The Educationist

The Educationist Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Educationist, Educational Research Center, Karachi.

ہم منطق کے نہیں بلکہ ظاہری دلکشی کے غلام ہیں۔ انسان بنیادی طور پر عقلیت پسند مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ خواہش، جذبے اور تسکی...
16/08/2026

ہم منطق کے نہیں بلکہ ظاہری دلکشی کے غلام ہیں۔ انسان بنیادی طور پر عقلیت پسند مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ خواہش، جذبے اور تسکین کا غلام ہے۔ ہم اکثر یہ گمان کرتے ہیں کہ ہمارے فیصلے، افکار اور افعال منطق اور سچائی کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ زندگی کا بیشتر سفر اس اصول پر طے ہوتا ہے کہ کون سی چیز ہمیں اپنے ظاہر میں زیادہ دلکش، تسلی بخش اور خوبصورت محسوس ہوتی ہے۔

“اگر تم کسی لال بیگ کو کچل دو تو لوگ تمہیں فاتح سمجھتے ہیں، لیکن اگر تم کسی تتلی کی زندگی ختم کر دو تو تمہیں سنگدل قرار دیا جاتا ہے؛ دراصل اخلاقیات کے فیصلے اکثر جمالیاتی معیار پر ہوتے ہیں۔ “

حشرات کی دنیا میں لال بیگ اور تتلی دونوں بائیولوجیکل اعتبار سے ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ایک کا خاتمہ تحسین کے قابل ٹھہرتا ہے اور دوسرے کا نقصان جرم بن جاتا ہے۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ انسان کا اخلاقی معیار شے کی باطنی حقیقت یا عدل کے بجائے ظاہری خوبصورتی کا مرہونِ منت ہے۔
ہم سچ کے چہرے پر اپنی پسندیدہ خواہشات کا نقاب اوڑھ کر اسے تسلیم کرتے ہیں اور اپنے فیصلے دلیل کے بجائے جاذبیت کی بنیاد پر ڈھال لیتے ہیں
اس رویے کا سب سے خوفناک پہلو وہ فکری اندھیرا ہے جو انسان کو اپنی ہی دنیا کا اسیر بنا دیتا ہے۔ بدترین قسم کی جہالت یا اندھا پن یہ نہیں کہ انسان دیکھ نہ سکے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص زاویہ نظر کو ہی آخری اور واحد سچائی تسلیم کر لے۔ جب کوئی فرد یہ فرض کر لیتا ہے کہ کائنات کو دیکھنے کا جو روزن اس نے منتخب کیا ہے، حقیقت صرف وہی ہے، تو وہ شعور کی تمام روشن راہوں کو خود اپنے ہاتھ سے بند کر دیتا ہے۔ یہ تعصب انسان کو دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے اور وہ خود ساختہ سچائیوں کی ایک ایسی جیل میں قید ہو جاتا ہے جہاں کی دیواریں اس کی اپنی انا اور تحکم سے مل کر بنتی ہیں۔

حقیقی بصیرت اور فلسفیانہ فکر کی بنیاد ہی اس اعتراف پر قائم ہے کہ ہماری بینائی محدود ہے اور کائنات کی سچائی ہمارے مشاہدے سے کہیں زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ جب تک انسان اپنی سوچ کو لچکدار بنانے اور اپنے زاویہ نظر کی حد بندیوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، وہ سچائی کا ادراک حاصل نہیں کر سکتا۔

مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا اور اپنی تسلیم شدہ حقیقت پر سوال اٹھانا ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو خوفناک تعصبات سے نکال کر وسعتِ نظر اور فکری آزادی کی طرف لے جاتا ہے۔اگر ہم منطق Logic کو نظر انداز کر کے صرف نظر آنے والی خوبصورتی اور اپنے ذاتی نقطہ نظر پر ہی اصرار کرتے رہے، تو ہماری فکری پرواز محض ایک دھوکا بن کر رہ جائے گی اور ہم سچائی کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے۔

گھر کا پاور بینک... جو سب کی زندگی روشن کرتے کرتے خود اندر سے تھک جاتا ہے۔ 💔ایک باپ، ایک شوہر، یا گھر کا کمانے والا فرد؛...
10/08/2026

گھر کا پاور بینک... جو سب کی زندگی روشن کرتے کرتے خود اندر سے تھک جاتا ہے۔ 💔
ایک باپ، ایک شوہر، یا گھر کا کمانے والا فرد؛ اپنی تمام تر تھکن اور پریشانیوں کو چھپا کر صرف اپنوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے دن رات جُتا رہتا ہے۔ بچوں کی پڑھائی، بزرگوں کی دوائیں، گھر کے اخراجات اور نوکری کا دباؤ—ان سب کی تاریں اسی ایک انسان سے جڑی ہوتی ہیں۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اس "پاور بینک" کو بھی ری چارج ہونے کی ضرورت ہوتی ہے؟ اپنوں کا ایک پیار کا بول، تھوڑا سا سکون اور حوصلہ افزائی ہی اس کا اصل چارجر ہے۔
اپنے گھر کے اس "پاور بینک" کا خیال رکھیں، کیونکہ اگر یہ بجھ گیا تو اندھیرا ہو جائے گا۔

09/08/2026

ذہین عورت کے لئے ممکن نہیں ہوتا وہ کمتر ذہن کو دیوتا بنا کر
زندگی اس کے حوالے کر دے،
ذہانت بذات خود سرشاری کا احساس ہے جو اسے تنہا نہیں ہونے دیتا،
وہ منتخب کرتی ہے نہ منتخب ہونا پسند کرتی ہے۔
وہ ساتھ ساتھ چلنا پسند کرتی ہے۔
میرے آگے مت چلو تم میرے آقا نہیں،
میرے پیچھے مت چلو میں تمہاری رہنما نہیں،
میرے ساتھ ساتھ چلو کہ ہم دوست ہیں !

البرٹ کامیو

02/08/2026

ادھورے خواب

جن دنوں میری پتریر سکینہ کی شادی ہوئی۔ ان دنوں میرے درجہ ثانویہ کے امتحانات ہو رہے تھے۔ سکینہ کی شادی پہ صوفیہ اپنے مکمل خاندان کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ صوفیہ کے ابو اور چچا جان کا آپسی رشتہ پگڑی ول بھائیوں والا تھا۔ جنکے ناموں کیساتھ سیال اور نول صرف شناخت کی وجہ سے لکھا جاتا تھا ورنہ اک دوجے کے دکھ سکھ کے بھائیوال چچا بہروز اور مہر کبیر معاشرے میں سگے بھائیوں کی طرح جانے جاتے تھے۔ صوفیہ تب نہم کلاس کی طالبہ تھی، کم و بیش مجھ سے تین سال چھوٹی، لیکن قدو قامت میں کم و بیش میرے جتنی ہی تھی۔ ان دنوں میں مکمل جوان ہو چکا تھا جبکہ صوفیہ جوانی کے زینے پہ قدم رکھ رہی تھی۔ جہاں صوفیہ اپنے ذی حشمت قبیلے کی مانند باوقار چال کی حامل، پراعتماد اور نسوانی حسن سے مالا مال تھی۔ وہاں اپن بھی کچھ کم نہیں تھے۔ ہم بھی جب زلف پریشاں سنوارا کرتے تو راہ چلتی ماہ جبینوں کی سانسیں رک جایا کرتی تھیں۔
شادی کے شورو غوغا میں ہی ہماری کہیں آنکھیں چار ہوئیں اور ہمیں پیار ہو گیا۔ صوفیہ نے بھی میری توقعات سے بڑھ میرے جذبات کی قدر کی۔ لیکن یہ خوشیاں بس دو دن کی عارضی خوشیاں ثابت ہوئیں۔ جونہی شادی ختم ہوئی تو صوفیہ واپس گھر چلی گئی۔ صوفیہ گھر تو چلی گئی لیکن خوبصورت بیتے لمحوں کی یادیں میرے دامن میں چھوڑ گئی۔ چند دن تو میں نے یادوں کے سہارے بسر کئے لیکن جب کام برداشت سے باہر ہوا تو اک دن چھٹی ویلے اسکے سکول کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ صوفیہ سکول یونیفارم میں باہر نکلی تو سامنے رکشے کے پاس مجھے کھڑا پا کر اسکے چہرے پہ قوس قزح کے رنگ بکھر گئے۔ صوفیہ مجھے یوں بے قرار ہو کر ملی جیسے صدیوں کی بچھڑی ہو۔ میں نے رکشے والے کی طرف اشارہ کیا تو کہنے لگی ان جیسوں سے کیا ڈرنا۔ حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دے ڈالی۔ جو میں نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد قبول کر لی۔ ان دنوں سرکاری چھٹی جمعہ والے دن ہوا کرتی تھی۔ جمعہ والے دن میں لٹھے کا سوٹ پہنے اور رومانس پرفیوم لگائے صوفیہ کے گھر پہنچ گیا۔ انکل کبیر بڑے پرتپاک طریقے سے ملے اور مجھے اندر گھر لے گئے۔ دوران گفتگو انکل کبیر شادی پہ میرے کیے گئے انتطامات کی تعریف کرتے رہے۔ جبکہ صوفیہ اس دوران چائے بسکٹ اور پھل وغیرہ لے آئی۔ اتنے میں ایک نومولود بچہ چلتا چلتا میرے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس بارے پوچھا تو انکل نے شرمیلے سے لہجے میں بتایا۔ یہ علی شیر ہے میرا آخری اور لاڈلا بیٹا۔ انکل کی نرم مزاجی پا کر میرے دل نے محسوس کیا، اگر وقت آنے پہ ان سے صوفیہ کا ہاتھ مانگ لیا جائے تو امید ہے ناں نہیں کریں گے۔ لیکن یہ میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔ جب انہوں نے گپ شپ کے دوران کہا۔ بیٹا! تمہاری بہن صوفیہ کی تین ماہ بعد شادی ہے۔ یہاں بھی شادی کے انتظامات تم نے ہی سنبھالنے ہیں۔ یہ سن کر میرے پہ گھڑوں پانی پڑ گیا اور انکل کبیر مجھے اس جلاد کی صورت نظر آنے لگ گئے جو ہماری بن دیکھی خوشیاں کا قاتل ہو۔

ایف اے کا نتیجہ نکلنے کیساتھ ہی میں نے روزگار کے لیے لاہور کیلیے رخت سفر باندھ لیا۔ جہاں مجھے شاہ عالمی مارکیٹ میں عروسی ملبوسات بنانے والی اک دکان پہ کام مل گیا۔ اک دن نائیک صاحب نے ناپ والا کارڈ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ یہ تمہارے جھنگ کے بندے ہیں۔ تین ہزار پیشگی موصول ہو چکا، سات ہزار بقایا ہے۔ عروسی جوڑا اچھے سے تیار کرنا، ورنہ یہ جانگلی بقیہ پیسے دیتے وقت چیز میں نقص نکالنے لگ جاتے ہیں۔ میں نے کارڈ کی پشت پہ دیکھا تو مہر کبیر کا نام میری قسمت کو دندیاں چڑہا رہا تھا۔ میں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا۔ واہ نیمے تیری قسمت! تو نے بھین کا عروسی جوڑا بھی اب اپنے ہاتھوں سے تیار کرنا تھا۔

صوفیہ کی شادی کا کارڈ موصول ہونے کے باوجود میں نے شادی میں شرکت نہ کی اور چھٹی نہ ملنے کے بہانے لاہور میں مقیم رہا۔ صوفیہ کی شادی کب، کیسے اور کس کے ساتھ ہوئی۔ میں نے جاننے کی زحمت نہ کی۔ وقت گزرا تو فکر معاش نے آہستہ آہستہ فکرِ صوفیہ دل سے محو کر دی۔ البتہ انکل کبیر اور اسکے خاندان سے ایسی نفرت سی ہوئی کہ پچھلے پچیس سالوں میں انکے کسی دکھ سکھ میں نہ شریک ہوا۔

دو ماہ قبل گلگت الیکشن ڈیوٹی سے واپس گھر آیا تو بیگم نے اک شادی کارڈ سامنے دھر دیا۔ سفید مخملی کارڈ پہ علی شیر ولد مہر کبیر کا نام جگمگا رہا تھا۔ پچیس سال سے منقطع رشتہ دوبارہ گانٹھنے میں مجھے تو کوئی دلچسپی نہ تھی۔ تاہم بیگم کے بتلانے پر کہ کوئی بزرگ آئے تھے اپنا نام مہر کبیر بتا رہے تھے اور تاکیداً کہہ رہے تھے۔ پورا ٹبر لازمی آئیے گا۔ یہ سن کر ناچار میں نے حامی بھر لی۔

ولیمے والے دن میں اپنے پورے ٹبر کیساتھ شادی پہ موجود تھا۔ پچیس سال بعد میں نے صوفیہ کو دیکھا تو وہ بالکل اپنی مرحوم ماں کا عکس نظر آ رہی تھی۔ انتالیس سالہ صوفیہ نے چہرے پہ پڑی وقت کی پرچھائیوں کو میک اپ کے ساتھ چھپانے کی اچھی کوشش کی ہوئی تھی لیکن وقت کی پڑی دھول اسکے چہرے پہ واضح نظر آ رہی تھی۔ صوفیہ مجھے ملی تو اس کے چہرے پہ آشنائی کی کوئی چمک نہیں تھی۔ میں نے بھی اسکے چہرے پہ اک حسرت بھری نگاہ ڈالنے کے بعد اجنبی سا لہجہ بنا لیا۔ انکل مجھے سٹیج پہ لے گئے اور دلہا علی شیر سے میرا تعارف کروایا۔ ابھی ہم فوٹو سیشن کرکے فارغ ہی ہوئے تھے کہ اک بچی نے پرتپاک طریقے سے ماموں کہتے ہوئے ہوئے میرے آگے سر جھکا دیا۔ انکل نے بڑے مسرت بھرے لہجے میں بتایا۔ یہ تمہاری بہن صوفیہ کی بڑی بیٹی سیماب ہے۔ تمہارا گھر پہ غائبانہ تذکرہ ہوتا رہتا ہے ناں۔ تو اس وجہ سے تمہیں جانتی ہے۔ میں نے ہاتھ سر پہ رکھ کر اسکو پیار دیا تو سیماب کہنے لگی۔ ماموں میں نے آپ کے ساتھ تصویر بھی بنانی ہے۔ یہ سن کر میں نے دل میں کہا۔

پتر! ایہہ حق تے تیری ماں دا بن دا سی۔ چلو کوئی گل نہیں، اساڈی اپنی قسمت۔۔۔!!!

