22/06/2026
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
آل پاکستان ٹیچرز ایسوسی ایشن ( ایپٹا ) سندھ کابینہ کے سیکریٹری اطلاعات محترم جناب سر حسنین گل صاحب کا نجی اسکولوں کے پرنسیپلز حضرات اور اساتذہ کرام کے نام بہت جلد ایک اہم ویڈیو پیغام نشر کیا جائے گا ۔
از طرف
فہد خان
سیکریٹری انفارمیشن
لقمان خان
میڈیا سیل انچارج
آل پاکستان🇵🇰ٹیچرز ایسوسی ایشن
18/06/2026
_اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكاتُهُ_
آج _آل پاکستان ٹیچرز ایسوسی ایشن APTA_ کی _مرکزی کابینہ_ _مرکزی دفتر_ میں ایک واضح مقصد کے ساتھ جمع ہوئی: APTA کی _تیسری سالگرہ_ کو اساتذہ کی روح کے مطابق منانے کی منصوبہ بندی کرنا۔
اس _میٹنگ_ میں ہم نے تین سال کی _جدوجہد، اتحاد اور نتائج_ کا جائزہ لیا۔ ہم نے ہر اس استاد کو عزت دی جو APTA کے ساتھ کھڑا رہا جب اساتذہ کی آواز سننے کی ضرورت تھی۔
یہ _سالگرہ_ صرف ایک تقریب نہیں ہو گی۔ یہ _APTA_ کے 3 سالہ سفر کے اثرات کو اجاگر کرنے، ہر صوبے کے نمایاں اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے، اور اگلے باب کے لیے ہمارا روڈ میپ پیش کرنے کا پلیٹ فارم ہو گی۔
_فنڈنگ اور اسپانسرز_ کے حوالے سے _کابینہ_ نے اتفاق کیا کہ یہ جشن مضبوط شراکت داری پر استوار ہو گا۔ ہم ان _اسپانسرز اور اداروں_ کے لیے دروازے کھول رہے ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کا مطلب پاکستان کے مستقبل میں _سرمایہ کاری_ کرنا ہے۔ اس تقریب کے لیے ہر روپیہ اور ہر شراکت داری مکمل شفافیت کے ساتھ استعمال کی جائے گی، جس کی ہم نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ _تیسری سالگرہ_ APTA کا اعلان ہے: تعمیر کی طاقت کے تین سال۔ اب ہم بڑے وژن، مضبوط اتحاد، اور اس پیغام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ _اساتذہ تبدیلی کی قیادت کریں گے_۔
_تاریخ، مقام اور پروگرام_ کی تفصیلات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اس وقت تک ہم APTA کے ہر ممبر سے گزارش کرتے ہیں کہ تیار رہیں۔ یہ آپ کا سنگِ میل ہے۔ یہ آپ کی جیت ہے۔
_از طرف_
_فہد خان_
سیکریٹری اطلاعات
_لقمان خان_
میڈیا سیل انچارج
_آل پاکستان 🇵🇰 ٹیچرز ایسوسی ایشن_
28/05/2026
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
اسکولز مالکان الرٹ
یہ تحریر لازمی پڑھیے گا ۔
ویسے کتنی حیرانگی کی بات ہے کل ہم نے ان
اسکولز مالکان مطلب کہ پرنسپل حضرات کو بھی بڑے ذوق و شوق سے سنت ابراھیمی ادا کرتے دیکھا جو سنت مصطفی ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں استادوں کا حق مار کرحرام کھا کر اور اس پر انہیں شرم بھی نہیں آتی ۔
کیا آپ سمجھے ؟ نہیں سمجھے ؟
آئیے میں سمجھاتا ہوں
پہلا حرام
مثال کے طور پر ایسے بچے جو جنوری کے مہینے میں اسکول میں داخل ہوں تو ان سے جون اور جولائی دونوں مہینوں کی فیس لے لی جاتی ہے اور والدین سے کہا جاتا ہے کہ ٹیچرز کو سیلری دینی ہے
لیکن جنوری میں اسکول جوائن کرنے والے ٹیچرز کی جولائی کی سیلری اسے نہیں دی جاتی یہ کہہ کر کے آپکا ابھی سیشن پورا نہیں ہوا ۔
دوسرا حرام
مہینے میں چند دن لیٹ آنے پر اور وہ بھی زیادہ نہیں صرف ۵یا دس منٹ لیٹ آنے پر انکی سیلری سے پیسے کاٹ لینا *لیکن* وہی فیمیل ٹیچرز کبھی میٹنگ کی وجہ سے تو کبھی اسکولز فنکشن کی تیاری کی وجہ سے تو کبھی رجسٹر تیار کرنے کی وجہ سے دو دو گھنٹےاپنے ٹائم سے اضافی ٹائم اسکول کو دیتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ اگر پانچ یا دس منٹ لیٹ آنے پر سیلری کٹتی ہے تو دو دو گھنٹے اضافی دینے پر اضافی تنخواہ کیوں نہیں دی جاتی
تیسرا حرام
بچوں سے امتحان کے نام پر فیسیں وصول کرنا جبکہ امتحان میں اسکول کا خرچہ صرف پیپرز کا ہوتا ہےاور محنت سارے ٹیچرز کی ہوتی ہے ۔
پیپر استادبنا کر دیتا ہے
پیپر چیک استادکرتا ہے
امتحانی ہال میں ڈیوٹی استاد دیتا ہے
رزلٹ کارڈ استاد تیار کرتا ہے
رزلٹ والے دن پورےاسکول کو استاد سجاتا ہے
لیکن امتحانی فیس مکمل ساری کی ساری پرنسپل صاحب آفس میں بیٹھ کر لے لیتا ہے ۔
اور پھر کمال کی بات تو یہ ہے کہ پرنسپل صاحب یہ سب کرنے کے باوجود
نماز بھی پڑھتاہے
روزہ بھی رکھتا ہے
قربانی بھی کرتاہے
تحریر
سر اسد
سینئر نائب صدر ایپٹا
آل پاکستان 🇵🇰 ٹیچرز ایسوسی ایشن
19/05/2026
اساتذہ سکول جوائننگ کرتے وقت تنخواہ، ورک لوڈ، ماہانہ و سالانہ چھٹیاں، کٹوتی، چھٹیوں کی تنخواہ، ایکسٹرا کام، پیپر میکنگ اور پیپر چیکنگ، کنوینس الاؤنس اور آفر لیٹر کیوں بھول جاتے ہیں؟