محمد انس بندیالوی

محمد انس بندیالوی من کی باتیں

دینی مدارس اور جامعات میں رائج تخصص فی الفقہ اور تخصص فی الاقتصاد کے طلبائے کرام کو مطالعاتی وزٹ کےلئے پاکستان اسٹاک ایک...
23/09/2026

دینی مدارس اور جامعات میں رائج تخصص فی الفقہ اور تخصص فی الاقتصاد کے طلبائے کرام کو مطالعاتی وزٹ کےلئے پاکستان اسٹاک ایکسچنج ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اداروں کے دفاتر کا وزٹ کرانے لے جانا مفید ہے ۔
۔
کبھی کبھی انہیں کےالیکٹرک کے دفتر کا بھی مطالعاتی وزٹ کرانا چاہئے ، وہ دیکھیں، کیسے غریب لوگ ،مفلوک الحال ،مسکین سی صورت بنائے دفتر والوں کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں، صاحب 60000بل آیا ہے صرف ایک ٹیوب لائٹ اور پنکھا چلتا ہے پھر بھی بل 60000آیا ہے کچھ کم کیجئے ،کچھ رحم کیجئے ۔
۔
بوڑھے لوگ رو رہے ہوتے ہیں کرائے کا گھر ہے ،کمانے والا ایک ہی ہے ،چھوٹے چھوٹے بچے ہیں بِلْ اووَرْ آیا ہے، کیسے مینٹیننس ہوگا ؟
۔
مستقبل کے ان علمائے کرام کو کبھی جناح ،کارڈیو اور ایس آئ یو ٹی کے مطالعاتی وزٹ پر بھی لے جائیے وہ دیکھیں کیسے ہاسپٹل عملہ کی مریضوں سے بے رخی برتتے ہیں ۔
۔
مریضوں کے ساتھ آنے والے لوگوں کے چہروں کی بےبسی ،اُن کے اترتے چہرے خود غور سے دیکھیں ۔شاید طلباء کا دل تڑپ جائے ،امت کا درد اُن کے دل میں پیدا ہوجائے ۔
۔
سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں بزگری کرنے والے کسانوں کا احوال ،ان کی جان توڑ محنت بھی طلباء کو دکھائیے۔ کھاد ،بیج ،اور فصل کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اسپرے، ادویات کی قیمتیں اور فصلوں پہ آنے والا خرچہ بھی طلبائے کرام کو بتائیے اور آگاہ کیجئے کہ مارکیٹ میں جب گندم کی فصل پہنچتی ہے تو بیوپاری ملی بھگت کے ذریعے ریٹ کم کر دیتے ہیں ،گندم کو خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا اور کسان اونے پونے داموں اناج بیچنے پہ مجبور ہوتا ہے ۔
۔
لگژری اپارٹمنٹ میں جدید سہولیات سے آراستہ پیراستہ آفس میں بیٹھ کر ،اے سی کی ٹھنڈی ہواؤں کے مزے لےکر ،لیپ ٹاپ کھول کر ڈیلی جنگ ،ڈی ڈبلیو اردو ،بی بی سی اردو سروس ، سے خبریں پڑھنے ،آرٹیکلز دیکھنے کے بعد کسی کمپنی کے متعلق فتویٰ لکھنا اور ہے جبکہ اپنی آنکھوں سے مسکینوں ،غریبوں کی بدحالی ،بےچارگی دیکھ کر قرآن وسنت اور فقہِ اسلامی کا مطالعہ کرنا اور ہے ۔
۔
ایماندار اور غیرتِ دینی رکھنے والا شخص سیاسی اور عسکری گِدھوں کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔وہ کیسے لوگ ہیں جو عوامِ مسلمین کو نوچ نوچ کر کھانے والے سیاسی اور عسکری گِدھوں کی تعریفات کرتے نہیں تھکتے ۔
۔
دعوتِ دین اور اعلائے کلمۃ الحق کےلئے فاسقوں کے پاس جانے کی شرعاً بالکل اجازت ہے۔لیکن آگے بڑھ کر انکے جنازے پڑھنے ،اور انکی مغفرت کی لمبی دعائیں مانگنے سے پرہیز کیجیے۔
۔
✍️ محمد عظیم کھوسہ
15/08/2024/

17/09/2026

M***i Anas Bandyalvi Shb Ki New Book Ki Taqreeb e Roonmayi| Al Kaafi Book Circle

📚 انتظار کی گھڑیاں ہوئیں ختم!دارالعلوم میمن، بولٹن مارکیٹ کراچیکے شعبہ اسلامک ریسرچ سینٹر"دار المیمن للتحقیقات الاسلامیہ...
11/09/2026

📚 انتظار کی گھڑیاں ہوئیں ختم!

دارالعلوم میمن، بولٹن مارکیٹ کراچی
کے شعبہ اسلامک ریسرچ سینٹر
"دار المیمن للتحقیقات الاسلامیہ"
کی جانب سے ایک عظیم علمی کاوش

📖 شکوک کے صحراء میں یقین کا قافلہ

منظرِ عام پر آچکی ہے!

✍️ جمع و ترتیب:
محمد انس بندیالوی
مدرس: جامعہ دارالعلوم میمن
شعبہ درسِ نظامی و تخصص فی المعقولات

📌 کتاب میں کیا ہے؟

اس کتاب میں عصرِ حاضر کے اہم فکری، نظریاتی اور الحادی مباحث کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جن میں:

• نظریاتی جنگ اور جنگوں کے ادوار
• مغربی نظریات کا تعارف
• دہریت، الحاد اور Naturalism
• جدیدیت اور تشکیک
• استشراق اور عقلیت پسندی
• عقل کا مقام اور اس کی حدود
• استعمار اور نوآبادیاتی نظام
• سوشلزم، کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام
• مادیت پرستی اور انفرادیت پسندی
• فیمینزم اور Marital R**e
• Workplace Husband
• مسلم لڑکیوں کا ارتداد
• بین المذاہب شادیوں کے نقصانات
• الحادی شبہات اور ان کے جوابات
• خدا کو کس نے پیدا کیا؟
• کیا عورت نحوست ہے؟
• مذہبی طبقہ ناکام کیوں؟
• کیا اسلام میں سوال ممنوع ہے؟
• آپ پہلے انسان ہیں یا مسلمان؟
• سائنس پرستی (Scientism)

📍 دستیابی:
یہ کتاب مکاتبِ اہلِ سنت پر دستیاب ہے۔

📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں:
محمد سلیم رضوی
0315 2421854

پیش کردہ:
دار المیمن للتحقیقات الاسلامیہ
دارالعلوم میمن، نیو میمن مسجد، بولٹن مارکیٹ کراچی

قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہٖ وَ آلہٖ وَ سَلَّم:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إنَّ الفُسَّاقَ هُم أهلُ الن...
31/08/2026

قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہٖ وَ آلہٖ وَ سَلَّم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إنَّ الفُسَّاقَ هُم أهلُ النارِ.
’’بے شک فاسق لوگ ہی جہنمی ہیں۔‘‘

قيل: يا رسولَ اللهِ، ومَنِ الفُسَّاقُ؟
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! فاسق لوگ کون ہیں؟

قال: النِّساءُ.
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عورتیں۔‘‘

قال رجُلٌ: يا رسولَ اللهِ، أَوَلَسْنَ أُمَّهاتِنا، وأخَواتِنا، وأزْواجَنا؟
ایک شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! کیا عورتیں ہماری مائیں، ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں؟

قال: بلى، ولكنَّهم إذا أُعطِينَ لم يَشكُرْنَ، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرْنَ.
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’ہاں ، کیوں نہیں! لیکن جب انہیں نعمتیں دی جاتی ہیں تو وہ شکر نہیں کرتیں،
اور جب ان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو صبر نہیں کرتیں۔‘‘

(مسند احمد: 15531، عبد بن حمید: 314، المعجم الأوسط للطبرانی: 2574)

مفہوم
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں خاص طور پر دو برائیوں سے خبردار فرمایا:

1. نعمت ملنے پر شکر نہ کرنا اور احسان فراموشی کرنا۔
2. مصیبت آنے پر صبر نہ کرنا، زیادہ شکوہ اور بے قراری کرنا۔

یہ دونوں برائیاں ، انسان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور آخرت کے عذاب کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

سوال:
یہ دونوں برائیاں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا سبب بن سکتی ہیں ،خواہ یہ برائیاں مرد میں ہو یا عورت میں ،
تو حدیث میں عورتوں کا خاص طور پر ذکر کیوں ہے ؟

جواب:
جی یہ بات درست ہے کہ اس حدیث میں سب کو ان برائیوں سے بچنے کا حکم ہے ،
لیکن
شکر نہ کرنا ، احسان فراموشی کرنا اور مصیبت میں بے صبری و واویلا کرنا ،
عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے ،

اسی طرح عورتوں میں دنیا کی ظاہری زیب و زینت کی طرف رغبت ،
اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کی طرف توجہ کا رجحان زیادہ ہوتا ہے ،
نتیجتاً وہ آخرت کی تیاری سے غافل ہو جاتی ہیں ،
اس لئے حدیث میں عورتوں کو خصوصاً ذکر فرمایا ،

یاد رہے کہ ۔۔۔۔۔
حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ برائیاں مردوں میں موجود نہیں،
اور ہر عورت میں لازماً موجود ہوتی ہیں۔

اگر کوئی عورت یا مرد نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، دوسروں کے احسان کو تسلیم کرے اور مصیبت کے وقت صبر کرے تو وہ اس وعید میں شامل نہیں۔

اسی طرح اگر کسی عورت میں کبھی یہ کمزوریاں موجود ہوں،
لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے،
اپنے شوہر کے حقوق ادا کرے اور اپنی ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتی رہے، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت کی امید ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو عورت اپنی پانچ نمازیں ادا کرے،
رمضان کے روزے رکھے،
اپنی عصمت کی حفاظت کرے ،
اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے ،
تو اس سے کہا جائے گا:
جنت کے جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔‘‘

لہٰذا ایک مسلمان عورت کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار، شکر گزار، صبر کرنے والی اور نیک کردار ہو۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ناشکری، احسان فراموشی اور بے صبری سے بچائے۔
آمین

ایک جنتی عورت ۔۔۔۔۔۔۔جس کا بیماری کے باوجود اللہ تعالیٰ پر یقین اور حیا ختم نہیں ہوئی۔وہ ایک سیاہ فام حبشی غریب اور بیما...
21/08/2026

ایک جنتی عورت ۔۔۔۔۔۔۔
جس کا بیماری کے باوجود اللہ تعالیٰ پر یقین اور حیا ختم نہیں ہوئی۔

وہ ایک سیاہ فام حبشی غریب اور بیمار خاتون تھیں،
جن کا نام سُعَیرَہ اسدیہ تھا،
اور اپنی کنیت اُمِّ زُفَر کے نام سے مشہور تھیں۔
معاشرے میں شاید انہیں زیادہ اہمیت نہ دی جاتی ہو،

لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ جنتی عورت ہے۔

وہ مرگی (Epilepsy) کے مرض میں مبتلا تھیں ،
جب انہیں مرگی کا دورہ پڑتا ،
وہ اچانک زمین پر گر جاتیں اور بے ہوش ہو جاتیں۔

حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا:

"کیا میں تمہیں جنتی عورتوں میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں؟"

میں نے عرض کیا: "کیوں نہیں!"

فرمایا:
"یہ سیاہ فام عورت ہے۔
ایک دن وہ ایمان سے بھرے دل کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:

"مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور اس حالت میں میرا جسم بے پردہ ہو جاتا ہے،
آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔"

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"اگر تم چاہو تو صبر کرو (یعنی بیماری کے ساتھ زندگی بسر کرو)،
تو تمہارے لیے جنت ہے،

اور اگر چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ ،
وہ تمہیں عافیت عطا فرمائے (یعنی بیماری سے نجات مل جائے گی)۔"

اس عورت نے عرض کیا:

"میں صبر کروں گی۔"

پھر عرض کیا:

"لیکن جب مجھے دورہ پڑتا ہے تو میرا جسم بے پردہ ہو جاتا ہے،
آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میں بے پردہ نہ ہوجاؤں۔"

چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔"
(صحیح البخاری، کتاب المرضى، حدیث 5652؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث 2576)

اس کے بعد بھی انہیں مرگی کے دورے پڑتے تھے،
لیکن بے ہوشی کے دوران ان کا جسم بے پردہ نہیں ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتائج:
1)حقیقی عزت خوبصورتی، مال، عہدے یا شہرت میں نہیں، بلکہ ایمان، صبر اور تقویٰ میں ہے۔

