Miss Naila

Miss Naila

Share

Veteran educator with a legacy of nurturing generations of learners. Lifelong mentor, storyteller , believer of kindness and power of education.

09/11/2025

ناشکری بیوی۔۔۔۔۔۔خسارہ ء زندگی :-

سوشل میڈیا کے عروج کی بدولت اب "زرا زرا سی بات"بھی "طشت از بام " ہو جاتی ہے،اگر چہ یہ کوئی اچھی بات نہیں مگر بسا اوقات یہ ایک بہترین بات ہے کہ بہت سے واقعات کا علم ہو جانا بہت سی زندگیوں کی درستگی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
پچھلے دنوں ایک خبر سوشل میڈیا پر پڑھی جس نے نا صرف بہت "سوچنے پر مجبور کیا بلکہ اس عنوان پر لکھنے کی تحریک بھی فراہم کی۔
خبر یوں تھی "ایک صاحب اپنے کمرے میں پچھلے مردہ پائے گئے ،لاش کی حالت سے اندازہ ہوا کہ انتقال پچھلے پندرہ دن پہلے ہوا ہو گا۔
متوفی صاحب اولاد تھے اور اپنی بیوی سے پندرہ سال سے علیحدہ رہ رہے تھے،دو منزلہ مکان کی اوپری منزل پر متوفی اور نچلی منزل پر ان کی بیگم رہائش پذیر تھیں ،دونوں میاں بیوی میں کسی قسم کا رابطہ نہیں تھا۔متوفی جوان اولاد بھی رکھتے تھے۔"
(خبر طویل تھی مختصر بیان کی ہے )
اس خبر کا سب سے درد ناک اور سوچ کے در وا کرنے والا پہلو یہ ہے کہ "بیوی پچھلے پندرہ سال سے شوہر سے ناراض تھی اور دونوں میں کسی قسم کی بات چیت نہیں تھی۔"
قارئین ! میاں بیوی میں بہت سی باتیں ایسی ہو جاتی ہیں جو ناراضگی اور بسا اوقات شدید ناراضگی کا سبب بن جاتی ہیں مگر ایسی ناراضگی کہ بیوی پندرہ سال تک شوہر کو نا پوچھے جب کہ دونوں ایک ہی مکان"گھر تو مکینوں کے ہنسی خوشی ساتھ رہنے سے بنتا ہے نا" میں اوپر نیچے کی منازل میں رہتے رہے تا وقتیکہ شوہر نے دم توڑ دیا۔
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں جو رشتہِ ء ازدواج میں بیوی کے بارے میں ہیں۔
"نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں جو خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا " (النسا :34)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا "دنیا کی سب سے بہترین عورت کون ہے"
جوابا فرمایا گیا " وہ عورت کہ جب شوہر اسے دیکھے تو اسے خوش کر دے اور شوہر جب اسے حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور شوہر کی جان و مال میں کوئی نا پسندیدہ کام نہ کرے " (ابن ماجہ )
رسول امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے "
"جو عورت اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی " (ترمذی)
"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی تھیں،پوچھا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی تھیں؟ جوابا فرمایا ! نہیں ،وہ خاوند کی نا شکری کرتی ہیں اور احسان کی نا شکری کرتی ہیں۔اگر تم عمر بھر بھی ان کے ساتھ احسان کرتے رہو ،پھر تمھاری طرف سے کبھی ان کو ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فورا کہہ اٹھیں گی "میں نے تجھ میں (شوہر) کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی " ( صحیح بخآری)
دوستو ! یہ اور اس چیزیں بے شمار نصیحتیں ہم نے پڑھیں اور سنی ہیں ،اوراق کے اوراق بھرے پڑے ہیں جن میں بیوی کے فرائض اور ان کی ادائیگی پر انعامات دنیاوی و اخروی کا ذکر ہے مگر ان پر عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید "بہت کم"
مشاہدہ ہے کہ اکثر عمر گذر جاتی ہے ،رہتی ساری زندگی شوہر کے ساتھ ہی ہیں،اس کی طرف سے دی گئی ساری مراعات و آسا ء شات لیتی ہیں(بلکہ اپنا حق سمجھ کے) مگر "میرا شوہر ! توبہ توبہ ! بہت ہی برا ادمی ہے،کبھی مجھے کوئی سکھ نا دیا،میں نے ہی گذارا کیا،کوئی دوسری نہیں رہ سکتی تھی وغیرہ وغیرہ"
"بھئی اماں باوا نے بیاہ دیا تھا اس لئے گذارا کر لیا ورنہ اس شخص میں اچھائی تو کوئی تھی نہیں،بس نباہ دیا ،بہت ہی برا شوہر ہے میرا "
"اللہ معاف کرے ! اتنا جھوٹا ہے یہ آدمی،ہر بات میں جھوٹ ،بس گذار دی زندگی(اور یہ ادمی ستر سال کا بوڑھا ہے) "
"آپ کو کیا پتا میں کیسے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہوں،آپ کے شوہر تو بہت اچھے ہیں،اپ کی ہر بات مانتے ہیں،یہ تو صرف اپنا حکم چلانا جانتے ہیں،کیا مجال جو میں اپنی مرضی سے کچھ کر سکوں"(محترمہ ! کروڑوں کے گھر میں رہتی ہیں،ہزاروں اڑاتی ہیں،طرز رہائش شاہانہ ہے)
میری بہنو،بیٹیو اور بہوؤں! بعض شوہر تو اتنے "کم نصیب "ہوتے ہیں کے انہیں بعد از ریٹائر منٹ بیوی کی طرف سے سند ملتی ہے :
" کچھ نہیں کیا اس ادمی نے کبھی،نکموں کی طرح بس گھر میں پڑا رہتا ہے،دن بھر میرا اور بچوں کا دماغ چاٹتا ہے،ہر وقت بس بک بک ،میرے بچے بچیاں محنت کر رہے ہیں،قسمت پھوٹی تھی میری جو ایسے شخص سے شادی ہو گئی" ( ایسا شخص شاندار ملازمتی کیریئر رکھتا ہے،دو مکان بنا کر بیگم صاحبہ کو دئیے ہیں،گاڑی گھر میں موجود،بچیاں کچھ شادی شدہ،باقی بچے سب تعلیم یافتہ ،مگر شوہر نے کچھ نہیں کیا)
قارئین ! یہ میں نے بہت ہی مختصر اور الفاظ کا احتیاط کرتے ہوئے چند "تصویریں" اپ کے سامنے رکھی ہیں۔
میں مانتی ہوں کے "برے شوہروں " کی بھی کوئی کمی نہیں،بعض عورتیں تو واقعی شادی شدہ زندگی کے نام پر "عذاب ہی جھیلتی ہیں" مگر۔۔۔۔۔ ہر بیوی نہیں۔
میاں بیوی کا رشتا تو والدین کے بعد دنیا کا خوبصورت ترین رشتا ہوتا ہے ،بڑھاپے میں جب بچے اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں تو "میاں بیوی ایک دوسرے کے سچے پکے دوست ہوتے ہیں"
جوانی میں جب زندگی جدو جہد مانگتی ہے تو میاں بیوی ایک دوسرے کا مضبوط سہارا بنتے ہیں۔بچوں کی پیدائش سے لے کر ان کو زندگی میں کامیاب کرانے تک ایک دوسرے کو ہمت عطا کرتے ہیں۔
بے شک اکثر اوقات سوچ کا اختلاف ہوتا ہے،باتوں میں دو رائے ہوتی ہیں مگر "کبھی میں تمھاری مانوں کبھی تم میری مانو "کے اصول سے زندگی سہل بن جاتی ہے۔
میری والدہ اکثر بڑی پتے کی بات کہتی تھیں کہ"اچھے میاں بیوی اپنی لڑائی اپنے کمرے تک محدود رکھتے ہیں،اور صبح کمرہ کھلنے سے پہلے پہلے صلح کر لیتے ہیں تا کہ سب گھر والے ایک "خوش گوار شادی شدہ جوڑا دیکھیں"
میری اپنی تمام شادی شدہ بہنو ،بیٹیوں،بھابیوں،اور بہوؤں سے گذارش ہے کہ اپنے ساتھی شوہر کو ہی دنیا کا سب سے بہترین شوہر سمجھئے۔
کوئی چھوٹی موٹی تکلیف پہنچے تو اسے لعن طعن کرنے کے بجائے خاموش رہیں اور صبر کریں تا کہ اللہ اجر عظیم عطا فرمائے۔
دنیاوی تکالیف پر شور مچانے کے بجائے اللہ سے اخروی نعمتیں مانگیں۔
شوہر کی ہر جگہ اور جگہ جگہ برائی کرنے سے مکمل اجتناب کریں اس عادت سے آپ ظاہرا تو دوسروں کی "ہمدردی "حاصل کر لیتی ہیں مگر یہ ہی دوسرے بعد میں آپ کے بارے میں یہ کہتے نظر آتے ہیں"تو بہ توبہ ! کتنی بری عادت ہے ان کی،ہر ۔جگہ بیچارے شوہر کی برائی کرتی نظر اتی ہیں"
یقین جانیں جب اپ کا میکہ نہیں رہے گا،بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں مگن ہو جائیں گے اور اولاد اپنی زندگی کی جدو جہد کر رہی ہو گی تو یہ "بیچارہ شوہر" اپ کا ہمدرد،دم ساز ،اور ساتھی ہو گا۔جو اپنے کم تر وسائل میں بھی اپ کے کھانے،پینے،پہننے،دوا دارو اور ہر ہر خوشی کا خیال کرے گا،اپ کی فکر کرے گا۔
اپ جوانی میں اس کو خوش کریں وہ بڑھاپے میں اپ کی محبتوں کا بدل ضرور دے گا(سچ تو یہ ہے کہ بیوی ساری زندگی ہی شوہر کی دی گئی آسائشوں کے مزے لوٹتی ہے)
اللہ پاک ! ہم سب "بیویوں کو اپنے زندگی کے ساتھی شوہر کا مطیع اور فرماں بردار بنائے اور جب ہم اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں تو وہ شوہر کی اطاعت کے اجر میں ہم پر شفقت بھری نظر کرم کرے اور ہمیں جنت الفردوس میں اماں خدیجہ،اماں عائشہ اور اماں فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم (یہ دنیا کی سب سے بہترین بیویاں ہیں) کا ساتھ نصیب فرمائے۔
آمین۔ ثمہ آ مین۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔

12/10/2025

صلہ ء شہید کیا ہے ،تب و تاب جاودانہ :-
(میری اج کی تحریر پاک وطن کے ہر ایک سپاہی کے نام ہے۔)

"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نا کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمھیں سمجھ نہیں "
(البقرہ :154)
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہرگز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے"
(آل عمران :169)
"جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دئے گئے اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں کرے گا "
( سورہ محمد :33)
شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو صرف قسمت کے دھنی کو ہی ملتا ہے اور اسے وہی پاتے ہیں جنہیں آخرت کی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔شہادت کا رتبہ مقام نبوت سے تیسرے درجہ پر ہے اور روز قیامت انبیاء و صدیقین کے ساتھ شہداء تشریف فرما ہوں گے۔ (ان شاءاللہ)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"شہداء جنت کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک محل میں مقیم ہیں اور صبح و شام جنت سے ان کے لئے رزق لایا جاتا ہے "
( مسند احمد )
حضرت مقدام بن معد یکرب سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ کے نزدیک شہید کے لئے چھ انعامات ہیں ،
1.شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
2.شہید جنت میں اپنا دائمی ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔
3.شہید عذاب قبر سے (جو برحق ہے) محفوظ رہتا ہے۔
4.شہید عظیم گھبراہٹ والے دن (قیامت) مامون رہے گا۔
5.شہید کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جو دنیا کی تمام چیزوں سے قیمتی ہو گا۔
6. شہید کے ستر رشتے دار اس کی شفاعت سے جنت پائیں گے۔
(سنن ترمذی :1663)
(ابن ماجہ :2799)
شہادت ایک مومن کے لئے خوش نصیبی کا زینہ ہے۔
اللہ کے محبوب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
" شہید شہادت کی فضیلت دیکھ کر یہ تمنا کرتا ہے کہ دس بار زندگی کی طرف لوٹ جائے اور دس بار اسے شہادت کا رتبہ ملے "
(صحیح مسلم)
صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ دعا مانگا کرتے تھے :
"اے اللہ مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرما اور اپنے حبیب کے شہر مدینہ میں موت عطا فرما "
(صحیح بخآری )
عزیز قارئین !
وطن پاک اپنے قیام سے ہی ایسے دشمنوں کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے جو اسے "نیست و نابود "کرنا چاہتے ہیں،وجہ صرف یہ ہے کہ "اس کا قیام ہمارے بزرگوں نے رب کی خوشنودی کے لئے لا الہ الااللہ کی بنیاد پر کیا تھا ( اس بحث میں مت پڑیں کے یہاں کیا ہوتا رہا ہے،یہ صرف سیاسی لوگوں کا کام ہے )
اور قرآن کی جگہ جگہ یہ تنبیہ یا گواہی موجود ہے کہ"ہنود و یہود و نصاری کبھی تمھارے دوست نہیں ہو سکتے "
اور یوں بھی "غزوہِ ء ہند "کی پیشن گوئیاں اور احادیث سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ "پاکستان اسلام کی بلندی کا زمانہ دیکھے گا اور یہود و ہنود کی کے نا م و نشان کو مٹائے گا"
یہود چونکہ "سازشی "ہوتے ہیں لہذا وہ 1947 سے ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ذریعہ وطن پاک کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اور اپنے ساتھی "ہنود " کو مسلسل ہمارے پیچھے لگائے ہوئے ہیں،وہ تو اللہ کی مدد اور ہمارے وطن کے "فوجی جوانوں "کی ہمت،جرات،دلیری اور شجاعت ہے جو ہم اج تک قائم و دائم ہیں اور قیامت تک رہیں گے (ان شاءاللہ)
1965 کی
ی جنگ ہو،71 کی سازش ہو،کارگل کا معرکہ ہو یا "اپریشن سیندور "کی صورت "زبردستی کی جنگ مسلط کی گئی ہو ،ہر جگہ ہر مقام پر ان یہود و ہنود اور منافقین کو شرمندگی اور ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔
وطن پاک کی افواج کے دلیر سپاہیوں نے ہمیشہ "ہمارے دشمنوں"کو شکست فاش کے بعد "غصے سے اپنی ہی انگلیاں چبانے "پر مجبور کر دیا ہے۔
اندرونی طور پر بھی "دہشت گری " سے ہم برسوں سے نمٹے چلے ا رہے ہیں،بے شک بہت سے معصوم اور بے گناہ شہری بھی ان "ازلی دشمنوں "کی مکارانہ چالوں سے اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں مگر اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہو سکتی کے"ہمارے فوجی جوانوں کی مسلسل کاوشوں "کی بدولت ہی ہم ہر ہر سازش کا توڑ کر لیتے ہیں۔
ابھی یکم مئی سے دس مئی تک جو جنگ ہم پر "تھوپی "گئی اس کا "بنیان المرصوص "کے نام سے بھرپور جواب دیا گیا،اس دوران ہم عوام "بے فکری سے اپنے گھروں "میں سوتے رہے کیوں کہ "وطن کے سپاہی وطن کے چپے چپے پر جاگ رہے تھے"
کل رات 12 اکتوبر کو جب "ہمسایہ مسلم افغانستان "نے ہم سے "ہنود کے بھڑکانے پر چھیڑ خانی کی"تو پھر " وطن کے بیٹوں نے انہیں "منہ کی کھلائی "
ہم میں سے تو کتنوں کو شاید پتا بھی نا تھا کے "رات بھر پاک فوج مسلط کردہ لڑائی لڑتی رہی اور صبح سے پہلے ہی فتح کا جھنڈا گاڑ گئی"
میرے وطن کے بہادروں اور جیالو ! اللہ پاک تمھیں ہر گھڑی محفوظ رکھے۔
تم یونہی وطن پاک کی سرخروئی کا ذریعہ بنتے رہو،تم موت سے ڈرتے ہی نہیں کیونکہ "تمھاری ٹریننگ میں دشمن کے سامنے اسے پچھاڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگانا سکھایا جاتا ہے۔"
کیسے کیسے خوبصورت جوان وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کا جام پی رہے ہیں،ان شہیدوں کے والدین اور لواحقین بھی بہت زیادہ تحسین کے لائق ہیں جو اپنے "پیارے "کی شہادت پر "حوصلہ افزاء " بیان دیتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ بھی کرتے ہیں
کہ "اگر میرے دس بیٹے ہوتے تو ایک ایک کر کے وطن کی عزت و آبرو کے لئے قربان کر دیتا "
سلام عقیدت ہے ایسے تمام والدین کو جو شہادت کو اپنے لئے "اعزاز نبوی "سمجھتے ہیں۔
آج کی تحریر ایک شہید "کرنل سہیل عابد ،شہادت بلوچستان ،خوارج سے معرکہ"کی شہادت سے چند دن پہلے مانگی ہوئی دعا سے کرتی ہوں جو اشعار کی صورت ہے:
میری وفا کا تقاضہ ہے کے جاں نثار کروں
اے وطن تیری مٹی سے ایسا پیار کروں

میرے لہو سے جو تیری بہار باقی ہو
میرا نصیب کہ میں ایسا بار بار کروں

خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا
اے کاش ان میں،میں خود کو شمار کروں
میری دعا ہے سہیل میں بھی شہید کہلاؤں
میں کوئی کام کبھی ایسا یاد گار کروں
اللہ پاک تمام شہدائے وطن کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور ان کی قربانیوں کی بدولت وطن پاک کو تا قیامت آزاد و آباد و شاد رکھے۔
آمین۔
ثمہ آمین۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔

13/09/2025

مہمان نوازی ۔۔۔۔۔رسم یا روحانی سکون۔

آج کل ہر شخص (تقریبا)یہ شکوہ کرتا نظر اتا ہے کہ"کمائی میں برکت نہیں ہے،خیر سے گھر میں سب ہی افراد کماؤ ہیں مگر پھر بھی خرچے پورے نہیں ہوتے،بچت ہوتی ہی نہیں،لگتا ہے گھر سے برکت اٹھ گئی ہے۔"
سننے والے بھی اسی قسم کے جملے بولتے ہیں،پھر "حکومتوں کو صلواۃ سنائی جاتی ہیں معاشرے کی برائیوں کا رونا رویا جاتا ہے اور "ٹھنڈی آہیں بھر کر روزمرہ زندگی شروع ہو جاتی ہے۔"
کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ہمارے بزرگوں کے گھر عام سے،ذرائع امدنی تھوڑے سے اور طرز زندگی" بہت ہی سادہ ہوتا تھا مگر وہ بڑے "مطمئن اور زندگی سے شاداں نظر اتے تھے"
میری ناقص رائے کے مطابق تو یہ "مہمان نوازی "کی رحمتیں اور برکتیں تھیں۔"
پہلے(موسی علیہ السلام کا زمانہ نہیں،یہی 20 سال پہلے کی بات) جب گھر میں کسی بھی وقت کوئی رشتے دار،جان پہچان والا،پڑوسی یا کوئی دوست آتا تھا تو اسے "مہمان " کا درجہء دیا جاتا تھا،اسے خوش دلی سے خوش آمدید کہا جاتا تھا،اس کی حسب توفیق خاطر داری کی جاتی تھی،اکرام کیا جاتا تھا اور "پھر آنے کی تاکید کے ساتھ"رخصت کیا جاتا تھا۔
آج کے زمانے میں "اول تو مہمان آتے ہی نہیں" اگر کوئی آ بھی گیا تو میزبان بڑا ہی پریشان ہو جاتا ہے جیسے :
"یار ! کیا مصیبت ہے
یہ کہاں سے ا گئے (جھنجھلا کے)
لو بھلا ! یہ کوئی وقت ہے کسی کے گھر آنے کا،ٹائم دیکھتے نہیں ا جاتے ہیں منہ اٹھا کے،
اوہ ہو! اب انہیں بھی کھانے کا کہنا پڑے گا،یہاں اپنے حساب کا پکایا ہے "

وغیرہ وغیرہ وغیرہ
کسی نے کیا ہی خوب ترجمانی کی ہے
سمیٹ لے گئے کہاں سب مہمان
مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو
مفتی شفیع عثمانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مطابق "ابو الانبیاء حضرت ابرہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے مہمان نوازی کی روایت ڈالی۔اپ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مہمان ساتھ بٹھا نہیں لیتے تھے۔ایک بار ایک شخص کو دروازے سے لے کر ائے،دستر خوان پر بٹھایا،ادب سے کھانا پیش کیا اور کہا ! بسم اللہ پڑھ کے شروع کیجئے۔اس نے کہا میں تو اللہ کو مانتا ہی نہیں،میں نہیں پڑھوں گا،آپ تو اللہ کے نبی تھے،بڑے غصے میں آ گئے اور اس شخص کو دستر خوان سے یہ کہہ کر اٹھا دیا "تو رب کا کھاتا ہے اور اسے ہی نہیں مانتا،میں تجھے رب کا بھیجا کھانا نہیں کھلاؤں گا"
وہ بندہ گیا تو اللہ نے اپنے خلیل کو وحی بھیجی "میں اتنے سالوں سے اسے کھلا رہا تھا اور تو ایک وقت بھی اسے نا کھلا سکا کے وہ میرا نام نہیں لیتا"آپ فورا نادم ہوئے (مومن کی خصوصیت ہے کہ گناہ پر فوری توبہ کرنا) باہر دوڑے اس شخص کو تلاش کیا،اس سے معافی مانگی اور بصد اصرار کھانا کھلایا۔جب اس نے ماجرا دریافت کیا تو اسے اپنے بارے میں بتایا اور پورا قصہ بیان کیا،اس شخص نے اسی وقت آپ کے ہاتھ پر ایمان قبول کر لیا۔
یہ ہے مہمان نوازی کی برکت اور رحمت کے ایک بے دین کو دین اسلام کی روشنی سے منور کیا اور خود بھی رب کے "پیارے "ٹھہرے۔
سید الانبیاء ،رحمۃ اللعالمین ،محبوب خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد مہمان نواز تھے اور اپنی امت کو بھی مہمان کا اکرام کرنے کی تعلیم دیتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے "جو مہمان نواز نہیں اس میں کوئی بھلائی نہیں "
(مسند احمد )
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد بار اس بات کا اظہار کیا کہ"مہمان میزبان کے لئے باعث رحمت ہوتے ہیں اس لئے ان کا اکرام کرنا چاہئیے۔"
ہمارے بزرگوں کے گھروں میں اسی لئے "تھوڑے میں بھی بہت برکت "تھی کے وہ "مہمان نواز "تھے۔
رشتے داروں کا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا معمول کی بات تھی اور انے جانے میں کوئی چپقلش یا برائی بھی نہیں ہوتی تھی۔
دوست احباب کو کھانے پر بلایا جاتا تھا۔
پڑوسیوں و محلے داروں کے گھر "پکوان بھیجے جاتے تھے،خاص کر پائے،نہاری یا کڑھی جیسی زیادہ مقدار میں پکنے والی اشیاء ضرور پاس پڑوس میں تقسیم ہوتی تھیں۔"
اکثر اوقات تو جو میسر ہوتا تھا وہی مہمان کے سامنے "سلیقے "سے رکھ دیا جاتا تھا،سالن کم ہوتا تو "شوربہ "بڑھا لیا جاتا تھا،گھر میں رکھے بیسن اور تھوڑی سی دہی سے "دہی پھلکیاں بطور سالن"بڑھا لی جاتی تھیں۔
سویوں کے زردے سے میٹھے کی کمی پوری کر لی جاتی تھی وغیرہ وغیرہ۔
اگر ہم آج کے لوگ اور خاص کر "مسلمان " اپنے گھروں میں خیر و برکت چاہتے ہیں تو ہمیں "مہمان نوازی کی روایت "کو دوبارہ فروغ دینا ہو گا کہ یہ صرف "ایک رواج نہیں بلکہ ہمارے پیارے دین کی تعلیم بھی ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی ہے اور سنتوں پر عمل پیرا ہونا "روحانی سکون "کا باعث ہوتا ہے۔
کوشش کیجئے ہماری پروان چڑھنے والی نسل اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو لے کر چلے،اپنی "خیر و برکت "والی روایات کو قائم رکھے اور ایسا معاشرہ تشکیل دے جہاں سب ایک دوسرے سے پیار ،محبت،خلوص اور بھائی چارے کے جذبے سے جڑے رہیں اور اللہ تعالی کی عافیتوں کے حقدار ٹھہریں۔
امین۔
ثمہ آمین۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔

23/08/2025

رات کا دوسرا پہر،سناٹے کا راج
اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے گرد ہتھیار بردار دشمنوں کا پہرہ ہے۔دشمنان دین کا ناپاک ارادہ اج رات ہی (نعوذ باللہ) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کر کے سارے "فساد "کو ختم کرنے کا ہے۔اللہ تعالٰی اپنے"محبوب "کو وحی کے ذریعہ ہجرت کا اذن دیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "یار غار " ہونے والے دوست ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مکہ سے نکل رہے ہیں اور شہر کے اخری کونے پر پہنچ کر ایک اداس نظر شہر پر ڈال کر فرماتے ہیں "قسم ہے مجھے تجھ سے بہت محبت ہے مگر تیرے بیٹے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے "
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان مقدس الفاظ میں چھپا "دکھ اور کرب "وہی جانے گا جس نے واقعی "ہجرت " کی ہو گی۔
اج کل سوشل میڈیا پر ایک "مذاق " بہت پسند کیا جا رہا ہے کہ " کاش دادا جان تقسیم برصغیر کے وقت لندن جانے والی ٹرین پر بیٹھ جاتے "
یہ بظاہر ایک "میم " ہے مگر اس کی اصل حقیقت جاننی ہے تو کسی ایسے بزرگ کے پاس بیٹھنا اور "تقسیم کے دکھ " سننا " ہوں گے جو اس "ہجرت " کا خود بھی "شکار " ہوا ہو۔
ہمارے اکثر نوجوان اپنے پیدائشی بچپن کے "محلے " کو چھوڑ کر دوسرے اور خاص کر "دور دراز علاقے ", میں گھر بدلنا نہیں چاہتے کے انہیں "اپنے محلے کے علاوہ کہیں رہا نہیں جاتا" اور تقسیم کی ہجرت کا مذاق ؟
اگر "ہجرت"اور خاص کر "اللہ کے دین کو بچانے کے لئے کی جانے والی ہجرت " خاص فعل نا ہوتی تو قران اور حدیث میں اس کا "اجر بھی اتنا عظیم نا ہوتا"
جن لوگوں نے اپنے آباو اجداد اس زمین میں دفنائے ہوں،جن کی پیدائش اسی زمین پر ہو،جن کے سنگی ساتھی اسی سرزمین کے ہوں،جن کی محبتیں اسی زمین پر پروان چڑھی ہوں،جن کے عزیز رشتے دار اسی زمین کے باسی ہوں،جن کی دولت،جائیداد ،نوکری،کاروبار سب کچھ اسی زمین پر ہو اور ان سے کہا جائے "لا الہ الااللہ کی بنیاد پر دوسری زمین پر بس جاو اور اپنی دنیاوی ساری چیزیں یہیں چھوڑ جاو "تو ایسے "مہاجرین " پر کیا گذری ہو گی اس کا "کرب " یہ "میمز "بنانے والے کیا جانیں۔
ایسے کتنے ہی "بزرگ مہاجرین "نظروں سے گذرے ہیں جنہیں دم آ خر بھی اپنے "ابائی وطن" دوبارہ جانے کی "حسرت "رہی۔
اپنے ابائی وطن کو چھوڑنے کا غم ان کی "جان لے گیا"۔شعراء اپنے "ہجرت کے دکھ "اشعار میں ڈھالتے رہے ،وہ لوگ جو ہجرت کے وقت جوان تھے بڑھاپے تک ہجرت کی "داستانیں " سناتے رہے،کسی کا بوڑھا دادا اپنی "جنم بھومی "کو یاد کرتے کرتے قبر میں اتر گیا اور پوتا "لندن والی ٹرین کا "طعنہ "دے رہا ہے۔
اج کی نسل "وقتی ملکی مسائل "کا حل صرف "پاکستان چھوڑنا "سمجھتی ہے مگر اسے احساس ہی نہیں کے "ہجرت "کا دکھ اور کرب کیا ہوتا ہے۔
ہجرت میں کیا کیا چھوڑنا پڑتا ہے۔ہجرت میں کیسے کیسے انمول لوگ چھوٹ جاتے ہیں۔ہجرت میں کیا کیا رہ جاتا ہے۔ہجرت میں کون کون پیچھے چھوٹ جاتا ہے۔
اللہ پاک کسی کو بھی "ہجرت کی اذیت نا سہنے دے "امین۔
دعا کیا کیجئے "اللہ پاک اپنے وطن،اپنی زمین،اپنی مٹی میں ہی رہنا،جیون گذارنا اور یہیں دفن ہونا نصیب فرمائے۔
امین۔
ثمہ امین۔
وما علینا الاالبلاغ ۔

12/07/2025

ستار العیوب اللہ :-
دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔شرعی حد کی بناء پر شادی شدہ عورت دربار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتی ہے اور اپنے گناہ "زنا " کا اقرار کرتی ہے اور حد جاری کرنے کی درخواست کرتی ہے تا کے اس سے جو گناہ کبیرہ سرزد ہوا ہے اس کی سزا اسے یہیں مل جائے اور اللہ اسے معاف کر دے۔
رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے صرف نظر کرتے ہیں اور اقرار کے باوجود اسے حمل پورا کرنے اور بچے کی ولادت تک کا وقت دیتے ہیں۔
نو ماہ کے بعد بعد از ولادت وہ عورت پھر حاضر ہوتی ہے اور سزا پر عمل درآمد کا کہتی ہے تا کہ وہ پاک ہو سکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے رضاعت تک کا وقت پھر دیتے ہیں کے جب بچہ روٹی کھانے کے لائق ہو ، جب انا۔ ڈھائی سال "بیٹے کی رضاعی مدت " بعد وہ عورت بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا کر حاضر خدمت ہوتی ہے اور اپنی سزا کا مطالبہ دہراتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوجھل دل کے ساتھ اس پر حد جاری کرتے ہیں کہ شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کرے تو اسے "رجم " کیا جائے ، یعنی کندھوں تک زمین میں گاڑ کر اس وقت تک پتھر مارے جائیں جب تک جان نا نکل جائے،اس موقع پر ایک گروہ ضرور موجود ہو تک کے باقی لوگوں کو عبرت ہو اور ایسے غلیظ کاموں سے معاشرہ پاک ہو۔
عورت کی سزا کا عمل جاری تھا کہ اس کے خون کے کچھ چھینٹے اڑے،کچھ لوگوں نے کراہت کی۔نبی ء آخر الزماں نے جو فرمایا اس کا مفہوم ہے "یہ خون اس حد جاری ہونے کے بعد پاک صاف ہو گیا۔بندی اپنے رب کے حضور پہنچ گئی۔ قصور کی سزا مل گئی اب اس کا رب جانے اور بندہ جانے،اس سے کراہت کھانے کے بجائے اپنی اپنی فکر کرو کے ابھی یوم اخر باقی ہے جہاں گناہ اور ثواب کا فیصلہ ہو گا۔"
دوستو ! دجالی زمانے کے بارے میں جو کچھ پڑھا اور سنا تقریبا سب ہی پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے،اللہ رحم فرمائے۔
ایک نشانی جو احادیث صحیحہ سے ملتی ہے وہ ہے "ناگہانی اور حیران کن اموات کثرت سے ہوں گی۔"
،موت تو برحق ہے،ہر نفس کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے
مگر کچھ عرصے سے ایسی اموات ہو رہی ہیں جو بہت زیادہ دکھ کا باعث ہیں،خاص کر "اداکارہ عائشہ خان اور ماڈل حمیرہ اصغر کی موت "
ساتھیوں ! جانا سب نے ہے ،کسی نے کہا ہے نا "موت سے کس کو رستگاری ہے
آج ہماری کل تمھاری باری ہے
تو ہر شخص "صرف "اپنی موت یاد رکھے۔
جو گیا وہ گیا "اب عبد جانے اور اس کا معبود جانے "
جب اللہ اپنی صفت "ستار العیوب "کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بندوں کے "بڑے بڑے عیبوں "کو ڈھانک دیتا ہے تو ہم انسان کیوں دوسروں کی چھپی ہوئی باتوں کو "کھکھوڑنے "لگتے ہیں ؟
یاد رکھئے "تم زمین والوں کے عیب چھپاؤ میں آسمان پر تمھارے عیب ڈھانپ دوں گا "
ہمیں کیوں نہیں یاد رہتا "ہم جس کو ذکر کر رہے ہیں وہ جواب دینے کے لئے زندہ نہیں ہے "
جو مر گیا بس اس کے ساتھ ہی اس کا "بھلا برا سب مر گیا " خدارا ! جانے والوں کی زندگی کے راز نا کھولیں۔اول تو دوسروں کی کھوج ہی نا کریں،اگر کہیں کچھ پتا چل بھی جائے تو ایک اچھے انسان اور سچے مومن ہونے کا ثبوت دیں اور بڑی سے بڑی بات بھی "ڈکار "لیں۔
مت ذکر کریں کسی کے بچوں کی بے حسی کا یا والدین کی بے رخی کا۔
کس کے کیا کیا مسائل ہیں،ہمیں کیا پتا۔
کیوں دوسروں کی کھوج کریں ؟
کیوں دوسروں کی تشہیر کریں ؟
کیوں نا صرف اپنی فکر کریں ؟
کیوں نا رب مہربان سے دعا کریں "اے ستارالعیوب اللہ ! جس روز نامہ ء اعمال پڑھے جائیں گے اس روز تو میرا اور ہر ایک کا پردہ رکھ لینا۔
مجھے دنیا میں بھی معتبر بنا اور یوم اخر بھی عزت قائم رکھنا۔
یا اللہ ! میرا اور ہر ایک کا بھرم قائم رکھنا
قارئین با شعور معاشرے کو پروان چڑھائیں۔
نا کچھ ایسا بولیں گے جو دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث ہو اور نا ہی ایسا کچھ "شیئر "کریں گے جو رب کے سامنے ہمیں کھڑا کرنے کا باعث بن جائے۔
یا اللہ !مجھے اور مجھ سے وابستہ ہر ایک کو اور سب لوگوں کو صرف اور صرف اپنے نامہ ء اعمال کو بہترین کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہم سب کو دوسروں کے حق میں بے ضرر اور فائدہ مند بنا۔
ہمارا انجام بخیر کرنا اور ہمیں "خبر بننے سے بچانا "
آمین۔
ثمہ آمین۔
وما علینا الاالبلاغ المبین۔۔

29/05/2025

کنجیء کامیابی محنت یا ۔۔۔۔۔۔۔بورڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیصلہ اپ کیجئے۔

حال ہی میں دہم جماعت کے طلبا / طالبات بورڈ امتحانات سے فارغ ہو کر کالج کی تعلیم کے لئے بورڈ کا فیصلہ کرنے میں سوچ و بچار کا شکار ہیں۔
اس وقت کراچی میں "کراچی بورڈ (سرکاری) اور پرائیوٹ بورڈز (اغا خان،ضیاء الدین،اے او لیول اور فیڈرل بورڈ) کام کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے توسط سے عوام کی رسائی اب "ہر ایک خبر "تک ہو گئی ہے،اب یہ "ہر ایک خبر "کتنی سچی ہے یا کتنی جھوٹی،اس پر غور کم ہی کیا جاتا ہے اور وہ جو کہاوت ہے نا"کوا کان لیا جائے تو سب اس کے پیچھے دوڑیں،کوئی کان چھو کے نا دیکھے "تو بھئی سوشل میڈیا کی وجہ سے "کراچی بورڈ بالکل ناکارہ اور بے کار قرار دیا جا چکا ہے۔"
زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں،یہ ہی تین،چار عشرہ پہلے تک اسی کراچی بورڈ سے میں نے بھی پڑھا،اور بہت "اچھا"پڑھا۔( یقینا میرے روحانی بچے اس کی گواہی دیں گے۔)
میرے سب بچوں نے اسی "کراچی بورڈ "سے اعلی تعلیم حاصل کی اور اج زندگی میں کامیاب ہیں۔"ماشاء اللہ"
میرے ہزاروں کی تعداد میں "روحانی بچے اور بچیاں " اسی "کراچی بورڈ" سے پڑھ کر اج بہت کامیاب زندگی گذار رہے ہیں اندرون ملک اور بیرون ملک بھی۔
اسی "کراچی بورڈ " سے تعلیم یافتہ بہت سے میرے روحانی بچے "اعلی سرکاری و پرائیویٹ اداروں " میں "کلیدی عہدوں پر ہیں "
مختصر یہ کہ "کراچی بورڈ بالکل فارغ یا بے کار قطعا نہیں ہے ۔"
اج اکثر مائیں مجھے بتاتی ہیں کہ "واٹس ایپ گروپ بنے ہوئے ہیں جن پر پرچے سے قبل ہی پرچہ حل کرنے کے لئے ا جاتا ہے۔"
اللہ گواہ ہے نا مجھے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں ایسا کچھ ملا اور نا ہی میرے چاروں بچوں میں سے کسی کو امتحانی مرکز پر پرچہ حل کروایا گیا۔۔
ہاں "نقل "ایسا رجحان ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے لیکن اس کا "شکار بھی کچھ خاص طلبا / طلبات ہوتے تھے یا ہوتے ہیں،ہر کوئی نقل نہیں کرتا۔"
اج کل سوشل میڈیا کی "کمپین "کی وجہ سے اکثر والدین سرکاری بورڈ کے مقابلے میں "پرائیویٹ بورڈ" کو ترجیح دینے لگے ہیں،جس کی وجہ سے یہ بورڈز پروان چڑھ رہے ہیں اور ان کی ماہانہ اور امتحانی فیسیں بھی "دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔"
عموما یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ "ان بورڈز کے امتحانی نتائج بالکل "فیئر " ہوتے ہیں،یہاں "دھاندلی " نہیں ہوتی۔"
اب سادہ لو عوام خاص کر ماؤں کو یہ کون سمجھاۓ کے "بی بی یہ بورڈز بھی اپنا نام قائم رکھنے کے لئے "سو فیصد "نتائج دے رہے ہیں "
میں اپنے طویل تدریسی تجربے کی بنیاد پر یہ انتہائی ذمداری سے کہہ رہی ہوں کے "ان بورڈز کا ہر بچہ / بچی 90 فیصد لانے والا نہیں ہوتا،ان کے امتحانی نتائج کی تیاری بھی میں نے دیکھی ہے اور ان کے انتظامی حربوں کو بھی قریب سے جانا ہے،سو بھاری بھاری امتحانی فیسوں کو حلال کرنے کے لئے بھی "سو فیصد نتائج "دکھانا لازمی ہے۔"
بہت سے اساتذہ اس بات کی تائید کریں گے کے ان پرائیوٹ بورڈز کے بھی بہت سے طلبا / طالبات سال بھر اپنے اساتذہ کے لئے "درد سر "بنے رہتے ہیں لیکن نتیجہ ان کا بھی 80 و 90 فیصد میں اتا ہے اور وہ پڑھاکو طلبا و طالبات،اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کا حقیقتا "منہ چڑاتے "ہیں۔
ماہرین تعلیم کے مطابق "تعلیم کا عمل اس تکون سے کامیابی سے ہم کنار ہوتا ہے "
1. پچاس فیصد طالب علم / طالبہ کی محنت
2 پچیس فیصد والدین
3 پچیس فیصد استاد۔
اگر اس تکون میں سے ایک بھی کمزور ہے یا اپنے حصے کی محنت نہیں کر رہا تو نتیجہ "کمزور "ہی ہو گا۔
مثلا :
والدین کو بچے پر کڑی نظر رکھنی ہے اور اس کے تعلیمی اوقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے،اسے ہر طرح کی سہولت دینی ہے مگر پڑھائی انتہائی اعلی درجے کی مانگنی ہے،چاہے پیار سے،چاہے سختی سے،چاہے "ایموشنلی بلیک میلنگ سے"
استاد کی اپنے روحانی بچوں پر محنت اس شعر سے واضح ہو جاتی ہے :
سبق پڑھ کر پڑھا دینا ہنر ہے عام لوگوں کا
جو دل سے دل جلاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
(یہاں لفظ جلاتا پڑھئیے،ج کے نیچے زیر کے ساتھ،جس کے معنی روشن کرنے کے ہیں۔)
طالب علم و طالبہ کی محنت ہی اسے امتحانی نتائج میں سرخرو کرتی ہے،جتنی بڑی کلاس اتنی بڑی "محنت۔"
اب یہ ہو نہیں سکتا کے "اپ شوق رکھیں ڈاکٹر بننے کا اور پڑھائی کریں اس طالب علم کی طرح جو بڑی مشکل سے "پاس " ہوتا ہے ",
یاد رکھئے بچو ! کالج کے دو سال "یاز دہم اور دواز دہم " اپ کی پوری زندگی کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔ اپ نے اگر ان دو سالوں میں سونے کے اوقات نکال کر صرف پڑھائی کی ہے تو اپ ضرور اپنی باقی زندگی میں سکون سے کمائیں گے اور اپنے سے وابستہ لوگوں کو بھی آرام پہنچائیں گے اور اگر ان دو سالوں میں اپ نے سوائے پڑھنے کے باقی سارے کام کئے ہیں تو پھر "اپ بھی سسٹم کو گالیاں ہی نکالتے رہیں گے۔"
کسی نے کہا ہے نا :
بغیر محنت کے ہرگز کسی نے نا پائی
فضیلت،نا عزت نا فرمان روائی
تو حاصل کلام یہ ہے کے اگر تینوں عوامل مل کر محنت کریں تو "کوئی بھی بورڈ ہو ،نمایاں کامیابی ملتی ہے( اکا دکا مثالیں چھوڑ کر )
میرے مشاہدے میں ایسے طلبا بھی ہیں "جنہوں نے چھوٹے سے علاقے کے سرکاری اسکول سے میٹرک کیا،سرکاری بورڈ سے کم فیس پر ایف ایس سی کیا اور اج وہ نامی گرامی ڈاکٹر،انجینئر،اور میڈیکل کی مختلف فیلڈز میں بہترین کام کر رہے ہیں اور زندگی سہل بنا رہے ہیں۔"
اکثر لوگ یہ بھی کہتے ہیں کے "ان پرائیوٹ بورڈ کے نصاب کی وجہ سے ہمارا بچہ یا بچی انگریزی بہت اچھی بولتا ہے " تو "ارے سادہ لو لوگو ! انگریزی ہو یا کوئی بھی زبان،اس میں مہارت اس وقت اتی ہے جب وہ اوائل عمری سے ہی سکیھی جائے،اس کی مثال میں اپنے نواسے "11 سالہ "کی دوں گی کے "ان کے والد صاحب بچے سے اردو میں بات کرتے ہی نہیں تھے صرف انگریزی میں،اردو بولنے پر بچے کی حد تک پابندی تھی،سو اج میرا نواسہ بہترین انگریزی زبان سوچتا،بولتا اور لکھتا ہے۔"
اج کی ماں کو میرا یہ ہی مخلصانہ مشورہ ہے "اپنے بچے یا بچی کو اوائل عمری سے ہی تعلیم اور اعلی تعلیم کی اہمیت بتائیں۔
اس کے ساتھ ابتدائی جماعتوں میں خوب محنت کریں تا کے اس کی بنیاد بن جائے۔
بڑی جماعت میں انے پر اس کی ایکٹیویٹی پر کڑی نظر رکھیں۔
اس کو باور کراتی رہیں کہ اسے مستقبل میں کیا کرنا ہے۔
اسے پڑھائی میں محنت اور سخت محنت کا عادی بھی بنائیں اور اس مشقت کے "میٹھے پھل کے ذائقے سے روشناس بھی کراتی جائیں"
پیاری ماؤں! ان پرائیوٹ بورڈز کی بھاری بھاری فیسیں بھر کر بھی اگر اپ کا بچہ یا بچی 60 فیصد ہی نمبر لے کر ا رہا / رہی ہے تو مت اپنی محنت کی کمائی "ضائع "کریں۔بچے / بچی کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں اور پھر اس پر "محنت،لگن اور شوق "سے سفر کریں اپ یقین جانئے "ہر وہ ڈگری جو محنت اور اپنی ذہنی قابلیت کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہو مستقبل میں اچھی آمدنی کا ذریعہ بنتی ہے۔"
اگر اپ کا بچہ و بچی کسی ہنر کے سیکھنے میں شوق رکھتا ہے تو اس پر بھرپور توجہ دیں تا کے وہ مستقبل میں اپنی اسی مہارت سے حلال کما سکے۔
ہمیں اپنے بچوں کو علم کے ذریعہ اور مختلف ہنرز کے ذریعہ اس لائق بنانا ہے کے وہ اپنی اگے کی زندگی اپنے زور بازو پر بھروسہ کر کے گذاریں نا کے کسی کے "دست نگر " بن جائیں اور اس میں کسی بھی "بورڈ "کا کوئی کمال نہیں ہو گا۔ یہ کام اپ اور اپ کا بچہ یا بچی خود کریں گے صرف اور صرف محنت،لگن،شوق اور کامیابی کے جنون میں۔
اللہ ہم سب کا اپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔

10/05/2025

ماں کا عالمی دن اور پیار کی جپھی :-

ماں جیسی ہستی کہیں نہیں
جہاں ماں نہیں وہاں کچھ نہیں
کل ماہ مئی کا دوسرا اتوار ہے اور اس دن ساری دنیا بالشمول پاکستان میں بھی "Mothers Day " منایا جاتا ہے،یعنی "ماں سے اظہار محبت کا عالمی دن "
ہر ایک اپنی اپنی خواہش ،انداز اور حیثیت کے مطابق اپنی "اماں،امی،ماما،ماں"یا جو بھی پکار کا نام ہو کو تحائف دیتا ہے،پیار کا اظہار کرتا ہے،محبت جتاتا ہے۔
بحیثیت ایک ماں اور روحانی ماں میرا کہنا ہے "اپ سب "بچے "اپنی ماں کو اس "خاص دن"لازمی محبت بھرا پیغام بھیجا کیجئے،انہیں اپنی حیثیت کے مطابق تحفہ دیا کیجئے،ان کے"لاڈ "اٹھایا کیجئے۔
جب اولاد ماں سے اظہار محبت کرتی ہے،اس کے احسانات کا ذکر کرتی ہے اس کو اپنی سعادت مندی کا یقین دلاتی ہے تو "ماں کا دل خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔" یوں بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں "ایک دوسرے کو تحائف دینے کی نصیحت کی ہے کے اس سے آپسی محبت بڑھتی ہے" تو پھر ماں جیسی"بے لوث و بے غرض محبت کرنے والی ہستی کو کیوں نا خاص کر تحفہ دیا جائے اس سے اظہار محبت کیا جائے ۔"
جن بچوں کی ماں نہیں ہوتی
زندگی ان کی آسان نہیں ہوتی
اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لئے "ماں سے اظہار محبت کا دن "منایا کیجئے ،کیونکہ یہ "اپ کے لئے رب کا انمول اور نایاب تحفہ ہے۔"ان کے بارے میں سوچئے جن کی "ماں" نہیں ہوتی۔ آہ ہاااااااا۔کیا کرتے ہوں گے ایسے لوگ ؟ مجھے عمر کے اس دور میں بھی اپنی اماں کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے تو جنھیں واقعی "دنیا کی بے دردی جھیلنی پڑتی ہو گی وہ کہاں دل کا درد بتاتے ہوں گے"
بہت سے لوگ کہتے ہیں"ماں کا بھی کوئی خاص دن ہوتا ہے بھلا ؟
اپ کی بات بالکل درست،مگر سال کے تمام دنوں میں اگر ایک دن خاص کر ان سے اظہار عقیدت کر دیا جائے تو "وہ" کتنی خوشی محسوس کریں گی،کتنا اپنی اولاد پر فخر ہو گا انہیں،کتنی دعائیں ان کے روئیں روئیں سے اپنی اولاد کے حق میں نکلیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منا لیا کجئیے "ماوں کا عالمی دن " اس میں کچھ جاتا نہیں بس اتا ہی آتا ہے یعنی "ماں کی ڈھیروں دعاؤں کا خزانہ "
اچھا اگر اپ دور بیٹھے / بیٹھی ہیں تو اج کل کے سہولیات والے دور میں کیا مشکل کام ہے یہ،گھر کی مصروفیات میں سے،جاب کی سختیوں میں سے صرف چند لمحے "چرائیے " اور "واٹس اپ" پر ماں کو اپنا "پیارا مکھڑا " دکھا دیجئے،چند الفت بھرے جملے ادا کر دیجئے،تھوڑا ان کی خدمات کا شکریہ ادا کر دیجئے " آپ یقین مانیں "آپ کی اماں دوبارہ جوان ہو جائیں گی،جی اٹھیں گی "
اگر اپ وہ "خوش نصیب " ہیں کے اپنی والدہ تک بآ سانی پہنچ سکتے / سکتی ہیں تو ضرور اہتمام کے ساتھ ان کے گھر جائیے، حیثیت کے مطابق تحفہ لے جائیے ،جو چیز خاص کر ان کو پسند ہو وہ لے جائیے،ان سے اظہار محبت کیجئے ،پیار جتائیے اور اپنی ماں کو ان کے "خاص " ہونے کا احساس دلائیے اور ہاں (ازمودہ ہے ) کچھ کیجئے یا نا کیجئے "جب ان کے پاس پہنچئیے تو لازمی انہیں ایک ,( پیار کی جپھی ) ڈال کر لاڈ سے کہئیے "اماں " ۔اپ خود دیکھیں گی /گے کہ ان کے چہرے پر ایک "پیاری سی مسکان "اجائے گی ،وہ بظاہر اپ کو ہٹائیں گی بھی مگر دنیا کا سارا پیار لہجے میں سمو کر کہیں گی"بہت لاڈ ا رہا ہے کوئی کام ہے کیا ؟ "
اس پیار کی جپھی میں وہ جادو ہے جو دنیا کی کسی بھی شے میں نہیں،اور اکثر اپنی اپنی "ماں " کو "پیار کی جپھی ڈالا کیجئے" اپ کو وہ ملے گا جو "دنیا و اخرت کو کامیاب ترین کر دے گا۔"
اور جن بیچاروں کی میری طرح "اماں " اب نہیں ہیں،جنت مکانی ہو گئی ہیں وہ بھی اس پیار کی جپھی کا "مزہ اور انعام "لے سکتے ہیں۔
صبح کی نماز کے بعد خاص کر اپنی "مرحومہ والدہ "کے لئے دعائے مغفرت کریں،قرآن پاک کا کچھ حصہ پڑھ کر ان کے نام سے تحفہ بھیجیں،تھوڑی سی رقم ان کے نام سے صدقہ و خیرات کر دیں،کوئی بھی نیکی کر کے اس کا ثواب ان کے نام تحفتہ بھیج دیں ،روحانی ماں کو پیار بھرا میسج کر دیں،خالا کی خدمت کر دیں وغیرہ وغیرہ۔"
گر چاہتے ہو جنت دونوں جہاں کی
خدمت کرو اور قدر اپنی ماں کی
پیارے قارئیںن ! آئیے کل ہم سب " ماں کا عالمی دن" پورے جذبے سے مناتے ہیں اور اپنی دنیا کو سنوارتے ہیں اور ابدی و دائمی کامیابی کا حصول یقینی بناتے ہیں۔
ان شا ء اللہ ۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi