریں۔ خاص طور پر جب کوئ پیسے مانگے۔
15۔ اگر کوئی آپ سے کسی کا نمبر مانگے (خاص طور پر کسی خاتون کا) تو اجازت لیئے بغیر مت دیں۔
16۔ اگر آپ سے غلط نمبر مل جائے تو معذرت کئے بغیر فون منقطع مت کریں۔
17۔ موبائل فون کا "کی پیڈ" ہمیشہ لاک رکھیں ورنہ بعض اوقات اتفاقیہ کال مل جاتی ہےاور آپکی گفتگو کوئ دوسرا سن سکتا ہے۔ اگر آپ کو ایسی کال موصول ہو تو فوراً کال منقطع کر دیں۔ دوسری طرف کی گفتگو سننا غیر اخلاقی بھی ہے اور وقت کا ضیاع بھی۔
18۔ سفر پر جانے سے پہلے بیلنس اور چارج کا خیال رکھیں۔
19۔ ضروری کالز کے دوران بہتر ہے کہ ضروری باتوں کو ڈائری پر نوٹ کر لیا جائے۔
20۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز اتنی رکھیں کہ دوسری طرف والا آسانی سے سن سکے اور آپکے ساتھ والے ڈسٹرب نہ ہوں نیز پرائویسی بھی قائم رہے۔
21۔ کال کے دوران کوشش کریں کہ کسی دوسرے سے گفتگو نہ کریں اسطرح آپ کی کسی بات میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔
22۔ کال منقطع کرنے سے پہلے اطمینان کر لیں کہ آپ کی بات کو سامنے والے نے مکمل طور پر سمجھ لیا ہے۔
23۔ کچھ لوگ کال کرنے یا اٹینڈ کرنے کے بعد منقطع کئے بغیر فون رکھ دیتے ہیں اسطرح آپکی نجی گفتگو دوسری طرف والا سنتا رہتا ہے۔ کال کرنے یا اٹینڈ کرنے کے بعد اطمینان کر لیں کہ کال ڈسکنیٹ ہوچکی ہے۔
PAK Social Security & Safety
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PAK Social Security & Safety, Education, Karachi.
This page is premarily, created for the general public to create the sense of personal Safety & Security for better Threat Perception in daily routine life to safeguard the personal assets & social life.
رات سونے سے قبل گیس کے تمام آلات بشمول ہیٹرز اور ان کے لیے نصب والوز بند کردیں۔ گیس کے آلات کے استعمال سے قبل باورچی خانے کی کھڑکیاں اور دروازے کھول دیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد آلات کا احتیاط سے استعمال
حال ہی میں ایک 16 سالہ نوجوان کا انتقال ہوا۔ وہ اور اس کا بھائی ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ رات گئے وہ جھٹکے سے اٹھا، اس کے بھائی نے کہا کہ اس نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھا اور باتھ روم چلا گیا۔
قے کے بعد اس نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔ بعد میں اس کی موت ہوگئی۔
ڈاکٹر نے کہا کہ اس نے اپنی الٹی کو اندر رکھا، جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائے تاکہ وہ بستر یا قالین کو گندا نہ کرے، جس کی وجہ سے وہ ڈوب گیا۔
قے براہ راست اس کے ایئر ویز میں چلی گئی...
بچوں کو جہاں چاہیں قے کرنے دیں۔ ہمیں انہیں کبھی بھی قے کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائیں۔
قالین ہمیشہ دھویا جا سکتا ہے، لیکن ہم بچے کو واپس نہیں لا سکتے۔
یہ معلوماتی ہے اور زندگی بچا سکتا ہے۔
Car Knowledge
*آپکے بچے اور سوشل میڈیا*
تحریر:۔ اختر کریم
dated 06 October 2022
آپ نے اکثر کچھ بچوں کی ایسی ویڈیوز دیکھی ہونگی جن میں یہ بچے خوف و پریشانی میں مبتلا نظر آتے ہیں اور ٹیچرز کی منتیں ترلے کر رہے ہوتے ہیں اور انکی ٹیچرز انکے ان لمحات کی نہ صرف وڈیوز بنا رہی ہوتی ہیں بلکہ محظوظ ہوتے ہوئے اپنی ادائیں بھی دکھا رہی ہوتی ہیں جو کہ انکا اصل مقصد ہوتا ہے اور ان بچوں کی آڑ میں وہ اپنی مشہوری کر رہی ہوتی ہیں۔
اسکولوں اور گھروں میں چھوٹے بچوں کی چوری چھپے ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرنے کا رجہان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
بعض اوقات تو ان بچوں کے لئے ایسی سچویشن جان بوجھ کر پیدا کی جارہی ہوتی ہے۔ بہت چھوٹے بچوں کو اس طرح ہراساں اور پریشان کرنا نہ صرف ایک مجرمانہ فعل ہے بلکہ یہ انکی نفسیات پر ایک کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ اگر یہ عمل بار بار دہرایا جائے تو یہ بچے مستقل بنیادوں پر خوف کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس طرح انکی ساکھ اور جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔
میں نے کچھ ایسی ویڈیوز بھی دیکھی ہیں جن میں وڈیو بنانے کی خاطر بچے کے جسم کے نازک حصے پر مرغے سے چونچ کے زریعے حملہ کروایا گیا یا بکری کے بچے کے زریعے ایسا عمل کروایا گیا جیسے بکری کا بچہ اپنی بکری ماں کا نپل (تھن) منہ میں ڈال کر دودھ پیتا ہے۔ یقیناً یہ معصوم بچے کے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہوگا۔اس طرح کی بے شمار وڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور ایسی ویڈیوز مستقبل میں ان بچوں کے لئے شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہیں جو بچے کی نفسیات پر بہت برا اثر ڈالیں گی کیونکہ
ایسی ویڈیو انٹر نیٹ پر نہ صرف ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتی ہیں بلکہ ہزاروں/لاکھوں کی تعداد میں شئیر بھی ہوجاتی ہیں اور لوگوں کے پاس موجود رہتی ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسی ویڈیوز بنانے میں خود مائیں بھی شامل ہوتی ہیں جو اپنی کم علمی اور نادانی کے باعث اپنے ہاتھوں سے اپنے جگر گوشوں کا مستقبل خراب کر رہی ہوتی ہیں ۔
جب آپ اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرواتے ہیں تو داخلہ فیس کے ساتھ بھاری سیکیورٹی فیس بھی لی جاتی ہے اور آپ سے کئ فارمز پر دستخط بھی جن میں کئ قواعد و ضوابط شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق اسکول اور انتظامیہ کی حفاظت اور مفاد سے ہوتا ہے لیکن بچے کی سیکیورٹی اور سیفٹی کا اس میں کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا ۔
آپ نے کبھی بچہ داخل کرواتے وقت ، بچے کی سیکیورٹی کی ضمانت لی ؟ اس سکول میں بچے کی ساکھ ، ذات ، جذبات کو نقصان پہنچا تو اسکول کیا ہرجانہ ادا کرے گا؟
کبھی ہم نے اس نہج پر سوچا ہی نہیں ، ہم صرف نمبروں ، حاضریوں ، کتابوں، یونیفارم اور نصاب پر توجہ دیتے ہیں ۔ آپ نے داخلہ کرواتے وقت کبھی اسکول کو پابند نہیں کیا کہ کوئی ٹیچر بلا اجازت آپ کے بچے کی ویڈیو نہیں بنائے گا ؟ بھلے بچہ کتنا ہی کیوٹ ، معصوم اور تیز اور شرارتی کیوں نہ ہو۔
وہ اسکول جو اپائنٹمنٹ کے بغیر آپ کو ٹیچر سے ملاقات نہیں کرنے دیتے ، آپ کو کلاس رومز کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتے ، آپ اسکول کے احاطے میں موبائل سے ایک تصویر نہیں لے سکتے
تو پھر اسکولز کے کلاس رومز سے آپکی اجازت کے بغیر آپکے بچے کی انٹرنیٹ پر ویڈیوز کیسے وائرل ہو سکتی ہیں!
عموماً یہ حرکات نان پروفیشنل ، غیر سنجیدہ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ اور مائیں کرتی ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی ہی کچھ وڈیوز سے کچھ بچے ہہت مشہور ہوئے جیسے وہ ایک گول مٹول سا بچہ
*"پیچھے دیکھو پیچھے ، پیچھے تو دیکھو* "
اس طرح کی وڈیو سے مالی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں اور پورے خاندان کو مشہوری بھی ملتی ہے۔ اور پھر اس لالچ میں سب اخلاقیات اور اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر ایک بھیڑ چال شروع ہوجاتی ہے۔ راتوں رات مشہور ہونے کا خبط ساری حدیں پار کروا دیتا ہے۔ اچھے بھلے خاندانی اور بظاہر پارسا اور مذہبی نظر آنے والے حضرات بھی اپنی منکوحہ اور غیر منکوحہ کے ساتھ ہوشربا حرکتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی "جسم فروش" ہی سمجھتا ہوں۔
سوشل میڈیا نے ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی غیر محفوظ کردیا ہے۔ آپ تعلیمی کارکردگی کی ضمانت تو اسکول سے حاصل نہیں کرسکتے ، لیکن اپنے بچے کی پرائیویسی کی ضمانت ضرور لے سکتے ہیں اور اسکول انتظامیہ کو پابند کر سکتے ہیں کہ آپکے بچے کی کسی بھی قسم کی ایسی وڈیو نہ بننے دے اور نہ آپکی اجازت اور علم میں لائے بغیر وائرل کی جائے ورنہ آپ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔
کیا معلوم ہمارے بچے ، بچیوں کی اب بھی بیسیوں ویڈیوز نان پروفیشنل ٹیچرز کے موبائل میں محفوظ ہوں ، جن کا نہ بچے کو علم ہے اور نہ بچے کے والدین کو۔ اپنے بچے کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کی ایڈوانس ضمانت لیجیے اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے ۔ بچے کا جذباتی اور نفسیاتی استحصال ایک قومی نقصان ہے۔ بچے آپکا مسقبل ہیں اپنے مسقبل کی حفاظت کیجئے یہ آپکا قومی فریضہ ہے۔
یہاں تک تو بات ٹھہری ان معصوم بچوں کی جن کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ ہمارے وہ جوان بچے جو کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھتے ہیں اور باشعور ہو چکے ہیں خاص طور پر نوجوان بچیاں جو اپنی مرضی سے ایسی ویڈیوز بنا رہی ہوتی ہیں جن کو قابل مذمت اور Objectionable کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا یہی وڈیوز بعد میں ان کی اور انکے خاندان کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
میں ذاتی طور پر ایسے کئی واقعات کو جانتا ہوں جہاں زرا سی غلطی کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں برباد ہوئیں۔
وڈیو کال اور وائس کال کو ریکارڈ کرنا اب موجودہ دور میں کچھ اتنا مشکل کام نہیں رہا خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو مجرمانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ یاد رکھیئے اگر آپ کی ایسی کوئ ریکارڈنگ کسی کے موبائل میں موجود ہے تو پھر جان لیجئے کہ وہ ہر گز محفوظ نہیں.
خاص طور پر وڈیو کال میں آپکا لباس ،ظاہری حالت، غیر اخلاقی اور غیر مہذب گفتگو آپکے خلاف کئی سالوں بعد بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
لہذٰا اپنے بچوں (خاص طور پر بچیوں) کو سمجھائیں وہ ابھی نا سمجھ ہیں انکو انکے رحم و کرم پر مت چھوڑیں۔ انکے شب و روز کا خیال رکھیں۔ انکے چہرے اور باڈی لینگویج سے جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کسی پریشانی یا فرسٹریشن میں تو مبتلا نہیں۔
بد نصیبی سے ہماری بچیاں اور خواتین ہمارے موجودہ سماجی نظام کی وجہ سے ہمیں بہت کچھ بتا نہیں پاتیں ان کے ساتھ بہت سارے مسئلے مسائل چل رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے گھر میں ان کا ذکر نہیں کرسکتیں یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے تجربے اور زندگی کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود ایسے معاملات کو جانچنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح آپکے بہیت چھوٹے بچے بھی آپکو کچھ بتا نہیں پاتے آپ خود انکو مانیٹر کریں ان سے بات کریں اگر بچہ ڈرا، سہما ہوا ہے تو اسکے اسکول اور دوستوں سے معلومات لیں۔
اپنے چھوٹے بڑے تمام بچوں کو سمجھائیں، ہر بات، ہر لمحہ کو سوشل میڈیا پر اپڈیٹ کرنا اور وقت بے وقت اسٹیٹس لگانا، آپکی ذہنی حالت اور گھر کے حالات کو پوری دنیا کے سامنے آشکار کر دیتے ہیں۔ آپکے اپنے اور آپکے دشمن اسی کے مطابق آپکے لئیے اپنا لائمہ عمل اور پلان ترتیب دیتے ہیں۔
اللہ آپکا اور آپکے بچوں کا حامی وناصر ہو۔
Akhtar Karim
Criminologist
From FBR
Dear Taxpayers, Please beware of fraudulent emails being sent by scammers posing as FBR. Do not click on any link in the email to claim refund.
Plz avoid this Fatal mistake, in automatic transmission cars it may happen if its not properly parked or naturalized.
Parents need to be watchful of childrens online activities to avoid their involvement in cybercrime over internet/social media, ultimately resulting in penal consequences. For public guidance a list of software offering parental control is placed on
*آللہ کس سمت میں ہیں*
تحریر:
اختر کریم
اللہ ہر جگہ موجود ہیں یہی ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اللہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہیں کائنات میں کوئی جگہ ایسی نہیں جو اللہ کی دسترس سے دور ہو اسکی سلطنت تمام کائنات میں قائم ہے۔
سورج، چاند، ستارے اسی کے تابع ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق اپنے اپنے مقرر کردہ راستوں پر گامزن ہیں۔
گرہن کے وقت یہی بتایا جاتا تھا کہ سورج اور چاند سے کوئی غلطی ہوگئی ہے اپنے راستے پر چلتے چلتے یہ راستہ بھول گئے ہیں اور راستے سے بھٹک گئے ہیں اس لئے اللہ نے ان کو سزا کے طور پر آدھا کاٹ دیا ہے اور انکی پکڑ ہو گئ ہے۔
ہماری کل کائنات یہ زمین (جسے ایک بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا تھا)، چاند، سورج اور ننھے منے ستارے تھے۔ سورج زمین کے گرد گھومتا تھا اور سارا دن گرم رہنے کے بعد سمندر میں ڈوب جاتا تھا اور اگلے دن ٹھنڈا ہونے کے بعد پھر دوسری طرف سے نکل آتا تھا۔
کم سے کم دادی اماں نے تو یہی بتایا تھا۔ اور چاند پر ایک دادی اماں کی دوست بھی رہتی تھی جو پتہ نہیں کس کے لئے چرخا چلاتی رہتی تھی۔
اب معلوم ہوا کہ ان ننھے منے ستاروں کے سامنے ہماری زمین کی تو کوئی اوقات ہی نہیں۔
اب تک دریافت شدہ کائنات کا حجم تقریباً 13.8 بلین لائٹ ایئر ہے اور لائٹ ایئر اس فاصلے کو کہتےہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔
آج 22 ویں صدی میں آکر پتہ چلا کہ اس کائنات کی تو کوئی سمت ہی نہیں یہ اوپر نیچے، دائیں بائیں کا تصور صرف یہیں تک محدود ہے۔ سورج چاند اور ستارے ایک مقررہ راستے پر ایک مقررہ اسپیڈ کے ساتھ محو سفر ہیں اور یہ سفر ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں سال سے جاری ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ستارے اور سیارے اور کہکشائیں اپنے مقررہ راستے پر ایک مخصوصا اسپیڈ کے ساتھ رواں دواں ہیں اور ان کی اس رفتار میں سیکنڈ کے ہزارویں حصے کا بھی کوئی فرق نہیں آتا نہ ان میں مثبت اور نہ منفی اسراع پیدا ہوتا (acceleration/deceleration) ہے۔ ورنہ ہم تباہ ہو جائیں۔ روشنی کی رفتار سے صرف روشنی ہی سفر کر سکتی ہے کائنات کا کوئ اور ایٹم (مادہ) نہیں۔ روشنی کے علاوہ تمام توانائیاں (Energy) بھی تقریباً اسی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔
شاید مرنے کے بعد ہماری روح بھی اسی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اگر روشنی کی رفتار سے یہ سفر جاری رہے تو صرف ہماری اپنی کہکشاں (ملکی وے) سے باہر نکلنے کے لئے اسے ایک لاکھ سال لگیں گے ۔ اور ہم سے اگلی نزدیک ترین کہکشاں (اینڈرو میڈا) تک پہنچنے میں 25 لاکھ سال۔ اور ہماری کائنات میں کل ایسی کہکشائیں ٹریلین در ٹریلین ہیں۔
یقیناً جنت اور دوزخ بھی انہیں کہکشاؤں میں کہیں موجود ہوگی۔ انکا فاصلہ ہم سے کتنے لاکھ/کروڑ یا ارب ہے ہم نہیں جانتے۔ کائنات کی اس وسعت کو آج ہمیں سائنس نے بتایا ہے لیکن ہمیں بہت پہلے بتا دیا گیا تھا اس سیارے پر ہماری زندگی یوں ہے جیسے ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے دروازے سے باہر نکل جانا۔
بچپن میں کئ دفع اس بات پر ڈانٹ پڑی کہ جوتا یا چپل الٹی کیوں رکھی کیونکہ اسکا رخ آسمان کی طرف ہونا بے ادبی میں شمار ہوتا تھا آج بھی آللہ کو پکارتے وقت ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ دن کے وقت ہم جس آسمان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں رات کو وہی آسمان ہمارے مخالف سمت میں ہوتا ہے گویا ہمارے قدموں کے رخ کی طرف۔
*اس سے مجھے یاد آیا کہ امریکہ بھی ہمارے عین قدموں کے نیچے ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم بھی امریکہ کے عین نیچے ہیں، ہے تو یہ سارا زمین کے گول ہونے کا چکر لیکن اس معاملے میں تو ہم برابر ہیں نا لیکن سالا سمجھتا ہی نہیں اور کہتا ہے کہ نہیں ہمارے پاؤں تم پاکستانیوں سے زیادہ بھاری ہیں*
خیر بات کہیں اور نکل گئی ہم اس کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اتنی وسیع وعریض کائنات کے تخلیق کار کے بارے میں سمجھنا یوں ہی ہے جیسے چیونٹی 🐜 کا الجبرا سمجھنا۔
یا نوکیا 3310 میں گوگل میپ اور ٹرو کالر کی ایپلیکیشن لوڈ کرنا۔ لہٰذا یہ تو طے ہے کہ ہمارے دماغ کا ہارڈ وئیر اور سافٹویئر ایسا بنایا ہی نہیں گیا کہ ہم مالک و خالق کی ذات کا احاطہ کر سکیں ہاں جن کو وہ چاہے وہ ہارڈوئیر اور سافٹویئر مہیا کردے وہ اسکا اختیار ہے۔ لیکن مرنے کے بعد تمام جنتی اسکو دیکھ سکیں گے تو جن جن کو اپنے خالق سے ملنا ہے وہ اپنے کرتوت ٹھیک کر لیں۔
اب رہی یہ بات کہ اللہ ہے کس سمت میں اور اللہ کو کس سمت دیکھ کر پکارنا چاہیئے تو اسکی کوئ سمت نہیں بس آنکھیں بند کریں اور یاد کرلیں وہ ہر سمت سے آپ سے مخاطب ہو جائے گا بشرطیکہ آپکے دل پر مہر نہ لگا رکھی ہو۔
اور یہ تو آپکو یاد ہی رہے گا نا کہ امریکہ کو آپ ہر وقت اپنے قدموں تلے روندتے پھر رہے ہیں اسکے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ چلتے پھرتے رہیں اور کم سے کم سوئیں ورنہ سوتے وقت یہ قدموں کے نیچے نہیں رہتا۔
Copyright reserved
Dated 26 September 2022
*جدید جسم فروشی*
سائنس دان کہتے ہیں کہ اس سیارے پر پایا جانے والا ہر عنصر ہمارے جسم میں موجود ہے۔ ایک خلیہ سے جنم لینے والا ہمارا جسم اس کائنات کی سب سے انمول اور اعلیٰ تخلیق ہے اسکا کوئی ثانی نہیں۔ ہمارے جسم میں ہمارے ساتھ تقریباً 31 ٹریلین دوسرے جاندار (پیرا سائٹ) رہتے ہیں جو ہمارے لئے اتنا ہی ضروری ہیں جتنا ہم ان کے لیے۔ ہمارے جسم کا تقریبا %60 حصہ پانی ہے اور ایک بالغ شخص میں تقریباً پانچ لیٹر خون ہوتا ہے اور پورے جسم میں206 ہڈیاں موجود ہوتی ہیں۔
ہم اس سیارے پر واحد مخلوق ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی کششِ ثقل کے ساتھ عمودی (90 ڈگری پر) ہوتی ہے۔ اور ہم جسم پر کپڑے پہنتے ہیں اور جسم کے بال کاٹتے ہیں۔ ہمارے جسم جیسا جسم کسی اور مخلوق کا نہیں ہے۔
ہمارے جسم کے خلیات مرتے اور نئے بنتے رہتے ہیں اور اسطرح تقریبا سات سے دس سال میں پورا جسم تبدیل ہو جاتا ہے سوائے چند مخصوص اعضاء کے مثلاً دماغ کے خلیے (نیورونز) اور ہماری آنکھوں کے لینز اور دل کے ٹشوز وغیرہ ۔
ہمارے کان ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں اور آنکھیں اور جلد پیدائش کے بعد سے مرنے تک نہیں بڑھتیں۔
یہ جسم اسی سیارے کی پیداوار ہے ہم جو کچھ کھاتے پیتے ہیں وہی اس کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے۔ اس جسم کو زندگی روح بخشتی ہے جو کہیں دور کسی اور کہکشاؤں سے آتی ہے اور وہیں کہیں چلی جاتی ہے۔ روح کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے لیکن جسم کو ہم نے چیر پھاڑ کر سب کچھ جان لیا ہے۔ کچھ لوگ اپنے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کرتے رہتے ہیں۔اور اس کو خوبصورت بنانے کے نت نئے طریقے اپناتے رہتے ہیں بے شک جسم کو خوبصورت بنانا اور اس کی حفاظت کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن یہ جسم ہماری ملکیت نہیں کہ ہم جو چاہے مرضی کر لیں ایک حد تک تو ہم اس میں شاید کچھ تبدیلی کر سکتے ہیں لیکن اس پر مکمل عبور حاصل کرنا ایک انسان کا اختیار نہیں۔
اس وقت ملک میں میں ٹرانس جینڈر کے قوانین کے بارے میں بھی بحث جاری ہے جن کو اللہ تعالی نے مرد پیدا کیا ہے وہ عورت بننا چاہتے ہیں اور جن کو عورت پیدا کیا ہے وہ مرد بننا چاہتے ہیں گویا کہ کہ وہ خدا کی تخلیق سے متفق اور مطمئن نہیں لامحالہ یہ اللہ کے وجود سے انکار کے ہی مساوی ہے اللّہ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے ۔ لیکن میرا موضوع یہ قانون نہیں بلکہ جسم فروشی کے بارے میں ہے آپ نے ایک مشہور و معروف جملہ ضرور سن رکھا ہوگا،
"میرا جسم میری مرضی"
کچھ لوگ آللہ کے دیے ہوئے اس جسم سے پتا نہیں کیا کچھ کروانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ جسم اور بہت سارے جسموں کو متاثر کرتا ہے ہے۔
انسانی تاریخ میں جسم کو بیچنا ایک پرانا پیشہ ہے جسم فروشی کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنا جسم کسی دوسرے شخص کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں اور اس کے عوض ایک طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ نہ جانے کب کہاں اور کس مجبوری کی تحت کسی نے یہ کام شروع کیا ہوگا۔
جسم فروشی کے کئی پہلو ہیں، لفظ"جسم فروشی" ایک بدنام لفظ ہے۔ شکر ہے ابھی تک لوگوں نے گردے بیچنے والوں کو جسم فروش کہنا شروع نہیں کیا۔
کچھ لوگ تو پورے کا پورا انسان بیچ دیتے ہیں پتہ نہیں لوگ انکو "جسم فروش" کیوں نہیں کہتے !
جسم فروشی کے کئی روپ رہے ہیں جسموں کے جنسی استحصال کے علاوہ کلبوں، تھیٹروں ،سرکسوں ،میلوں اور شادی بیاہ اور نجی محفلوں میں جسموں کی نمائش اور اعضاء کی شاعری سے تماش بینوں کا لہو گرم کیا جاتا ہے اور پھر اسکا اگلا مرحلہ شروع ہوجانا ایک فطری عمل ہے۔
جسم کی نمائش کر کے یا جسم کی مختلف اداؤں سے کسی کے نفسانی جذبات کو ابھارنا چاہے کسی نجی محفل میں ہو، کسی فلم کی اسکرین پر ہو، کسی تھیٹر یا سر کس یا آپ کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل فون پر ہو کہلائے گا تو جسم فروشی ہی۔
اس وقت آپکو بہت سے شرفاء اور غیر شرفاء ایسی ہی وڈیوز میں ملیں گے۔ بہت سے میاں بیوی اور سگے بہن بھائ ہیں جو مسلسل اخلاقی اور غیر اخلاقی وڈیوز بنا بنا کر بیچ رہے ہیں جس میں انکی ہر قسم کی بیہودہ حرکتیں ملیں گی عرف عام میں انکو ٹک ٹاکر اور یو ٹیوبر وغیرہ کہتے ہیں ۔ ان ظالموں نے اپنے گھر کے بزرگوں کو بھی معاف نہیں کیا اور ان کے ساتھ مل کر ایسی بھونڈی اور اوچھی حرکتیں کرواتے ہیں جو یقیناً انکے لئے مناسب نہیں۔ ایک زمانے میں فلموں اور ٹیلیویژن پر زیادہ تر بازارحسن سے خواتین آتی تھیں۔ پھر دور بدلا اور عام گھرانوں کی خواتین بھی آنے لگیں۔ ٹی وی کی حد تک تو چلو ٹھیک ہے لیکن اپنی بیوی کو روزانہ بناؤ سنگھار کے ساتھ لوگوں کی طبع تفریح کے لئے سوشل میڈیا پر پیش کرنا جسم فروشی نہیں تو اور کیا ہے۔ اور شاید اس پیشے میں اتنے پیسے اور شہرت ہے کہ ہر دوسری فیملی کا فرد خاص طور پر نوجوان نسل ٹک ٹاکر اور یو ٹیوبر بن رہے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ہماری تباہی کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔ یہ لوگ ملک کی ترقی میں کوئ رول نبھانے کے بجائے اپنا وقت اور صلاحیتیں ایسی فضولیات میں ضائع کرتے ہیں۔
انہی کا ایک اور قبیلہ ہے جنکو پرانکسٹر کہتے ہیں۔ انکی حرکتیں تو انتہائی ناقابلِ برداشت ہوتی ہیں یہ آپکے ساتھ بیہودہ ، واحیات اور بدتمیز حرکت کرنے کے بعد کہیں گے کہ آپ کے ساتھ ایک چھوٹا سا مذاق کیا ہے پلیز کیمرے میں دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں آپ کیمرے میں ہاتھ ہلانے کے بجائے ان کے منہ پہ ہاتھ ہلا دیں۔ مشہور ہونا انسان کی بنیادی خواہشات میں سے ایک ہے اچھے بھلے عزت دار گھرانوں کی لڑکیاں مشہور ہونے کے چکر میں ایسی ویڈیوز بنانا شروع کرتی ہیں اور پھر ایک دن اس جسم فروشی کی دنیا میں گم ہوجاتی ہیں جہاں سے واپسی ان کے لئے ممکن نہیں رہتی ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
اللہ ہماری آنے والی نسلوں کو ان برائیوں سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
تحریر:
Akhtar Karim
Criminologist
Dated 21 Sep 2022.
(Copyright reserved)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi