ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاںبندی
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی
مِری مشّاطگی کی کیا ضرورت حُسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہےلالے کی حِنا بندی
The Educationist
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Educationist, Educational Research Center, Karachi.
28/11/2025
Common sense is not a word but a sentence!
اس دور میں اگر آپ کے پاس عقل اور شعور ہے تو یہ کوئی فخر کی بات نہیں—بلکہ ایک طرح کی سزا ہے۔
کیونکہ پھر آپ کو ہر اُس شخص سے نمٹنا پڑتا ہے جس نے سوچنے کی نعمت کو ضائع کر دیا ہے، یا جس نے اسے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔
آج کے معاشرے میں شعور رکھنے والوں کی زندگی مشکل اس لئے ہے کہ:
1. آپ سچ بولیں گے، اور لوگ آپ سے ناراض ہو جائیں گے۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی غلط فیصلہ کر رہا ہو اور آپ اس کی اصلاح کی بات کریں، تو بجائے شکر گزار ہونے کے وہ آپ کو “نصیحت کرنے والا” یا “منفی سوچ والا” سمجھ لے گا۔
2. آپ سوال اٹھائیں گے، اور لوگ آپ کو باغی سمجھیں گے۔
جس ماحول میں لوگ بغیر سوچے سمجھے روایتوں، سنی سنائی باتوں یا سوشل میڈیا افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں، وہاں سوال پوچھنے والا شخص ہمیشہ “مسئلہ پیدا کرنے والا” قرار دیا جاتا ہے۔
3. آپ انصاف کی بات کریں گے، اور لوگ آپ کو ضدی کہیں گے۔
شعور انسان کو اصولوں پر کھڑا رہنا سکھاتا ہے۔ مگر اصولوں پر کھڑا رہنا اس دور میں آسان نہیں، کیونکہ اکثریت کو آسان راستے پسند ہیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔
4. آپ خاموش رہیں گے، تو لوگ اسے کمزوری سمجھیں گے۔
عقل مند اکثر بحث سے بچنے کے لئے خاموش رہتے ہیں۔ لیکن جذباتی لوگ اس خاموشی کو کمزور دل یا شکست کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔
5. آپ برداشت کریں گے، لیکن تھک جائیں گے۔
شعور رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں۔ مگر دل کے اندر وہ روز تھوڑا تھوڑا تھکتا ضرور ہے، کیونکہ اس کے آس پاس پھیلی بےحسی، جہالت اور بےسمجھی اسے اندر سے کھا جاتی ہے۔
آخر میں…
عقل اور شعور رکھنے والے لوگ روشنی کی طرح ہیں—
لیکن روشنی کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
روشنی ہر تاریکی کو برداشت کرتی ہے، مگر تاریکی ایک لمحہ بھی روشنی کو برداشت نہیں کرتی۔
اس لیے اگر آپ کے پاس شعور ہے، تو آپ مبارک بھی ہیں اور آزمائش میں بھی۔
کیونکہ آپ کو دنیا کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ دنیا والوں کو بھی سمجھنا پڑتا ہے—اور یہ دونوں کام آسان نہیں۔
23/11/2025
لباس، ہمارے دماغ کا ریموٹ کنٹرول
ہم جو اکثر "سادگی" کی آڑ میں چھپ کر اپنی سُستی کا دفاع کرتے ہیں، سائنس نے اب اس خوش فہمی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اسے “Enclothed Cognition” کہتے ہیں۔
سائنس کہتی ہے کہ انسانی دماغ اتنا سادہ لوح ہے کہ وہ کپڑے کے ایک ٹکڑے سے ہیک (Hack) ہو جاتا ہے۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ دنیا ہمیں کیسے دیکھتی ہے، بلکہ خوفناک سچ یہ ہے کہ ہمارا لباس یہ طے کرتا ہے کہ ہم خود کو کیسے دیکھتے ہیں۔
تحقیق ثابت کرتی ہے کہ
جب آپ سوٹ یا باوقار لباس (Formal Wear) پہنتے ہیں، تو آپ کا دماغ خود بخود "پاور موڈ" (Power Mode) میں چلا جاتا ہے۔ آپ کی سوچنے کی صلاحیت، اعتماد اور فیصلے کرنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔
اور جب ہم سارا دن ٹراؤزر شرٹ یا میلے کچیلے حلیے میں رہتے ہیں، تو ہمارا دماغ "سُستی موڈ" (Sluggish Mode) آن کر لیتا ہے۔ ہم چاہ کر بھی بڑا نہیں سوچ سکتے کیونکہ ہمارا جسم ہمارے دماغ کو سگنل دے رہا ہوتا ہے کہ "آج آرام کا دن ہے، کوئی تیر نہیں مارنا"۔
"ظاہر کچھ نہیں ہوتا، اصل چیز باطن ہے"۔۔۔ یہ جملہ اکثر وہ لوگ بولتے ہیں جو نہ خود کو بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں اور نہ ہی دنیا کا سامنا کرنے کی۔
اگر ہم بادشاہوں کی طرح سوچنا اور برتاؤ کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں پہلے فقیروں جیسا دکھنا بند کرنا ہوگا۔ کپڑے صرف جسم نہیں ڈھانپتے، یہ ہماری ذہنی کارکردگی (Mental Performance) کو بھی ڈھالتے ہیں۔ اچھا پہنیں، تاکہ آپ کا دماغ کام کرنا شروع کرے۔
23/11/2025
*کہتے ہیں کہ مسیحیوں کے زوال کے زمانے میں دو پادری کسی خانقاہ میں بیٹھے شدت سے بحث کر رہے تھے*
۔
موضوع تھا — گھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد!
ایک پادری کہتا، "بائبل کے مطابق گھوڑے کے دانت اتنے ہوتے ہیں۔"
دوسرا بضد تھا، "نہیں نہیں، بائبل کی روشنی میں گنتی کچھ اور ہے!"
دونوں کی بحث زوروں پر تھی کہ قریب سے ایک عام شخص گزرا۔
وہ کچھ دیر ان کی گفتگو سنتا رہا، پھر نرمی سے بولا،
"حضور! اس معاملے میں بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟ گھوڑے کا منہ کھول کر گنتی کرلیتے ہیں نا!"
یہ بات ہنسی میں لپٹی مگر گہری چبھن رکھتی ہے۔
یہ لطیفہ دراصل ان دانشوروں کے نام ہے جو آج بھی اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے — اسلامی یا سیکولر؟
حالانکہ سوال بائبل یا کتابوں سے نہیں، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سے ہونا چاہیے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔
ایک دن ایک خرکار اپنے گدھوں پر بوجھ لاد کر جا رہا تھا۔
اچانک دور سے اس نے دیکھا کہ ڈاکو آرہے ہیں۔
وہ گھبرا کر چلایا، "بھاگو! ڈاکو آرہے ہیں!"
گدھوں نے سادگی سے جواب دیا، "ہم کیوں بھاگیں؟ ہمیں تو بوجھ اٹھانا ہے، چاہے تیرا ہو یا ان ڈاکوؤں کا!"
یہ لطیفہ ان قوموں کے لیے ہے جو ظلم کے بوجھ تلے دب کر بھی سوچتی ہیں کہ غلامی میں کیا حرج ہے، آخر بوجھ تو وہی اٹھانا ہے!
ایک گاؤں میں سیلاب آیا۔
پانی کا بہاؤ خطرے کے نشان سے دو فٹ اونچا ہو گیا۔
ایک حکومتی افسر موقع پر پہنچا اور بڑے اعتماد سے بولا،
"گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ اب خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے!"
یہ منظر ان ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے صرف تنخواہیں بڑھانے کی تجویز دیتے ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ تنخواہ بڑھانے سے مہنگائی کم نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
*پولینڈ کی ایک اسکول میں ایک بچے نے اپنی ٹیچر سے کہا،*
"میڈم! ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں!"
ٹیچر نے خوش ہوکر بچے کو شاباش دی۔
ایک ہفتے بعد اسکول انسپکٹر آئے۔
ٹیچر نے فخر سے کہا، "دوبارہ بتاؤ بیٹا، بلی والی بات!"
بچے نے کہا، "میڈم! ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب جمہوریت پسند ہیں۔"
ٹیچر حیران رہ گئی، "پچھلے ہفتے تو تم کچھ اور کہہ رہے تھے!"
بچہ مسکرا کر بولا، "جی میڈم، تب ان کی آنکھیں بند تھیں، اب کھل گئی ہیں!"
یہ لطیفہ ان سیاستدانوں کے نام ہے جو پارٹی بدلتے ہی پرانی پارٹی میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں جیسے ابھی ان کی آنکھیں کھلی ہوں۔
لندن میں ایک مشہور بیکری تھی۔
وہاں کے کباب اکثر بکنگھم پیلس بھیجے جاتے تھے۔
دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر بڑا بورڈ لگا دیا:
"ہماری بیکری کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں!"
قریب کی دوسری بیکری کا مالک جل گیا۔
اس نے اپنی دکان پر بورڈ لگوایا:
"اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما!"
یہ لطیفہ ان اپوزیشن سیاستدانوں کے نام ہے جو حکومت کی تعریف کرنے کے بجائے صرف مخالفت کو سیاست سمجھتے ہیں
ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھی۔
اس نے ایک دیہاتی عورت سے پوچھا،
"اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اور بیس روپے شوہر کو دے دو، تو تمہارے پاس کتنے بچیں گے؟"
عورت بولی، "کچھ بھی نہیں!"
خاتون نے ڈانٹ کر کہا، "تمہیں حساب نہیں آتا!"
دیہاتی عورت نے اطمینان سے کہا،
"آپ میرے شوہر شیرو کو نہیں جانتیں، وہ سب روپے مجھ سے چھین لے گا!"
یہ لطیفہ ان پالیسی سازوں کے نام ہے جو زمینی حقائق جانے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔
ایک مولوی صاحب جمعہ کا خطبہ دینے گاؤں پہنچے۔
پورا ہفتہ خطبہ تیار کیا، مگر جمعہ کے دن صرف ایک نمازی آیا۔
مولوی صاحب سوچ میں پڑ گئے،
"اب میں کیا کروں؟"
نمازی بولا،
"مولوی صاحب، میں تو ایک دیہاتی ہوں۔ اگر میں بھینسوں کے لیے چارہ لے جاؤں اور وہاں صرف ایک بھینس ہو، تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔"
مولوی صاحب خوش ہو گئے اور پورا خطبہ دے ڈالا۔
پھر پوچھا، "کیا خیال ہے؟ کیسا خطبہ تھا؟"
دیہاتی بولا،
"مولوی صاحب، میں تو ایک دیہاتی ہوں۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اگر ایک ہی بھینس ہو تو سارا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالنا چاہیے!"
یہ لطیفہ نصاب بنانے والوں کے نام ہے جو طلبہ پر بے جا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔
ایک خاتون قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین تھی۔
اس نے دیکھا کہ ایک دکاندار بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے، وہ چینی کا قیمتی پیالہ ہے — کم از کم تیس ہزار ڈالر کا۔
خاتون نے سوچا کہ یہ شخص اس کی قیمت سے نابلد ہے۔
چالاکی سے بولی،
"جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کریں گے؟"
دکاندار بولا، "یہ میری پالتو بلی ہے، مگر اگر آپ کو پسند ہے تو پچاس ڈالر میں لے جائیں۔"
خاتون نے فوراً پیسے دیے اور جاتے جاتے کہا،
"یہ پیالہ تو اب آپ کے کسی کام کا نہیں رہا، یہ بھی مجھے دے دیجیے تاکہ میں اسی میں بلی کو دودھ پلا سکوں۔"
دکاندار مسکرا کر بولا،
"میڈم! وہ پیالہ میں نہیں دے سکتا۔ اسی پیالے کو دکھا کر میں اب تک تین سو بلیاں فروخت کرچکا ہوں!"
یہ لطیفہ ان باشعور عوام کے نام ہے جو بار بار ایک ہی چال میں پھنس جاتے ہیں اور پھر بھی سمجھتے ہیں کہ اس بار دھوکہ نہیں کھائیں گے۔
مفکورہ
صوبے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی اورپہاڑوں میں تحریک طالبان کاراج تھا ۔رباب اور ستار کی آواز فائرنگ اور دھماکوں کے شور میں دب گئی تھی۔ طالبان فن کاروں کواغوا کر رہے تھے اورمجلس عمل گرفتار کر رہی تھی۔ کمال محسود کواپنا وطن چھوڑنا پڑ گیا۔ کمال محسود کا جادو وزیرستان سے ڈیرہ غازی خان تک بولتا تھا۔ وہ سرائیکی میں بھی گاتے تھے۔ ہندوکش اور ہمالیہ کے مشکل گزار راستوں سے گزرتی ہوئی جیپوں میں اب بھی انکی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہم تمہاری راہ دیکھیں گے صنم، تم چلے آؤ پہاڑو کی قسم۔ یہ کمال محسود ہیں۔ رات کے اندھیرے میں اپنا خون آلود ہارمونیم لیکر اسلام آباد چلے گئے۔ انہیں سپرمارکیٹ میں اپنی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پرچی ملی۔ پرچی پڑھ کر کمال اور بھی خاموش ہوگئے۔ کچھ ہی عرصے بعد اسلام آباد کے ایک فلیٹ سے انکی لاش برآمد ہوگئی۔ گیس کے ایک سلنڈر کو ان کا قاتل قرار دیکر فائل بندکردی گئی۔
ایسی کتنی داستانیں ہیں۔ ہارون باچاپشتونوں کے جگجیت سنگھ ہیں۔ جتنا خاموش رہ سکتے تھے رہ لیے۔ پھر وہ کافکا کے شہر پراگ سدھار گئے۔ سردار علی ٹکر بھی امریکا چلے گئے۔ افغانستان کے ڈاکٹر ناشناس اور فرہاد دریا بھی وہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ نئی نسل کے فنکار شمالی افغان اورجاوید امرخیل بھی وہیں جوتیا چٹخاتے ہیں۔ یہ سب زندہ ہیں، مگر ہجرت کا دکھ لیے یہاں وہاں پھرتے ہیں۔
سوات دانشوروں اور فنکاروں کا شہر تھا۔ یہاں ایف ایم ریڈیو پرلوک گیتوں کی جگہ ملافضل اللہ کی تقریروں نے لے لی۔ اسکول کی عمارتیں بارود رکھ کراڑادی گئیں۔ شہر کا محاصرہ ہوگیا۔ نصیبولال جیسی مقامی کوئل نازیہ اقبال برقع اوڑھ کراسلام آباد نکل گئیں۔ گلوکارہ شبنم کو راستہ نہ مل سکا۔ اس کو بالوں سے گھسیٹ کر گرین چوک پرلایا گیا۔ اسکے بعد جو ہوا وہ بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ سب ہورہا تھا کہ مجلس عمل نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے پشاور کے کلچرل سینٹر کو تالا لگا دیا۔ فنکاروں کا معاشی قتل شروع ہوگیا۔
جیسے پنجاب میں ریشماں تھیں جیسے سندھ میں مائی ڈھائی ہیں زرینہ بلوچ ہیں، ایسے ہی پشاور میں زرسانگہ ہوتی ہیں۔ جس دل سے عابدہ پروین مولا پکارتی ہیں اسی دل سے زرسانگہ کوئے یار میں یاقربان کی صدا لگاتی ہیں۔ روٹی کا غم ان کا فن لے ڈوبا۔ عالم زیب جیسے فن کار چپلی کباب بیچنے پر مجبور ہوگئے اور جو رہ گئے ان کے ہاں تبلیغی جماعت میں پناہ لینے کا رجحان بڑھ گیا۔ قلندر مومند یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی گزر گئے تھے۔ سعداللہ جان برق کوالبتہ دیکھنا پڑا کہ شعر جب خاطر غزنوی اور احمد فراز کے وطن سے ہجرت کرتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔
2008 ءمیں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی تو باچاخان کی چند ہی نشانیاں باقی رہ گئی تھیں۔ میاں افتخارحسین ان میں سے ایک تھے۔ میاں صاحب کے ہاتھ میں اختیار آیا تومجلس عمل کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔ دھول میں اٹے ہوئے تالے پر قلم کی ایک ضرب لگائی اور غنی خان کے نغمے گونج اٹھے۔ غنی خان باچا خان کے بیٹے اور ولی خان کے بھائی تھے۔ وہ لوک سبھا کے سب سے کم عمر ممبر رہ چکے تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور نہرو سے انکو رسم و راہ تھی۔ شعر ہی نہیں کہتے تھے، مصوری اور مجسمہ سازی بھی کرتے تھے۔کسی موسیقار کا فن امر نہیں ہوسکتا اگروہ غنی خان کے آستان کو چھوکر نہیں گزرتا۔ یعنی یہاں آرٹ کی نسبت بھی باچا خان کے گھر جاتی ہے۔
میاں صاحب نے کلچرل سینٹر کاتالا تو توڑ دیا،مگر دروازہ ٹھیک سے نہ کھل سکا۔ حالات ابھی موافق نہیں تھے۔آدھے لوگ غیر شعوری طور پر طالبان بن چکے تھے اور آدھے ٹراما میں تھے۔ فنکار دربدر تھے۔کوئی ملک چھوڑ چکا تھا کوئی کام چھوڑ چکا تھا۔ لوگ سرگوشیوں میں بات کررہے تھے۔گلی محلے جتھوں کے حوالے ہوچکے تھے۔کچھ لوگ تھے جو 'مفکورہ کے نام سے چپ چاپ کام کر رہے تھے۔ کتاب بانٹ رہے تھے اور تھیٹر چلا رہے تھے۔اس تھیٹر کے کردار زمین سے اگے ہوئے نوجوان تھے۔ان کے بیچ کہانی کا رشتہ تھا۔ یہ دبی آواز میں کہانیاں سنا رہے تھے۔
ان کے تھیٹر اس تھیٹر کی یاد دلاتے تھے جو برٹش راج کے خلاف خدائی خدمتگار چلا رہے تھے۔ یہ روم کے تحریکی تھیٹروں کی یاددلاتے تھے۔ ان خفیہ تھیٹروں کی یاد بھی دلاتے تھے جو چیک سلواکیہ میں چارٹر 77 کی تحریک سے وابستہ نوجوان زیر زمین چلا رہے تھے۔مفکورہ بھاری پراجیکٹس نہیں چلا رہے تھے۔یہ جگر کا بہت سارا خون جلاتے تھے تو مشکل سے ایک بلب روشن ہوتا تھا۔ اسی روشنی میں دال دلیہ کرکے لوگ کام پر لگ جاتے تھے۔
مفکورہ مست الست درویشوں، فنکاروں اور علماء کا ٹھکانہ ہے۔ اس ٹھکانے سے سائیں کمال خان شیرانی اور بابا جمالدینی کے 'لٹ خانہ کی بو باس آتی ہے۔ لٹ خانہ ایک بکھرا ہوا کمرہ تھا، مگر سیاسی شعور اور ادبی ذوق بانٹنے میں اس کا کردارجامعات سے زیادہ تھا۔ بلامبالغہ زیادہ تھا۔ شہر کی مرکزی لائبریری میں جتنی کتابیں ہوتی ہیں ان سے زیادہ تو یہ لوگوں کو دیکر بھول گئے تھے۔
کچھ ایسا ہی سلسلہ مفکورہ کا ہے۔ مفکورہ میں بیٹھے ہوئے روغانی اور ارمان جیسے لوگ دماغوں پر لگے ہوئے زنگ کواتارنے والا کیمیکل بانٹتے ہیں۔ نظرمیں تنگی ہوتو محبت کا اسم اعظم پھونک دیتے ہیں۔موسیقی سے ہردرد کا علاج کرتے ہیں۔ مفکورہ اب ایک نمائندہ حجرہ ہے۔ یہاں ہرطرح کے لوگ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ ستار نواز وجیہ نظامی کے الفاظ میں کہا جائے تو یہاں پر ہونے والے مکالمے بھی سریلے ہوتے ہیں۔
کبھی کسی مفتی صاحب کو طبلہ بجاتے ہوئے دیکھا ہے؟ کسی شب زندہ دارعابد کو سرتال پر گفتگو کرتے دیکھا ہے؟ تھکےہارے خواجہ سرا کو ٹوٹ کر جائے نماز پر گرتا دیکھا ہے؟یہ ماحول آپ مفکورہ میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں نماز کا اشارہ کریں جائے نماز مل جاتی ہے۔ موضوع بتائیں کتاب آجاتی ہے۔ نغمے توخیر یہاں اتنے بہتے ہیں کہ اکثر پاؤں کے نیچے آجاتے ہیں۔
مفکورہ نے چند دن پہلے بانسری بجائی اور پورا شہر امڈ آیا۔ جس نشتر ہال کو صرف اسپانسرڈ جلسے بھر سکتے تھے، وہ اب ایک تھیٹر کیلئے گنجائش سے زیادہ بھرا ہوا تھا۔ میں کراچی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا اور ہراس شخص سے حسد محسوس کر رہا تھا جواس تھیٹرمیں براہ راست شریک تھا۔ ایسے لگا کہ جیسے تالا تو میاں افتخار حسین نے توڑا ہو مگر دروازہ مفکورہ نے کھول دیاہو۔ تالے اور دروازے کے بیچ کا عرصہ بہت کٹھن ہے۔اس میں اٹھارہ برس اور ہزاروں لاشیں پڑی ہیں۔ حالت پھر سے کٹھن ہورہے ہیں۔ آگ اور خون کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔ بس مفکورہ آباد رہے۔ مفکورہ نہیں ہوگا تو لالا لطیف آفریدی کو کون یاد کرے گا۔
فرنود عالم / روزنامہ جنگ
20/10/2025
ہمارے مسیحاؤں کے ناقابل فہم روئیے
ڈاکٹروں کے روئیوں پر شکوہ کناں خاتون کی بپتا
آج کل ڈاکٹروں کا بیوروکریٹک رویہ سمجھ سے باہر ہے، جیسے وہ کوئی چھونے نہ جانے والے سیلیبریٹی ہوں۔
ہر اسپیشلسٹ کے پاس جاؤ تو ایک عجیب سا رعب اور تکبر ہوتا ہے۔ آپ اپنی بیماری کے بارے میں کچھ پوچھو تو نہ وہ اوپر دیکھتے ہیں، نہ جواب دیتے ہیں۔ خاموشی سے نسخہ لکھتے ہیں، کاغذ آپ کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ اگر آپ کو خوراک (dosage) سمجھ نہ آئے اور دوبارہ پوچھو تو برا مان جاتے ہیں۔
مانا کہ وہ بیماری کو سمجھتے ہیں، مگر یہ تو بنیادی اخلاق ہے کہ کوئی مریض سوال کرے تو اسے جواب دیا جائے — خاص طور پر جب وہ اتنی بھاری فیس دے کر آیا ہو۔
ان کے سخت رویے کی وجہ سے میں اپنی باتیں پہلے سے لکھ کر لے جاتی ہوں تاکہ گھبراہٹ میں کچھ بھول نہ جاؤں اور ان کا وقت بھی ضائع نہ ہو، مگر جتنا بھی مختصر سوال کرو، وہ پھر بھی ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے آپ وہاں نہ ہوں۔ دل دکھتا ہے، بے عزتی محسوس ہوتی ہے۔
پانچ ہزار سے کم فیس کسی کی نہیں، اور اخلاقیات نام کی چیز صفر۔
اوپر سے مسئلہ حل کر دیں تو بندہ کہے چلو چلیں، رویہ بُرا سہی، علاج اچھا تھا — مگر یہاں تو کسی کا علاج ہی ٹھیک نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر بس ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں۔ آج کل تو لگتا ہے کسی میں تشخیص کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ سب کا کسی نہ کسی لیب یا میڈیکل اسٹور سے کمیشن طے ہے۔
پہلے وہ ٹیسٹ رپورٹس دکھانے کے لیے follow-up وزٹ کی فیس نہیں لیتے تھے، مگر اب ہر وزٹ کا الگ خرچہ۔
لمبی قطاریں، گھنٹوں انتظار، اور اندر جا کر صرف پانچ منٹ، وہ بھی روبوٹ کی طرح۔
آج پھر غلطی سے چلی گئی تھی، اور تب سے غصے میں ہوں۔
اوپر سے جو دوائیں لکھتے ہیں وہ یا تو مارکیٹ میں ملتی ہی نہیں، یا مہینوں سے بند ہو چکی ہوتی ہیں، اور ان کے متبادل کے بارے میں بھی انھیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔
تحریر: ریما مفتی صاحبہ
عمل کے بغیر علم بے معنی ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُس کے لیے صرف 'جاننا' کافی کیوں نہیں ہے؟
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ کیوں ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے کیا کرنا چاہیے، مالی کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے، یا کوئی نیا ہنر کیسے سیکھنا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ وہ 'کیا کرنا ہے' اور 'کیوں کرنا ہے' کی مکمل معلومات (Knowledge) رکھتے ہیں، لیکن عملی دنیا میں ان کی زندگی ویسی نہیں ہوتی جیسی وہ چاہتے ہیں۔ کیا کمی رہ جاتی ہے؟ کیا آپ بھی کبھی اس مخمصے کا شکار ہوئے ہیں؟
یہ بات زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتی ہے – چاہے وہ ذاتی ترقی ہو، پیشہ ورانہ کامیابی، یا روحانی سکون۔ جاننا (Knowing) پہلا قدم ضرور ہے، لیکن یہ آخری قدم نہیں ہے۔ اگر ہم کامیابی کو ایک بلند پہاڑ سمجھیں، تو معلومات محض اُس پہاڑ کا نقشہ ہے۔ نقشہ آپ کو راستہ دکھا سکتا ہے، لیکن آپ کو چوٹی تک نہیں پہنچا سکتا۔ چوٹی تک پہنچنے کے لیے، آپ کو نقشہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ چڑھنے کا ہنر (Skill) بھی چاہیے اور سب سے بڑھ کر، چڑھنے کی خواہش (Desire) بھی ہونی چاہیے۔
یہاں ایک فلسفیانہ نکتہ پوشیدہ ہے۔ ہم انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر علم (Knowledge) کو عمل (Action) پر فوقیت دے دیتے ہیں۔ ہم کتابیں پڑھتے ہیں، لیکچرز سنتے ہیں، اور اپنے ذہن کو معلومات سے بھر لیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ صرف معلومات کا ذخیرہ ہی ہماری تقدیر بدل دے گا۔ لیکن، درحقیقت، تبدیلی تب آتی ہے جب یہ تینوں طاقتیں – علم (Knowledge)، ہنر (Skills)، اور خواہش (Desire) – ایک نقطے پر آ کر ملتی ہیں۔ یہ تینوں مل کر وہ جادوئی مرکز بناتے ہیں جسے ہم عادت (Habit) کہتے ہیں۔
تصور کیجیے کہ آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ روزانہ صبح اٹھ کر ورزش کریں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ورزش کیوں ضروری ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ کونسی ورزش کس طرح کرنی ہے (یعنی آپ کے پاس علم ہے)۔ آپ نے انٹرنیٹ سے ویڈیوز دیکھ کر ورزش کے بنیادی طریقے بھی سیکھ لیے ہیں (یعنی آپ کے پاس بنیادی ہنر بھی ہے)۔ لیکن کیا آپ ہر صبح بستر سے نکلنے کا عزم رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے اندر وہ شدید خواہش ہے جو آپ کو آرام کی قربانی دینے پر مجبور کرے؟ اگر آپ کی خواہش کمزور ہے، تو آپ کا علم اور ہنر بے کار ہو جائیں گے۔
خواہش (Desire) وہ ایندھن ہے جو عمل کی مشین کو چلاتا ہے۔ یہ وہ روحانی آگ ہے جو آپ کو مشکل وقت میں بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ کوئی عارضی جوش نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے اندر کی وہ سچی پکار ہے جو آپ کے مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر آپ اپنے مقصد کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے (Want) نہیں ہیں، تو آپ کبھی بھی وہ قیمت ادا نہیں کریں گے جو کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے، کسی بھی کام کی شروعات میں، یہ خود سے پوچھنا نہایت اہم ہے: "کیا میں واقعی یہ کرنا چاہتا ہوں؟" کیا میری خواہش محض سرسری سوچ ہے یا میرے وجود کا اٹوٹ حصہ؟
دوسرا اہم حصہ ہے ہنر (Skills)۔ ہنر یہ ہے کہ 'کام کیسے کرنا ہے'۔ آپ ہزاروں کتابیں پڑھ سکتے ہیں کہ پیانو کیسے بجایا جاتا ہے، لیکن جب تک آپ خود اپنی انگلیاں کی بورڈ پر نہیں رکھیں گے اور گھنٹوں مشق نہیں کریں گے، آپ کبھی بھی ایک بھی دھن نہیں بجا پائیں گے۔ علم آپ کو 'نظریہ (Theory)' دیتا ہے، لیکن ہنر 'عملی مہارت (Practical Mastery)' دیتا ہے۔ ہنر محنت، تکرار، اور غلطیوں سے سیکھنے کے عمل سے آتا ہے۔ یہ مشق ہی ہے جو آپ کے علم کو آپ کے لاشعور کا حصہ بنا دیتی ہے، اور پھر آپ اس کام کو آسانی اور مہارت سے کر سکتے ہیں۔ ایک ہنر مند شخص وہ ہوتا ہے جو نہ صرف جانتا ہے بلکہ جو 'کر سکتا ہے'۔
جب آپ کے پاس کسی کام کو کرنے کا مکمل علم ہو، اُس کام کو صحیح طریقے سے کرنے کا ہنر ہو، اور اُسے دل کی گہرائیوں سے کرنے کی خواہش ہو، تو یہ تینوں قوتیں آپس میں گھل مل کر ایک مستحکم، غیر متزلزل مرکز بناتی ہیں: عادت (Habit)۔
عادتیں ہی وہ خاموش معمار ہیں جو ہماری زندگیوں کی عمارت کھڑی کرتی ہیں۔ ایک عادت وہ خودکار عمل ہے جو ہم بغیر سوچے سمجھے کرتے رہتے ہیں۔ جب کوئی کام ہماری عادت بن جاتا ہے، تو اُسے کرنے کے لیے ہمیں ارادے کی زیادہ طاقت یا مسلسل ترغیب کی ضرورت نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر، برش کرنا، یا صبح کی نماز پڑھنا۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو آپ کے مقاصد کو آپ کی روزمرہ کی زندگی میں سمو دیتی ہے۔ درحقیقت، ہماری عادات ہی ہماری تقدیر ہوتی ہیں۔ مشہور فلسفی ارسطو نے کہا تھا: "ہم وہ ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں۔ اس لیے، بہترین کارکردگی کوئی عمل نہیں بلکہ ایک عادت ہے۔"
یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے: صرف جاننا کافی نہیں، بلکہ جاننے کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کا ہنر اور عمل کرنے کی شدید خواہش بھی ضروری ہے۔ اپنی زندگی میں جھانک کر دیکھیں۔ آپ کے کون سے مقاصد ہیں جو صرف معلومات کے انبار تلے دبے ہوئے ہیں؟ آپ کو ان معلومات کو ہنر میں بدلنے کی ضرورت ہے اور اپنی خواہش کو ایک بے قابو توانائی میں۔ جب یہ تینوں عناصر ایک ساتھ چلیں گے، تب ہی آپ خود کو حقیقی تبدیلی اور کامیابی کے راستے پر پائیں گے۔ اپنی عادتوں پر کام کریں، کیونکہ آپ کی عادات ہی آپ کے مستقبل کی ضامن ہیں۔
ایسی پوسٹوں کے لیے اس پیج کو فالو کریں
ایک اسکول ٹیچر کا کہنا ہے کہ امتحانی مرکز میں میری ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ، میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس کا بیٹا بھی اسی سینٹر میں امتحان دے رہا ہے اس کا خیال رکھنا
کہتا ہے:
ایک دن موقع پا کر اس کے پاس گیا اور پوچھا کوئی مسئلہ تو نہیں؟
اس دن اسلامیات کا پرچه تھا ، اس نے ایک سوال دکھایا کہ "کوئی سے تین اولوالعزم پیغمبروں کے نام لکھیئے" کا جواب چاهیئے
میں نے کوشش کی کہ کسی طرح رازداری سے اسے ایسے جواب لکھوا دوں کہ کسی کو پتہ نہ چلے اور کام بھی ہو جائے، ورنہ اچھی خاصی بدنامی ہو جانی تھی او وه بھی اسلامیات میں
میں نے لڑکے سے کہا کہ جواب میں اپنے تینوں ماموؤں کے نام لکھ دے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کے تین ماموں ہیں جن کے نام ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ہیں
اگلے راٶنڈ میں جب میں نے پیپر دیکھا تو لڑکے نے جواب میں لکھا تھا : گڈّو ماموں، ٹونی ماموں اور چیکو ماموں
مشتاق احمد یوسفی
ایسی پوسٹوں کے لیے اس پیج کو فالو کریں!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Karachi
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |