جامعہ عربیہ سیف العلوم یوسفیہ میں دورہ حدیث شریف کے منعقد ہونے کے حوالے سے ناظم تعلیمات حضرت مولنا قاری عبید اللہ بنوی صاحب کا اعلان۔
جامعہ عربیہ سیف العلوم یوسفیہ
دینی و عصری علوم کا عظیم مرکز
04/01/2026
الحمدللہ تیاری مکمل
24/12/2025
انشاءاللہ چند دن کے فاصلے پر ایک بار پھر سالانہ
" تقریری مسابقہ، تکمیلِ قرآنِ کریم، ختمِ مشکوٰۃ اور دستارِ فضیلت "
ایک بابرکت پروگرام منعقد ہونے جارہا ہے احباب اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس روحانی وعلمی محفل سے مستفید ہو سکیں۔
18/10/2025
إنا لله وإنا إليه راجعون
جامعہ ہذا کے سابق استاذِ محترم حضرت مولانا قاری بلال
صاحب رحمہ اللہ وفات پا چکے ہیں۔
موصوف، علم و عمل، تقویٰ و اخلاص، اور طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک میں اپنی مثال آپ تھے۔ قرآنِ کریم سے گہری وابستگی، طلبہ کی تربیت میں انہماک، اور درس و تدریس میں ان کی محنت آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ وہ جہاں بھی رہے، علمِ
دین کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات بنائے رکھا
اللہ تعالیٰ ان کی ان تمام دینی خدمات، خلوصِ نیت، اور تدریسی
کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی قبر کو منور فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
16/10/2025
فراہمیِ کمبل و شوز برائے موسمِ سرما
الحمد للہ تمام طلبہ کرام کیلئے موسمِ سرماکے پیش نظر، جامعہ کی انتظامیہ نے طلبہ کی سہولت اور آرام کو مدِنظر رکھتے ہوئے کمبل اور بوٹ (شوز) فراہم کیاہے۔
یہ سامان صرف ضرورت مند اور جامعہ میں مقیم طلبہ کو فراہم کیا گیا ہے، تاکہ وہ موسم کی سختیوں سے محفوظ رہ سکیں اور تعلیم پر مکمل توجہ دے سکیں۔
چند طلبہ کی تصاویر کیمرے کی نظر
اور جیکٹ تقسیم کرنے کا مہم عنقریب انشاءاللہ
27/09/2025
سن 74 کے قدیم فاضل عرصہ دراز سے تدریس اور امامت وخطابت کے مسند پر اپنی خدمات سر انجام دینے والے بابائے بنوری رح کے خاص تلامذہ میں سے ادارہ ہذا کے مہتمم اور جامع مسجد انصار المسلمین المعروف پھٹان مسجد کے امام و خطیب استاذ العلماء فارس القلم والبیان ،رَبان القلم ،کاتب الدھر ،سفیر المعانی ،بحر البصائر حضرت مولنا مفتی راحت گل شمشیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے قلم سے۔۔۔۔۔۔
تاریخ کے اوراق کئی حادثات سے بھرے ہیں، مگر امتِ مسلمہ کے زوال اور بزدلی سے بڑھ کر کوئی المیہ نہیں۔ وسائل اور قوت کے باوجود ذلت و بے بسی ہماری کمزوریوں کی گواہ ہے۔
کاش مسلمان اپنے پیش رو اسلاف کے نقش قدم پر گامزن ہوتے تو اس قسم کی بزدلی کے واقعات مسلمانوں کی زندگی میں رُونما نہ ہوتے ، نہ اس قسم کی ذلت ورسوائی کے شکار ہوتے
نہ دنیا کی اسلام دشمن طاقتوں کے نرغے میں ہوتے۔
آج کے دور میں مسلمانوں کی جتنی تعداد دنیا کے اُفق پر موجود ہے قطعا گذشتہ تاریخ بالکلیہ اس سے خالی ہے۔
آج مسلمانوں کے پاس چاروں طرف ھفت اقلیم سیاست وسیادت کی سربراہی ،مادیات کی دنیا میں دولت کی ریل پیل دنیا کے نقشوں کے اعتبار سے مسلمان ممالک کے قائم نقشے ایسے ہیں کہ اتفاق و اتحاد کی زنجیر سے اگر آراستہ ہو جائیں تو پوری دنیا کے نظامھائے ذندگی آن واحد میں باآسانی جام کرسکتے ہیں۔غیروں کی کوئی بھی طاقت ومملکت ان کے نشانے سے ھرگز نہیں بچ سکتے۔
سمندری حدود میں مسلمان حکومتوں کے زیرِ تسلّط واقع ہیں۔
اسوقت دنیا میں ترقی وطاقت کے جتنے شاہکار ہیں ان میں استعمال ہونے والے مادیات مسلمان مملکتوں کے اندر ذخائر کی تعداد میں موجود ہیں۔
خلاصۃ الخلاصہ" آج کے دور میں مسلمان مملکتوں میں مادیات کی دنیا میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہے تو پھر غیر مسلم طاقتوں کے آلہ کار مسلمان ممالک کیوں بنے ہوئے ہیں،،،؟
اپنے ملکی قوانین وضوابط انکی خود مختیاری کیوں نہیں ،،،؟دنیائے کفر کے سامنے جس مسلمان مملکت والے کو دیکھنے میں بالکلیہ بے بس،مجبور بے یار و مددگار نظر آتے ہیں۔
وقت کا موجودہ تقاضہ یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک سب ملکر آپس میں دفاعی معاہدے کریں۔
اور ایک اسلامی اقوام متحدہ ترتیب دیکر دنیا میں اپنی شناخت یقینی بنائیں، اور پھربلاک میں جس ملک پر دشمن حملہ آور ہو تو معاہدے کے تحت اس ملک پر حملہ تمام اسلامی اقوامِ متحدہ پر حملہ تصور ہو۔
پھر دنیا دیکھے گی چار دانگ عالم میں مسلمان مملکتوں کا رعب ودبدبہ کس طرح بنتا ہے۔
اغیار پر وحشت و ھیبت کا اثر کس طرح نمایا ہوتا ہے اور پھر خود مختیاری کے فیصلوں کے قوانین وضوابط کا اجراء کس طرح ہوتا ہے ۔
فردِ قائم ربطِ ملّت سے تنہا کچھ نہیں"
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں"
19/09/2025
ایک پراثر تحریر قافلہ صمود فلوٹیلاکے بارے میں تلمیذ رشید سیّد محمد یوسف بنوری رح حضرت مولنا مفتی راحت گل شمشیر صاحب کے قلم سے۔
افسوس صد افسوس فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار اور دنیائے کفر کی مسلسل یلغار ،دور حاضر کے بے ضمیر ،بے حس 57 اسلامی ممالک کے سربراہان کی بے بسی نہ ختم ہونے والی ،لرزہ خیز ،بزدلی نے عصر حاضر کی اسلام دشمنی اور مسلمان دشمن طاقتوں کی بے پناہ حوصلہ افزائ اور پوری دنیا کے سامنے مسلم قوم کی ذلت و رسوائ کی داستانیں بے بسی اور مجبوری کی نعتیں موجودہ دور کی انسانیت کی زبان پر مچل رہی ہے۔
دنیا حجاج بن یوسف کو ہمیشہ ظلم وستم نارواسلوک ،بربریت و جبریت کے نام سے جانتی ہے جسکا ظلم وستم ضرب المثل ہے لیکن ایک مسلمان عورت کی مظلومیت اور صنف نسوائیت کی فریاد سنکر قسم اٹھائ کہ جب تک مسلمان مظلوم صنف نازک عورت کا بدلہ نہیں لونگا زبان سے کوئ بھی چیز حلق سے نہیں اتارونگا اور پھر ایسا ہی ہوا محمد بن قاسم کو 17 سال کی عمر میں بعض تاریخی روایت میں 27 سال کی عمر میں لشکر دے کر روانہ کیا جس نے دشمنان اسلام دشمنان مسلمانان راجہ داہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔
حجاج بن یوسف کو ظالم جابر جان کر بھی دنیا اس فرد نر کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے آج تاریخ کے اوراق میں اس غیرت مند جرتمند ،فرد نر کی جنکھار سنائ دیتی ہے۔
الیس منکم رجل رشید؟
57 اسلامی ممالک کے سربراہان جو دولت کی ریل پیل ،ھتیارواوزار کی بے تحاشہ فراوانی افرادی بے پناہ قوت و طاقت،ذرائع و ابلاغ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ پوری دنیا میں عزت وشہرت کے ولولے سوشل میڈیا پر آسمانی ستاروں کی مانند نمایاں ہیں لیکن دشمنان اسلام اور دشمنان مسلمان کے بے بس مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک ،انسان سوز ودلسوزحرکات معصوم بچوں بچیوں کی زاروقطار المناک چیخیں دیکھ اور سن کر بھی انکے ضمیر نہیں جاگے، انکی ایمانی غیرت نہیں ابھرا، عیاشی اور خرمستی کی نشہ آور زندگی کے خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے لیکن فلسطین کی سرزمین پر بارود کے ڈھیر ،دن رات آبادی پر بمباری کی بارشیں برسانے والوں کو گفٹ و انعامات نوازنے میں ،مسلمان خواتین کو قطار در قطار کھڑی کرکے ان انسان نما درندوں کے سامنے نچوانے میں ،چارسوملین کا جہاز سوغات دینے میں جسکا نظارہ سوشل میڈیا پر چار دانگ دنیا میں دکھایا تھا۔
جسطرح تاتار کے فتنے نے اسوقت پوری انسانیت کو دبوچ لیا تھا آج یہود ونصار کے فتنوں نے مسلمانوں کی غیرت اچک کر مسلم دنیا کو خواب غفلت میں سلادیا۔
آج مسلمانوں نے اپنے پیش آور اسلاف کے نقش قدم کو چھوڑا، جرات وشجاعت کے کارناموں کی تاریخ بھلا دی ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہاتھا
ہے اہل نظر ،ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا۔
قافلہ صمود فلوٹیلامسلمانوں کے جزبات کی ترجمانی ہے،حق وصداقت کے علمبرداروں کی آواز ہے ،فلسطین کے مظلوم نہتے مگر حق اسلام پر مرمٹنے والے فلسطینیوں کی خاموش قربانیوں کی صدا ہے۔
قافلے میں 75 فیصد غیر مسلموں کی تعداد ہیں،جو اسلامی سربراہوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔
تاہم اس قافلے میں ہمارے ملک کے بھی بعض شخصیات سینٹر مشتاق صاحب اور مولانا پیرمظہرسعید صاحب پاکستان کی طرف سے ترجمانی اور عوام کی جانب سے
فرض کفایہ ادار کررہےہیں
ہم اس قافلے کے لیے دست بدعا ہے کہ یہ جن مقاصد اور رموز ،اور جن نیک خواہشات و عزائم کا مسودہ لیکر چلا ہے اللہ پاک انکو کامیابی سے ہمکنار فرمائے قدم بہ قدم راہنمائ نصیب ہو، عافیت و سلامتی سے فلسطین کی سرزمین پر اللہ پہنچادیں اور عافیت و سلامتی سے انکی واپسی ہو۔
فان کنت لاتدری فتلک مصیبة
وان کنت تدری فالمصیبة اعظم
الحمدللہ۔بروز جمعرات 3 ربیع الاول سن1447 28 اگست مطابق2025 کو ایک مختصر تقریب نتیجہ سہ ماہی امتحان کے حوالے سے منعقد کی گئی۔جسمیں مدرسے کی سطح اور کلاس کی سطح پر پوزیشنیں لی گئی۔مولنا محمد لائق عادل صاحب کا ایک مختصر جامع مانع بیان طلبہ کے سامنے ہوا جسکے بعد مولنا عارف اللہ شمشیر صاحب ان خوش نصیب طلبہ کرام کو باری باری بلاتے رہیں اور جامعہ کے استاذہ کرام انہیں انعامات سے نوازتے رہیں۔اللہ تعالیٰ جامعہ کو ترقیوں اور کامیابیوں سے نوازے اور ان طلبہ کو دین کی سربلندی کیلئے قبول فرمائیں۔ ایڈمن #
اور یوں ہمارا سہماہی امتحان کا مرحلہ بحمدہ تعالیٰ اختتام پذیر ہوا تمام ممتحنین اور جامعہ کےاساتذہ کیلئے دعاء گوہیں اللہ کریم ان حضرات کو اپنی شان کیمطابق اجرعظیم عطاء فرمائیں۔ اور طلبہ کرام کو کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
11
Karachi