Online Quran tuter

Online Quran tuter

Share

male

Photos from Online Quran tuter's post 15/04/2026
13/04/2026

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی
حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سبکو محفوظ رکھے..!! آمین"
حوالہ جات
البدایہ والنہایہ از امام ابن کثیر
تاریخ طبری از امام طبری
الکامل فی التاریخ از ابن اثیر
حافظ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد ہفتم،226

صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شیئر کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ..

جزاک اللہ خیراً کثیرا

سبق آموز واقعات اور آنلائن پڑھنے کے لئے بندہ کو فالو کر لیں۔ شکریہ

13/02/2026

بہت خوب مستحسن
جمعہ حمائتی پھاٹک پر نو تعمیر شدہ پل کو باضابطہ طور پر "خالد بن ولید فلائی اوور" کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے

عظیم سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ
جو ہم سب کے لیے باعث فخر ہے

31/01/2026

*جب بات تہجد تک جا پہنچے تو پھر ناممکن کچھ نہیں رہتا، وہ بھی مل جاتا ہے جس کی اُمید بھی نہیں

29/01/2026

محبت کا منہ بولتا ثبوت۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت البقیع میں ایک ہی احاطے میں موجود دو قبریں خاندان علی ؓ و خاندان معاویہ ؓ کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ روائت کے مطابق دائیں طرف والی قبر سیدنا امیر معاویہ ؓ کے والد سیدنا ابوسفیان ؓ کی ہے اور بائیں طرف والی قبر سیدنا علی ؓ کے بھائی سیدنا عقیل ؓ بن ابی طالب کی ہے۔
اللہ ہمیں بھی ان مقدس ہستیوں کا ساتھ نصیب فرمائے

28/01/2026

ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ۔
حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے آنحضورؐ کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی توفیق پائی۔ دورانِ جنگ آپؓ کی تمام تر توجہ آنحضورؐ کی طرف مبذول رہتی تھی۔ جب بھی آپؓ کو محسوس ہوتا کہ اس وقت آنحضورﷺ کو میری ضرورت ہے تو آپؓ ایک وارفتگی کے عالم میں آنحضورﷺ کی طرف لپکتے۔ آپؓ ان چند صحابہ میں سے ہیں جو غزوہ احد میں آنحضورؐ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں:جنگ احد میں جب آنحضورﷺ کو تیر لگا اور آپؓ کے گال مبارک میں خَود کی دو کڑیاں پیوست ہو گئیں تو میں آپؐ کی طرف بھاگا، ایسے میں مَیں نے ایک انسان کو دیکھا کہ وہ مشرق کی جانب سے اُڑتا چلا آتا ہے، اس پر مَیں نے دعا کی کہ یا اللہ! اسے اطاعت بنا دے۔ یعنی اللہ خیر کرے کوئی دشمن نہ ہو بلکہ آپؐ کا کوئی مطیع وفرمانبردار ہو۔ جب ہم دونوں وہاں پہنچے تو ابوعبیدہ مجھ پر سبقت لے جاچکے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابوبکر مَیں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ کام مجھے کرنے دیں اور یہ کڑیاں مَیں آنحضورؐ کے رُخ انور سے نکالوں۔ اس پر میں نے انہیں یہ کام کرنے دیا۔ اس پر انہوں نے اپنے دو دانتوں سے اس خود کی ایک کڑی کو پکڑ کر کھینچا، نتیجۃً کڑیاں دانتوں سمیت زمین پر گرگئیں، پھر آپ نے دوسری کڑی کو اپنے دوسرے دو دانتوں سے کھینچا سو وہ بھی کڑیوں کے ساتھ ہی گرگئے۔ اس موقع پر آپؓ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے رخ انور کو خون آلود کر دے، حالانکہ وہ انہیں ان کے ربّ کی طرف بلاتا ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو تین سو سوار دے کر سمندر کی طرف بھیجا تاکہ وہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے لیے گھات لگائیں۔ ابھی یہ لوگ راستے ہی میں تھے کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا بچا کھچا زادِ راہ میرے پاس جمع کروادیں۔ اس طرح کھجوروں کا ایک بورا جمع ہوگیا۔ وہ اس سے مجاہدین کو تھوڑا تھوڑا تقسیم کرنے لگے حتی کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آگئی۔

