16/09/2023
مشہور مصنفہ اور فیشن بلاگر کی کہانی
تحریر: محمد عزیر گل
ڈومینیکن رپبلک سے تعلق رکھنے والی فیشن بلاگر اور مصنفہ کرسڈا روڈریگزاپنے کیرئیر کےعروج میں موذی مرض کینسر کی تشخیص ہوئی ،انہوں نے اپنے علاج کے لیے بڑے ہسپتال کے بہترین ڈاکٹروں سے علاج کراویا ، آخری وقت میں ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا تو انہوں نے دنیا کے لیے کھلا خط لکھا ، جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئےلکھا :
1: میرے پاس اپنے گیراج میں دنیا کی سب سے بہترین برانڈ کی کار یں ہیں ، لیکن اس کے باوجود میں آج وہیل چئیر پر سفر کرتی ہوں۔
2: میرا گھر ہر طرح کے ڈیزائنر کپڑوں ، جوتوں اور قیمتی ترین سامان سے بھرا ہوا ہے ، سب کچھ ہونے کے باجود میرا جسم اسپتال کی فراہم کردہ ایک چھوٹی سی چادر میں لپٹا ہوا ہے ، آج یہی میرا لباس ہے
3: اس وقت میرے بینک میں ایک خطیر رقم موجود ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے ان پیسوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں ، کیونکہ وہ میری صحت یا زندگی کے حوالے سے مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا رہے ۔
4: میں محل نما گھر میں رہتی تھی ، اور آج میں اسپتال میں ڈبل سائز کے ایک بستر پر پڑی ہوئی ہوں۔
5: میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے دوسرے فائیو اسٹار ہوٹل میں جاسکتی ہوں ، مگر اب میں اسپتال میں ایک لیب سے دوسری لیب میں جاتے ہوئے اپنا وقت گزارتی ہوں۔
6: میں نے زندگی میں سینکڑوں لوگوں کو آٹو گراف دیے ہیں ، لیکن اس وقت میرے لیے ڈاکٹر کا نوٹ آٹو گراف ہے ۔
7: صحت کی حالت میں میرے بالوں کو سجانے ، سنوارنے کے لیے میرے پاس سات بیوٹیشنز تھیں ، آج میرے سرپر ایک بھی بال نہیں ہے ۔
8: نجی جیٹ پر میں جہاں جانا چاہوں، سفر کرسکتی ہوں ، مگر میری حالت یہ ہے کہ اسپتال کے برآمدے میں جانے کے لیے بھی مجھے دو افراد کے سہارے کی ضرورت ہے ۔
9: اگرچہ اس وقت میرے پاس بہت ساری کھانوں کی مقدار موجود ہے ، لیکن میری خوراک دن میں دو گولیاں ہیں اور رات کو نمکین پانی کے چند قطرے ہیں ۔
یہ گھر، کار ، جیٹ ، فرنیچر ، بہت سارے بینک اکاؤنٹس ، اتنی ساکھ اور شہرت ، ان میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہیں ہے ، اس میں سے کوئی بھی چیز مجھے کوئی راحت نہیں دے سکتی۔
بہت سارے لوگوں کو راحت پہنچانا اور ان کے چہروں پہ مسکراہٹ بکھیرنا ہی اصل زندگی ہے، اور موت کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے۔
کرسڈا روڈریگز 9 ستمبر 2018 کو امریکا میں 40 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔
کرسڈا روڈ ریگز نے اپنے خط ان لوگوں کے لیے پیغام چھوڑ ہے جو دنیا کی لزتوں کو حاصل کرنے کے لیے پیسے کے پیچھے دوڑتے ہیں ، اور اس کے حصول کے لیے حلال و حرام م صحیح و غلط کا فرق نہیں کرتے ، ان کی نظر میں دولت کی مدد سے سب کچھ خریدا جاسکتا ہے ، ان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مال کی کثرت سے خوشی کو خریدا جاسکتا ہے ، حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔
امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نوبیل انعام یافتہ ماہر نفسیات ڈینیئل اور ان کی تحقیقاتی ٹیم نے ایک دلچسپ تحقیق میں بتایا کہ جب لوگوں کے پاس ایک لاکھ ڈالر سے آمدنی زیادہ ہوجاتی ہے تو پھر ان کے لیے خوش رہنا مشکل ہوجاتا ہے ، اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب کسی غریب کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کو خوشی کا احساس ہوتا ہے مگر امیر طبقے کے ساتھ معاملہ برعکس ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دنیاوی لذتوں ، غیر ضروری آسانیوں اور دولت کی ہوس نے ہمیں اندھا کر رکھا ہے ، ہم ہر قسم کی سہولت ہونے کے باوجود بھی سکون سے محروم ہوتے جارہے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مال و دولت میں اضافے کے حرص میں آخرت کو فراموش کرچکے ہیں ، فانی دنیا کی خواہشات کے لیے نا ختم ہونے والی اخروی زندگی کو خراب کر رہے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ بحیثیت مسلمان دنیا کی لذتوں اور سکون کو مال و دولت ، عہدے میں تلاش نہ کریں ، بلکہ دائمی زندگی کے لیے اس میں محنت کریں ، اور آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزاریں، جس میں دنیاوں سکون بھی ہے اور اُخروی راحت بھی ۔