24/03/2024
اے جنید تو بے شک کامیاب ھوگیا
تحریر : ریحان خان
میرا اس سے کوئ بہت گہری عقیدت کا رشتہ نھیں تھا
اس کے گانے سنا کرتا تھا جب ووہ ایک گلوکار تھا
ہاں دل دل پاکستاں جو اسکی پہچان بنا اسی نسبت سے میں بھی اسے پسند کیا کرتا تھا
جب اسنے تبلیغ اسلام سے اپنے آپکو وابسطہ کیا تو مجھے بھی شروع میں ایسا ھی لگا که شاید چار دن کی چاندنی هے
جب ساری عزت ،دولت اور شہرت دورہوگی اور جس پر تعیش زندگی کا عادی تھا وہ ختم ہوگی تو پھر اپنی پرانی روش پر چل نکلے گا
مگر ایسا ںہ ہوا
اسکی ثابت قدمی ںے اک زمانے کو حیران کردیا
وہ دین میں آگے بڑھتا ہی گیا، جڑتا ہی گیا
اسنے واقعی بہت مشکلات اور مالی تنگی کا سامنا کیا ہوگا
مگر آفرین هے اسکی استقامت پر کہ پھر کبھی اسنے پیچھے مڑ کر ںہیں دیکھا اور آگے ہی برھتا گیا
میں کوئ بہت لمبی چوڑی باتیں نھیں کروںگا کہ بہت کچھ اسکے بارے کہا اور سنا جا چکا ھے اسکی شھادت کے بعد
پر ہاں اتنا ضرور کہوںگا که اس میں واقعی ایسا کچھ تھا که جب اسکے انتقال کی خبر ملی تو دل ڈوب سا
گیا اور آںکھوں میں پانی بھر آیا
اسکی زندگی ہم سبکے سامنے عیاں تھی تو جب اسکی زندگی کے ان حصوں کا فلیش بیک سوچتا ھوں تو حیران ره جاتا ھوں
سوچتا ھوں کیسے کوئ انسان اپنی بنی بنائ شھرت یافته زندگی چھوڑ سکتا ھے
کیسے دولت اور شھرت سے مںہ موڑ سکتا ھے
کیسے پھر سے اک نئ ابتدء کر سکتا ھے سب کچھ چھوڑ کر
میں خود کبهی گانے سننے کا شوقین ہوا کرتا تھا
دن ھو یا رات ھر وقت گانے بجانا سننا سنانا
جب میں ںے گانا سننا چھوڑنا شروع کیا تو مجھے ایسا لگا جیسے دنیا کا مشکل ترین کام ھو
ایک وقت لگا مجھے مگر الله ںے ہدایات دی
آج یھی سوچتا ھوں که گانے سننا چھوڑنا اتنا مشکل کام تھا تو اس بندے کے لئے کتنا مشکل ترین ھوگا جو گانے گایا کرتا تھا اور دنیا جہاں میں مشهور تھا
کیسا مجاہدہ کیا ھوگا جنید جمشید ںے آج واقعی احساس ھوتا ھے
مگر الله کی قسم وہ کامیاب ھوگیا
الله ںے اسے اس سے بڑھ کر عزت ،دولت اور شہرت دی جو بطور گلوکار اسکے پاس تھی
آج اگر وہ ایک گلوکار کی حثیت سے مرتا تو اسکا تذکره ایسے ںہ ھوتا جیسے آج ہو رہا هے
واقعی انسان الله کے پاس آںے کی کوشش میں ایک قدم آگے آتا ھے تو الله چار قدم اسکی طرف بڑھتا هے
بے شک الله کی ذات ھی عزت دینے والی ھے اور الله ںے اسے اتنا سرخرو کردیا ھے که آج اسکے سنجیده مخالفین بھی اسے خراج تحسین پیش کر رھے ھیں
مگر افسوس مجھے ان جانور نما انسانوں پر هے جو اسکے مرنے پر خوشیاں منا رھے تھے
کیا انسان اور ایک مسلمان اتنا بھی گر سکتا ھے که کسی دوسرے مسلمان کے مرنے پر خوشیاں مناءے صرف اسلئے کے وہ اسکےمذھبی عقائد و نظریات کا حامل نھیں تھا
شاید ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا گیا تھا کہ جنید کے ساتھ ساتھ انسانیت کا جنازه بھی اٹھ گیا
ایک بد بخت لوگوں کا گروہ کہتا ھے کہ جتنے برے طریقے سے جنید کی موت آی ھے یہ شهادت نھیں بد ترین موت ھے
میں اس پر اننا لللہ ھی پڑھ سکتا ھوں مگر ایسے لوگوں کو یہ بات ضرور بتانا چاھوں گا کہ زرا تاریخ اٹھا کر دیکھ لو صحابہ کرام میں کیسی کیسی شھادتیں ھوئ ھیں
جسم کے حصے تک سلامت ںہ رہے اور بہت برا حال بھی کیا گیا انکے اعضاء اءر جسم مبارک کے ساتھ. کہ شہدا کے سردار حضرت حمزه کے تو ایک روایت کے مطابق آںکھیں تک نکال لی گیں اور انکا کلیجہ تک چبایا گیا مگر پهر انھی کو الله پاک ںے سید شھده کا اعزاز دیا
الله ںے تو جنید کو جس عزت سے نوازہ ھے اسکی نظیر نھی ملتی
بے شک عزت اور زلت اسی کے ھاتھ میں ھے اگر وہ کسی کو عزت دینا چاھے تو پوری دنیا بھی اسے ذلیل ںہیں کر سکتی اور اگر وھی زات کسی کو ذلیل کرنا چاھے تو پوری دنیا بھی ملکر کسی کو عزت نھی دلا سکتی
آپ کسی کو جنت یا جھنم کا سر ٹیفکیٹ ںہ دیں کہ یہ بات صرف الله ھی جانتا ھے مگر خداراہ اتنا تو لحاظ کریں کہ جو مسلمان اب اس دنیا میں نھیں رہا اسکے متعلق اگر کچھ اچھا نھیں کہہ سکتے تو برا بھی ںہ کہیں اور اسکا معاملہ الله کے سپرد کردیں
الله پاک ھم سبکو ںیک ھدایات دے اور دین پر چلنے کی توفیق )آمین