Holistic Education Foundation

Holistic Education Foundation

Share

Welcome to Holistic Education Foundation!

21/03/2026

Eid Mubarak to our wonderful community! 🌙✨
As we celebrate this special day, the Holistic Education Foundation sends its warmest wishes to all our students, parents, followers, and partners.
May this Eid fill your lives with peace and happiness, and may it be a season of growth and abundant learning for us all. We are so grateful to have you as part of our journey toward a brighter, more holistic future.
Enjoy the festivities with your loved ones!

24/02/2026

📢 WE ARE HIRING! JOIN OUR TEAM IN KHUZDAR! 🚀
Haji Mir Naik Muhammad Mengal Residential Public School is looking for passionate and driven professionals to join our academic community in Badri, Wadh (District Khuzdar, Balochistan). 🏫✨
We are seeking dedicated individuals who are committed to excellence and eager to shape the future of the next generation. 🌟 At our institution, we value your expertise and provide a supportive environment to help you thrive! 🤝
Why Join Us? 🤔
* 💰 Market Competitive Salary: We offer an attractive compensation package tailored to your experience and skills.
* 📈 Growth & Development: Access continuous opportunities for professional learning and career advancement.
* 🌍 Impactful Work: Join a leading residential school dedicated to high-quality education.
How to Apply: 📩
Ready to take the next step in your career? Send your updated CV/Resume to our official email address:
📧 [email protected]
📍 Location: Badri, Wadh, District Khuzdar, Balochistan.
Don't miss this opportunity to grow with us! Apply now! 📝🔥

28/01/2026

🏫 We’re Hiring! Join the Dar ut Tarteel Team
Are you passionate about education and looking for a meaningful career? Dar ut Tarteel Schooling System is looking for enthusiastic individuals to join our team in Karachi!
We have multiple openings for Teachers (English, Science, and Montessori) and Receptionists. If you are driven, professional, and ready to make a difference in a vibrant school environment, we want to hear from you!
Check out the image below for specific roles and requirements.
📩 How to Apply:
Send your updated resume to: [email protected] For more details, contact us at: +92 336 1117867
📍 Location: D-135 Block 5, F.B. Area, Karachi

18/12/2025

✨ It’s Time to Go Again! 📚
The wait is finally over! The Karachi World Book Fair is back, and there is a special kind of magic in the air. 🌟 Whether you’re a lifelong bookworm or just looking for a reason to start a new hobby, nothing beats the feeling of walking through aisles filled with thousands of stories waiting to be discovered.
Going to a book fair isn't just about buying books—it’s about the experience. It’s the smell of fresh paper, the excitement of finding a hidden gem on a high shelf, and the joy of seeing children's eyes light up as they pick out their own adventures. 📖✨
In a world full of digital distractions, let’s take this chance to:
* Unplug: Trade screen time for page-turning time. 📱❌
* Explore: Discover new authors, genres, and ideas. 🌍
* Connect: Spend quality time with friends and family in a world of knowledge. 👨‍👩‍👧‍👦
Grab your comfortable shoes and your biggest tote bag—it's time to get lost in the world of books once again! 🎒🙌
📍 Location: Karachi Expo Centre (Halls 1, 2 & 3)
🗓️ Dates: 18th – 22nd December 2025

01/12/2025








16/11/2025

📖 ایک منفرد کتب خانہ
✒️ جناب خورشید احمد ندیم

_____ Maarif معارف _____

میرے علم کی حد تک یہ اپنی نوعیت کا واحد کتب خانہ ہے، محض لائبریری قرار دینے سے شاید اس کی تصغیر ہو، یہ در اصل ایک ”دانش کدہ“ ہے، اسلام آباد سے مری کی طرف رخ کریں تو بھارا کہو سے چند میل بعد پرانے مری روڑ پر بر لبِ سڑک ایک خوب صورت عمارت آپ کو بلا ارادہ اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، خوش ذوقی سے تعمیر کی جانی والی یہ عمارت چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے _

▪️مسجد
▪️کتب خانہ
▪️مدرسہ
▪️رہائش گاہیں

اس کا سب سے منفرد حصہ کتب خانہ ہے، یہ لائبریری پچاس ہزار سے زیادہ کتب، مخطوطوں، جرائد اور اخبارات کو اپنے دامن میں حفاظت کے ساتھ سمیٹے ہوئے ہے، اس کا دروازہ ہر جویائے علم کےلئے کھلا ہے، اس کی تفصیل حیران کن ہے، علم کا ایک متلاشی جو اس کتب خانے میں آتا اور طلبِ علم میں کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے، اسے ایک ڈیسک، آرام دہ کسی کے ساتھ مل جاتا ہے، اس کی خاطر تواضع کےلئے کتب خانے کے ہال میں ایک طرف چائے قہوے کا سامان رکھا ہے، اس عمارت میں ایک ہال کھانے کےلئے مختص ہے جہاں ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا بھی میسر ہے، جو طالب علم چاہتا ہے کہ یہاں قیام کرے، اس کےلئے رہائش کا انتظام ہے، اس کا معیار تین ستارہ ہوٹل سے کم نہیں، بعض سہولتیں تو چار ستارہ والی ہیں، جیسے جم، جدید ترین آلات کا حامل یہ جم ان کےلئے ہے جو یہاں ٹھہرتے ہیں _

بات یہاں ختم نہیں ہو رہی ہے۔اس کی کچھ اور تفصیل بھی ہے، طالب علم کو اگر کسی ایسی کتاب کی تلاش ہے جو اس کتب خانے میں میسر نہیں تو وہ منتظم کو بتا سکتا ہے، کتاب کی فراہمی کا اہتمام ہوجاتا ہے، اگر کسی کتاب کی فوٹو کاپی چاہئے تو یہاں جدید ترین مشینیں موجود ہیں جو کتاب کی نقل تیار کرد یتی ہیں، یہاں ایک تربیت یافتہ ناظمِ کتب خابہ ہے، آپ انہیں کتاب کا نام بتائیں تو وہ تلاش کرکے آپ کے ڈیسک تک پہنچا دیں گے، طالب علموں کے ساتھ محققین کےلئے بھی تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں، یہاں تک کہ قدیم علماء کے مزاج کی رعایت سے فرشی نشستوں کا بھی اہتمام ہے تاکہ انہیں ماحول سے مانوس ہونے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، کتب خانے کی عمارت جدید ہے لیکن مسلم تہذیبی روایت کی نمائندہ ہے _

اس عمارت میں ایک جدید پریس بھی لگایا گیا ہے، گویا کتب کی اشاعت میں بھی یہ کتب خانہ خود کفیل ہے، یہاں نایاب کتب کا ذخیرہ ہے، مثال کے طور پر دار العلوم دیوبند کی مکمل فائل یہاں موجود ہے جو محققین کےلئے ایک نادر چیز ہے، اگر آپ یہاں زیر تعلیم رہنے والے طلباء کی فہرست بنانا چاہیں تو یہ ممکن ہے، یہ معلوم ہے کہ دار العلوم دیوبند ۱۸٦٦ء میں قائم ہوا تھا، گویا ایک سو ساٹھ برس کا ریکارڈ یہاں موجود ہے، یہ محض ایک مثال ہے،
اس لائبریری میں نادر کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے _

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں، یہاں کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا، یہ اہتمام علم اور طالبانِ علم کی خدمت کےلئے ہے، یہاں تو علم کے متلاشیوں کو کپڑے تک دھلے ہوئے ملتے ہیں اور وہ بھی کسی معاوضے کے بغیر، چند دن پہلے جب میں برادرم سبوخ سید اور برادرم ڈاکٹر فاروق عادل کی معیت میں یہاں آیا تویہ سب باتیں ہمیں ان نوجوانوں نے بتائیں جو یہاں موجود تھے، ان کا قیام بھی یہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ لائبریری چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے اور وہ جب چاہیں اس سے استفادہ کر سکتے ہیں، یہاں رہنے کےلئے دنوں کی بھی کوئی قید نہیں، پاکستان میں شاید ہی کوئی لائبریری ہو جو دن رات کھلی رہتی ہو، یہاں تک جامعات کے کتب خانے بھی چار بجے بند ہو جاتے ہیں _

یہ کتب خانہ اور مرکز صرف ایک شخصیت مفتی محمد سعید خان صاحب کی محنت کا حاصل ہے، مفتی صاحب خود بھی ایک عالمِ دین ہیں، مہمان نواز اور متواضع، انہوں نے برسوں کی محنت سے نہ صرف نایاب کتب جمع کیں بلکہ ہر پہلو سے اسے علم کی اشاعت اور فروغ کےلئے ایک مثالی اداہ بنانے کی سنجیدہ اور کامیاب کوشش کی، یہ کتب خانہ شفاف پانی کے ایک بہتے نالے کے ساتھ ہے جو پہاڑوں سے اترتا ہے، نالے کی دوسری طرف سرسبز و شاداب درختوں سے مزین ایک جنگل ہے، شام ڈھلتی ہے تو طرح طرح کے پرندوں کی آوازیں اور بہتے پینے کی موسیقی ایک عجیب رومانوی ماحول پیدا کرتی ہے، مفتی صاحب نے اس کا بھی اہتمام کیا ہے کہ یہاں آنے والے چاہیں تو فطری حسن سے لبریز اس فضا میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں _

مفتی صاحب دین کے عالم ہیں لیکن یہ کتب خانہ صرف دینی علوم کے طالب علموں کےلئے خاص نہیں، یہاں کسی علم کا متلاشی آسکتا ہے، ہم نے کتب خانے میں جن طلباء سے ملاقات کی ان میں اکثریت ان کی تھی جو سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کےلئے آئے تھے، طالب علموں کی اکثریت کے پی سے آئی تھی جو خوش آئند ہے، ایک ڈاکٹر بھی تھے جو طب کی اعلیٰ تعلیم کےلئے امریکہ جاناچاہتے تھے اور اس سلسلے کے ایک امتحان کی تیاری کےلئے یہاں ٹھہرے ہو ئے تھے تاہم دینی علوم کے طلباء کےلئے یہاں زیادہ کشش ہے، مفتی صاحب خود بھی طالب علموں کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کرتے ہیں جس سے ادارے کی افادیت بڑھ جاتی ہے، نادر کتب کی کشش اس پر مستزاد ہے _

اس عمارت میں ایک سٹوڈیو بھی قائم ہے جس میں ریکار ڈنگ کی جدید ترین سہولتیں میسر ہیں، مفتی سعید صاحب سوشل میڈیا کےلئے اپنے پروگرام یہیں ریکارڈ کرتے ہیں تاہم ان کی طرف سے یہ صلائے عام ہے کہ کوئی اور بھی خیر کی تشہیر کےلئے اس سہولت سے استفادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، مفتی صاحب خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتے ہیں، اس لئے یہ کتب خانہ بھی ارتقاء کے مراحل سے گزرتا رہتا ہے، وہ دنیا ہر کے کتاب میلوں میں شریک ہوتے اور اس کتب خانے کےلئے نایاب کتب جمع کرتے ہیں، ان میں انگریزی، عربی اور فارسی کی کتب زیادہ ہیں اور موضوعاتی اعتبار سے دینی کتب کا غلبہ ہے _

میرا یہاں دو تین بار پہلے بھی آنا ہوا، میں نے اسے ہر دفعہ پہلے سے بہتر پایا، مفتی صاحب کی مسلسل کاوشوں سے اس کے باطنی اور ظاہری جمال میں اضافہ ہو رہا ہے، صدافسوس کہ اس سے استفادہ کرنے والے بہت کم ہیں، واقعہ یہ ہے کہ علمی اعتبار سے ایسا پُر کشش ادارہ شاید ہی کوئی دوسرا ہو، میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں کہ میں یہاں زیادہ وقت گزاروں،ورنہ اگر میرے زمانہ طالب علمی میں یہ کتب خانہ موجود ہوتا تو میں یہیں پڑا رہتا، گھر جانے کا نام نہ لیتا، آج بھی یہاں آتا ہوں تو وقت کی کمی کا احساس ہو تا ہے، اس بار اچانک جاناہوا، مفتی صاحب نے حسبِ روایت کھانے کا اہتمام کیا، کتابوں کی کشش اتنی زیادہ تھی کہ تمام وقت انہوں نے لے لیا، کھانا دھرے کا دھرا رہ گیا _

بہت کم لوگ اس ادارے سے واقف ہیں، چاہئے تھا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اس پر دستاویزی فلمیں بناتے تاکہ لوگ اس کے بارے میں جانتے اور طالب علم یہاں کا رخ کرتے، اس پر رپورٹس بنتیں اور ان کی تشہیر ہوتی، مفتی صاحب نے اس پر وقت ہی نہیں، بے پناہ مادی وسائل بھی صرف کئے ہیں تاکہ اسے مثالی ادارہ بنا سکیں، ان کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کریں، ان کی اس نیکی کا اجر تو یقیناً ان کے پروردگار کے حضور میں محفوظ ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ یہ ادارہ محققین اور طالب علموں کو بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرے اور مفتی صاحب کی کاوشیں اس دنیا میں بھی ثمر بار ہوں _

13/10/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

25/09/2025

یہ ایک نہایت عجیب داستان ہے، دل کو چھونے والی!!
ڈاکٹر محمد خانی رقم طراز ہیں:
ایک مرتبہ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا کہ یکایک ایک دبلا پتلا سا لڑکا قریب آیا۔ عمر بمشکل سولہ برس ہوگی۔ نہ جانے کیسی معصومیت چہرے پر بکھری ہوئی تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے کہا:
"کیا میں آپ کے گاڑی کا شیشہ صاف کر دوں؟"
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے ایسا دل لگا کر شیشہ صاف کیا کہ گاڑی کی آب و تاب نکھر آئی۔ میں نے بیس ڈالر اس کے ہاتھ پر رکھے تو وہ چونک کر بولا:
"کیا آپ امریکہ سے آئے ہیں؟"
میں نے کہا: "ہاں۔"
اس نے تپاک سے کہا: "کیا میں صفائی کی اجرت کے بجائے آپ سے امریکی جامعات کے بارے میں کچھ سوال کر سکتا ہوں؟"
اس کی گفتگو میں ایسی شائستگی اور وقار تھا کہ میرا دل مچل اٹھا۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور بات چیت شروع کی۔
"تمہاری عمر کتنی ہے؟"
"سولہ برس۔"
"یعنی سیکنڈ ایئر میں ہو؟"
"جی نہیں، میں نے گریجویشن مکمل کر لی ہے۔"
"یہ کیسے ممکن ہوا؟"
"امتحانات میں غیر معمولی کارکردگی کے باعث مجھے کئی جماعتیں آگے بڑھا دیا گیا۔"
میں دم بخود رہ گیا۔ پوچھا:
"پھر تم یہاں مزدوری کیوں کرتے ہو؟"
وہ کچھ دیر خاموشی کے بعد گویا ہوا:
"میرے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب میں دو برس کا تھا۔ میری ماں ایک گھر میں کھانا پکاتی ہیں اور میں اور میری بہن بھی محنت مزدوری کرتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ امریکی جامعات میں ذہین طلبہ کو وظائف ملتے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ میں بھی ان میں جگہ پاؤں۔"
میں نے پوچھا: "کیا کوئی تمہارا ہاتھ بٹانے والا ہے؟"
وہ آہستگی سے مسکرایا: "میرے پاس میرے سوا کوئی نہیں۔"
میرا دل بھر آیا۔ کہا: "چلو کھانا کھاتے ہیں۔"
اس نے شرط رکھی: "لیکن اس سے پہلے مجھے آپ کے گاڑی کا پچھلا شیشہ صاف کرنے دیجیے۔"
میں نے ہنستے ہوئے اجازت دی۔
ریستوران پہنچ کر بھی اس کی عظمتِ نفس دیکھنے کے لائق تھی۔ اپنے لیے کچھ نہ مانگا بلکہ کہا کہ کھانا پیک کر دیا جائے تاکہ وہ ماں اور بہن کو دے سکے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی انگریزی بے حد شاندار ہے اور اس میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔
ہم نے طے کیا کہ وہ اپنے کاغذات لائے گا اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کروں گا۔ چند ماہ کی کوششوں کے بعد اسے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلوا دیا۔ دو دن بعد اس کی آواز فون پر گونجی:
"واللہ! ہم سب گھر میں خوشی کے آنسو رو رہے ہیں۔"
محض دو برس گزرے تھے کہ نیویارک ٹائمز نے اسے دنیا کے کم عمر ترین ماہرِ ٹیکنالوجی قرار دے کر اس پر رپورٹ شائع کی۔ یہ خبر پڑھ کر میں اور میرے اہلِ خانہ اشکبار خوشی میں ڈوب گئے۔ میری اہلیہ نے اس کی ماں اور بہن کے ویزے بھی دلوائے۔ جب یہ نوجوان اپنی ماں اور بہن کو اچانک امریکہ میں اپنے سامنے دیکھتا ہے تو خوشی کے بوجھ تلے نہ بول سکا نہ رو سکا۔
کچھ عرصے بعد ایک دن میں اور میرا خاندان گھر کے اندر تھے کہ اچانک باہر نگاہ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی نوجوان میری گاڑی دھو رہا ہے! میں تیزی سے باہر نکلا اور حیرت سے پوچھا:
"یہ کیا کر رہے ہو؟"
وہ سر جھکا کر مسکرایا اور بولا:
"مجھے کرنے دیجیے تاکہ میں یہ نہ بھولوں کہ میں کیا تھا اور آپ نے مجھے کیا بنایا۔"
یہ فلسطین کا باہمت فرزند فرید عبدالعالی ہے، جو آج ہارورڈ یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے کا نامور استاد اور مایہ ناز سائنس دان ہے۔
یہ سچی داستان عرب سوشل پر وائرل ہے۔ اس کہانی میں سبق یہ پنہان ہے کہ غربت اور محرومی اگرچہ انسان کے قدم روک سکتی ہے، مگر ارادے، حوصلے اور شرافت کے سامنے دنیا کی کوئی دیوار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
منقول

Photos from Japanese's post 25/09/2025
14/09/2025

Education is a calling, not a cash cow.
When the pursuit of profit overshadows the purpose of education, it's our teachers and students who pay the price. The pressure to prioritize institutional gains—like high test scores, impressive enrollment numbers, and a positive public image—often forces educators to compromise on what truly matters: quality teaching and genuine learning.
Teachers are the heart of the classroom, but they are often caught in a system that demands more for less. This can lead to overwhelming workloads, stagnant wages, and the disheartening reality of being treated like a cog in a machine rather than a professional dedicated to shaping young minds. When we push teachers to their limits, we risk losing their passion, creativity, and ability to give each student the attention they deserve.
Let's remember that the true value of education lies in fostering curiosity, building critical thinkers, and empowering the next generation. We must advocate for a system that supports our educators, respects their expertise, and allows them to focus on what they do best: teaching.

29/08/2025

Looking for ways to improve your learning? This image breaks down 16 effective methods, from memorizing to discussing and experimenting.
Whether you're studying for an exam, picking up a new skill, or just trying to understand a complex topic, you can try one of these approaches. Which one works best for you?




Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Karachi