*💕💫کچھ باتیں دل کی*💫💕
*🖌...اگر ﺁﭖ کسی کو چھوٹا دیکھ رہے ہیں تو أسے یا تو ﺁﭖ دُور سے دیکھ رہے ہو یا پھر غرور سے دیکھ رہے ہیں...!!!*
🌸🌸🌸
✍🏻✍🏻
Ummul Hasnain Online Quran Academy
Ummul Hasnain Online Quran Academy provides the courses at a worldwide level to all the Muslims.
*🏮جمعہ کے دن سورة الکھف کی ابتدائی تین آیات یا دس آیات یا آخری دس آیات پڑھی جائیں یا مکمل سورة الکھف پڑھی جائے، اس سے متعلق روایات کی تحقیق*
سوال: جمعہ کے دن جو سورۃ کہف پڑھی جاتی ہے، کیا وہ پوری پڑھنا ضروری ہے یا شروع کی 10 آیت یا پھر آخری 10 آیت یا ان تینوں میں سے کس طرح پڑھنا ضروری ہے؟ احادیث سے تفصیلی بتا دیں۔
جواب: دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورۃ کہف پڑھنے سے متعلق چارقسم کی روایات ملتی ہیں ۔
پہلی قسم :
سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے سے فتنہ دجال سے حفاظت ہوتی ہے۔
اس کی دلیل مسلم شریف کی مندرجہ ذیل روایت ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ".
(صحيح مسلم:809)
ترجمہ:
جو شخص سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا، وہ دجال کے فتنہ سے بچالیا جائے گا۔
دوسری قسم:
سورۃ کہف کی آخری دس آیات پڑھنے سے دجال کے فتنے سے حفاظت ہوتی ہے۔
اس کی دلیل بھی مسلم ہی کی روایت ہے، جو امام مسلم نے شعبہ کی سند سے نقل کی ہے، شعبہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا فضیلت سورة الکھف کی آخری دس آیات کے حفظ کرنے سے متعلق ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَاهَمَّامٌ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ شُعْبَةُ : مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ. وَقَالَ هَمَّامٌ : مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ، كَمَا قَالَ هِشَامٌ.صحيح مسلم:809)
تیسری قسم :
سورۃ کہف کی ابتدائی تین آیات پڑھنے سے بھی فتنہ دجال سے حفاظت کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَاشُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْأَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ". حسن صحیح (سنن الترمذي:2886)
ترجمہ:
جس نے سورۃ کہف کی ابتداء سے تین آیات کی تلاوت کی، وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا۔امام ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح قراردیا ہے۔
اور امام ترمذی جس حدیث کو حسن صحیح قرار دیتے ہیں، اس کا درجہ اگرچہ حدیث صحیح سے کم تر ہوتا ہے، لیکن حدیث حسن سے قوی ہوتا ہے۔ (نخبة الفکر:ص 56)
چوتھی قسم:
مکمل سورہ کہف کی تلاوت سے دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذکرہے، وہ درج ذیل احادیث ہیں:
1۔ عن أبي سعيد الخدري قال : " من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور فيما بينه وبين البيت العتيق " . (رواه الدارمي ج 4ص 2143 نمبر 3407 ط دارالمغنی للنشر سعودیہ۔شعب الایمان ج4 ص 86 ط مکتبة الرشد ریاض)
ترجمہ:
ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہوجاتی ہے۔
2 " من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين " .
رواه الحاكم ( 2 / 399 ) ومعرفة السنن و الآثارللبيهقي ( ج4 ص 418)
ترجمہ:
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے لیے دوجمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے۔
اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے ۔
قال ابن حجر في " تخريج الأذكار": حديث حسن ، وقال: وهو أقوى ما ورد في قراءة سورة الكهف.
(" فيض القدير: ج 6 ص 257 ط دارالکتب العلمیہ بیروت)
3 . وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة سطع له نور من تحت قدمه إلى عنان السماء يضيء له يوم القيامة، وغفر له ما بين الجمعتين ".
ترجمہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے، جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور ان دو جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں۔
قال المنذري : رواه أبو بكر بن مردويه في تفسيره بإسناد لا بأس به .
(الترغيب والترهيب: ج 1 ص 298 ط دار الکتب العلمیہ بیروت)
منذری کا کہنا ہے کہ ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے، جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ۔
4: عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَهُوَ مَعْصُومٌ إِلَى ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ فِتْنَةٍ تكون، فَإِن خرج الدَّجَّال عصم مِنْهُ۔
(الاحادیث المختارة للضیاء المقدسی: ج 2 ص 50 ط دارخضر للطباعة، بیروت)
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کی وہ آٹھ دن تک ہر فتنے سے بچا رہے گا، اگر دجال کا بھی خروج ہوجائے تو اس سے بھی بچ جائے گا۔
یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ ضیاء الدین المقدسی نے اس حدیث کو نقل کرنے بعد فرمایا: (فی اسنادہ من لم اقف لہ علی ترجمة) اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کے حالات کی مجھے واقفیت نہیں۔
مکمل سورة کھف پڑھنے کے بارے میں روایات میں تین صحیح ہیں اور ایک روایت ضعیف ہے۔
*🏮خلاصہ کلام:*
ان ساری روایات کے مجموعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مکمل سورة کھف کی تلاوت بہتر ہے، اس لیے مکمل تلاوت کرنے کی صورت میں ابتدائی تین آیات، دس آیات اور آخری دس آیات والی روایات پر بھی عمل ہوجاتا ہے اور مکمل پڑھنے سے متعلق درج بالا روایات میں تیسری روایت کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارے میں سب سےقوی یہی حديث ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ مکمل سورة پڑھی جائے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
11/08/2023
*تحفظ ناموس اہل بیت عظام و صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضی الله عنہم اجمعین کےبل کی منظوری*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از۔شاہین ختم نبوت *مولانا ﷲوسایا* صاحب دامت برکاتہم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیعہ وسنی تنازعہ وہ حقیقت ہے جس نے کئی بار شدت کا رنگ اختیار کیا، دو فقہی مسالک (فقہ حنفی وفقہ جعفری) سے ہٹ کر جب جنگ و جدال کا راستہ اختیار کیا گیا تو بعض انتہاء پسند لوگوں کے طرز نے صحابہ کرام رضی الله کی محبت کے نام پر اہل بیت رضی الله سے پر خاش اور اہل بیت کی محبت کے نام پر صحابہ کرام کی اہانت و تکفیر تفسیق کی فضا پیدا ہوئی۔ جس نے آگے چل کر رنگ بدلا تو روافض و خوارج یا رافضی وناصبی گروه دو متضاد و متحارب نظریے وجود میں آگئے ۔
تا ہم شیعہ سنی ہمیشہ مشترکات کے لئے ایک رہے۔ *تحریک آزادی، تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، ملی یکجہتی کونسل ماضی کی مثالیں سامنے ہیں* ۔ ایران میں خمینی انقلاب آیا، ان کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لئے پاکستان، سعودی عرب، عراق وغیرہ میں شیعہ وسنی فسادات کی امریکی پالیسی رو بعمل لائی گئی ۔ اب یہ ایک حقیقت ہے جو الم نشرح ہو چکی ہے۔ اس پر دلائل میں الجھنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے ملک میں امریکہ کی اس پالیسی کی بھنگ میں رنگ زیادہ ڈال دیا گیا۔
جناب جنرل ضیاء الحق کے دور میں تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت اور امہات المؤمنین رضی الله عنہم اجمعین قانون منظور ہوا ۔ اس میں اس قانون کی تشکیل کرنے والوں نے اسے ایسا پیچیدہ بنا دیا کہ عظمت صحابہ کے گستاخوں ، اہل بیت کے بدخواہوں اور امہات المؤمنین کی اہانت کے مرتکب بدنصیبوں کے خلاف پرچہ درج کرانا پبلک کے اختیار کی بجائے سرکار کی ذمہ داری تھی۔ پھر سزا اتنی تھوڑی کہ یہ قانون منظور ہونے کے باوجود شیعہ سنی کشیدگی کم کرانے میں ناکام ثابت ہوا۔ طریقہ کار سے ہزار اختلاف ہو، *مگر سپاہ صحابہ نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی، قربانیوں کا ایک ریکارڈ قائم کیا گیا۔* متعدد بار حکومتی سطح پر کمیٹیاں بنیں، سپریم کورٹ کی سطح پر کمیشن بنے ، سفارشات مرتب ہوئیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔
آج سے قریباً چھ ماہ قبل قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت و امہات المؤمنین رضی الله عنہم اجمعین بل پیش کیا۔ ملزم کے لئے سزا دس سال اور اس کی ابتدائی سماعت سیشن جج کے ہاں ہوگی ۔ پبلک کا ہر آدمی پرچہ درج کرا سکے گا۔ اس موقعہ پر جمعیت علماء اسلام کے ممتاز رہنماوفاقی مذہبی امور مولانا مفتی عبدالشکور اپنے جماعتی فیصلہ اور اپنے حکومتی منصب کے باعث اس بل کی حمایت میں کا میاب وکیل کے طور پر سامنے آئے ۔ *جمعیت علماءا اسلام کی قیادت نے پورا زور لگایا۔ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی کہ قومی اسمبلی سے بل منظور ہو گیا* ۔ سارے ملک میں اس کا خیر مقدم کیا گیا اور اسے صلح و آشتی کا آئینہ دار اور امن کا علمبردار کہا گیا۔ اب ضرورت تھی کہ قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ بھی اسے منظور کرے۔ مگر اس دوران مخصوص لابی نے وہ بےاطمینانی کا طوفان کھڑا کیا کہ امن و انصاف، خیرو عدل سر پیٹ کر رہ گئے۔ اس موقع پر *حضرت مولانا محمد احمد لدھیانوی جرنیل اہل سنت* نے بڑے تحمل و وقار کے ساتھ مثبت انداز میں اسے تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی حکمت عملی قائم کی۔ آج تک حکومتی سطح پر جو کوششیں ہوئی تھیں۔ سرکاری دوائر حتی کہ حساس اداروں کی مرکزی قیادت، ایجنسیوں کے سربراہان سے مل کر اس قانون کو امن کا آخری راستہ اس مسئلہ کے حل کی آخری راہ قراردیا۔ *دیانت داری کی بات ہے کہ وہ اس کے لئے جنہوں نے بل کی قومی اسمبلی سے منظوری میں کردار ادا کیا تھا۔ شکریہ ادا کرنے کے لئے ایک ایک رہنما سے ملے جنہوں نے سینیٹ میں منظور کرنا تھا۔ ایک ایک کے دروازہ پر گئے* ۔ جمعیت علماء اسلام کے ممبران سینیٹ نے تو انہیں محبتوں سے ایسے نوازا کہ آپ سروقد ہو گئے۔ بہت ہی محبت سے *قائد جمعیت علمائے اسلام حضرت مولانافضل الرحمن مدظلہم* سے ملے ۔ آگے سے مولانا مدظلہم نے بھی شفقتوں کی چھتری کے نیچے اپنے پہلو میں جگہ دی۔
*مولا نا محمد احمد نے قائد جمعیت سے فرمایا کہ آج آپ کے پاؤں پکڑ کر میں نے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی الله تعالیٰ عنھما کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے آپ سے درخواست کرنی ہے۔یہ سناتوحضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہم نمناک ہوئے* ۔ باہمی حکمت عملی طے ہوئی ۔ سرکاری دفاتر حکومتی اداروں ، سینیٹر حضرات شیعہ حضرات کی معتدل اور انصاف پسند بالغ نظر قیادت کو قائل کرنا واعتماد میں لیناتعاون کے لئے آمادہ کرنا، دوسری سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان کو آگے کرنا۔ اس پر مشاورت اور تقسیم کار ہوئی۔ مولا نا فضل الرحمن مدظلہم نے تعاون سے سرفراز فرمایا۔ *مولانا احمد لدھیانوی مدظلہم نے رفتار کیا بدلی کہ آخری گیئر لگا دیا۔* ہوا کے دوش، سلیمانی ٹوپی پہن کر ایسی رفتار پکڑی کہ ریکارڈ قائم ہو گیا۔ آج کراچی تو کل اسلام آباد، ابھی پشاور تو شام کو لاہور دن رات ایک کر دئیے ۔ خواب و خور بھول گئے ۔ مجال ہے کہ کسی کو کچھ ہوا لگے کہ کیا کر رہے ہیں۔ ہیں اصل میں تواس مسئلہ کے حل ہونے کا وقت آ گیا ۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد کافی عرصہ گزرنے کے باعث مخالفت کی گرد بھی بیٹھ گئی تھی اور مخالف قوتوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ قائل بھی کر لیا گیا کہ میاں بس کرو، جانے دو۔ امن وامان قائم کرنے کا آخری چانس ہے۔ ضائع نہ کرو ورنہ دونوں کا نقصان ہوگا۔ جمعیت اہل حدیث کے سینیٹر حافظ عبدالکریم جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کو اگوان بنایا حضرت مولا عبد الغفور حیدری ، سینیٹر طلحہ محمود وفاقی وزیر مذہبی امور ان کے پشتی بان بنے اوراگر ذراوسعت اختیار کر یں تو *شہداۓ ناموس صحابہ واہل بیت کے خون کے صدقے* حق تعالی جل جلالہ ہم نوالہ کےہاں قبولیت کا وقت آ گیا۔ رحمت حق نے ترس کیا ۔عرش والے کے کرم کی موسلا دھار بارش نے نفرتوں کی کا لک کو دھو دیا ۔
۷ اگست ۲۰۲۳ ء کی شام کو ادھر بل پیش ہوا، معمولی بحث کے بعد دنیا نے دیکھا کہ اس کی منظوری کااعلان ہوا۔ رحمت حق مسکرا اٹھی ۔
*جرنیل اہل سنت مولانا محمد احمد اس طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں* کہ ان کی مخلصانہ کاوش نے ثمرات سے ان کی جھولی کو بھر دیا ۔ *مولانا محمد احمد لدھیانوی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اس کی کامیابی کا سہرا ہر اس شخصیت کے سرباندھ رہے ہیں جنہوں نے بھی اس بل کی منظوری میں کسی قدرحصہ ڈالا* ۔
*مولانا احمد آپ واقعی امن کے سفیر ہیں جرنیل اہل سنت ہیں* ۔ دیرینہ قضیہ کوحل کرانے میں آپ فاتح ومنصور قرارپاۓ ۔ ہمت کرو رحمت حق آپ کے ساتھ ہو ، اتحادامت زندہ باد، *مولاناحق نواز مرحوم کی تربت پر جانا چاہتاہوں* ۔ بل ان کی قبر پر رکھنے کے لئے نہیں بلکہ دعا کے لئے ، رہے *مولانامحمداحمد ملیں تو پیشانی چومے بغیر رہنانہیں* کہ بہت خوشی ہوئی ۔
*مولا نا فضل الرحمن زنده باد مولانا محمد احمد پائنده باد*
🌻 *یومِ آزادی کے دینی اور حقیقی تقاضے*
📿 *نعمتِ خداداد پاکستان کی قدردانی:*
پاکستان اسلام اور کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ایک عظیم الشان ملک ہے، اس کے حصول کے لیے ایک طویل جدو جہد کی گئی ہے اور لاکھوں قربانیاں دی گئی ہیں، تب جاکر اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے یہ ملک پاکستان وجود میں آیا، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر کریں، اور ایسے تمام اقوال، افعال اور کردار سے اجتناب کریں جو اس نعمت کی ناقدری کے زمرے میں آتے ہوں۔
📿 *پاکستان کا مقصد:*
یہ بات روزِ روشن سے بھی زیادہ واضح اور ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان اسلام اور کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا، یہی اس کا مقصد تھا کہ ایک ایسی آزاد ریاست حاصل ہوجائے کہ اس میں آزادی کے ساتھ دین اسلام پر عمل کیا جاسکے، جو ایک خالص اسلامی ریاست ہو، جہاں اسلام کا غلبہ ہو، جہاں انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر شعبے اور طبقے میں اسلامی احکام وتعلیمات اور قوانین کا بول بالا ہو، جہاں سود، کرپشن، حرام خوری، خیانت، ظلم وستم، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب اور بے حیائی سمیت ہر قسم کے انفرادی اور اجتماعی گناہوں اور جرائم سے نفرت اور بیزاری کی فضا قائم ہو۔ یہ نعمتِ پاکستان کے حصول کا مبارک مقصد تھا۔ اس لیے ہمیں ہر وقت اور خصوصًا یومِ آزادی کے موقع پر یہ مقصد پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
📿 *یومِ آزادی کا درس:*
ہر سال یومِ آزادی کا آنا درحقیقت ہمیں یہ درس دیتا ہے اور ہمارے دلوں میں یہ تصور اجاگر کرتا ہے کہ ملک پاکستان جس مبارک مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ ہمیشہ ہمارے دل ودماغ میں تر وتازہ رہنا چاہیے، اس مقصد کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، اس مقصد کے حصول میں جو ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں ان پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے یہ پختہ عزم کرنا چاہیے کہ اس میں کسی بھی طرح کی غفلت گوارہ نہ کریں گے۔ ان شاء اللہ
📿 *مقصدِ پاکستان اور ہماری کوتاہی:*
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلامی احکام وقوانین کی بالادستی اور ان پر عمل پیرا ہونا ہی اس کا مقصد تھا، لیکن غورفکر کا مقام یہ ہے کہ کیا ہم اس مبارک مقصد کو حاصل کرچکے ہیں یا حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں؟؟ اس سوال پر اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ منظر نامہ سامنے آتا ہے کہ ہم نے اس مبارک مقصد کے حصول میں کتنی کوتاہیاں کی ہیں! اور ہم نے اس نعمتِ پاکستان کی کتنی ناقدری کی ہے! ذرا غور تو کیجیے کہ:
▪ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دینِ اسلام کی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں!
▪ہم ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کی بالادستی کے لیے کس قدر سنجیدہ اور فکرمند ہیں اور اس کے لیے قومی اسمبلی میں کتنی کوشش کی جارہی ہے!
▪ہم اس نعمتِ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے کتنا کردار ادا کررہے ہیں!
▪ہم سود، کرپشن، حرام خوری، خیانت، ظلم وستم، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب اور بے حیائی سمیت ہر قسم کے انفرادی اور اجتماعی گناہوں اور جرائم سے کس قدر اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کتنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں!
▪ہمارے معاملات، تجارات، اخلاقیات، معاشرت، جرگوں اور عدالتوں میں دینی احکام وقوانین کو کس قدر ترجیح اور فوقیت حاصل ہے!
الغرض شعبہ ہائے زندگی کی ایک طویل فہرست ہے جن میں ہم مقصدِ پاکستان کو بھلا کر دینی احکام سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ ہمیں ان سب باتوں کی اصلاح کرکے دین کی بالادستی اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہی پاکستان کے حصول کا مبارک مقصد ہے!
📿 *اسلامی احکام سے آزاد یومِ آزادی کی تقریبات:*
ماہِ اگست اور خصوصًا 14 اگست آتے ہی ملکِ پاکستان میں جشنِ آزادی منانے اور اس کی تقریبات منعقد کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ان تقریبات کا مقصد نعمتِ خداداد ملکِ پاکستان کی آزادی کی خوشی منانا ہوتا ہے، لیکن جشنِ آزادی منانے اور اس کی تقریبات منعقد کرنےمیں جو غلطیاں عام ہوتی جارہی ہیں وہ نہایت ہی افسوس اور اصلاح کے قابل ہیں، جیسے کہ جشنِ آزادی منانے اور اس کی تقریبات منعقد کرنے میں موسیقی کا رواج عام ہوچکا ہے حتی کہ ملی نغموں میں بھی موسیقی شامل کردی جاتی ہے، حالاں کہ ملی نغموں یا جشنِ آزادی کی آڑ میں میوزک جائز نہیں ہوجاتی۔ اس طرح ان تقریبات میں مردوں اور خواتین کے مخلوط اجتماع کا رواج بھی عام ہوچکا ہے اور اس کے نتیجے میں جو بے پردگی اور بے حیائی کے مناظر سامنے آتے ہیں وہ نہایت ہی افسوس ناک ہیں،ان کے علاوہ بھی ان تقریبات میں دیگر غیر شرعی امور پائے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ جشنِ آزادی اور اس کی تقریبات میں میوزک اور مخلوط اجتماع سمیت تمام غیر شرعی کاموں کا ارتکاب ناجائز اور گناہ ہے جو کہ شریعت اور مقصدِ پاکستان دونوں کے خلاف ہے۔ تعجب ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کی آزادی کی تقریبات اسلامی احکام سے آزاد کیسے ہوسکتی ہیں! ہونا تو یہ چاہیے کہ جب پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے تو اس کی آزادی کی تقریبات بھی اسلامی احکام کی پابند ہونی چاہییں کہ یہی پاکستان کا مقصد ہے، لیکن افسوس کہ ہم وہ مقصد بھلا بیٹھے۔ کیا ہمارا یہ طرزِ عمل پاکستان کے لیے دی جانے والی لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بے وفائی اور ان کی ناقدری کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا ہم اس نعمتِ پاکستان کی ناشکری نہیں کررہے؟ کاش کہ ہم غور کرتے کہ جب ہم خود بھی مسلمان ہیں اور پاکستان بھی اسلام کے نام پر بنا ہے تو پھر ہمیں جشنِ آزادی منانے اور اس کی تقریبات منعقد کرنے میں اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے!! اور یہ تو واضح حقیقت ہے کہ مسلمان ہر حال میں اسلامی احکام کا پابند ہے!
📿 *یومِ آزادی کے شرعی اور حقیقی تقاضے:*
یومِ آزادی کے شرعی اور حقیقی تقاضے یہ ہیں کہ:
1⃣ اس بات کا شکر بجا لانا چاہیے بلکہ شکرانے کے نوافل بھی ادا کرنے چاہییں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان کی صورت میں ایک عظیم الشان نعمت سے نوازا ہے، الحمدللہ۔
2️⃣ ملکِ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور ملکی امن وسلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگنی چاہییں۔
3⃣ قائد اعظم محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی، شیخ الاسلام علامہ ظفر احمد عثمانی، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ التفسیر مولانا ادریس کاندہلوی رحمہم اللہ تعالیٰ اور ان کے علاوہ جن مسلم شخصیات، حضراتِ اہلِ علم، بزرگانِ دین اور دیگر لاکھوں مسلمانوں نے اس ملک کے حصول کے لیے کسی بھی قسم کی کوششیں کی ہیں ان سب کو دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے اور ان کا یہ عظیم احسان تسلیم کرنا چاہیے۔
4️⃣ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور طبقات کو باہمی اختلافات وتنازعات بھلا کر ملکِ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، ملکی امن وسلامتی اور استحکام کے لیے متحد رہنے کا عزم کرنا چاہیے۔
5️⃣ ملک وملت کے تمام طبقات کو ملکی تعمیر وترقی اور امن واستحکام میں حصہ لینا چاہیے۔
6️⃣ یومِ آزادی مناتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی ممکنہ کوشش کا عزم کرنا چاہیے۔ اور ان تمام عناصر سے بیزاری کا اعلان واظہار کرنا چاہیے جو پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دشمن ہوں اور پاکستان یا اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوں۔ اسی تناظر میں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ قادیانی اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن اور غدار ہیں، اس لیے اس فتنے کے تعاقب اور سرکوبی کے لیے حضرات اہلِ علم اور بزرگانِ دین کی سرپرستی میں ہر ممکن کوشش کا عزم کرنا چاہیے۔
7️⃣ یومِ آزادی مناتے اور اس کی تقریبات منعقد کرتے ہوئے شریعت اور مقصدِ پاکستان کی رعایت کرتے ہوئے میوزک، مرد وزن کے مخلوط اجتماعات اور بے پردگی سمیت ان تمام کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے جو شریعت کے بھی خلاف ہیں اور مقصدِ پاکستان کے بھی۔
8️⃣ یومِ آزادی منانے اور اس کی تقریبات منعقد کرنے میں نئی نسل کو پاکستان کے مقصد اور محسنینِ پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں سے ضرور آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ تاریخِ پاکستان سے آگاہ رہے، اور لبرل، سیکولر اور دین بیزار لوگوں کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو۔
9️⃣ یومِ آزادی مناتے اور اس کی تقریبات منعقد کرتے ہوئے مقصدِ پاکستان کے حصول کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے اور اس میں جو جو غفلتیں ہوئی ہیں ان پر ندامت کرتے ہوئے آئندہ ان سے اجتناب کا عزم کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں ہر مسلمان کو دینی احکامات پر خود بھی عمل پیرا ہونے، اپنے گھر میں بھی اس کا اہتمام کرنے اور دین اسلام کی اشاعت وتحفظ کی حسبِ استطاعت مناسب اور مفید کوشش کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔
🔟 اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست سے نوازا، لیکن ہم نے اس نعمت کی حقیقی قدر دانی نہیں کی، اس لیے یومِ آزادی کے موقع پر اس عزم کی تجدید کرنی چاہیے کہ اس نعمت کی بھرپور قدر دانی کریں گے اور ہر قسم کی ناقدری سے اجتناب کریں گے، ان شاء اللہ۔
📿 *یومِ آزادی منانے کا حکم:*
ملکِ پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا، یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اس لیے اس نعمت کے ملنے کی خوشی میں اور اپنے ملک سے محبت کے اظہار کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے یومِ آزادی منایا جائے اور اس میں تقریبات منعقد کی جائیں تو یہ اپنی ذات میں جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ اسے عبادت، کارِ ثواب یا لازم نہ سمجھا جائے اور اس میں کسی بھی غیر شرعی کام کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ نمبر: 18/ 327۔
🇵🇰 *جھنڈے لگانے کا حکم:*
یومِ آزادی کے موقع پر جھنڈے لگانے سے متعلق جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اظہارِ محبت کی غرض سے اور اپنی آزادی کی مسرت کے اظہار کے طور پر اسراف اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے پاکستان کا جھنڈ ایا جھنڈیاں اپنے گھروں میں لگانا فی نفسہٖ جائز ہے، واللہ اعلم بالصواب۔‘‘ (فتویٰ نمبر: 32/ 1650)
✨❄ *اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح*❄✨
*سلسلہ نمبر 1420:*
🌻 *قرآن کریم کو کھلا چھوڑ کر باتیں کرنے کا حکم*
‼️ *قرآن کریم کو کھلا چھوڑ کر کسی کام میں مشغول ہونے کا حکم:*
قرآن کریم کو کھلا چھوڑ کر باتیں کرنا، موبائل فون دیکھنا یا کسی اور کام میں مشغول ہونا ادب کے خلاف ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ اس لیے اگر قرآن کریم کی تلاوت کے دوران کوئی کام پیش آجائے اور اس کی وجہ سے وقتی طور پر تلاوت موقوف کرنی پڑے تو اس دوران قرآن کریم کو بند کردینا چاہیے، یہی اس کے ادب اور احترام کا تقاضا ہے۔ (فتاویٰ دار العلوم دیوبند: آدابِ قرآن شریف)
☀️ الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
آدَابُ النَّاسِ كُلِّهِمْ مَعَ الْقُرْآنِ: أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى وُجُوبِ تَعْظِيمِ الْقُرْآنِ الْعَزِيزِ عَلَى الإِطْلاقِ وَتَنْزِيهِهِ وَصِيَانَتِهِ. (مادة: قرآن جلد: 33، صفحه: 38)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi
75760