Courtesy : Naeem Gul Zar

پہلے 85 ہزار افراد کو مارا گیا۔ پھر ان کے باقیات کو ایک تقریب کے دوران ایک مقام پر دفن کیا گیا۔ یہ وہ اقلیتی لوگ تھے جنہ...
26/07/2026

پہلے 85 ہزار افراد کو مارا گیا۔ پھر ان کے باقیات کو ایک تقریب کے دوران ایک مقام پر دفن کیا گیا۔ یہ وہ اقلیتی لوگ تھے جنہیں حکومت نے 'کاکروچ' کہا تھا۔ یہ ان 8 لاکھ سے زائد لوگوں میں شامل تھے جنہیں انتہا۔پسند۔وں نے 100 دنوں میں ق۔تل کیا تھا۔

1994 کے ق۔تل عا۔م سے قبل روانڈا کی حکومت نے پوری پروپیگنڈا مشینری استعمال کرتے ہوئے توتسی اقلیت کے خلاف نفرت پھیلائی۔ انہیں 'Inyenzi' یعنی کاکروچ کہا جانے لگا۔ یہ لفظ اخبارات کے ہر شمارے اور ریڈیو کے ہر پروگرام میں آنے لگا تھا حتیٰ کہ ایک اداریے کا عنوان 'کاکروچ سے تتلی نہیں نکلتی' تھا۔

ایک اصطلاح ڈی ہیومنائزیشن استعمال ہوتی ہے یعنی انسان کو انسان سے کم تر دکھانا۔۔۔توتسیوں کو اس لیے کاکروچ کہا گیا تاکہ جب قت۔ل کا حکم آئے تو درزی، کسان، استاد، پادری۔۔۔ غرض عام لوگ بھی بے گناہ مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو ما۔ر۔نے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ یہی نفرت تھی جو میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی اور پھر لاکھوں لوگوں کو مو۔ت کے گھا۔ٹ اتارا گیا۔

ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ روانڈا میں ق۔تل عام سے پہلے توتسیوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال آہستہ آہستہ بڑھتا رہا اور پھر نسل کش۔ی تک بات پہنچی۔۔۔ اسی لیے جب انڈیا کے چیف جسٹس نے نوجوانوں کے لیے لفظ 'کاکروچ' استعمال کیا تو ردعمل آپ کے سامنے ہے کیونکہ دنیا اب اتنی تو جان گئی ہے کہ لفظوں کی کاٹ بہت تیز ہوتی ہے۔

'اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیسا رہے؟' یہ سوال بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں گریجویٹ 30 سالہ ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر پوچھا۔ سوال پوچھتے ہی انڈیا کی تاریخ بدلنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ کبھی سنا ہے کہ کاکروچوں نے سیاسی تحریک شروع کر دی ہو؟ انڈیا میں ہوا ہے۔ کیسے؟ جانئیے۔۔

15 مئی 2026 کو ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ 'جو نوجوان بے روزگار ہیں، وہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ یہ معاشرے کے کاکروچ (پیراسائیٹ) ہیں۔' بعد میں وضاحت آئی کہ مقصد جعلی ڈگری والوں سے تھا انڈین نوجوانوں سے نہیں لیکن نقصان ہو چکا تھا۔

یہ ریمارکس انڈین نوجوانوں پر گراں گزرے اور یوں دہائیوں کا جمع غصہ چنگاری بنا اور پھر تاریخ بدل گئی۔ پیپرز لیک ہو رہے تھے، ملازمتیں نہیں تھیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور اوپر سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ نے کہہ دیا۔۔۔ 'تم کاکروچ ہو'

اپنی بے عزتی کو جین زی نے ڈیجیٹل دنیا میں تاریخ کی سب سے بڑی تحریک میں بدل دیا۔ ابھیجیت دیپکے نے مذاق کو سنجیدگی میں بدلتے ہوئے 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا دیے۔ بظاہر یہ نام بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی پر طنز تھا اور پھر وہ ہوا جو شاید دیپکے نے خود بھی نہیں سوچا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے ان کے اکاؤنٹ پر لوگ جمع ہونا شروع ہوئے۔ لاکھوں لوگوں نے انسٹاگرام پر انہیں فالو کیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے گوگل فارم کے ذریعے ممبرشپ حاصل کی۔ اسمبلی اور پارلیمان کے ارکان بھی شامل ہوئے۔ اس وقت ان کے انسٹاگرام پر حکمران سیاسی جماعت بی جے پی سمیت گانگریس سے زیادہ فالورز ہوگئے ہیں۔

دیپکے نے الجزیرہ کو شکاگو سے بتایا 'اقتدار میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ شہری کاکروچ ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کاکروچ سڑی ہوئی جگہوں میں پیدا ہوتے ہیں اور آج انڈیا کا یہی حال ہے۔'

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ یہ جو نوجوان اس وقت خود کو کاکروچ کہلوانے پر فخر کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے وہ کاکروچ کی اصل طاقت جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کاکروچ وہ جاندار ہے جسے 32 کروڑ سال پہلے زمین پر آنے کا موقع ملا تھا۔۔ ڈائنوسار آئے اور چلے گئے لیکن کاکروچز اب بھی زندہ ہیں اور صرف اس لیے نہیں کہ قسمت نے ساتھ دیا بلکہ اس لیے کہ یہ مخلوق ناقابل یقین حد تک لچکدار ہے۔۔۔

سائنس بتاتی ہے کہ کاکروچ کا سر کا۔ٹ دیں تو بھی وہ ہفتوں زندہ رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا سانس لینے کا نظام جسم کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے چلتا ہے۔ ا۔یٹم بم کی تابکاری سے بھی تقریباً دس فیصد کاکروچ بچ جاتے ہیں۔۔۔۔

اب انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی ایک بڑی تحریک بن گئی ہے۔ ایک ایسی تحریک جو نہ صرف انڈین نوجوانوں کے غصے کی عکاسی کر رہی ہے بلکہ یہ ایک بڑے سوال کا جواب بھی ہے۔ ہر سال انڈیا سے 80 لاکھ سے زائد طلباء گریجویٹ ہوتے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ہیں۔۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 29 فیصد سے زائد ہے۔ اس لیے یہ مذاق اب اپنی زندگی خود جینے لگا ہے۔۔۔

ابھیجیت دیپکے بتاتے ہیں ' لوگ متبادل سیاسی تجربات چاہتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ تحریک ہے لیکن پھر بھی لوگ اسے حقیقت سے بہتر متبادل سمجھتے ہیں۔' اس تحریک کے منشور میں پانچ مطالبات ہیں، 'ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری عہدوں پر تعینات نہ کرنے پابندی، امتحانی کرپشن پر احتساب، پارلیمان میں خواتین کا 50 فیصد کوٹہ، آزادی اظہار رائے اور سیاسی خرید و فروخت پر بیس سال کی پابندی۔۔۔۔'

دنیا بھر میں جنریشن زی نے ثابت کیا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل کی صورت میں ایک زبردست طاقت آگئی ہے۔ بنگلہ دیش میں 2024 میں طلبہ نے 15 سال سے اقتدار میں بیٹھی شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی نے چند ہی دنوں میں ملک کی سب سے بڑی پارٹیز کو شکست دی۔۔۔ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو صفائیاں دینے پر مجبور کر دیا اور اب وزیر تعلیم بھی ان کے مطالبے پر استعفیٰ دے بیٹھے ہیں۔۔

ادیب یوسفزئی
نوٹ: یہ تحریر 21 مئی کو لکھ کر پوسٹ کر دی تھی۔ اب دوبارہ شئیر کی جا رہی ہے۔

21/07/2026

میرے والد کچھ نہیں کرتے تھے، پھر بھی مجھے ان کی اتنی کمی کیوں محسوس ہوئی؟
- جب میں چھوٹی تھی، تو مجھے لگتا تھا کہ والد فریج کے بلب کی طرح ہوتے ہیں۔ ہر گھر میں فریج کا بلب ہوتا ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ جب ہم فریج کا دروازہ بند کرتے ہیں تو وہ کیا کرتا ہے۔
- میرے والد ہر صبح گھر سے نکلتے تھے، اور شام کو واپس آکر ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔
- جب کوئی اچار کا مرتبان نہیں کھول پاتا تھا تو وہ اسے کھول دیتے تھے۔
- وہ گھر میں واحد شخص تھے جو اکیلے تہہ خانے میں جانے سے نہیں ڈرتے تھے۔
- شیو کرتے وقت وہ اپنے چہرے کو زخمی کر لیتے تھے، لیکن کوئی بھی آگے بڑھ کر انہیں چومتا یا ان کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔
- جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو وہی فارمیسی جاکر دوائی لاتے تھے۔
- وہ ہمیشہ مصروف رہتے، گھر کے دروازے کے پاس گلاب کی شاخیں کاٹتے رہتے، اور ہم انہیں کانٹوں کی چبھن سے تکلیف میں دیکھتے۔
- وہ میرے سکیٹ بورڈ کے پہیوں کو چکنا کرتے تاکہ وہ تیزی سے چل سکے۔
- جب مجھے اپنی سائیکل ملی، تو وہی اسے پکڑتے اور میرے ساتھ دوڑتے، اور ایک ہزار کلومیٹر تک دوڑنے کے بعد میں نے اسے خود سنبھالنا سیکھا۔
- وہی میری سکول کی رپورٹ کارڈز پر دستخط کرتے تھے۔
- انہوں نے میری بے شمار تصویریں کھینچیں، لیکن خود کسی میں نظر نہیں آئے۔
- وہی میری ماں کی ڈھیلی کپڑے لٹکانے کی رسیوں کو ٹھیک کرتے تھے۔
- مجھے دوسرے بچوں کے والدین سے ڈر لگتا تھا، لیکن اپنے والد سے نہیں۔
- ایک بار میں نے ان کے لئے چائے بنائی، جو دراصل میٹھے پانی کا ایک گلاس تھا، اور انہوں نے چھوٹے سے کرسی پر بیٹھ کر اسے لذیذ کہا اور بہت آرام دہ نظر آئے۔
- جب میں "گھر گھر" کھیلتی تھی، تو میں "گڑیا ماں" کو بہت سے کام دیتی تھی، لیکن "گڑیا باپ" کو کیا کام دوں، یہ نہیں جانتی تھی۔ اس لئے میں اسے کہتی کہ میں کام پر جا رہا ہوں، اور پھر اسے بستر کے نیچے پھینک دیتی۔

ایک صبح، جب میں نو سال کی تھی، میرے والد کام پر جانے کے لئے نہیں اٹھے۔ وہ اسپتال گئے اور اگلے دن انتقال کر گئے۔
میں اپنے کمرے میں گئی، اور بستر کے نیچے "گڑیا باپ" کو تلاش کیا، جب میں نے اسے پایا، تو اس کی دھول جھاڑی، اور اسے بستر پر رکھا۔
مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا جانا مجھے اتنا درد دے گا، لیکن ان کا جانا اب بھی مجھے بہت تکلیف دیتا ہے، اور مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔

امریکی مصنفہ اور صحافی "ایرما بومبیک" نے لکھا

20/07/2026

لونڈیوں کی جدوجہد اور تاریخ
__

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پدرسری کے مضبوط نظام کو لونڈیوں نے نہ صرف چیلنج کیا بلکہ تحریک نسواں کے ذریعے اپنے حقوق کی جنگ لڑی جو اب بھی جاری ہے

قدیم زمانے میں یہ رواج تھا کہ جنگ میں فاتح لشکر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ شکست کھانے والوں کی دولت اور مال کو بطور غنیمت قبضہ کر لیں
کیونکہ عورتوں کو بھی ملکیت سمجھا جاتا تھا اس لیے یہ بھی مال غنیمت کا حصہ ہوتی تھیں

دستور یہ تھا کہ مردوں کو قتل کر دیا جائے تاکہ اُن کی جانب سے جنگ کا کوئی خطرہ نہ رہے
عورتوں کو گرفتار کر کے یا تو فوجیوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور یا اُنہیں منڈیوں میں بطور کنیز اور غلام فروخت کیا جاتا تھا

ٹرائے کی جنگ کے دوران جب یونانی کمانڈر ایگامیمنان نے اکیلیز کی کنیز کو اُس سے چھین لیا تو اس نے غصے میں آ کر جنگ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا
ٹرائے کی جنگ یونانی ڈراما نگاروں کے لیے اہم موضوع بن گئی تھی
یوری پیڈیز نے ٹروجن عورتوں کے نام سے ڈراما لکھا جس میں شکست کھانے کے بعد ان عورتوں کو لونڈی بنا لیا گیا تھا
اور وہ سب اس صدمے میں تھیں کہ اب اُن کے مالک وہ فوجی ہونے والے ہیں جنہوں نے ان کے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوں کو قتل کیا ہے

یہ ایک ایسا المیہ تھا کہ جس سے یہ عورتیں دوچار ہوئی تھیں
لیکن یہی صورتحال اُن عورتوں کو بھی رہی ہو گی جنہیں آزادی سے محروم کر کے غلام بنا کر بازاروں میں فروخت کیا گیا ہو گا
اور جو اپنے گھربار اور رشتے داروں سے محروم ہو کر اجنبی ماحول میں غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی

یونان کا شہر ایتھنز اپنی جمہوریت، آزادی اور قانون کی وجہ سے مشہور تھا
لیکن اس معاشرے میں نہ تو عورتوں کو ووٹ دینے کی اجازت تھی نہ گھر سے باہر نکلنے کی نہ محفلوں میں شریک ہونے کی اور نہ غیر مردوں سے بات چیت کرنے کی
لہٰذا اس صورتحال کی وجہ سے ایتھنز میں غلام عورتوں کی اہمیت ہو گئی تھی اور باہر کے تقریباً تمام کام غلام عورتوں کے سپرد کر دیے گئے تھے
ان میں پانی لانا، بازار سے چیزوں کی خریداری کرنا، کھانا پکانا، کھانا کھلانا، گھر کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور اون سے کپڑے وغیرہ تیار کرنا وغیرہ شامل تھے

اس کے علاوہ غلام عورتوں کی قدر میں اس وقت اور اضافہ ہوا جب امرا کی عورتوں نے اپنے کام کاج کے سلسلے میں اُن پر زیادہ انحصار شروع کر دیا
کیونکہ غلام عورتیں امرا کی خواتین کی جگہ مریض کی دیکھ بھال کرتیں، کھانا پکاتیں اور تمام گھر کی نگہداشت کرتیں
غلام عورتیں مردوں کے لیے بھی اُتنی ہی دلچسپی کا باعث تھیں مثلاً وہ اپنے مالکوں کی جنسی خواہشات کو پورا کرتیں اور اُن کے لیے تفریح بھی فراہم کرتیں جیسے رقص، موسیقی اور شاعری وغیرہ

اس کے علاوہ اگر غلام عورت اور آقا سے کوئی اولاد پیدا ہو جاتی تو اُس کو ضائع کر دیا جاتا تھا کیونکہ اُس کو بچے پالنے کی اجازت نہیں تھی

یونان کے امیر گھرانوں میں باقاعدہ شادی کا رواج تھا جبکہ غلام عورت اور مرد اس سہولت سے محروم تھے
چونکہ غلام عورتیں امرا کی خواتین کے تمام کام سر انجام دیتی تھیں اس لیے بعض امرا خواتین کے غلام عورتوں سے قریبی تعلقات قائم ہو گئے تھے
کیونکہ گھر سے باہر کے حالات و واقعات کی خبر کا واحد ذریعہ یہ غلام عورتیں ہی ہوا کرتی تھیں

مذہبی معاملات میں غلام عورتیں قدرے آزاد تھیں اور مذہبی رسومات ادا کرنے میں اُن کو کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی

رومی سلطنت میں جہاں جنگوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مرد غلام آئے وہیں عورتوں کو بھی کنیزیں بنا کر لایا گیا
ان کو یا تو بازار سے خریدا جاتا تھا یا جنگ میں کامیابی کی صورت میں بطور انعام ملا کرتی تھیں
امرا کے گھروں میں مرد غلاموں کے ساتھ کنیزوں کی بھی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی

ابتدا میں انہیں گھریلو کام کاج کی تربیت دی جاتی تھی تاکہ یہ گھریلو انتظامات اچھی طرح سنبھال سکیں
ایک غلام عورت صبح صبح بازار جا کر کھانے کا سامان خرید کر لاتی تھی
پھر یہ گھر کے دیگر کاموں میں مصروف ہو جاتی تھی
امرا کے گھروں میں یہ ضیافت کا اہتمام بھی کرتی تھیں

اس کے علاوہ روم میں مالک مرد غلام کو تو آزاد کر دیتا تھا مگر غلام عورت کو نہیں
یہ غلام عورتیں آہستہ آہستہ اُس کے گھر کا حصہ بن جاتی تھیں اور بعض صورتوں میں اُن کی شادی غلام مردوں سے ہی ہوتی تھی اور اُن سے ہونے والے بچے رومی مالک کے ہی ہوتے تھے

یہودیوں کی مقدس کتاب عہدنامہ عتیق میں احکامات دیے گئے ہیں کہ جب وہ جنگ میں دشمنوں کو شکست دیں تو اُن کے تمام مردوں کو قتل کر دیں
ان کے شہروں کو مسمار کر دیں اور اُن کی عورتوں کو کنیز بنا لیں
اگر یہ عورتیں اُن کی اطاعت نہ کریں اور مزاحمت کریں تو اس صورت میں اُنہیں تنہائی میں قید کر کے کھانا پینا بند کر دیں یہاں تک کہ وہ اُن کا حکم ماننے پر مجبور ہو جائیں

جب مسلمانوں نے شام ایران اور مصر کو فتح کیا تو مسلمان معاشرے میں بھی غلاموں کے ساتھ کنیزوں کی بڑی تعداد آ گئی
عباسی خلفا کے حرم میں غیر عرب کنیزیں اُن کے لیے جنسی تسکین کا باعث تھیں کیونکہ بازاروں میں بھی یہ سستی قیمت پر مل جاتی تھیں
اس لیے متوسط طبقے کے لوگ یہ کنیزیں رکھتے تھے
اگرچہ کنیزوں کی اولاد کو وراثت میں تو حصہ نہیں ملتا تھا مگر مالک اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا
عباسی خلیفہ مامون بھی ایک کنیز کی اولاد تھا جو اپنی ذہانت کی وجہ سے اس مرتبے تک پہنچا

عباسی دور میں جب آلِ بویہ خاندان اقتدار میں آئے جو 934 سے 945 تک اقتدار میں رہے تو اس کے ایک حکمران کو اپنی کنیز سے اس قدر محبت ہوئی کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا
اسے اُس نے اپنی کمزوری سمجھا اور کنیز کو قتل کروا دیا تاکہ اُس کی محبت سے آزاد ہو جائے

سلطنت عثمانیہ میں گرفتار ہو کر آنے والی کنیزوں کا تعلق مشرقی یورپ کے ملکوں سے تھا
کہا جاتا ہے کہ جنگ انقرہ میں جب سلطان یلدرم کو تیمور لنگ کے ہاتھوں شکست ہوئی
وہ اور اُس کی بیوی قید ہوئے تو اس کے بعد سے عثمانی سلطان شادی نہیں کرتے تھے اور کنیزوں سے تعلقات رکھتے تھے
حرم میں اُس کنیز کی عزت بڑھ جاتی تھی جس کا بیٹا حکمران ہو جاتا تھا اور اُسے مادرِ سلطان کا درجہ مل جاتا تھا

مسلمان معاشرے میں بردہ فروش عورتوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے تھے
ہندوستان کے ایک سیاح یوسف کمبل پوش نے 1838 میں یورپ اور مشرق وسطیٰ کا سفر کیا تھا
جب وہ مصر میں تھے تو انہوں نے ایک بردہ فروش تاجر کے پاس فروخت ہونے والی لڑکیوں کو دیکھا
17 اور 18 سال کی یہ لڑکیاں جو تعداد میں تقریباً 20 تھیں ایک کمرے میں بند خوفزدہ اور سہمی ہوئی بیٹھی تھیں
یہ تاجر انہیں مالدار مصریوں کو فروخت کرنے لایا تھا

ہندوستان میں بھی عورتوں کی خرید و فروخت کا کام جاری رہا کبھی کبھی ماں باپ غربت سے تنگ آ کر اپنی لڑکیوں کو بیچ ڈالتے تھے
اگر وہ خوبصورت ہوتیں تو تاجر اُنہیں حکمرانوں یا ریاست کے امیروں کو مہنگے داموں فروخت کر دیتے

لکھنو کی آخری ملکہ حضرت محل کو بھی اُس کے ماں باپ نے فروخت کر دیا تھا جسے تاجروں نے واجد علی شاہ کے حرم کے لیے بیچ ڈالا
1857 کی جنگ آزادی میں حضرت محل نے شہرت پائی اور انگریز کے خلاف کئی لڑائیوں میں حصہ لیا
شکست کے بعد یہ نیپال چلی گئی اور کٹھمنڈو میں اس کی وفات ہوئی

تاریخ میں نہ صرف آزاد عورتیں بلکہ غلام عورتیں بھی اذیت اور عذاب سے گزریں
لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پدرسری کے مضبوط نظام کو انہوں نے نہ صرف چیلنج کیا بلکہ تحریک نسواں کے ذریعے اپنے حقوق کی جنگ کی جو اب بھی جاری ہے

تاریخ اور عورت
ڈاکٹر مبارک علی

ورجینیا وولف کی جدید سوچجدیدیت کی نمائندہ مصنفہ اور حقوقِ نسواں کی حامی ورجینیا وولف لندن میں پیدا ہوئی (1881ء)۔ اُس کی ...
19/07/2026

ورجینیا وولف کی جدید سوچ

جدیدیت کی نمائندہ مصنفہ اور حقوقِ نسواں کی حامی ورجینیا وولف لندن میں پیدا ہوئی (1881ء)۔ اُس کی ماں جولیا ایک پبلشر کی بیٹی تھی، جبکہ باپ لیزلی وکٹوریئن نقاد، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھا۔ باپ کی عالی شان لائبریری میں ابتدائی تعلیم پائی اور نقاد والٹر کی بہن سے یونانی سیکھی۔ (یہ بات دلچسپ ہے کہ نشاۃ ثانیہ کی طرح جدیدیت کے بانیوں نے بھی یونانی زبان اور اساطیر سے رجوع کیا)۔ لیکن اُس کی نوجوانی کے سال تکلیف زدہ تھے: بڑے سوتیلے بھائی نے اُسے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا، 1895ء میں ماں فوت ہوئی اور اُس میں ذہنی بریک ڈاؤن کے ابتدائی علامات ظاہر ہوئیں۔ ایک عزیز سوتیلی بہن دو سال بعد زچگی میں فوت ہو گئی، 1904ء میں باپ کینسر کا شکار ہوا، اور 1906ء میں ایک بھائی ٹائیفائیڈ سے مر گیا۔
وہ اپنی بہن اور دوبھائیوں کے ہمراہ بلومز بَری میں رہنے لگی جہاں کے مشہور ادبی گروپ میں وہ بھی شامل ہوئی۔ یہ علاقہ مڈل کلاس لندن کے اہل فکر کا مرکز تھا۔ گروپ کے ارکان نے جنسی موضوعات پر کھل کر بات کی اور ورجینیا مرد عورت کے تعلقات کے متعلق آزادی سے سوچنے لگی۔ مصور ڈنکن گرانٹ مختلف موقعوں پر کینز، ورجینیا کے بھائی، اُس کی بہن کا عاشق رہا اور مؤخرالذکر سے ایک بیٹی بھی پیدا کی۔ ورجینیا بھی بائی سیکسوئل (دونوں جنسوں کی طرف راغب) تھی۔ وہ اپنے صحافی شوہر لیونارڈ وولف سے شادی کے تیرہ سال بعد شاعرہ ویٹا سیکویل کے عشق میں گرفتار ہو گئی جس کا شوہر بائی سیکسوئل سفیر اور مصنف ہیرلڈ نکلسن تھا۔ اِس ارسٹوکریٹک لیزبیئن کے ساتھ تعلق اُس کے خوشگوار ناول ’’اورلانڈو‘‘ کا محرک بنا۔
ورجینیا اپنی تحریروں کو خود سخت تنقیدی نظر سے دیکھتی تھی۔ اُس کی موت تک لوگوں کو علم تھا کہ وہ شدید ڈپریشن کے دوروں سے گزرتی رہی۔ خصوصاً کوئی کتاب مکمل کرنے پر ڈپریشن بہت بڑھ جاتا۔ مارچ 1941ء میں اُس نے ایک دریا میں کود کر خود کشی کر لی، جس میں دوسری عالمی جنگ کا خوف بہت مؤثر محرک تھا۔ اِس کے علاوہ اُسے ڈر رہتا کہ کہیں وہ پاگل نہ ہو جائے اور اپنے شوہر پر بوجھ نہ بن جائے۔ (1917ء میں دونوں نے مل کر Hogarth پریس کی بنیاد رکھی تھی، جس نے ٹی ایس ایلیئٹ، میکسم گورکی، کیتھرین مینزفیلڈ اور فارسٹر کی تحریروں کے علاوہ فرائیڈ کے انگلش تراجم اور ورجینیا کے ناول شائع کیے)۔
ایک فکشن نگار کے طور پر ورجینیا نے ناول نگاروں کی ’’مادیت پسندی‘‘ کے خلاف بغاوت کی جنھوں نے دکھ اور سماجی ناانصافی کو کھردری حقیقت پسندی کے ساتھ دکھایا۔ ورجینیا نے شعور کے اُن پہلوؤں کو زیادہ پیچیدہ انداز میں پیش کرنا چاہا جن میں وہ انسانی تجربے کی صداقت کو مضمر سمجھتی تھی۔ وہ اپنے مضمون ’’ماڈرن فکشن‘‘ میں ناول نگار کا کام اپنے اندر جھانکنا بتاتی ہے۔ اُس نے اپنے ناولوں میں ترتیب وار کہانی کی بجائے اندرونی ہم کلامیوں اور شعوری رو سے کام لیا۔ اُس کے ناولوں نے جسم کی طبیعی حقیقتوں اور لندن کی مصروف گلیوں سے بھی تحریک پائی۔ ابتدائی فکشن میں تکنیکی تجربات نے بعد کا مخصوص طریقہ وضع کرنے میں مدد دی جو جیکبز روم، مسز ڈالووے اور ٹو دی لائٹ ہاؤس میں ملتا ہے۔
ورجینیا اپنے کیریئر کے دوران عورتوں کی حیثیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ غور کرنے لگی۔ پیشہ ور خواتین کی حالت اور اُن پر عائد پابندیوں نے اُسے بہت متاثر کیا۔ In A Room of One’s Own اور ایک مضمون میں وہ مردانہ رواجوں پر بحث کرتی ہے جنھوں نے عورتوں کو دبایا۔
جدیدیت پسند ادب روایت سے ہٹے بغیر ممکن نہیں تھا۔ روایت پسندی رجعت پسندی کا ہی دوسرا نام ہے۔ بدلتے ہوئے معاشی، تاریخی اور معاشرتی حالات ادیب کو اِس روایت پسندی کے خلاف لڑنے کی ہمت دلاتے ہیں۔ لیکن جن معاشروں میں تاریخ کسی گڑھے میں گر گئی ہو، وہاں کھیل آگے نہیں بڑھ سکتا، اور وہ ادبی جدیدیت کی بات کرنے والوں کی تحریروں کے تعارف تک سے محروم رہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم۔

پاکستان میں اکثر منبر رسول سے اسلام میں عورتوں کے حقوق کے ضمن میں ایک بات پیش کی جاتی ہے، اور قبل از اسلام لڑکیوں کے پید...
11/07/2026

پاکستان میں اکثر منبر رسول سے اسلام میں عورتوں کے حقوق کے ضمن میں ایک بات پیش کی جاتی ہے، اور قبل از اسلام لڑکیوں کے پیدا ہونے پر قتل کئے جانے کو اتنا زیادہ بیان کرکے یہ سمجھاتے ہیں جیسے یہ رسم کوئی عام سی رسم تھی۔ اسلام سے پہلے کے اہل حجاز کا معاشرہ تہذیب و اقدار اور روایات میں اتنا زیادہ بہتر ضرور تھا جتنا کم از کم آج ہمارا معاشرہ اکیسویں صدی میں نہیں ہے۔ خصوصا لڑکیوں کے زندہ درگور کئے جانے کو منبر سے واحد عورتوں کے حقوق کے طور پر ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے عرب میں یہ کوئی معمول کا کام تھا، جزائر عرب میں اس رسم کی بابت کئی قبائل جانتے تک نہ تھے، یہ صرف اہل حجاز کے انتہائی محدود سطح پر ایک ہی قبیلے کی رائج رسم تھی، جس کی اس عہد میں ایک تاریخ تھی۔

عربوں میں یہ رسم بالکل عمومی نہیں تھی، بلکہ ایک عرب میں کئی قبائل کی مذہبی تشریحات میں تو فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں سے تعبیر کیا جاتا تھا، صرف اہل حجاز میں سب سے پہلے جس نے اس غلط رسم کی بنیاد ڈالی تھی وہ قبیلہ ''بنو تمیم'' تھا۔ اس کا آغاز قبیلہ بنو تمیم سے تب شروع ہوا تھا، جب بنو تمیم نے نعمان بن منذر کو ٹیکس دینے سے انکار کردیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے درمیان جنگ ہوئی، اور اس جنگ میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں نعمان بن منذر نے قید کرلی، پھر صلح اور اسیروں کے لئے رقم طے ہوئی تو جس وقت بنی تمیم کے لوگ قیدیوں کو چھڑانے کے لئے نعمان کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے یہ اختیار خود ان عورتوں کو دیدیا کہ چاہیں تو حیرہ میں رہیں اور چاہیں تو بنی تمیم کے ساتھ واپس چلی جائیں۔ اس وقت قیس بن عاصم جو کہ قبیلہ کا سردار تھا اس کی لڑکی بھی قیدیوں کے درمیان تھی اس نے ایک درباری سے شادی کرلی تھی، اور قیس بن عاصم کی بیٹی اس درباری ہے ساتھ خوش تھی، لہٰذا اس نے دربار میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے اس درباری سے محبت ہوگئی تھی۔

قیس بن عاصم اس بات سے سخت ناراض ہوا اور اس نے اسی وقت عہد کرلیا کہ اس کے بعد وہ اپنی لڑکیوں کو قتل کر ڈالے گا، اور اس نے یہ کام انجام دیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم انتہائی محدود سطح پر دوسرے قبیلوں میں بھی غیرت کے نام پر ہی پہنچی، اس جرم میں کسی درجےجن قبائل کے نام آتے ہیں ان میں قبیلہ قیس، اسد، ہذیل اور بکر بن وائل شامل تھے۔ چونکہ یہ رسم عام بھی نہیں تھی، اور اخلاقی سطح پر اسے اس وقت بھی شدید ناپسند ہی کیا جاتا تھا، حتی کہ کچھ قبائل میں اور اس وقت کی بڑی شخصیات اس کام کی مخالفت میں رہے، ان میں سے عبد المطلب پیغمبر اسلاۖم کے جد تھے جو اس کام کے شدید مخالف تھے، اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ، لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت خرید لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔اور کبھی لڑکیوں کے عوض میں ان کے باپ کو اونٹ دیدیا کرتے تھے۔ اس واقعے کی تصدیق کے لئے ریفرنس موجود ہے۔
(جاحظ، البیان والتبیین، بیروت: داراحیاء التراث العربی، ١٩٦٨ئ، ج١، ص ١٢٨۔ ١٢٧؛ عایشہ بنت الشاطی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٤۔ ٤٣٣؛ آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، ج٣، ص ٥١.

چونکہ قرآن نے رہنمائی کے لئے اس وقت کی تمام برائیوں کی طرف اشارہ دیا تھا تو ایسے جرائم کو بھی جو چاہے معدوم لیکن ایک قبیح رسم رہے ان کو بھی بھی موضوع بنایا، مگر یہ مطلب نہیں تھا کہ وہاں سب ایسا کرتے تھے، آج بھی جب ہم مہذب کہلاتے ہیں، ہمارے ملکوں میں لوگ بیٹی کی پیدائش کو برا سمجھتے ہیں، مگر آج کے عرب بہرحال بیٹی کی پیدائش کو برا بالکل نہیں سمجھتے۔ قبل از اسلام کی خواتین کی معاشرت کا درست تعارف کبھی بھی ہمارے ہاں نہیں کروایا جاتا، اور ان معدوم جرائم کو جو واقعتا قبیح تو تھے مگر ان کی مذمت اسی معاشرت میں بھرپور موجود ہونے کے علاوہ اس کی عملی پریکٹس بھی بہت کم تھی اسے بہت زیادہ بتایا جاتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عرب اپنی بیٹیوں کو گر ایسے ہی زندہ در گور کردیتے تھے تو اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی وہ کیسے پیدا ہو رہی تھیں؟ اور اگر وہ عورتوں کے لیے اس درجہ نفرت رکھتے تھے تو ان کی نظمیں پاکیزگی اور بے تکلفی سے بھری ہوئی کیوں تھیں؟
یقینا تمام عرب اس بات کو تسلیم نہیں کرتے بنو تمیم کے علاوہ عربوں میں یہ کچھ واقعات غربت کی وجہ سے بھی ہوئے جب کوئی صرف بیٹی نہیں بلکہ بیٹوں کو بھی مار دیتے تھے اس کی ایک اور وجہ غربت یا اسیری کا خوف بھی تھا۔

اسلام آنے کے بعد بیٹیوں کے زندہ درگور کرنے پر قرآن نے [التکویر: 8، 9] یہ کہا
"اور جب لڑکی سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی".
اسلام میں دوسری خامیوں کے ساتھ {الانعام: 151] (97)} میں دوسری نصیحتوں کے ساتھ اس طرف بھی اشارہ کیا
"کہہ دو کہ آؤ میں وہ بات پڑھوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمائی ہیں کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم غربت سے تمہیں اور ان کو رزق دیتے ہیں۔ بے حیائی کے قریب نہ جاؤ خواہ کھلی ہو یا چھپی اور حرام جان کو قتل نہ کرو، اللہ نے حق کے سوا اس کا تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو".

مگر بالمجموع قبل از اسلام میں اس بات کو سمجھنے کے لئے یہ واقعہ بہت اہم ہے، جب رسول اللہﷺ کو نبوت کے بعد کفار مکہ سے ابو جہل "عمرو بن ہشام بن المغیرہ المخزومی القرشی الکنانی" نے جب آپ رسول اللہﷺ کے گھر کا گھیراؤ کرلیا تھا اس وقت ابوجہل کے ساتھ عرب کے مختلف قبیلوں کے بہت سے آدمی تھے جو رسول اللہﷺ کو گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے گھر سے نہیں نکلے، اس لیے وہ ان کے گھر کے سامنے ہی بیٹھے رہے، رات بھر یہاں تک کہ اس گروہ میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ رسول اللہﷺ کے گھر میں گھس کر اسے گرفتار کر لیا جائے، تب ابو جہل نے جذباتی ہو کر جواب دیا تھا:

أتريد أن تقول العرب عنا أنا تسورنا الحيطان وهتكنا ستر بنات محمد؟
کیا تم چاہتے ہو کہ عرب ہمارے بارے میں کہیں کہ ہم چاروں طرف سے دیواروں میں گھرے ہوئے ہیں اور ہم محمد کی بیٹیوں کے پردے کو پامال کیا گیا ہے؟

یہ دعویٰ کہ زمانہ قبل از اسلام میں عرب عفریت تھے اور ان کی حالت ابتر تھی کہ وہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ایک عام سی بات تھی تو یہ ایک جھوٹ ہی ہے۔ ورنہ وہاں پر حیات انسانی کیسے قائم رہی، انہوں نے عورتوں سے شادیاں کیسے کیں بلکہ عرب میں اس عہد میں مردوں کے مقابل تعداد میں عورتوں کی کثرت تھی، اور یہ بھی کہنا کہ عورتیں پسماندہ تھیں اور ان کا کوئی کردار نہیں تھا، تو یہ بھی جھوٹ ہے، اگر بات ایسی ہی ہوتی تو حضرت خدیجہ کی طرح کوئی عورت رسول اللہﷺ سے اپنی مرضی سے شادی نہ کرتی، اس وقت کے عرب سماج میں عورت کی جانب سے نکاح کا پیغام بھیجا جانا اک عام سی بات تھی۔ یعنی زمانہ قبل از اسلام عربوں کا بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کا عمل آج کی ہمارے برصغیری معاشرت میں عملا بیٹیوں کو غیرت یا کسی بھی وجہ سے مارنے جانے کے مقابلے میں بھی بہت کم تھا۔

تحریر: منصور ندیم
مورخہ 11 جولائی سنہء 2023۔

۔

آج نامور شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی احمد ندیم قاسمی کی 20 ویں  برسی ہے۔انہوں نے 10 جولائی 2006 کو 90 برس کی عمر میں وف...
10/07/2026

آج نامور شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی احمد ندیم قاسمی کی 20 ویں برسی ہے۔انہوں نے 10 جولائی 2006 کو 90 برس کی عمر میں وفات پائی.
احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ کے ایک اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ احمد شاہ نام رکھا گیا۔ والد کا نام پیر غلام نبی تھا ۔ احمد شاہ صرف 7 سال کے تھے کہ والد انتقال کر گئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ اس کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ء - 1925ء میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہوگئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔
بہاولپور سے لاہور پہنچے تو اختر شیرانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ انہیں بے حد عزیز رکھنے لگے اور ان کی کافی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی ہم نشینی اور بعد میں ایکسائز کی ملازمت کے باوجود قاسمی صاحب نے کبھی پی نہیں ۔

لاہور میں احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے بچوں کے رسالے پھول کی ادارت سونپ دی۔ ایک سال ادارت کی اور اس دوران بچوں کے لیے بہت سی نظمیں بھی لکھیں ۔

1936ء میں ریفارمز کمشنر لاہور کے دفتر میں بیس روپے ماہوار پر محرر ہوگئے اور 1937ء تک یہاں کام کیا. 41۔ 1939ء کے دوران ایکسائز سب انسپکٹر کے طور پر ملازمت کی۔1942ء میں مستعفی ہو کر تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ء میں ’’ادب لطیف‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1945ء - 48ء کے دوران ریڈیو پشاور سے بحیثیت سکرپٹ رائٹر وابستہ رہے تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال ریڈیو پشاور میں ملازم رہے۔ آزادی پر پشاور ریڈیو سے سب سے پہلے انہیں کا ترانہ ’’ پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو‘‘ نشر ہوا۔ 1948ء میں ریڈیو پاکستان کی ملازمت چھوڑ دی اور واپس لاہور چلے آئے یہاں انہوں نے ہاجرہ مسرور کے ساتھ مل کر ایک نئے ادبی رسالے ’’نقوش‘‘ کی بنیاد رکھی۔ مئی 1963ء میں حکیم حبیب اشعر کی معیت میں جریدہ ’’فنون‘‘ جاری کیا ۔ جس نے ایک طرح سے دبستان فنون کی شکل اختیار کرلی۔

قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتداء 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں نوجوانی میں ہی شہرت حاصل ہوگئی۔

صحافتی سرگرمیاں

1941-45ء میں ہفت روزہ ’پھول‘
1943-45ء ’تہذیبِ نسواں‘ماہنامہ ادبِ لطیف
1947-48ء میں ماہنامہ سویرا (چار شمارے)
1950ء میں ماہنامہ ’’سحر‘‘ لاہور (ایک شمارہ)
1953-59ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ لاہور کی ادارت
1963ء سے ماہنامہ ’’فنون‘‘ کی ادارت
1952ء میں روزنامہ ’امروز‘ لاہور میں کالم ’’حرف و حکایت‘‘ لکھتے رہے
روزنامہ ’امروز‘ لاہور اخبار کے ایڈیٹر بن جانے پر کالم ’’پنج دریا‘‘ بھی لکھتے رہے۔
1959ء میں امروز سے الگ ہونے پر روزنامہ ہلالِ پاکستان میں ’’موج در موج‘‘ اور ’پنج دریا‘ کے نام سے فکاہیہ کالم نویسی۔
1964-70ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ لاہور میں کالم ’’حرف و حکایت‘‘ کی شروعات کی مگر پنج دریا کے بجائے نام ’’عنقا‘‘ رکھ لیا۔
1970ء کے دوران ‘‘روزنامہ جنگ‘‘ کراچی میں کالم ’’لاہور، لاہور ہے۔‘‘

اپریل 1972ء میں دوبارہ امروز میں وہی کالم لکھنے لگے۔
1964ء سے امروز لاہور میں ادبی، علمی اور تہذیبی موضوعات پر ہر ہفتے مضامین لکھتے رہے۔

1936 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کے بعد قاسمی صاحب نے اس انجمن سے وابستگی اختیار کر لی تھی۔ وہ انجمن کے سکریٹری بھی رہے۔ اس کی وجہ سے دو مرتبہ جیل بھی گئے لیکن آگے چل کر جب انجمن شدت پسندی کا شکار ہوئی تو قاسمی صاحب نے اس کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن عرصے بعد جب انجمن کا احیأ ہوا تو اس کی نشستوں میں شریک ہوتے رہے۔

افسانوی مجموعے
چوپال (دار الاشاعت پنجاب، لاہور 1939)
بگولے (مکتبہ اردو، لاہور 1941)
طلوع و غروب (مکتبہ اردو، لاہور 1942)
گرداب (ادارہ اشاعت اردو، حیدر آباد دکن1943)
سیلاب (ادارہ اشاعت اردو، حیدر آباد دکن 1943)
آنچل(ادارہ فروغ اردو، لاہور 1944)
آبلے (ادارہ فروغِ اردو، لاہور 1946)
آس پاس (مکتبہ فسانہ خواں، لاہور 1948)
درو دیوار (مکتبہ اردو، لاہور 1948)
سناٹا (نیا ادارہ، لاہور 1952)
بازارِ حیات (ادارہ فروغِ اردو، لاہور 1959)
برگِ حنا (ناشرین، لاہور 1959)
سیلاب و گرداب (مکتبہ کارواں، لاہور 1961)
گھر سے گھر تک (راول کتاب گھر، راولپنڈی 1963)
کپاس کا پھول (مکتبہ فنون، لاہور 1973)
نیلا پتھر (غالب پبلشرز، لاہور 1980)
کوہ پیما (اساطیر، لاہور 1995)

شاعری
دھڑکنیں (قطعات- اردو اکیڈمی، لاہور 1942)
رِم جھم (قطعات و رباعیات- ادارہ فروغِ اردو، لاہور 1944)
جلال و جمال (شاعری- نیا ادارہ، لاہور 1946)
شعلۂ گُل (قومی دار الاشاعت، لاہور 1953)
دشتِ وفا (کتاب نما، لاہور 1963)
محیط (التحریر، لاہور 1976)
دوام (مطبوعات، لاہور 1979)
لوح و خاک (اساطیر، لاہور 1988)

تحقیق و تنقید
تہذیب و فن (پاکستان فاؤنڈیشن، لاہور 1975)
ادب اور تعلیم کے رشتے (التحریر، لاہور 1974)
علامہ محمد اقبال

ترتیب و ترجمہ
انگڑائیاں (مرد افسانہ نگاروں کا انتخاب- ادارہ اشاعت اردو، حیدر آباد دکن 1944)
نقوشِ لطیف (خواتین افسانہ نگاروں کا انتخاب- ادارہ اشاعتِ اردو، حیدر آباد دکن 1944)
پاکستان کی لوک کہانیاں (از میریلن سرچ- ترجمہ، شیخ علی اینڈ سنز، لاہور)
کیسر کیاری (مضامین، ڈرامے، تراجم- مکتبہ شعر و ادب، لاہور 1944)
منٹو کے خطوط بنام احمد ندیم قاسمی (ترتیب- کتاب نما، لاہور 1966)
نذرِ حمید احمد خاں (ترتیب- مجلس ترقی ادب، لاہور 1977) میرے ہم سفر

بچوں کا ادب
تین ناٹک (پنجاب بک ایجنسی، لاہور 1944)
دوستوں کی کہانیاں (پنجاب بک ایجنسی، لاہور 1944)
نئی نویلی کہانیاں (پنجاب بک ایجنسی، لاہور 1944)

قاسمی صاحب سے متعلق کتابیں اور خصوصی نمبر:
ندیم کی شاعری اور شخصیت (تحقیق) جمیل ملک۔
احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے، مرتب مظفر علی سید
ندیم نامہ، مرتب محمد طفیل، بشیر موجد مجلسِ ارباب فن، لاہور 1974
مٹی کا سمندر، مرتب ضیا ساجد مکتبہ القریش، لاہور 1991
احمد ندیم قاسمی، ایک لیجنڈ- از شکیل الرحمٰن، اساطیر، لاہور
ندیم نمبر، مرتب صہبا لکھنوی ماہنامہ افکار، کراچی 1976
احمد ندیم قاسمی: شخصیت اور فن، مرتب: نند کشور وکرم۔ عالمی اردو ادب، دہلی 1996۔
ہندی میں ’’اردو کہانی کار احمد ندیم قاسمی‘‘ مرتب نند کشور وکرم اندر پرستھہ پرکاشن دہلی۔
اس کے علاوہ انگریزی، روسی، چینی،جاپانی، ہندی، پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی مراٹھی اور فارسی وغیرہ متعدد زبانوں میں کہانیوں اور شاعری کے تراجم۔

اعزازات و انعامات
آدم جی ادبی انعام برائے دشتِ وفا (شاعری۔1963)
آدم جی ادبی انعام برائے محیط (شاعری۔ 1976)
آدم جی ادبی انعام برائے دوام (شاعری۔ 1979)
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی (1968)
ستارۂ امتیاز (1980)
عالمی فروغِ اردو ادب، دوحہ، قطر۔

احمد ندیم قاسمی کے کچھہ اشعار ۔۔۔

کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھہ

انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
دیکھا اسے پلٹ کے تو جھونکا ہوا کا تھا

اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے
کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا

اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم
دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
کوئی بولے تو برا لگتا ہے

اے خدا اب ترے فردوس پہ میرا حق ہے
تو نے اس دور کے دوزخ میں جلایا ہے مجھے

یاد آئے تیرے پیکر کے خطوط
اپنی کوتاہی فن یاد آئی

چاند جب دور افق پر ڈوبا
تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی

میں شہر دل سے نکلا ہوں سب آوازوں کو دفنا کر
ندیم اب کون دیتا ہے صدا آہستہ آہستہ

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جِسے اندیشۂ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

اگر گِروں تو کچھہ اس طرح سربلند گِروں
کہ مار کر، مرادشمن مجھے سلامی دے

وہ اعتماد ہے مجھہ کو سرشتِ انساں پر
کسی بھی شہر میں جاؤں، غریبِ شہر نہیں

یہ فقط میرا تخلص ہی نہیں ہے کہ ندیم
میرا کردار کا کردار ہے اور نام کا نام

دشمن بھی جو چاہے تو مری چھاؤں میں بیٹھے
مَیں ایک گھنا پیڑ سرِراہ گزر ہوں

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اِذنِ کلام
ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں

مَیں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
مرے ہمراہ دریا جا رہا ہے

مجھہ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
مَیں تو شامل ہوں محبت کے گنہگاروں میں

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Educationist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Educationist:

Shortcuts

Share