Taleem ul Quran Lesson

Taleem ul Quran Lesson

Share

السلام علیکم
ناظرین اس پیج پر قرآن مجید اور اس کی سورتو This Page Is An Islamic Page

05/02/2025

**خوشخبری* *

**6روزه تصحیح عقائد و حل عبارت کورس**

**8فروری بروز ہفتہ تا 13فروری بروز جمعرات تک**

8:30 تا12:00بجےتک

**موضوعات:**
(1)صرفی و نحوی قواعد۔
(2)اجراءو مشق۔
(3)بغیر اعراب عبارت کو مکمل درست طریقے سے پڑھنا۔
(4)مشکل عربی جملوں کی ترکیب نحوی۔
(5)مشکل عربی صیغوں کی پہچان اور تحقیق۔
(6)ترجمہ کرنے کا درست طریقہ۔
( (7)بنیادی عقائد۔
(8)ضروریات دین۔
(9)رافضیت،خارجیت اور ناصبیت کی پہیجان او احکام۔
(10) الحاد۔
(11)وجود باری تعالٰی کے دلائل۔
(12) توحید باری تعالی کے دلائل۔
(13)ضرورت نبوت۔
(14)نبی کے لازمی اوصاف۔
(15) جدید شبہات کے جوابات اور اسلوب حواب۔

**مدرسین:**
(1)علامہ محمد احسن اویسی زیدشرفہ
(2)علامہ محمد انس بندیالوی زیدشرفہ
(3)مولانا محمد الیاس رضا زیدعلمہ
(4)مولانا عبدالرحمن رضوی زید علمہ

**بمقام:دار العلوم میمن نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی۔**

**اہل السنةوالجماعة کے تمام اداروں کے طلبہ سے گزارش ہے کہ اس کورس میں ضرور شرکت فرمائیں**

03/02/2025

*سالانہ جلسہ بسلسلہِ دستارِ فضیلت وتقسیمِ اَسناد*

*دارالعلوم میمن*، کراچی

تخصص فی الفقہ، تخصص فی المعقولات،تخصص فی الاقتصادالاسلامی،تخصص فی القانون والقضاء،
تخصص فی القراءت اور حفظ،ناظرہ،تجویدو قراءت کے *280 طلباء* کو *دستار اور سند* سے نوازا جائے گا۔

*خصوصی خطاب*:
مفتیِ اعظم پاکستان *مفتی منیب الرحمن صاحب* زید شرفہ( صدر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان)

*مہمان خصوصی*:
جناب کامران ٹیسوری(گورنر سندھ)

*میزبان*:
ڈاکٹر *علامہ عمران شامی صاحب* زید عزہ
(مہتممِ اعلى: دار العلوم میمن، کراچی)

وعزت مآب جناب *حاجی رفیق پردیسی* صاحب
(چئیر مین نیو میمن مسجد ٹرسٹ)

*تاریخ*:7فروری 2025 بروز جمعۃ المبارک
*وقت*: صبح10:00 تا1:20 (قبل از نماز جمعہ)
*اہتمام و مقام*:دار العلوم میمن، نیو میمن مسجد، بولٹن مارکیٹ کراچی۔

25/03/2023
03/05/2021

(تنتالیسواں سبق)
سورۂ فلق اورسورۂ ناس کے فضائل
کتاب الفضائل
سورۂ_فلق سورۂ_سورۂ سورۂ_ناس_ کے_فضائل_
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ فلق اور سورۂ ناس کے فضائل:
سورۂ فَلق اور سورۂ والنّاس کےاحادیث میں بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سےچندفضائل درج ذیل ہیں (1) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔
ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آج رات مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں جن کی مثل نہیں دیکھی گئی ،(وہ آیتیں )قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (سورت کے آخر تک) اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ(سورت کے آخر تک )ہیں ۔
( صحیح المسلم؛کتاب صلوٰہ مسافرین ؛باب فضل قراءۃ المعو ذتین ؛1/557؛الحدیث: 264(814))
(2) أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ابْن عَابِسٍ أَلَا أَدُلُّكَ أَوْ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ۔
ترجمہ:حضرت عابس جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں وہ کلمات نہ بتاؤں جو (شریر جنا ت اور نظر ِبد سے) اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے میں سب سے افضل ہیں ؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، کیوں نہیں توآپ ارشاد فرمایا: ’’وہ کلمات یہ دونوں سورتیں ہیں :(1) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔(2)قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔
( سنن نسائی:50-کتاب الاستعاذۃ ؛8/201؛الحدیث:5432)
(3) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ۔
ترجمۃ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد سورۃ فلق اور سورۃ ناس پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔
(سنن الترمذی ؛ابواب فضائل القرآن؛باب ماجاء فی المعوذتین؛5/21؛الحدیث:2903)
سورۂ فَلق اور سورۃُ النّاس کاشانِ نزول :
یہ سورت اور سورۃ الناس جو اس کے بعد ہے اس وقت نازل ہوئی جب کہ لبیدبن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جادو کیا اور حضور کے جسمِ مبارک اور اعضاءِ ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا قلب و عقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا چند روز کے بعد جبریل آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادو کا جو کچھ سامان ہے وہ فلاں کوئیں میں ایک پتّھر کے نیچے داب دیا ہے ، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے کنوئیں کا پانی نکالنے کے بعد پتھر اٹھایا اس کے نیچے سے کھجور کے گابھے کی تھیلی برآمد ہوئی اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے شریف جو کنگھی سے برآمد ہوئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنگھی کے چند دندانے اور ایک ڈورا یا کمان کا چلّہ جس میں گیارہ گرہیں لگی تھیں اور ایک موم کا پتلہ جس میں گیارہ سوئیاں چبھیں تھیں یہ سب سامان پتھر کے نیچے سے نکلا اور حضور کی خدمت میں حاضر کیا گیا اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں نازل فرمائیں ان دونوں سورتوں میں گیارہ آیتیں ہیں پانچ سورۂِ فلق میں ہر ایک آیت کے پڑھنے کے ساتھ ایک ایک گرہ کُھلتی جاتی تھی یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل تندرست ہوگئے ۔
(خزائن العرفان:سورۂفلق؛تحت﷽)

28/04/2021

(بیالیسواں سبق)
سورۂ اخلاص کے فضائل
کتاب الفضائل
کے_فضائل_
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ اِخلاص کے فضائل:
اس سورت کے احادیث میں بہت فضائل وارد ہوئے ہیں ،ان میں سے چند اَحادیث درج ذیل ہے۔
(1) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ القُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا أَيُّنَا يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اللَّهُ الوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ القُرْآنِ۔
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔
(صحیح البخاری؛ کتاب فضائل القرآن؛باب فضل قل ھو اللہ احد؛6/179؛الحدیث: ۵۰۱۵)
(2) عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ۔
ترجمہ:حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا،وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا:یہ سورت رحمٰن کی صفت ہے اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔
(صحیح البخاری؛ کتاب التوحید؛باب ماجاء فی دعاء النبی صلی للہ علیہ وسلم امتہ الی توحید اللہ تبارل وتعالیٰ؛6/179؛الحدیث:7375)
(3) عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا يُدْخِلُكَ الجَنَّةَ۔
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہاکہ ایک شخص نے سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی کہ’’ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ارشاد فرمایا’’ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔
(سنن الترمذی؛ابواب فضائل القرآن ؛باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص؛5/19؛الحدیث:2901)
(4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ قُلْتُ مَا وَجَبَتْ قَالَ: الجَنَّةُ۔
ترجمہ:حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ آرہا تھا توایک آدمی کو" هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ" پڑھتے ہوئے سنا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا واجب ہو گئی ،تو میں عرض کی کیا چیز واجب ہوگئی ؟ فرمایا جنت واجب ہوگئی۔
(سنن الترمذی؛ابواب فضائل القرآن ؛باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص؛5/18؛الحدیث:2997)
(5) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَيْ مَرَّةٍ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ يَا عَبْدِيَ ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الجَنَّةَ۔
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو شخص روزانہ دو سو بار " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" پڑھے تو اسے کےپچاس سال کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ، مگر یہ کہ اس پر قرض ہو (یعنی قرض معاف نہیں ہوتا)او راسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت ہے،آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے تو دائیں کروٹ پر سوئے پھر" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "سوربار پڑھےتوجب قیامت کا دن ہوگا تو رب تعالیٰ اس سے فرمائے گا اے میرے بندے اپنی دائیں طرف سے جنت میں داخل ہوجا۔
(سنن الترمذی؛ابواب فضائل القرآن ؛باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص؛5/18؛الحدیث:2998)
رمضان المبارک کے عظمت والے مہینے میں اہل سنّت وجماعت کے تمام اداروں کے ساتھ ساتھ میرے ادارہ جامعہ اسلامیہ ضیاء مدینہ ا ور جامعہ اسلامیہ ضیاء طیہ کے ساتھ بھی بھر پور تعاون فرمائیں ،اللہ تعالیٰ آپ کو دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین یا رب العلمیں بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
Meezan Bank
(0197) SHARAFABADBRANSH Karachi
Title of Account: SAIF ULLAH
Account No: 0103249393

19/04/2021

(اکتالیسواں سبق)
سورۂ کوثر،سورۂ کافرون اورسورۂ نصرکے متعلق احادیث
کتاب الفضائل
کے_متعلق_احادیث
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ کوثرکی فضیلت:
مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں:‌ جو شخص سورہ کوثر کی تلاوت کرتا ہے خداوند متعال اسے بہشت کے نہروں سے سیراب کرے گا اور عید قربان کے دن مسلمانوں کی طرف سے ذبح کرنے والی قربانی نیز اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے پیش کردہ قربانی کے برابر اسے ثواب دیا جائے گا
(مجمع البیان فی تفسیر القرآن؛ج10؛ص835)
سورۂ کافرون کے فضائل:
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنَوْفَلٍ اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ۔
ترجمہ:حضرت فروہ بن نوفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت نوفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ’’تم ’’قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ‘‘ کی تلاوت کر کے سویا کرو کیونکہ یہ سورت شرک سے بَری کرتی ہے۔
( سنن ابو داؤد؛ابواب النوم ؛باب مایقال عند النوم ؛4/313؛الحدیث:5055)
حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ رُبْعَ الْقُرْآنِ۔
ترجمہ:عائشہ بنت سعد کا بیان ہے کہ انہوں نےحضرت سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سناکہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے سورت"قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" کی تلاوت کی گویا کہ اس نے تہائی قرآن کی تلاوت کی اور جس نے سورت"قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ"تلاوت کی تو گویا کہ اس نے قرآنِ مجید کے چوتھائی حصے کی تلاوت کی۔
( معجم صغیر، باب الالف، من اسمہ: احمد، ص۶۱، الجزء الاول)
سورۂ نصر کی فضیلت:
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منقول ایک روایت میں آیا ہے کہ جو اس سورت کی تلاوت کرے گا اس کا ثواب اس شخص کے برابر ہے جو فتح مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رکاب میں شہید ہوا ہے۔
(البرہان فی تفسیرالقرآن؛ج5؛ص783)

21/03/2021

(چالیسواں سبق)
سورۂ تکاثر ،سورۂ عصر اورسورۂ قریش کے فضائل
کتاب الفضائل
تکاثر _سورۂ_عصر_اور_سورۂ_قریش کے_فضائل
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ تکاثر کے فضائل:
(1) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ قَالُوا وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ۔
ترجمہ:حضرت عبد اللّہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’کیا تم میں سے کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ روزانہ ایک ہزار آیتوں کی تلاوت کرے؟صحابہ ٔکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے عرض کی :اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ارشاد فرمایا’’کیا تم میں کوئی ’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ‘‘ پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا؟(یعنی اس سورت پڑھنےکا ثواب ، ایک ہزار آیتیں پڑھنے کے برابر ہے)۔
( المستدرک؛کتاب فضائل القرآن؛ذکرفضائل سورو آی متفرقۃ؛1/755؛الحدیث:2081)
(2) عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَارِئٌ عَلَيْكُمْ سُورَةَ أَلْهَاكُمْ فَمَنْ بَكَى فَلَهُ الْجَنَّةُ فَقَرَأَ فَبَكَى بَعْضُنَا وَلَمْ يَبْكِ الْبَاقُونَ قَالَ الَّذِينَ لَمْ يَبْكُوا لَقَدْ جَهِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ نَبْكِيَ فَلَمْ نَقْدِرْ فَقَالَ إِنِّي قَارِئُهَا عَلَيْكُمُ الثَّانِيَةَ فَمَنْ بَكَى فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يَبْكِيَ فَلْيَتَبَاكَ ۔
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ میں تمہارے سامنے سورت ’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ‘‘ پڑھنے لگا ہوں توجو رو پڑا تو اس کے لئے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وہ سورت پڑھی تو بعض صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم رو پڑے اور بعض کو رونا نہ آیا۔جن صحابہ ٔکرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کو نہ آیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم نے بہت کوشش کی لیکن رونے پر قادر نہیں ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں دوبارہ تمہارے سامنے وہ سورت پڑھتا ہوں تو جورو پڑاا س کے لئے جنت ہے اور جسے رونا نہ آئے تو وہ رونے جیسی صورت بنا لے۔
( شعب الایمان؛ باب تعظیم القرآن؛فصل فی البکاء عند قراءۃ القرآن ؛3/413؛الحدیث:1894)
سورۂ عصرکی فضیلت:
(2)رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد ہے کہ جو بھی اس سورت کو پڑھے گا اس کی عاقبت صبر اور بردباری پر اختتام پذیر ہوگی اور قیامت کے دن حق والوں کے ساتھ محشور ہوگا۔
(مجمع البیان فی تفسیر القرآن ؛ج10؛ص434)
(2) رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کےاصحاب کے درمیان سورۂ عصراتنی اہمیت کے حامل تھی کہ جب وہ ایک دوسرے سے ملتے تھے تو سورہ عصر سنائے بغیر اپنی جگہ سے نہیں اٹھتے تھے اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
(الدر المنثور؛ج6؛ص391)
سورۂ قریش کی فضیلت:
رسول للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سورہ قریش کی قرائت کرے گا تو خداوند عالم اسے دس نیکیاں دے گا مسجد الحرام میں طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں کی تعداد کے برابر۔
(مجمع البیان فی تفسیر القرآن ؛ج10؛ص441)

20/03/2021

(انتالیسواں سبق)
سورۂ والتین،سورۂ بینہ اورسورۂ زلزال کے متعلق احادیث
کتاب الفضائل
کے_فضائل_
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ وَ التِّیْنِ سے متعلق حدیث:
عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ أُرَاهُ قَالَ سَمِعْتُ البَرَاءَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي العِشَاءِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ۔
ترجمہ:حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ’’وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ‘‘پڑھتے ہوئے سنااورمیں نے آپ سے زیادہ اچھی آواز کے ساتھ قراء ت کرتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔
(صحیح البخاری؛کتاب التوحید؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الماھر بالقرآن مع کرام البررہ)؛9/158؛الحدیث:7546)
سورۂ بَیِّنَہ سے متعلق حدیث :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ نَعَمْ فَبَكَى۔
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں تمہارے سامنے سورت ’’لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا‘‘ پڑھوں ۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہاں ۔(یہ سن کر) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
( صحیح البخاری ؛کتاب مناقب الانصار؛باب مناقب ابی بن کعب رضی اللہ عن ؛5/36؛الحدیث:3809)
سورۂ زِلزال کے فضائل:
(1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُلْزِلَتْ تَعْدِلُ نِصْفَ القُرْآنِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ القُرْآنِ۔
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سورۂ ’’اِذَا زُلْزِلَتِ‘‘ آدھے قرآن کے برابر ہے اور سورۂ ’’قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ‘‘ تہائی قرآن کے برابر ہے ا ور سورۂ ’’ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ‘‘ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔
(سنن الترمذی ابواب فضائل القرآن؛باب ماجاء فی اذا زلزلت؛5/21؛الحدیث:2894)

(2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ إِذَا زُلْزِلَتْ عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ القُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ عُدِلَتْ لَهُ بِرُبُعِ القُرْآنِ، وَمَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عُدِلَتْ لَهُ بِثُلُثِ القُرْآنِ۔
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جوشخص سورۂ زلزال پڑھے تو یہ اس کے لئے نصف قرآن کے برابر ہو گی،جو سورۂ کافرون پڑھے تو یہ اس کے لئے چوتھائی قرآن کے برابر اور سورۂ اخلاص کا پڑھنا تہائی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کے برابر ہے۔
(سنن الترمذی ابواب فضائل القرآن؛باب ماجاء فی اذا زلزلت؛5/21؛الحدیث:2893)

08/03/2021

(اڑتیسواں سبق)
سورۂ غاشیہ،سورۂ شمس اورسورۂ لیل کے متعلق احادیث
کتاب الفضائل
کے_متعلق_احادیث
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی

سورۂ غاشیہ سے متعلق احادیث:
(1)عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
ترجمہ:عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کے دن (جمعہ کی نماز میں )سورۂ جمعہ کے ساتھ کونسی سورت کی تلاوت فرماتے تھے؟آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں ’’هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ‘‘ پڑھتے تھے۔
( سنن ابن ماجہ؛کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا؛باب ماجاء فی القراءۃ فی الصلوٰۃ یو م الجمعۃ ؛1/355؛الحدیث:1119)
(2)عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ۔
ترجمہ:ابو عنبہ خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"اور"هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ"کی تلاوت فرماتے تھے۔
( سنن ابن ماجہ؛کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا؛باب ماجاء فی القراءۃ فی الصلوٰۃ یو م الجمعۃ ؛1/355؛الحدیث:1120)
سورۂ شمس سے متعلق اَحادیث:
(1) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي العِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ۔
ترجمۃ:حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ا س کے مثل سورتیں تلاوت فرماتے تھے۔
(سنن الترمذی؛ابواب الصلوٰۃ ؛باب ماجاء فی القراءۃ فی صلوٰۃ العشاء ؛1/404؛الحدیث:309)
(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ فَقَرَأَ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ۔
ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی تو اس میں ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ’’وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ‘‘ کی تلاوت فرمائی۔
( المعجم الکبیرللطبرانی؛باب الجیم ؛شریک بن عبدللہ النخعی، عن سماک؛2/231؛الحدیث:1958)
سورۂ لیل سے متعلق حدیث:
عَنْ جَابِرِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ۔
ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں ’’وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰى‘‘کی تلاوت فرماتےتھے۔ اور عصر میں اس کی مثل اور فجرمیں اس سے کچھ لمبی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے
( سنن نسائی؛کتاب الافتتاح ؛باب قراءۃ النھار؛2/165؛ ؛الحدیث:980)

20/02/2021

)سینتیسواں سبق)
سورۂ غاشیہ ،سورۂ شمس اورسورۂ لیل کے متعلق احادیث
کتاب الفضائل

تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ غاشیہ سے متعلق احادیث:
(1)عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
ترجمہ:عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کے دن (جمعہ کی نماز میں )سورۂ جمعہ کے ساتھ کونسی سورت کی تلاوت فرماتے تھے؟آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں ’’هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ‘‘ پڑھتے تھے۔
( سنن ابن ماجہ؛کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا؛باب ماجاء فی القراءۃ فی الصلوٰۃ یو م الجمعۃ ؛1/355؛الحدیث:1119)
(2)عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ۔
ترجمہ:ابو عنبہ خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"اور"هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ"کی تلاوت فرماتے تھے۔
( سنن ابن ماجہ؛کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا؛باب ماجاء فی القراءۃ فی الصلوٰۃ یو م الجمعۃ ؛1/355؛الحدیث:1120)
سورۂ شمس سے متعلق اَحادیث:
(1) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي العِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ۔
ترجمۃ:حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ا س کے مثل سورتیں تلاوت فرماتے تھے۔
(سنن الترمذی؛ابواب الصلوٰۃ ؛باب ماجاء فی القراءۃ فی صلوٰۃ العشاء ؛1/404؛الحدیث:309)
(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ فَقَرَأَ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ۔
ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی تو اس میں ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ’’وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ‘‘ کی تلاوت فرمائی۔
( المعجم الکبیرللطبرانی؛باب الجیم ؛شریک بن عبدللہ النخعی، عن سماک؛2/231؛الحدیث:1958)
سورۂ لیل سے متعلق حدیث:
عَنْ جَابِرِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ۔
ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں ’’وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰى‘‘کی تلاوت فرماتےتھے۔ اور عصر میں اس کی مثل اور فجرمیں اس سے کچھ لمبی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے
( سنن نسائی؛کتاب الافتتاح ؛باب قراءۃ النھار؛2/165؛ ؛الحدیث:980)

19/02/2021

(چھتیسواں سبق)
سورۂ طارق،اورسورۂ اعلیٰ کےفضائل
کتاب الفضائل
ٰ_کے_ فضائل
تالیف
مفتی ومدرس طارق روڈ کراچی
سورۂ طارق سے متعلق دو اَحادیث :
(1) عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَلَّى مُعَاذٌ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَالنِّسَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ مَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقْرَأَ بِالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا۔
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی تو ا س میں سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء کی تلاوت کی،تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے معاذ! تم لوگوں کو فتنے میں ڈال رہے ہو! کیا تمہیں یہ کافی نہیں ہے کہ تم’’وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ‘‘، ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا ‘‘ کی تلاوت کرو۔
( سنن الکبری للنسائی؛کتاب التفسیر؛86-سورۃ الطارق ؛10؛332؛الحدیث:11600)
(2)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ يَعْنِي ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ۔
ترجمہ :حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں ’’وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ‘‘۔ ’’وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ‘‘کی تلاوت کرتےتھے۔
( مسند امام احمد؛مسند ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ ؛14/78؛الحدیث:8332)
سورۂ اعلیٰ کے فضائل :
(1) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ قَالَ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ۔
ترجمہ:حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عید الفطر،عید الاضحی اور جمعہ کی نماز میں ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى‘‘ اور ’’هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِ ‘‘ کی تلاوت کرتے تھے،فرمایا اور جب عید جمعہ کے دن ہوتی تو دونوں نمازوں میں ان سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
( صحیح المسلم؛کتاب الجمعۃ ؛باب مایقرء فی صلوٰۃ والجمعۃ ؛2/598؛الحدیث: 62(878))
(2) عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقْرَأُ فِي الأُولَى بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالمُعَوِّذَتَيْنِ۔
ترجمہ:حضرت عبد العزیز بن جریج رضی اللہ تعالی عنہ روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وتر کی نماز میں کو نسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا !آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى‘‘ دوسری رکعت میں ’’قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ‘‘ اورتیسری رکعت میں ’’قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ‘‘اور معوذتین کی تلاوت کرتے تھے ۔
(سنن الترمذی؛ابواب الوتر؛باب ماجاء ما یقرء فی الوتر؛1/586؛الحدیث:462)
(3) عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى۔
ترجمہ:(خلیفۂثالث حضرت )علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایاکہ’’نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سورت ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى‘‘ سے محبت کرتے تھے۔
( مسند امام احمد؛مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ؛2/142؛الحدیث:742)

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
75400

Opening Hours

Monday 00:00 - 12:00
Tuesday 00:00 - 12:00
Wednesday 00:00 - 12:00
Thursday 00:00 - 12:00
Friday 00:00 - 12:00
Saturday 00:00 - 12:00
Sunday 00:00 - 12:00