2)بیماری اور مصیبت پر صبر کرنے کا اجر اتنا عظیم ہوسکتا ہے کہ انسان جنت کا مستحق بن جائے۔
3)یہ صحابیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ،
صرف صابرہ نہیں تھیں بلکہ بہت باحیا بھی تھیں،
یہ حیا معمولی بات نہیں تھی، بلکہ شریعت پر عمل اور نبوی تربیت اور پاکیزگی کا اثر تھی۔
4)وہ بیمار تھیں، ان کے لیے عذر بھی تھا ، مجبوری بھی تھی ،
اور نبی کریم ﷺ نے انہیں جنت کی خوشخبری بھی دے دی تھی،
اس کے باوجود انہیں اس بات کی فکر تھی کہ کہیں ان کا جسم لوگوں کے سامنے ظاہر نہ ہوجائے۔
جبکہ
آج کی مسلمان عورت ۔۔۔۔
نہ بیمار ہے ،
نہ مجبور ہے،
نہ زبان رسالت ﷺ سے اسے جنت کی بشارت ملی ہے ،
پھر بھی مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر ،
بے حیائی کی ساری حدیں پار کر چکی ہے،

بے حیا عورت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے،

انہیں زبان رسالت ﷺ سے عذاب کی بشارت مل چکی ہے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔
ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں
دوسرے وہ عورتیں جو کپڑے پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، مردوں کی طرف مائل ہونے والی، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ،

وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی ،
حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے آ رہی ہو گی۔"
[صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5582]

5)یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے ایک عظیم معجزے اور آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل بن گیا۔

نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان:

"اگر تم چاہو تو صبر کرو، تمہارے لیے جنت ہے"

یہ آپ ﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، کیونکہ کسی شخص کے جنتی ہونے کی یقینی خبر دینا ،
اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے بغیر ممکن نہیں۔

6)یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ،
نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض غیبی امور کا علم عطا کیا گیا تھا،

کیونکہ جنت کی یہ خوشخبری ایک ایسے نبی ﷺ کی زبان سے نکلی جو اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق دین کی بات بیان فرماتے تھے۔

7) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کی دعا کی قبولیت کی ایک نشانی ہے ،
کہ مرگی کے دورے کے باوجود اس عورت کا جسم پھر کبھی بے پردہ نہ ہوا،

اُمِّ زُفَر کی یہ داستان ہمیں پردے، حیا، صبر، ایمان اور اللہ پر یقین کا عظیم سبق دیتی ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ان نیک لوگوں کے صدقے حیا اور ایمان کی پختگی عطا فرمائے آمین

محمد انس بندیالوی
21 اگست 2026

19/08/2026
31/07/2026

فیصلہ آپ فرمائیں۔۔۔۔!!!
ذکری فتنہ سویا ہوا۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ہم سو رہے ہیں۔۔...؟؟؟

#𝐙𝐢𝐤𝐫𝐢

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ افریقہ کی فتح کے بعد ،بعض بربر قبائل نے اسلام کو ترک کر...
17/07/2026

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ افریقہ کی فتح کے بعد ،
بعض بربر قبائل نے اسلام کو ترک کر کے ارتداد کیا ،
اور انہوں نے اپنے معاہدے توڑ دیے۔

اس صورتِ حال میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ کیا کہ ،

ایک ایسی مستقل فوجی اور اسلامی بستی قائم کی جائے ،
جہاں مسلمان محفوظ رہ سکیں۔

چنانچہ انہوں نے "قیروان" شہر کی بنیاد رکھنے کا ارادہ کیا ،
اور وہاں ایک جامع مسجد بنانے کا حکم دیا۔

لیکن وہ علاقہ گھنے جنگلات، درندوں، بھیڑیوں، سانپوں اور دوسرے خطرناک جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔

فوجیوں نے عرض کیا:

"اے امیر! اس جگہ تو ہر طرف درندے اور زہریلے جانور ہیں، یہاں کیسے آبادی قائم ہوگی؟"

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے لشکر میں ،
رسول اللہ ﷺ کے تقریباً پندرہ صحابہ کرام بھی موجود تھے۔

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں،
تم سب آمین کہو۔"

انہوں نے نہایت عاجزی سے دعا کی اور تمام مجاہدین آمین کہتے رہے۔

دعا کے بعد حضرت عقبہ نے بلند آواز سے فرمایا:

"أيتها الحيات والسباع نحن اصحاب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم،
فارتحلوا عنا فإنا نازلون،
فمن وجدناه بعد ذلك قتلناه"!

"اے سانپوں!
اے درندو!
ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھی ہیں۔
ہم یہاں آباد ہونے آئے ہیں،
لہٰذا تم یہ جگہ چھوڑ دو۔
اس کے بعد اگر کوئی جانور یہاں ملا تو اسے مار دیا جائے گا۔"

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص مجاہد کے ہاتھوں پر ایسی بے مثال کرامت ظاہر فرمائی،
وہ مجاہد جو دینِ اسلام کی نصرت کے لیے نکلا تھا،
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے ہر چیز کو اس کا مددگار بنا دیا۔

روایت کے مطابق، جنگل کے جانور اپنے بچوں سمیت اس علاقے سے نکلنے لگے۔
شیر اپنے بچوں کو، بھیڑیے اپنے بچوں کو اور سانپ بھی اپنے بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔
لوگوں نے یہ حیرت انگیز منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعے کا بربر قبائل پر گہرا اثر ہوا۔
ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے،
انہوں نے عربی زبان، قرآنِ کریم اور دینی علوم سیکھے۔

بعد میں قیروان اسلامی تہذیب، علم اور تجارت کا ایک عظیم مرکز بن گیا،
جہاں مغرب اور اندلس کے علماء اور طلبہ مشرق کی طرف جاتے ہوئے قیام کرتے تھے۔

سبق:
جب بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرتا ہے ،
تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے ،
جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔

عربی سے مترجم

أروع القصص في التاريخ الإسلامي

يذكر التاريخ أن أعداداً كثيرة من البربر ارتدت عن الإسلام بعد فتح إفريقيا بقيادة البطل الهُمام وقاموا بنقض العهد..

فقرر عقبة بن نافع رضي الله عنه انشاء مدينة تكون قاعدة لجنوده حتى يؤمن ظهره، فاختار مدينة #القيروان وأمر جنوده بالنزول فيها وبناء جامع، وكانت تلك المدينة مرتعاً للسباع والذئاب والثعابين والحيوانات المفترسة بما تحويه من شعاب.

فقال له جنوده:

"إن هذه الأرض بها شعاب وسباع وحيات مفترسة وغيرها من دواب الأرض، فكيف البناء فيها؟!".

وكان في جنده خمسة عشر رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم .

فقال عقبة: إني داع فأمنوا؛ وبدأ يدعو الله ويبتهل والجنود يؤمنون خلفه، فإذا ما انتهى قال مخاطِباً :

"أيتها الحيات والسباع ، نحن أصحاب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فارتحلوا عنا فإنا نازلون، فمن وجدناه بعد ذلك قتلناه"!

وهنا كانت المفاجأة!!

حدثت كرامة لا مثيل لها لهذا المجـاهد الصادق الذي يريد أن ينصر دين الله، فسخّر الله له كل شيء!

كانت المفاجأة أن خرجت السباع من الأحراش تحمل أشبالها؛ والذئب يحمل جروه؛ والحيات تحمل أولادها في مشهد لم يُرى مثله في التاريخ من قبل؛ فلما رأى البربر هذا المشهد العظيم أمام أعينهم أسلموا، وتعلموا اللغة العربية، والقرآن الكريم، وأمور الدين.

وأصبحت مدينة القيروان مركزا للحضارة الإسلامية وعاصمتها العلمية ولموقعها المتميز أصبحت مركزا تجاريا وعلميا يمر بها العلماء والطلبة من أهل المغرب والأندلس في ذهابهم للمشرق.

العبرة :

حين يصدق العبد مع الله، يُسخر له كل شيء، ويفعل له من المعجزات ما تذهل منها العقول، وتزيد بها قلوب المؤمنين إيماناً ...

فاللهم اجعلنا من الصادقين!

المصدر:

-البداية والنهاية لـ ابن كثير.

-الدولة الأموية لـ يوسف العش.

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محمد انس بندیالوی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to محمد انس بندیالوی:

Shortcuts

Share

Category