25/02/2022
کیا علماء یا مولوی معاشرے پر بوجھ ہیں؟
معاشیات کی رو سے دیکھا جائے تو ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں معاشی سرگرمی کے پیچھے ڈیمانڈ کا تصور چلتا ھے اگر کسی چیز یا کام کا ڈیمانڈ ہو تو اس چیز کو مہیا کرنے والے یا اس کام کو سرانجام دینے والوں کو اس کی بدلے پیسے ، روپے یا زر دیا جاتا ھے۔
یہاں دو ڈیمانڈ واضح ہیں
ایک پروڈکٹس یعنی اشیاء جو ہم کھاتے پیتے پہنتے اور گھریلو و صنعتی استعمال میں لاتے ہیں۔
دوسرا سروس یا خدمات جو ہم کسی قسم کی ضرورت کے لئے ذہنی ، جسمانی یا تجرباتی صلاحیت کو استعمال کرکے دوسروں کو فایدہ حاصل کرانے میں مقصود ہوتا ھے۔
پروڈکٹ کی مثال دینے کی تو ضرورت نہیں البتہ سروس فراہم کرنے کی وضاحت کردیتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ پانچ سو روپے کی فیس لے کر آپ کا چیک اپ کرتے ہیں اور ہزار روپے کی دوا لکھ دیتا ھے اب اس میں ڈاکٹر نے ایک سروس فراہم کی اور ادویات یعنی پروڈکٹ آپ باہر سے لیں گے۔
کیا کوئی کہہ سکتا ھے کہ ڈاکٹر معاشرے پر بوجھ ھے یقینا ڈاکٹر معاشرے کی طبی ضرورت ھے۔
اس طرح وکیل کو دیکھ لیں آپ اس سے مشورہ لیتے ہیں اور وہ مشورہ کی فیس چارج کر لیتے ہیں اب کوئی کہہ سکتا ھے کہ وکیل معاشرے پر بوجھ ہے یقینا وکیل معاشرے کے قانونی ضرورت ھے۔
اس طرح پروفیسر اور ٹیچر کو دیکھ لیں وہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو پڑھاتا ھے اور آپ کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرتا ھے سوال یہی ھے کہ ٹیچر خود کما کر کیوں نہیں کھاتا؟
آپ کہیں گے کہ یہ سروس فراہم کررہا ھے۔
اس طرح مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے افراد کا ہونا لازم ھے جو دینی و مذہبی علوم کے ماہر ہوں اور وہ بروقت مذہبی و دینی راہنمائی کرسکے اور اسی کے لئے مسجد اور مدرسہ کے ادارے بنائے گئے ہیں جہاں مسلمانوں کو مذہبی سروس فراہم کی جاتی ھے
اگر چہ ہم دیکھتے ہیں کہ مولویوں کے اکثر سروسز فری ہیں مثلا نماز جنازہ پڑھانا، مسائل کا حل بتلانا، فتویٰ دینا ، وغیرہ
لیکن یہاں ایک سوال ایسے افراد کے ذہنیت پر اٹھتا ھے جو پروڈکٹ ، سروس اور افراد و معاشرے کے ڈیمانڈ سے جاھل رہ کر ایک بڑے طبقے کو "بوجھ" کا طعنہ دے کر گویا ان کے مہارت کا مذاق اڑاتا ھے۔
اندازہ کریں کہ اگر یہی مولوی کمانے کے چکر میں مساجد سے نکلے تو کچھ ہی عرصہ بعد نماز درست پڑھانے کے لئے بھی کوئی نہیں ہوگا، کیونکہ میں کئی ایسے مولویوں کو دیکھتا ہوں کہ جو کام دھندے کی وجہ علمی خدمات دینے سے لاچار ہیں۔
ٹیپو سلطان