کیا علماء یا مولوی معاشرے پر بوجھ ہیں؟
معاشیات کی رو سے دیکھا جائے تو ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں معاشی سرگرمی کے پیچھے ڈیمانڈ کا تصور چلتا ھے اگر کسی چیز یا کام کا ڈیمانڈ ہو تو اس چیز کو مہیا کرنے والے یا اس کام کو سرانجام دینے والوں کو اس کی بدلے پیسے ، روپے یا زر دیا جاتا ھے۔
یہاں دو ڈیمانڈ واضح ہیں
ایک پروڈکٹس یعنی اشیاء جو ہم کھاتے پیتے پہنتے اور گھریلو و صنعتی استعمال میں لاتے ہیں۔
دوسرا سروس یا خدمات جو ہم کسی قسم کی ضرورت کے لئے ذہنی ، جسمانی یا تجرباتی صلاحیت کو استعمال کرکے دوسروں کو فایدہ حاصل کرانے میں مقصود ہوتا ھے۔
پروڈکٹ کی مثال دینے کی تو ضرورت نہیں البتہ سروس فراہم کرنے کی وضاحت کردیتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ پانچ سو روپے کی فیس لے کر آپ کا چیک اپ کرتے ہیں اور ہزار روپے کی دوا لکھ دیتا ھے اب اس میں ڈاکٹر نے ایک سروس فراہم کی اور ادویات یعنی پروڈکٹ آپ باہر سے لیں گے۔
کیا کوئی کہہ سکتا ھے کہ ڈاکٹر معاشرے پر بوجھ ھے یقینا ڈاکٹر معاشرے کی طبی ضرورت ھے۔
اس طرح وکیل کو دیکھ لیں آپ اس سے مشورہ لیتے ہیں اور وہ مشورہ کی فیس چارج کر لیتے ہیں اب کوئی کہہ سکتا ھے کہ وکیل معاشرے پر بوجھ ہے یقینا وکیل معاشرے کے قانونی ضرورت ھے۔
اس طرح پروفیسر اور ٹیچر کو دیکھ لیں وہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو پڑھاتا ھے اور آپ کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرتا ھے سوال یہی ھے کہ ٹیچر خود کما کر کیوں نہیں کھاتا؟
آپ کہیں گے کہ یہ سروس فراہم کررہا ھے۔
اس طرح مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے افراد کا ہونا لازم ھے جو دینی و مذہبی علوم کے ماہر ہوں اور وہ بروقت مذہبی و دینی راہنمائی کرسکے اور اسی کے لئے مسجد اور مدرسہ کے ادارے بنائے گئے ہیں جہاں مسلمانوں کو مذہبی سروس فراہم کی جاتی ھے
اگر چہ ہم دیکھتے ہیں کہ مولویوں کے اکثر سروسز فری ہیں مثلا نماز جنازہ پڑھانا، مسائل کا حل بتلانا، فتویٰ دینا ، وغیرہ
لیکن یہاں ایک سوال ایسے افراد کے ذہنیت پر اٹھتا ھے جو پروڈکٹ ، سروس اور افراد و معاشرے کے ڈیمانڈ سے جاھل رہ کر ایک بڑے طبقے کو "بوجھ" کا طعنہ دے کر گویا ان کے مہارت کا مذاق اڑاتا ھے۔
اندازہ کریں کہ اگر یہی مولوی کمانے کے چکر میں مساجد سے نکلے تو کچھ ہی عرصہ بعد نماز درست پڑھانے کے لئے بھی کوئی نہیں ہوگا، کیونکہ میں کئی ایسے مولویوں کو دیکھتا ہوں کہ جو کام دھندے کی وجہ علمی خدمات دینے سے لاچار ہیں۔
ٹیپو سلطان
انجمن طلاب بلتستانیہ کراچی
انجمن طلاب بلتستانیہ کراچی آفیشل پیج
خبر غم،
حوزہ امام خمینی رح کے استاد جناب قبلہ شیخ علی محمد رحمانی کی والدہ محترمہ وفات پاگئی ہے۔ علماء دین، طلاب دینی اور مومنین کرام سے نماز وحشت قبر کی درخواست کی جاتی ہے۔ مالک دوجہاں حضرت سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کے صدقے مرحومہ کی مغفرت فرمائے جواع سیدہ سلام اللہ علیہا میں جگہ عنایت فرمائے اور لواحقین بالخصوص قبلہ رحمانی صاحب کو صبر عطا فرمائے۔
طلاب بلتستانیہ کراچی پاکستان
جناب برادر مولانا صابر حسین سراج کو انجمن طلاب بلتستانیہ اسلام آباد کے میر کارواں برائے 2022 منتخب ہونے پر مبارکباد عرض کرتے ہیں۔
09/11/2021
9 نومبر یوم پیداٸش شاعرِ مشرق علامہ محمداقبال
فکرِ اقبال
آئیے سوچتے ہیں کہ
اقبالؒ نے ہمیں کیا دیا؟ اور ہم اقبالیات سے کیا لے سکے؟؟
علامہ اقبالؒ کے کلام میں دینِ اسلام جیسی تازگی ہے۔ جیسے اسلام قیامت تک آنے والے سبھی انسانوں کے لیے راہِ ہدایت متعین کرتا ہے بالکل ایسے ہی اقبالؒ کا کلام ہر آنے والی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
کلامِ اقبال کا سدا بہار ہونا قرآن و سنت کا مرہونِ منت ہے۔
اصل میں اقبالؒ ہمیں اسلام کے اصولوں سے ہی روشناس کراتے ہیں۔
انہوں نے ہمیں خودی سکھائی۔ زورِ بازو کی تعلیم دی۔ مومن بننا سکھایا۔ معرفتِ الہی کی حقیقتوں سے واقفیت دلائی۔ اور نہایت حسین پیرائے میں ایک مسلمان کی زندگی کا ہر گر سکھایا۔ شجاعت, صداقت, عدالت سبھی کا درس دیا اور پھر یہ سب کچھ سکھا کے بتا دیا کہ دنیا کی امامت ایسے ملے گی۔
اقبالؒ کا ہمارے لیے سب سے خوبصورت تحفہ تصورِ پاکستان ہے۔ ہمیں ان کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انہی کے پیش کردہ دو قومی نظریے کی بدولت آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبالؒ نے تو ہمیں بہت کچھ دیا مگر کیا ہم اقبالیات سے وہ سب لے سکے کہ جس کی ہمیں ہمیشہ ضرورت ہے؟؟
کیا صرف الگ وطن حاصل کرنا مقصود تھا؟؟
تصورِ پاکستان صرف دو قومی نظریہ ہی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے اقبالؒ کی یہ سوچ تھی کہ میری قوم اپنے الگ, آزاد وطن میں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے گی۔
مگر افسوس ہم آزاد تو ہو گئے مگر اقبالیات بھلا بیٹھے۔
آزاد تو ہوگئے مگر مومن, صدیق, شجیع, منصف, خوددار نہ بن سکے۔
اقبالؒ تو کبھی مایوس نہیں تھے۔ اسی لیے فرما گئے۔
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر
مِرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ ، غریبی میں نام پیدا کر
اقبالؒ
❤
25/10/2021
جامعہ امام حسین علیہ السلام فاونڈیشن کے فاضل طلاب کرام کو لباس روحانی سے ملبس ہونے پر ہدیہ تبریک عرض کرتے ہیں۔
طلاب بلتستانیہ مدارس دینیہ کراچی
23/10/2021
شب ولادت باسعادت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ولادت با سعادت حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی مناسبت سے آپ تمام مؤمنین و مومنات کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں
طلاب بلتستانیہ کراچی
20/10/2021
ہمیں فخر ہے کہ
ہمارے دلسوز ساتھی، محترم برادر اور عزیز دوست جناب مولانا عارف حسین علی میری متعلم جامعہ امام حسین علیہ السلام فاونڈیشن نے بی ایس کے امتحانات میں جامعہ کراچی میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل حاصل کی اور اسی جامعہ میں ایم فل میں داخلہ لینے میں بھی شاندار طور پر کامیاب ہوئے۔
برادر گرامی! آپ، آپ کے والدین، اساتذہ اور سبھی چاہنے والوں کی خدمت میں ہدیہ تبریک عرض کرتے ہیں۔
طلاب بلتستانیہ مدارس دینیہ کراچی پاکستان
20/10/2021
اتحاد بین المسلمین ہمارا مشن ہے اور اتحاد بین المسلمین کے لئے باہمی احساسات و جذبات کا احترام ضروری ہے۔ قائد شہید عارف حسین الحسینی غفرہ اللہ
افغان حکومت شیعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے، نا اہلی کی بھی حد ہوتی ہے۔ کتنے بے گناہوں کو اور مرواوگے؟ جمعہ کی نمازوں پر مسلسل حملے افسوس ناک ہے۔
۔
بلتستان یونیورسٹی پر مسلط وائس چانسلر کی جانب سے طالبات کو ہراساں کرنا اور اس پر متعلقہ اداروں کا خاموش رہنا انتہائی شرمناک اور قوم کے ساتھ متفقہ غداری ۔ ہم اس سلسلے میں بلند ہونے والی عوامی آواز اور مطالبے کی حمایت حمایت کرتے ہیں۔
26/09/2021
إنا لله وإنا إليه راجعون..... 😭
معرفت، فقاہت ، فلسفہ اور عرفان کا مینار
چشم برزخی رکھنے والا امام زمانہ علیہ السلام کا سچا سپاھی، رھبر معظم آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کا بہترین ساتھی و مطیع حضرت آیت اللہ العظمی حسن زادہ آملی اپنے حقیقی محبوب پرودگار عالم کے ساتھ ملاقات کے لیے چل دیئے، اور ھم سے ھمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔ لیکن وہ اپنے شاگردوں، آثار اور خدمات کے ذریعے ھمیشہ کے لئے زندہ رہینگے۔ خداوند متعال انکو اپنی محبوب ھستیوں محمد و آل محمد کے ساتھ محشور فرمائے الہی آمین بحق معصومین علیہم السلام۔التماس برائے سورۃ فاتحہ😭
مولا امام زمانہ آپ کو تسلیت عرض کرتے ہیں 😭😭😭
23/09/2021
مرجع تقلید مدافع حریم اہلبیت عصمت و طھارت فقیہ عظیم الشان حضرت
آیت اللہ العظمی سماحة السید محمد السعید الحکیم طباطبائی قدس سرہ الشریف
کے درجات کی بلندی کے لیے مدرسہ معصومین علیھم السلام کراچی میں مجلس ترحیم منعقد کی گئی جس سے خطاب حجت الاسلام شیخ محمد سلیم نے کی
منجانب اساتذہ و طلاب معصومین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi