31/07/2026
"ماں چلی گئی... مگر قرآن نے تنہا نہیں چھوڑا"
غزہ کی 12 سالہ ننھی بچی حبیبہ محمد ابو عجوة حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والی بچیوں کی تقریب میں شریک اور اپنی داستان الم سنا رہی ہے۔ جو ہر آنکھ کو نم اور ہر دل کو ایمان کی تازگی بخش دیتی ہے۔
حبیبہ نے بچپن ہی میں اپنی ماں کی ممتا سے محروم ہو گئی تھی، مگر یتیمی اس کے حوصلے کو توڑ نہ سکی۔ وہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک "دوسری ماں" عطا کر دی، جس نے اسے اپنی آغوش میں جگہ دی، شفقت سے سنبھالا اور مسلسل چھ برس تک اس کے ساتھ محنت کرتی رہی، یہاں تک کہ ننھی حبیبہ نے قرآن کریم مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی۔
حافظاتِ قرآن کی تکریم کی تقریب میں جب حبیبہ نے اپنی کہانی معصومیت سے سنائی تو حاضرین کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اس کی گفتگو بلکہ صبر، امید، محبت اور اللہ پر کامل بھروسے کی زندہ تصویر تھی۔ جس کی ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہوگئی ہے اور الجزیرہ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے اسے کوریج دی ہے۔
حبیبہ کو یہ اعزاز گزشتہ ہفتے غزہ میں منعقدہ اس خصوصی تقریب میں دیا گیا، جہاں متحدہ عرب امارات کے "آپریشن الفارس الشهم 3" کے تحت 600 حفاظ و حافظاتِ قرآن کی اجتماعی تکریم کی گئی۔ اس پروقار تقریب میں ہزاروں افراد اور متعدد قرآنی و سماجی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
غزہ آج بھی جنگ، محاصرے، بمباری اور محرومیوں کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، مگر ایسے ہی بچے دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایمان، قرآن اور امید کی روش کبھی بجھتی نہیں۔ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، اگر دل اللہ کے کلام سے وابستہ ہو تو اندھیروں میں بھی روشنی کے راستے نکل آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حبیبہ کو اپنے حبیبؐ کے صدقے قرآن کے نور پر ہمیشہ قائم رکھے، اس کی "دوسری ماں" کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور غزہ کے تمام بچوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔💚.