12/12/2025
اللہ نے قرآن میں فرعون کا تذکرہ صرف اِس لیے نہیں کیا کہ ہم ایک مرے ہوئے بادشاہ کی کہانی پڑھیں…
بلکہ اس لیے کہ ہم پہچان سکیں کہ فرعون آج بھی زندہ ہے صرف شکلیں بدل گئی ہیں۔
ہمیں لگتا ہے فرعون صرف تخت پر بیٹھا بادشاہ تھا،
لیکن روزانہ ہماری زندگی میں ایسے درجنوں فرعون گھوم رہے ہیں:
• کالج کا وہ ٹیچر جو اپنی کرسی کو خدا کا درجہ دیتا ہے، اور طلبہ کی عزت نوچ لیتا ہے۔
• یونیورسٹی کا وہ پروفیسر جو نمبر کے نام پر بھتہ مانگتا ہے، اور مستقبل کی گردن دباتا ہے۔
• دفتر کا وہ باس جو ملازمین کو انسان نہیں، غلام سمجھتا ہے—جس کے سامنے حق بولنا بھی جرم بن جاتا ہے۔
• کاروبار کا وہ طاقتور آدمی جو کمزور کا رزق روک کر سمجھتا ہے کہ وہ سب کا مالک ہے۔
• گھر کا وہ شخص جو آواز بلند کرے تو سب خاموش ہوجاتے ہیں، جیسے اس کا حکم خدا کا حکم ہو۔
• اور سیاست کے وہ لوگ جو اپنے فیصلوں کو تقدیر سمجھ کر قوم کی سانسیں روک دیتے ہیں۔
یہ سب فرعون کون ہیں؟
وہ سب جو طاقت پاتے ہی انسان بننا بھول جاتے ہیں۔
جو سمجھتے ہیں کہ ان کا حکم آخری ہے۔
جو دوسروں کی عزت، حق، اور آواز پر اپنی انا کا پتھر رکھ دیتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے:
فرعون صرف دریائے نیل میں غرق نہیں ہوا تھا…
فرعون ہر اس دل میں ڈوب کر مرتا ہے جو تکبر چھوڑ دے۔
اور ہر اُس دل میں زندہ ہوتا ہے جو طاقت پاتے ہی خود کو خدا سمجھنے لگے۔
اللہ نے کہا تھا کہ فرعون کی کہانی “عبرت” ہے…
لیکن ہم اسے قصہ سمجھ کر چھوڑ بیٹھے،
اسی لیے آج ہر جگہ چھوٹے چھوٹے فرعون پیدا ہو رہے ہیں—
اور ہم خاموش رہ کر اُنہیں مزید بڑے کر رہے ہیں۔
تلخ حقیقت؟
فرعون ختم نہیں ہوئے…
ہم نے اُنہیں نئی یونیفارم، نئی کرسی، نیا ٹائٹل دے کر دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
اگر یہ پڑھ کر تمہیں اپنے اردگرد کوئی ایسا شخص یاد آگیا…
تو سمجھ لو.