09/10/2022
پینڈولم کی مدد سے ثقلی اسراع (گریویٹیشنل ایکسلریشن) کی پیمائش
آپ کو پتا ہو گا کہ زمین ہمیں اپنے طرف کھینچتی ہے اور اس کی وجہ سے ثقلی اسراع پیدا ہوتا ہے جس کی قیمت نو اعشاریہ آٹھ میٹر فی مربع سیکنڈ ہے۔ کچھ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اسے تجربے سے کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے اور کچھ لوگ سرے سے ہی کشش ثقل کے انکاری ہیں۔ ان حضرات کے لئیے ایک سادہ تجربے سے ہم ثقلی اسراع کی قیمت نکال سکتے ہیں۔
آپ نے دیوار پر لگی گھڑیوں میں ایک آگے پیچھے حرکت کرنے والا گولا دیکھا ہو گا۔ ایک ٹھوس جسم لیں اور اسے ایک دھاگے سے باندھ کر لٹکا دیں۔ اس کو پینڈولم کہتے ہیں۔ جب پینڈولم ساکن حالت میں ہو گا تو اس کی پوزیشن کو درمیانی پوزیشن (میِن پوزیشن) کہہ لیں۔ اب پینڈولم کو ایک بلندی تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں۔ یہ پینڈولم اپنی وسطی نقطعے کے دائیں بائیں اپنی حرکت دہرانا شروع کر دے گا۔ ایسی حرکت کو سمپل ہارمونک موشن کہتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پینڈولم کا گولا اونچائ پر ہوتا ہے تو زمین کی کشش کی وجہ سے وسطی پوزیشن کی طرف آنا شروع کر دیتا ہے۔ وسطی پوزیشن تک پہنچتے پہنچتے اس کی رفتار بن جاتی ہے اور وہ اس پوزیشن پر رک نہیں سکتا (انرشیا کی وجہ سے) اور اپنی حرکت جاری رکھتا ہے۔ آہستہ آہستہ دوسری طرف اوپر جاتا ہے جس سے اس کی رفتار میں کمی آتی جاتی ہے کیونکہ زمین کی کشش اس کی رفتار کو کم کرتی جاتی ہے۔ آخر کار ایک مقام پر آ کر رک جاتا ہے۔ یہ مقام پھر بلندی کا ہوتا ہے تو وہاں سے واپس اپنی حرکت کو واپسی میں دہرانا شروع کر دیتا ہے۔
یہ پینڈولم ایک چکر کتنی دیر میں مکمل کرتا ہے یہ پینڈولم کی لمبائ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر دھاگے لمبا کر دیں تو یہ ایک تسلسل پورا کرنے میں زیادہ وقت لے گا۔ اس کی ولاسٹی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہم اس کی ولاسٹی کی تبدیلی کو ایکسلریشن کہتے ہیں۔
ایک پینڈولم کو بار بار دہرانے سے پتا چلتا ہے کہ یہ پینڈولم ایک حرکت مکمل کرنے میں جو وقت لیتا ہے وہ وہ اس فارمولے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
T=2π√L/a
یہاں پر L دھاگے کی لمبائ T ٹائم پیریڈ یعنی جتنا وقت پینڈولم لے رہا ہے ایک چکر پورا کرنے میں اور a اس کی ولاسٹی میں مسلسل تبدیلی ہے۔
یہاں پر اگر ہم تجربہ کر کے دیکھیں تو دھاگے کی لمبائ تو ہمیں پتا ہی ہے، اور گھڑی پر وقت نوٹ کر لیں کتنی دیر میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ (چونکہ ایک چکر کا وقت نوٹ کرنا مشکل ہے اس لئیے پندرہ بیس اکٹھے چکروں کا نوٹ کر کے اوسط نکال لیں، وہ ایک چکر کا وقت (ٹائم پریڈ) ہو گا۔
یہاں سے اس پینڈولم کی مسلسل ولاسٹی میں تبدیلی (اسراع، ایکسلریشن) نکالی جا سکتی ہے۔
a= (4π^2)(L)/(T^2)
اپنے گھر پر یہ سادہ سا تجربہ کر کے دیکھیے۔ آپ کو صرف دھاگے کی لمبائ اور اس کے چکر کا ٹائم پیرئڈ درکار ہو گا۔
میرے کیے ہوۓ تجربے میں اگر دھاگے کی لمبائ ایک میٹر ہو تو ٹائم پیرئڈ دو سیکنڈ نکلتا ہے۔ یعنی دو سیکنڈ میں وہ ایک چکر مکمل کرے گا۔
یہاں سے اس کے اسراع کی قیمت کو نکالا جا سکتا ہے۔
a=4*(3.14)^2(1)/2^2)
a=9.859 m/s^2
یہ اسراع چونکہ زمین کی کشش کی وجہ سے ہے اس لئیے اسے ثقلی اسراع یا گریویٹیشنل ایکسلریشن کہتے ہیں۔
(اس میں تھوڑا سا فرق تجربے میں لاپرواہی کی وجہ سے آیا ہے)
اب کچھ لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ اسراع زمین کی کشش کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے؟ کوئ اور وجہ نہیں ہو سکتی؟
اس کے لئیے ہم آزادانہ طور پر زمین کی کشش کے فارمولوں سے ثقلی اسراع نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نیوٹن کے دوسرے قانون کے رو سے (F=mg) اور کشش ثقل کے قانون کے مطابق (F=GMm/r^2) سے ثقلی اسراع کی قیمت نکالی جا سکتی ہے جو ہو بہو پینڈولم کے تجربہ سے نکالی گۓ ایکسلریشن کے برابر ہو گی۔
F=mg
F=GmM/r2
mg=GmM/r2
g=GM/r2
یہاں پر کریویٹیشنل کونسٹنٹ، زمین کے ماس اور زمین کے رداس کی قیمتیں لگانے سے
g= 9.8 m/s^2
چونکہ کشش ثقل کے فارمولے سے نکالا جانے والا ایکسلریشن پینڈولم سے نکالے جانے والے ایکسلریشن کے برابر نکلتا ہے اس لئیے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پینڈولم کا ایکسلریشن گریویٹیشنل ایکسلریشن ہے۔ اور زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے ہے۔
نیچے تصویر میں دونوں کا حل موجود ہے۔ 👇👇👇
(عریشہ بٹ)