02/12/2025
کراچی نیپا چورنگی پر نالے میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش اس غریب بچے نے
نکال کردی
ننھے ابراہیم کی لاش…
نہ اربوں–کھربوں کے بجٹ رکھنے والی حکومت نے ڈھونڈی،
نہ شاہی پروٹوکول میں گھومنے والے وزیروں نے،
نہ جدید نظام رکھنے کے دعویدار محکموں نے۔
بلکہ وہ معصوم سی لاش ایک کچرا چننے والے غریب لڑکے نے تلاش کر کے دی۔
وہ لڑکا… جس کے پاس نہ وردی تھی، نہ تنخواہ، نہ اختیارات…
صرف انسانیت تھی، ضمیر تھا، اور احساس تھا۔
لیکن افسوس…
جب پولیس وہاں پہنچی تو سب سے پہلے اسی لڑکے سے “تحقیقات” کی گئیں،
اس پر ہاتھ اٹھایا گیا،
اور پھر کوشش کی گئی کہ اس کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈال لیا جائے۔
کیا یہ انصاف ہے؟
کیا یہ اس لڑکے کا قصور تھا کہ اس نے انسانیت دکھائی؟
کیا اسے تھپڑ مارنے چاہئیں تھے…؟
کیا یہی ہے ہمارے اداروں کی تربیت؟
ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے:
جو پولیس اہلکار اس غریب لڑکے پر تشدد کے مرتکب ہوئے، انہیں فوراً ملازمت سے برطرف کیا جائے۔
اور
جس لڑکے نے لاش تلاش کی، اسے ہیرو قرار دے کر اس کی تعلیم یا روزگار کا مکمل بندوبست حکومت کرے۔
یہ تو ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،
لیکن چونکہ اس لڑکے نے وہ کر دکھایا جو پورا نظام نہیں کر سکا،
اس کی حوصلہ افزائی نہ کرنا… خود ایک اور ظلم ہوگا۔
.