31/05/2026
سمجھدار لوگ سامنے آئیں شاباش
Urdu & English Medium. for Girls & boys. nursery to matric.
31/05/2026
سمجھدار لوگ سامنے آئیں شاباش
29/05/2026
عنوان :نئے زمانے میں استاد کا مقام
استاد قوم کی بنیاد بناتے ہیں۔ استاد کا پیشہ انبیاء کرامؑ کا پیشہ کہلاتا ہے، اور اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں استاد کا مقام کتنا بلند ہونا چاہیے۔ ایک استاد ہونے کے ناطے میں میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ کیا آج کے دور میں استاد کو وہ عزت، احترام اور مقام مل رہا ہے جس کا وہ حقیقی حقدار ہے؟
ایک وقت تھا جب استاد کو معاشرے میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ لوگ استاد کی عزت کرتے تھے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی اور انہیں قوم کا معمار سمجھا جاتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے اور استاد کا وہ مقام کہیں کھو سا گیا۔
آج کا استاد بے بس اور مجبور نظر آتا ہے۔ اس کے ہاتھ، زبان اور جذبات تینوں بند ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس سب کے پیچھے سکولوں کی بعض انتظامیہ، مالکان اور وہ نظام ہے جو آئے دن نئے قوانین تو بنا دیتا ہے، مگر استاد کے مسائل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
سکولوں کے مالکان آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر احکامات جاری کر دیتے ہیں، جبکہ استاد اپنی مجبوری، کم تنخواہ اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ہر حکم پورا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ایک استاد جو نئی نسل کی تربیت کرتا ہے، خود ذہنی دباؤ، بے قدری اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں بعض اوقات بچوں کے سامنے استاد کی تذلیل کی جاتی ہے۔ جب ایک بچہ اپنے استاد کو بے عزت ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں استاد کا احترام کم ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ والدین بھی بچوں کو یہ کہتے ہیں کہ “استاد سے ڈرنے کی ضرورت نہیں” یا “وہ تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔” ایسے الفاظ بچوں کے ذہنوں میں استاد کی اہمیت کو کم کر دیتے ہیں۔
جب گھر اور معاشرہ دونوں ہی استاد کی عزت نہ کریں تو پھر بچوں سے یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے استاد کا احترام کریں گے؟ استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ اخلاق، تربیت اور زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ اگر استاد کی عزت ختم ہو جائے تو تعلیم کا اصل مقصد بھی کہیں نہ کہیں ختم ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم استاد کو دوبارہ وہ مقام دیں جس کا وہ حق دار ہے۔ والدین، سکول انتظامیہ اور معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ استاد کی عزت کو قائم رکھے، کیونکہ ایک باعزت استاد ہی ایک باکردار اور کامیاب نسل تیار کر سکتا ہے۔ یاد رکھیں، جس قوم میں استاد کی عزت ختم ہو جائے، وہاں علم کی روشنی بھی آہستہ آہستہ مدھم پڑ جاتی ہے۔
لائبہ ندیم
24/05/2026
*قوت سماعت سے محروم میرا ہیرو*
آج کے ڈان اخبار میں میرے عزیز دوست، معروف ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر عمران نوری صاحب کے صاحبزادے محمد عفان کی متاثر کن کامیابیوں پر خصوصی مضمون شائع ہوا ہے۔
محمد عفان قوتِ سماعت سے محروم ہیں، لیکن انہوں نے اپنی غیر معمولی محنت، عزم اور مستقل مزاجی کے ذریعے پاور لفٹنگ، میراتھن اور فٹنس کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ حوصلہ، لگن اور محنت کے سامنے کوئی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر عمران نوری صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کو دلی مبارکباد۔ محمد عفان یقیناً ہماری نوجوان نسل کے لیے ہمت، عزم اور کامیابی کی ایک روشن مثال ہیں۔
تحریر عمر علی۔
کے پی کے کی خوبصورتی پاکستان کی خوبصورتی۔۔۔
| Monday | 07:45 - 12:00 |
| Tuesday | 07:45 - 12:00 |
| Wednesday | 07:45 - 12:00 |
| Thursday | 07:45 - 12:00 |
| Friday | 07:45 - 22:00 |
| Saturday | 07:45 - 12:00 |