بالآخر وہ بورا بھی ختم ہوگیا تو انھیں مجبوراً کیکر وغیرہ کی پھلیاں اور پتے کھانے پڑے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کو "جیش الخبط" (پتوں والا لشکر) کہا گیا، پھر لوگوں نے اونٹ ذبح کرنے شروع کر دیے۔ اونٹوں کے ختم ہونے کا خدشہ پیداہوا تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اونٹ ذبح کرنے سے روک دیا۔ پندرہ دن میں یہ لوگ ساحل سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں ان کے لیے ایک ٹیلے جتنی مچھلی پھینک دی۔ اس قسم کی مچھلی کو عنبر کہا جاتا تھا ۔ انھوں نے پورے پندرہ دن اسے خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کا تیل بھی استعمال کیا۔ ان کے جسم پہلے سے زیادہ طاقتور اور خوب موٹے تازے ہوگئے ۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی کھڑی کی تو اونٹ سوار شخص اس کے نیچے سے صاف گزر گیا۔ مسلمانوں کو وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کرنی پڑی۔ وہ واپس مدینہ منورہ آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے مچھلی والا واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

(كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِّنْهُ)

" یہ رزق تھا، اللہ تعالیٰ نے تمھارے کھانے کے لیے بھیجا تھا۔ خود بھی کھاؤ اور اگر اس میں سے کچھ باقی ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔"

ایک صحابی نے آپ ﷺ کی خدمت میں اس مچھلی کا گوشت پیش کیا تو آپ نے تناول فرمایا۔ ((صحيح البخاري، المغازي، باب غزوة سيف البحر۔۔۔، حديث: 4360۔4362، وصحيح مسلم، الصيد والذبائح، باب إباحة ميتات البحر، حديث: 1935، والفتح الرباني: 21/142،141۔ ابن اسحاق نے اسے بسند حسن روایت کیا ہے، دیکھیے: السيرة النبوية لابن هشام: 4/372،371۔))

عمواس کے علاقے میں طاعون پھوٹی تو اس وقت اسلامی فوج وہاں تھی جس کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ فرما رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کو ان کے بارہ میں خدشہ پیدا ہوا۔ انہوں نے آپ کو لکھا کہ اگر میرا یہ خط شام کو ملے تو صبح سے قبل میرے پاس چلے آؤ اور اگر صبح کو ملے تو شام سے قبل چلے آؤ، مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ معاملہ فہم تھے فوراً اس کی تہ تک پہنچ گئے کہ آپ مجھے طاعون سے بچانا چاہتے ہیں، اس لیے بڑے باادب انداز میں معذرت لکھ بھیجی کہ مجھے حضور کا خط ملا ہے اور اس سے مَیں آپ کا قصد جان گیا ہوں، لیکن مَیں چونکہ اس وقت مسلمانوں کی فوج میں ہوں، میں ان کو اس مصیبت کے وقت چھوڑ نہیں سکتا، سو ازراہ کرم مجھے اس حاضری سے اجازت مرحمت فرمادیجیے۔ جب حضرت عمرؓکو آپ کا خط ملا تو وہ رو دیے۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات کی خبر آئی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر نہیں بھی آئی تو آ جائے گی کہ اس بیماری سے نجات کی کوئی راہ نہیں۔ مسلمان فوج کے بہت زیادہ عظیم لوگ اس میں شہید ہو گئے۔
حضرت ابوعبیدہؓ اردن کے ایک چھوٹے سے گاؤں غور میں دفن ہوئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر58 برس تھی۔ آپؓ کی نماز جنازہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پڑھائی۔
واللہ اعلم بالصواب ۔اگر لکھنے میں کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے ۔آمین،
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

22/12/2025

وینٹی لیٹر زندگی بچانے والی مشین ہے۔ جب تک مریض کے بچنے کی امید ہو، اسے وینٹی لیٹر پر رکھنا درست ہے۔ اگر ڈاکٹر بتائیں کہ زندگی کی کوئی امید نہیں رہی، تو شرعی مشورے سے وینٹی لیٹر ہٹانا جائز ہو سکتا ہے، مگر یہ فیصلہ بہت احتیاط سے کرنا چاہیے۔

🇵🇰واللہ تعالی اعلم🇵🇰

18/12/2025

جرنیل اہل سنت علامہ فاروقی صاحب کی جامعہ مہدالفقیر جھںنگ آمد
حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات پر اظہار تعزیت اور دعائے مغفرت کی:
جامعہ معہد الفقیر کے بانی و مہتمم اور عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی تمام زندگی دینی مدارس و مساجد کے قیام، تعمیر و ترقی، اصلاحِ معاشرہ، تذکیہ نفس اور وعظ و نصیحت میں گذری، انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات سے ملک ایک جید عالم دین اور نامور علمی و اصلاحی شخصیت سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرحوم کے لواحقین و ورثاء کے غم میں برابر شریک ہیں

09/12/2025

مسجد نبوی

09/12/2025

کبھی کبھار میتوں کو سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے.
ذرا محسوس کرنے کی کوشش کیجیے کہ میت کے لیے سرد خانے کے منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں کے لیے لیٹنا کیسا عذاب ہوتا ہو گا؟
یہ عذاب ان کے پیارے ہی انہیں دیتے ہیں. ایک دوسرا اذیت ناک اور شرمناک معاملہ میت کو یورپی ممالک سے پاکستان لانا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی میتوں کی سب سے پہلے embalment کی جاتی ہے. جسم سے خون اور باقی مادے نکالنے، اور ان کے جگہ انفیکشن وغیرہ کو روکنے والے کیمیکل داخل کرنے کو embalment کہتے ہیں.
اس عمل کے لیے سب سے پہلے میت کو برہنہ کیا جاتا ہے. پھر گلے کی سائیڈ پر کٹ لگا کر وہاں سے گزرتی ایک بڑی شریان کو ہلکا سا باہر کھینچا جاتا ہے (یہ شریان نبض کی طرح محسوس کی جا سکتی ہے).
اس شریان کو ہلکا سا کاٹ کر اس میں کینولا داخل کیا جاتا ہے اور شریان کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ عمل کے دوران کینولا باہر نہ نکلے.
یہ کینولا دوسری جانب سے ایک مشین سے لگا ہوتا ہے. وہ مشین ایک مائع جسم میں دھکیلتی ہے جو سارے جسم کی رگوں میں پھیل جاتا ہے. خون کو جسم سے باہر نکالنے کے لیے ٹانگ کے جوڑ کے قریب ایک اور بڑی شریان کو کٹ لگایا جاتا ہے.
اس کے بعد پیٹ اور سینے میں کٹ لگا کر نرم اعضاء پنکچر کیے جاتے ہیں اور کیمیکل بھر کر پیٹ اور سینے کو سِیل کر دیا جاتا ہے. منہ بند کرنے کے لیے کبھی کوئی گوند نما چیز لگائی جاتی ہے اور کبھی سلائی کر دی جاتی ہے.
اس عمل کو میں نے اس لیے وضاحت سے لکھا ہے تاکہ سب پڑھنے والے اپنی جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر میت کی حد سے بڑھی ہوئی بےحرمتی اور تکلیف پر تھوڑی دیر غور کر لیں.
کیا آخری دیدار اور وطن کی مٹی کی یہ قیمت درست ہے؟ کیا یہ بہت مہنگا سودا نہیں؟ آخر ہم اپنے پیاروں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ فلاں آخری بار چہرہ دیکھ لے؟
یا اس لیے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ بہت بڑا جنازہ تھا؟
یا اس لیے کہ ہماری بےعزتی نہ ہو جائے کہ جنازے میں بہت تھوڑے لوگ تھے؟


بات بہت سادہ اور سیدھی ہے.
جو شخص دنیا سے چلا جائے اس کے جنازے میں صرف اتنی ہی دیر ہونی چاہیے جتنی قبر کھودنے اور کفن دفن کا انتظام کرنے میں ہوتی ہے. اللہ کا یہی حکم ہے.
اگر کوئی پیارا دور ہے تو وہ صبر کرے اور میت کے لیے دعا اور صدقہ کرے. صرف چہرہ دیکھنے کے لیے میت کو تکلیف نہ دے. جس کی موت جہاں لکھی ہے وہیں آنی ہے.
اگر پردیس میں موت آ جائے تو وہیں قبر بنانا بہتر ہے.
اگر کسی کو بڑا مجمع اکٹھا کرنے کا خبط ہے تو یہ ذہن میں رہے کہ بڑے جنازے صرف دنیا ہی میں گردن اکڑانے کا باعث ہو سکتے ہیں، اللہ کے ہاں ترازو مختلف ہیں.

اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے اور سب کو موت
کے بعد کی بےحرمتی اور اذیت سے محفوظ رکھے..
آمین یا رب العالمین

07/12/2025

زبردست فیصلہ

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi