16/12/2025
فتح سمرقند
امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ الرحمة کے پاس ۔۔۔۔
ایک غیر مسلم پادری نے ۔۔۔۔
مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی ۔
پادری :
"ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔
اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ،
اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے ،
تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کرکے سمرقند پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔"
پادری کا یہ خط ایک قاصد دمشق لے کر آیا ،
لوگوں سے امیر المومنین کے محل کا راستہ پوچھا ،
تو وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ ،
جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔
ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لیپائی کررہا تھا ۔
وہ قاصد جس راستے سے آیا تھا ،
واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا ،
جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا :
میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا ،
نہ کہ اِس غریب شخص کا ،
جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا:
ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا،
وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”
قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جا کر دستک دی،
جو شخص کچھ دیر پہلے تک لیپائی کررہا تھا وہی اندر سے نمودار ہوا۔
قاصد نے اپنا تعارف کروایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔
حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پیچھے لکھا :
عمر بن عبد العزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام :
"ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔"
مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔
سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ،
تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا ،
کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے بڑے لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟
اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا ،
چنانچہ خط لے کر ۔۔۔
ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم سمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی ایک قاضی کا تعین کردیا ،
جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
قاضی نے پادری سے پوچھا:
کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا :
قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا،
نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی ،
اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا:
کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا :
قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا،
اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے ۔۔۔
نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا۔۔۔
اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے،
بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو ان کی زمینوں سے زیادہ سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں،
یہاں کا فوجی نظام دیگر علاقوں سے زیادہ مضبوط تھا ،
ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے،
ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کرلیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :
قتیبہ میری بات کا جواب دو،
تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت یا جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟
قتیبہ نے کہا :
نہیں قاضی صاحب،
میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا :
میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو،
اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے ،
نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ ۔۔۔۔
تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدے داران بمع اپنے بیوی بچوں کے،
اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدود سے باہر نکل جائیں ،
اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا ،
وہ ناقابل یقین تھا۔
چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر ،
قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جاچکا تھا۔
سمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ،
جب طاقتور فاتح قوم ،
کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ۔۔۔
یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔
عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔
اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کردے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں ۔۔۔۔
تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے دوڑے اور
"لا الٰہ الاّ اللہ محمّد رّسول اللہ"
کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ :
"یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے فخر سمجھیں گے۔"
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ ۔۔۔
سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔
آج غیر مسلم تو دور کی بات ،
دین سے دوری کا یہ عالم ہے کہ
مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
مستند حوالہ جات:
1) فتوح البلدان — امام بلاذری (م 279ھ)
باب: فتح سمرقند
(اہلِ سمرقند کی شکایت اور قاضی کے فیصلے کا بنیادی ذکر)
2) تاریخ الطبری — ابن جریر طبری (م 310ھ)
جلد 7 / واقعاتِ سمرقند
(قتیبہ بن مسلم کا فتحِ سمرقند اور اہلِ شہر کی فریاد کا حوالہ)
3) الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (م 630ھ)
سال 95–96 ہجری کے واقعات
(فتحِ سمرقند اور عدالتی فیصلہ مختصر بیان ہوا ہے)
10/12/2025
مجدد شرح مائۃ عامل
مجدد بمعنی جدیدیت پسند
مجدد المائۃ الحاضرہ
مولانا ڈاکٹر پروفیسر
طاہر القادری کے تجدیدی کارنامے
جس دن سے تحریک منہاج القرآن کی طرف سے آفیشلی ۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے لیے
"مجدد المائۃ الحاضرہ"
کے ٹائٹل کا نوٹیفکیشن آیا ہے۔
اس دن سے ڈاکٹر صاحب پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
یہ تنقید کسی اور جگہ سے نہیں بلکہ مولانا کے آبائی مسلک اہل سنت و جماعت کی طرف سے ہوئی ہے ،
اور اتنا شدید رد عمل آیا ہے کہ ۔۔۔۔
جس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کے آبائی مسلک والے ۔۔۔۔
انھیں "مجدد المائۃ الحاضرہ" نہیں مانتے۔
حالانکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی زندگی میں ایسے کئی تجدیدی کارنامے سر انجام دئیے ہیں ۔۔۔۔
جو سابقہ مجددین کے بس کی بات نہیں تھی۔
کیونکہ سابقہ مجددین شرعی مجددین تھے اور ڈاکٹر صاحب جدیدیت والے مجدد ہیں ۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے تجدیدی کارناموں میں سے چند کی نشاندہی ہم اس مضمون کے ذریعے کرتے ہیں:
1) سابقہ مجددین میں سے کسی نے بھی امت کے بچیوں اور بچوں کو ایسا تعلیمی ماحول فراہم نہیں کیا ۔۔۔۔
جیسا منہاج القرآن یونیورسٹی نے کیا ہے۔
ایک ایسا ماحول و نظام ۔۔۔۔
جہاں پردہ ، شرم و حیا کی تفریق ختم ہو جاتی ہے۔
جہاں اسلام کے نام پر ۔۔۔۔
بے پردگی اور مغربی مخلوط نظام تعلیم کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
2) سابقہ مجددین میں سے کسی نے بھی ۔۔۔۔۔
اپنے فاضلین کو مغربی وضع قطع اور مغربی فکر کے حامل اسکالر نہیں بنایا۔
یہ احسان صرف ڈاکٹر طاہر القادری کی دور اندیشی اور مجددی کا نتیجہ ہے۔
2) سابقہ مجددین میں سے کوئی بھی داڑھی منڈا یا ایک بالشت سے کم رکھنے والا نہیں تھا۔
یہ پہلے مجدد ہیں جنہوں نے داڑھی، پگڑی پر تنقید کا یہ حل نکالا کہ ۔۔۔۔
ان چیزوں کو پہلے اسلام سے نکال دیا پھر اپنی اور دوسروں کی زندگی سے بھی نکال دیا۔
3) مغرب نے اپنے سیاسی، عسکری ، معاشی اور میڈیائی پاور کے ذریعے ۔۔۔۔
اس امت کے اہل علم مذہبی طبقے کو ۔۔۔۔
معاشرے کے اندر حقیر بنا کر پیش کیا ۔۔۔۔
اور لفظ مولانا جو کبھی علماء اور امت کی شان ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔
اسے معاشرے میں گالی سے تعبیر کیا ۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا اس سلسلہ میں تجدیدی کارنامہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔
انہوں نے معاشرے میں اس لفظ و منصب کو اس کی سابقہ عزت لوٹانے کی بجائے۔۔۔
اسے جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا ہے۔
نہ خود مولانا کہلوانا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے ادارے کے فاضلین کو کہلوانے دیتے ہیں۔
"نہ ہو بانس نہ بجے بانسری"
یہ ہوا نا تجدیدی کارنامہ۔
4) احادیث نبویہ میں غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانے کی تمام وعیدات کے پیش نظر۔۔۔۔
سابقہ تمام مجددین میں سے کبھی کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ ۔۔۔۔
وہ کسی غیر محرم سے ہاتھ ملائیں۔
مگر موصوف نے یہاں بھی تجدیدی کارنامہ سر انجام دیا ۔
رسول اللہ ﷺ کے فرامین کی کوئی پرواہ نہیں کی ۔۔۔۔
اور آن کیمرہ غیر محرم عورتوں سے بارہا مصافحہ کیا۔
جبکہ آف کیمروں کا تو حساب ہی نہیں ہو گا۔
5) سابقہ تمام مجددین میں سے کسی نے بھی مشرکین و کفار کو اہل ایمان نہیں کہا۔
یہ پہلے مجدد ہیں جنہوں نے مستشرقین کی وضع کردہ اصطلاح ۔۔۔۔۔۔
"بلیورز اور نان بلیورز believers and non believers" استعمال کرتے ہوئے۔۔۔
یہود و نصاری کو اہل ایمان کے دائرے میں داخل کر کے ۔۔۔۔
عالمی استعمار کے ایجنڈے کے تحت پروان چڑھنے والے ۔۔۔۔
"وحدت ادیان" کے فتنے کے لیے۔۔۔
مسلم معاشرے میں راہ ہموار کی ہے۔
6) سابقہ مجددین میں سے جتنے بھی صاحب تصنیف ہوئے ہیں،
اُن میں سے کسی نے بھی تنخواہ دار لکھاریوں سے کتابیں لکھوا کر اپنے نام سے شائع نہیں کیں۔
یہ پہلے مجدد ہیں جنھوں نے یہ کام کیا۔
7) سابقہ مجددین میں سے کسی بھی مصنف پر علمی سرقہ کا الزام نہیں ہے ۔
یہ پہلے مجدد ہیں جن پر دوسروں کی تحریرات اپنے نام سے شائع کرنے کا نہ صرف الزام ہے ۔۔۔۔
بلکہ الزام پایہ ثبوت کو پہنچا ہوا اور حقیقت پر مبنی ہے ۔۔۔۔
اور اس پر ناقابل تردید دلائل و شواہد موجود ہیں۔
8) سابقہ مجددین میں سے کسی نے بھی اپنے پیروکاروں کے سامنے سیدنا رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھا۔
یہ پہلے مجدد ہیں۔
جنھوں نے کیمرہ پر ریکارڈڈ ویڈیوز میں یہ کام کیا ہے۔
کبھی انھیں 63 سالہ زندگی کی بشارت ملی اور کبھی کوئی دوسرا جھوٹ گھڑا۔
9) سابقہ مجددین میں سے کسی نے بھی کبھی کسی بد مذہب کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھا ،
بلکہ اُن کا رد کیا اور بھرپور انداز میں کیا۔
یہ پہلے مجدد ہیں، جو بد مذہبوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں ،
انھیں القابات سے نوازتے ہیں،
اُن سے القابات لیتے ہیں،
اُن کے افکار کو پرموٹ کرنے کے لیے اپنے ادارے میں انھیں مدرسین کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔
اور حتیٰ الامکان خود بھی شیعیت کے بعض نظریات کو پرموٹ کرتے ہیں۔
10) سابقہ مجددین میں سے کسی بھی مجدد نے کبھی کسی گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کرنے والے کو قاتل نہیں کہا۔
بلکہ اُن کے نزدیک تو ایسا شخص غازی اور امت کے سر کا تاج ہوتا تھا۔
یہ پہلے مجدد ہیں جنھوں نے گورنر گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کرنے والے غازی کو قاتل کہا ۔۔۔۔۔
اور قاتل کو دی جانے والی سزا کا مطالبہ کر کے ۔۔۔۔۔
حکمرانوں ، اہل مغرب، لبرلز اور قادیانیوں کو خوش کیا۔
11) سابقہ مجددین میں سے کسی نے اپنی سالگرہ نہیں منائی ۔۔۔
اور بات سالگرہ تک ہوتی تو شاید کچھ راہ نکل آتی ۔۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی سالگرہ میں بھی ہر سال تجدید ہوتی ہے ۔۔۔۔
پہلے ان کی سالگرہ پر ان کے کارکنان ڈھول کی تھاپ پر ڈانس کرتے جسم تھرکاتے نظر آتے تھے ۔۔۔۔۔
حالیہ سالگرہ پر مجدد المائۃ صاحب کارکنان کی شدید فرمائش پر خود بھی رقص میں مشغول رہے ۔
ایسی مجددانہ خدمات سابقہ مجددین میں کوئی ڈھونڈ کر بھی نہیں نکال پائے گا ۔
12) حدیث شریف کے مطابق مجدد کی خدمات کے عروج کا زمانہ ایک صدی کے آخر اور دوسری صدی کے شروع کا ہوتا ہے۔۔۔۔
سابقہ تمام مجددین اسی مذکورہ شرط پر پورے اترتے ہیں۔
یہ پہلے مجدد ہیں جن کا "خروج" جی ہاں "خروج" ۔۔۔۔۔۔
1447ھ یعنی صدی کے وسط میں ہو رہا ہے۔
وہ بھی باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے مجدد ہونے پر اور بھی بہت سے قرائن اور شواہد ہیں۔
جنھیں میں اس لیے نہیں لکھ رہا کہ حق قبول کرنے والوں کے لیے یہ کافی ہیں۔
اگر آپ ان دلائل کے باوجود انھیں مجدد تسلیم نہیں کرتے ۔۔۔۔۔
تو جان لیں کہ آپ حاسد ہو،
بغض رکھتے ہو،
تنگ نظر ہو۔
اور مجھے ڈر ہے کہ اگر مجدد دوراں کو غصہ آگیا ۔۔۔۔
تو عنقریب اُن کا متوقع بیان کچھ اس طرح کا آسکتا ہے:
"سن لو !!!!
کان کھول کر سن لو!!!!
سابقہ مجددین کو منصب مجددیت بعد میں دیا گیا ہے۔
میں ماں کی کوکھ سے ہی مجدد پیدا ہوا ہوں۔
عالم رؤیا میں جب میں نے امام اعظم ابو حنیفہ سے شرف تلمذ حاصل کیا تھا،
انھوں نے اسی وقت مجھے شیخ عبد القادر جیلانی کے ہاتھوں سند مجددیت سے نواز دیا تھا۔
اس مجلس میں سیدنا عمر بن عبد العزیز اور بادشاہ عالمگیر بھی موجود تھے۔
اب قیامت تک کے لیے میں شریعت، طریقت اور سیاست کا مجدد ہوں۔
اگر میں مجدد نہیں تو دنیا میں کوئی مجدد پیدا ہی نہیں ہوا۔
میں مجدد ہوں،
میں مجدد ہوں،
میں ہی مجدد ہوں،
بھائی مان لو مجھے مجدد ۔۔۔۔
تمھارا کیا جاتا ہے۔"
منقول
02/12/2025
ایک مدرس و محرر و مؤلف کو ایسا ہونا چاہیے؟؟!!
میں نے لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں لکھا،
بلکہ انھیں فائدہ پہنچانے کے لیے لکھا ہے،
اور نہ ہی انھیں یہ کہتے یا سننے کے لیے لکھا کہ :
"تم نے واقعی اچھی تحریر لکھی ہے"
بلکہ جو کچھ بھی لکھا ہے،
ان کے دلوں پر لکھا،
تاکہ
اس تحریر کا مثبت اثر ان کے دلوں میں نفوذ کر جائے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
كتاب النّظرات للمنفلوطي ،
ج 1 ص 33 :
ما كُنتُ أكتب للنَّاسِ لِأعجبهُم ،
بل لِأنفعهُم ،
ولا لأسمَع مِنهُم :
« أنت أحسنت » ؛
بل لِأجد في نفُوسِهِم أثرًا ممَّا كتبتُ۔
23/11/2025
آگاہی ردِّ مغرب و جدید الحاد کورس
ایک روزہ تعارفی نشست
30 نومبر بروز اتوار | وقت: صبح 8 سے 12 بجے | محدود نشستیں
کورس میں آپ سیکھیں گے:
مغرب میں الحاد کے پھیلاؤ کے اسباب
الحاد کے بارے میں چند اہم حقائق جو ہر مسلمان کو جاننے چاہئیں!
الحادی اصطلاحات کا مسلم معاشرے میں اثر!
مدارس میں جدیدیت کا پھیلاؤ کس طرح ہوتا ہے ؟
منطق اور علم کلام سے جدید الحاد کا مقابلہ کیسے ممکن ہے ؟؟
الحاد و لادینیت سے نوجوان نسل کی حفاظت کیسے کریں؟
الحاد کے مقابلے کا مؤثر حل
مقام:دارالعلوم میمن ، نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ
رابطہ برائے رجسٹریشن : 03172584877
Follow this link to join my WhatsApp group: https://chat.whatsapp.com/BrTjj1SZPsG553ydYf3QiQ?mode=hqrt1
20/11/2025
مقصدیت کی طرف آئیں۔۔۔۔۔۔۔!!!!
موجودہ دور میں دینی اداروں سے فارغ التحصیل خواتین و حضرات کی بنیادی کمزوری۔۔۔۔۔۔
" مقصدیت کا فقدان " ہے۔
مقصد واضح نہ ہونے کی وجہ سے لازمی طور پر
علمی کمزوری بھی آتی ہے،
دین سے دوری بھی ،
اور اخلاقی گراوٹ بھی آتی ہے۔
لیکن جب یہ کارآمد لوگ مقصدیت کو پہچان لیں گے
تو اپنی محنت کے دائرے کو بھی پہچان لیں گے۔
آسان انداز میں ،
جب منزل پہچان لیں گے
تو راستے کا چناؤ بھی آسان ہو جاتا ہے اور راستے کی مشکلات بھی پھول لگتی ہیں
سوال:
مقصد حیات کیا ہے ؟؟
جواب:
1) ہر میدان میں غلبۂ اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا
2) اپنی جتنی طاقت ہے وہ صرف غلبۂ اسلام کے لئے ہی استعمال کرنا
2) اللّٰہ عزوجل اور رسول ﷺ کی عظمت و جلالت و محبت ۔۔۔۔
اپنے اور دوسروں کے دلوں میں راسخ کرنا۔
3) اللّٰہ عزوجل اور رسول ﷺ کا اندھا مقلد بننا،
اور دوسروں کو بھی اسی اعلیٰ درجۂ ایمان تک پہنچانا ۔
4) کفر اور کافر سے خود بھی نفرت کرنا ،
اور دوسروں کو بھی نفرت کروانا ۔
5) جو لوگ اس مقصد حیات کو بھول چکے ہیں اور غافل ہیں۔۔۔۔
انہیں یاد دلانا اور مقصد حیات کے حصول پر لگانا۔
سوال:
مقصد حیات معلوم ہوگیا ،
منزل کی پہچان ہو گئی،
اب کون سا راستہ اختیار کریں ؟؟؟
جواب:
ماضی کے عروج اسلام کی یہ خصوصیت تھی اور بڑی نعمت تھی کہ۔۔۔۔۔
ہر مسلمان مقصد حیات کو جانتا تھا ۔۔۔
مسلمان زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوتا ،
بادشاہ سے لے کر فقیر تک،
ہر کوئی اپنی صلاحیتوں کو غلبۂ اسلام پر لگاتا تھا۔
غلبۂ اسلام کے لئے خود بھی جان توڑ کوشش کرتا تھا ۔۔۔
اور آنے والی نسلوں میں اس عظیم مقصد کو منتقل کرتا تھا،
اب امت مسلمہ مقصد حیات کو بھلا چکی ہے،
مسلمان کے مقصد حیات اور کافر کے مقصد حیات میں اب کچھ فرق باقی نہیں رہا ۔
کافر کی زندگی کا مقصد ہے،
کھانا پینا کمانا عیاشی لگژری لائف گاڑیاں بنگلے گھومنا پھرنا وغیرہ وغیرہ
مسلمان کی زندگی کا مقصد بھی اب یہی رہ گیا ہے ۔
چونکہ ہمارا موضوع فارغ التحصیل خواتین و حضرات ہیں،
تو طوالت سے بچتے ہوئے ،
انہی کے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں۔
محنت کے بنیادی دائرے یہ ہیں:
(1) عالمِ محقق
تحقیق میں مہارت رکھتا ہو۔
فقہی و اجتہادی بصیرت کا حامل۔
گذشتہ علمی روایت کا امین ہو اور جدید مسائل کا حل ،
روایت کی روشنی میں پیش کرنے والا ہو ،
نہ کہ جدیدیت کے تاریک گڑھے میں کود جائے۔
(2) عالمِ مصنف / مؤلف / مورخ
تحریر و تصنیف کے ذریعے دین کی علمی خدمت کرے۔
دینی مواد کو منظم اور معیاری انداز میں تحریری صورت دے۔
جن موضوعات کی شدت سے ضرورت ہے ان پر قلم اٹھائے ۔
(3) عالمِ مدرس
اسلامی علوم کو بہترین انداز میں منتقل کرے۔
آنے والی نسلوں کے لیے مستحکم علمی اساس فراہم کرے۔
نئی نسل تک درست مقصد حیات پہنچائے اور طلباء کی رہنمائی کرے ۔
(4) عالمِ متکلم / داعی
دین کا دفاع کرنے والا۔
باطل ادیان و نظریات کے رد میں مہارت رکھتا ہو۔
عقائد کی حفاظت کا میدان سنبھالے۔
(5) عالمِ منتظم
مدارس کے نظام کو سنبھالے۔
تنظیم، انتظام اور نظم و ضبط کے ذریعے تعلیمی سلسلوں کو مضبوط کرے۔
علماء و طلباء کے استحصال کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
(6) عالمِ امام / قاری
مساجد کے نظام کی نگہبانی کرے۔
بنیادی دینی ضروریات کو معاشرے میں زندہ رکھے۔
محلے داروں سے تعلقات استوار کرے اور ان کی نسلوں کو مذہب سے وابستہ کرے ۔
7) عالم مقرر:
اصلاح و تربیت کا اہتمام کرے ،
معاشرے کی برائیوں کے خاتمے کے لئے ذہن سازی کرے ،
مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرے ۔
8) عالم دیگر شعبہ جات میں :
طب، سیاست، قانون، معاشرت، معیشت وغیرہ کے علوم سیکھے۔
ان میدانوں میں دینی فکر کے ساتھ خدمات سر انجام دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقصد حیات نہ جاننے
یا جاننے کے باوجود اسے اہم نہ ماننے ۔۔۔
کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل :
(1) میڈیا اور سوشل میڈیا زدہ علماء
یوٹیوبر، وی لاگر والے ’’میڈیا علماء‘‘
اصل مقصدِ علم کو پسِ پشت ڈال کر شہرت یا میڈیائی مصروفیت میں مبتلا ہو جانا۔
(2) منحرف نوجوان مولوی
ادیب، شاعر یا فلسفی بننے کے چکر میں بنیادی مقصد بھول جانا۔
مدارس کے نظام اور اپنی اصل روایت سے دور ہو جانا۔
(نوٹ: ادب و شعر سیکھنا مفید ہے، مگر بنیادی مقصد قربان کر کے نہیں۔)
(3) ڈسکورسزم اور فکری انحراف
جدید ڈسکورسز میں گم ہو کر اعتقادی روایت کو بھول جانا۔
بعض کا لبرل ازم، سیکولرزم، الحاد یا دہریت تک چلے جانا۔
جدید اداروں کے اثر میں آ کر اپنی دینی بنیاد کھو دینا۔
خلاصہ:
فارغ التحصیل خواتین و حضرات کے لیے ضروری ہے کہ
وہ اپنے بنیادی مقصد کا تعین کریں۔
محنت کے واضح دائرے طے ہوں
تاکہ انحراف، مقصدیت کے فقدان اور فکری بھٹکاؤ سے بچا جا سکے۔
یہی راستہ علماء کی علمی، دینی اور معاشرتی خدمت کے لیے سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
محمد انس بندیالوی
20 نومبر 2025
05/11/2025
بسم اللہ الرحمن الرحیم
🌿 طالبِ علم کی ذمہ داری 👳🏻
وہ طلبائے کرام جو دینِ حق کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں — حقیقت میں وہ ربِّ العالمین کے چنے ہوئے بندے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں علمِ دین حاصل کرنے کا شوق اور الہام پیدا فرما دیتا ہے، حالانکہ اکثر کو آغاز میں علم یا اس کی حقیقت کا شعور بھی نہیں ہوتا۔
مگر افسوس! بہت سے طلبہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ دینی علم ان کے لیے دنیا و آخرت میں کتنا نفع بخش ہے۔ وہ علمِ دین کو بھی دنیاوی تعلیم کی طرح محض کتابوں تک محدود رکھتے ہیں، حالانکہ علم کا اصل فائدہ کتابوں سے باہر ظاہر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ کہتے نظر آتے ہیں:
“ہمیں کیا ملا؟ ہم نے کیا حاصل کیا؟”
طالبِ علم کو چاہیے کہ علم کو اپنے ذہن و دل میں اجمالی طور پر نقش کر لے — کہ اس علم کا آغاز کیا ہے، اس کے مسائل کیا ہیں، اور اس کا فائدہ کیا ہے۔
مگر اکثر طلبہ اس سے غافل رہتے ہیں۔
دوسری خرابی:
طلبہ جب علم حاصل کرتے ہیں تو اپنے ذہن میں ایک خاص مقام یا مرتبہ طے کر لیتے ہیں — کبھی مالی حیثیت کے لحاظ سے، کبھی عہدے کے اعتبار سے۔ پھر ان کے دل میں ایک خ*ل بن جاتا ہے کہ "جو ہم نے سمجھا، وہی درست ہے، جس سے ہم نے پڑھا، وہی صحیح ہے"۔
یہ فکری جمود ایک طالبِ علم کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
تیسری خرابی:
جب کچھ علم آ جاتا ہے تو بعض طلبہ خود کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ مطالعہ کی بنیاد پر بغیر کسی استاد کی نگرانی کے علوم سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ استاد کی سرپرستی وہ نعمت ہے جو ایک لمحے میں وہ سمجھا دیتی ہے جس کے لیے شاگرد مہینوں محنت کرتا ہے۔
اس لیے طالبِ علم کو ہمیشہ کسی استاذِ کامل کی نگرانی میں رہنا چاہیے۔
مالی معاملات میں آزمائش:
اگر گھر والوں کی طرف سے مالی کمی ہو، یا خود مال کی طمع دل میں پیدا ہو جائے — یہ دونوں چیزیں علمِ دین کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایسی صورت میں طالبِ علم کو صبر و توکل سے کام لینا چاہیے، اللہ سے دعا کرے کہ وہ اس حال سے نجات دے۔
اور اگر کبھی مجبوری کے تحت دنیاوی محنت کرے تو خوشی سے نہیں بلکہ ضرورت کے تحت کرے، اور جلد اصل مقصد یعنی علمِ دین کی طرف واپس آجائے۔
علم حاصل کرنے کا مقصد:
طالبِ علم کا مقصد صرف دین کی سربلندی، اسلام کا دفاع اور حق کی خدمت ہونا چاہیے — نہ کہ خود کو بڑا عالم، مفسر یا مفتی بنانا۔
کیونکہ اگر مقصد ذاتی بڑائی بن گیا، تو بندہ اپنے آپ کو دھوکا دے گا، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ دین کی خدمت کر رہا ہے، حالانکہ وہ اپنے نفس کی خدمت میں لگا ہوا ہوگا۔
اسلام کو جس میدان میں ضرورت ہو، طالبِ علم کو اسی سمت میں کام کرنا چاہیے، نہ کہ اپنی طبیعت کے میلان کے مطابق۔
تبھی وہ اس انتخاب کا حق ادا کر سکے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے چنا ہے۔
ثاقب شاہ
03/11/2025
فکری بیداری کی جانب علمی پیش قدمی!
"دارالعلوم میمن" پیش کر رہا ہے :
مغربی فتنوں، الحادی نظریات اور فکری انحراف کے طوفان کے مقابلے میں
سلسلۂ مقالات
اس کتاب میں آپ پڑھیں گے!
• الحادی فتنوں اور مغربی فکری سازشوں کا حکیمانہ و بصیرت افروز تجزیہ۔
• باطل نظریات کے نقاب اُتارنے والے ٹھوس اور ناقابلِ تردید دلائل۔
• دین بیزاری اور فکری انحراف کے اسباب و اثرات کا گہرا مطالعہ۔
• مغربی تقلید کے زہریلے اثرات کے مقابل فکری و ایمانی استقامت ۔
• ذہنی الجھنوں اور گمراہ کن نظریات کا مدلل، روشن اور تسلی بخش جواب۔
(پہلا سلسلہ:)
"شکوک کے صحراء میں یقین کا قافلہ"
زیر سر پرستی: علامہ ڈاکٹر عمران شامی صاحب
جمع و ترتیب: محمد انس بندیالوی
پیش کردہ: دار المیمن للتحقیقات الاسلامیہ دار العلوم میمن، بولٹن مارکیٹ کراچی
17/10/2025
صوفیاء فرماتے ہیں کہ...!!
اس دنیا سے جاؤ گے
تو ایک عجیب واقعہ ہوگا
یا تو تم ایک قید خانے سے رہا ہو جاؤ گے اور اپنے سامنے کھلی فضا پاؤ گے
یا پھر ابھی تم آزاد پھرتے ہو اور یہاں سے نکلتے ہی ایک قید خانے میں چلے جاؤ گے...!!
لہذا ہمیشہ یاد رکھو
ایک قید گزارنا ہر انسان کے لئے ضروری ہے
خواہ یہاں دنیا کی قید کاٹ لو
یا وہاں آخرت کی قید ،
یہاں عمل اور بندگی کی قید ہے اور چند دنوں کی بات ہے،
وہاں بے بسی اور جہنم کی قید ہے اور ہمیشہ کی قید ہے،
وہاں کے دن بہت لمبے اور نہ ختم ہونے والے ہیں...!!
چاہو تو یہاں قید کاٹ جاؤ
اور چاہو تو وہاں جہاں قید کٹے گی ہی نہیں...!!!
09/10/2025
♧ ایک لیکچر کے دوران پروفیسر نے اچانک ایک گلاس پانی اٹھایا اور خاموشی سے اوپر تھام لیا۔ طلباء خاموش ہو گئے، سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ پروفیسر آخر کیا کہنا چاہتے ہیں۔
دس منٹ گزر گئے لیکن انہوں نے اب بھی ہاتھ نیچے نہ کیا۔ پھر وہ بولے : “بتاؤ، یہ گلاس کتنا وزنی ہوگا؟” طلباء نے اندازے لگائے : “دو اونس!” “چار اونس!” “پانچ اونس!”
پروفیسر مسکرائے : “شاید تم درست ہو، شاید غلط۔ اصل وزن جاننے کے لیے ہمیں ترازو چاہیے۔ مگر میرا سوال کچھ اور ہے۔ اگر میں اسے چند منٹ تھاموں تو کیا ہوگا؟”
“کچھ نہیں ہوگا،” طلباء نے جواب دیا۔ “صحیح، اور اگر میں ایک گھنٹہ اسے یوں ہی تھامے رکھوں تو؟” “آپ کا بازو درد کرنے لگے گا،” ایک نے کہا۔ “بالکل۔ اور اگر پورا دن تھامے رکھوں تو؟”
“آپ کا بازو شل ہو جائے گا، شدید درد ہوگا، شاید ڈاکٹر کی ضرورت پڑے،” ایک اور نے کہا اور سب ہنسنے لگے۔
پروفیسر نے سکون سے کہا : “بالکل درست۔ لیکن کیا اس دوران گلاس کا وزن بدلا؟”
“نہیں۔” “تو پھر درد کیوں؟ کھچاؤ کیوں؟” کمرہ خاموش ہو گیا۔ پروفیسر نے نرمی سے کہا : “اس کا جواب زندگی کے مسائل میں چھپا ہے۔
مسائل کا وزن وہی رہتا ہے، لیکن جتنا زیادہ ہم انہیں تھامے رکھتے ہیں، اتنا ہی وہ ہمیں توڑنے لگتے ہیں۔ درد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اب بھی زندہ ہیں، لیکن ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم شفا پائیں گے۔”
انہوں نے آگے کہا : “جب ہم زیادہ دیر تک مسائل کا بوجھ اٹھائے رکھتے ہیں تو یہ ہمیں کمزور کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو، ہر درد جو تم سہتے ہو، وہ ایک قدم ہے اس قوت کی طرف جو خدا تمہارے اندر تعمیر کر رہا ہے۔”
کلاس پوری توجہ سے سن رہی تھی۔ پروفیسر نے گلاس کو ذرا ہلایا اور کہا : “یہ سچ ہے کہ درد جسم کو توڑ سکتا ہے، لیکن اس روح کو کبھی نہیں توڑ سکتا جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتی ہے۔”
انہوں نے توقف کیا اور پھر مسکرا کر کہا : “اکثر اوقات، تمہارا آج کا سب سے بڑا درد، کل تمہاری سب سے بڑی گواہی بن سکتا ہے۔
کیونکہ خدا کسی درد کو ضائع نہیں کرتا؛ وہ ہر دکھ کو تمہیں تراشنے، مضبوط کرنے اور اپنے قریب لانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔”
آخر میں پروفیسر نے گلاس میز پر رکھ دیا اور کہا : “اسی لیے، اپنے مسائل کو دن کے اختتام پر ضرور نیچے رکھ دو۔ انہیں اپنے ساتھ بستر پر مت لے جاؤ۔
آرام کرو، تازہ دم ہو جاؤ۔ کیونکہ ایمان اور سکون تمہیں اگلے دن کے لیے نئی طاقت دیں گے۔”
03/10/2025
لا تنطفئ…
فلربما كنتَ سراجًا يَهتدي به أحدهم، وأنت لا تشعر.
— جلال الدين الرومي رحمتہ اللہ علیہ
خود کو مت بجھاؤ! راہ ہدایت شریعت و طریقت و حقیقت و معرفت کا سچا چراغ بن کر جلتے رہو۔
شاید آپ کسی کی رہنمائی کرنے والا چراغ ہیں، اور آپ کو اس کا احساس تک نہ ہو ہے۔
- جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ
- خیر اندیش
- محمد ذیشان رسول قریشی جبلہ