Al- Sheikh Fazeelat Grammar School and Coaching Centre

Al- Sheikh Fazeelat Grammar School and Coaching Centre

Share

"OUR AIM"
*To Make a Good Muslim
*To Make a Good Citizen
*To Make a Good Human
*To Make a Successf

Mobile uploads 01/10/2023

💎نکاح سے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں💎

👈1 نکاح سے قبل منگنی کی رسم اداکرنا۔
👈2 لڑکے والوں کا لڑکی والوں کے لئے’’بد‘‘لے کرجانا۔
👈3 منگنی کے وقت لڑکے کو سونے کی انگوٹھی پہنانا ۔
👈4 مہندی اور ہلدی کی رسم اداکرنا۔
👈وضاحت : دولہن کو مہندی لگاناجائز ہے لیکن اس کے لئے اجتماع کرنا اور گانے بجانے کا اجتماع کرنا جائزنہیں۔
👈5 لڑکے اور لڑکی کو سلامیاں دینا۔
👈6 نکاح سے قبل منگیتر کو محرم سمجھنا۔
👈7 32 روپے حق مہر مقرر کرنانیزمردکی حیثیت سے بڑھ کر حق مہر مقرر کرنا۔
👈8 بیٹی کو گھر بنانے کے لئے(جہیز)سامان مہیا کرنا۔
👈9 جہیز کا مطالبہ کرنا۔
👈10 دولہا کو سہراباندھنا۔
👈11 بارات میں کثیر تعداد لے جانا۔
👈12 بارات کے ساتھ بینڈ باجے لے جانا۔
👈13 خطبہ نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کو کلمہ شہادت پڑھوانا۔
👈14 نکاح کے بعد حاضرین مجلس میں چھوہارے لٹانا۔
👈15 دولہا کے جوتے چرانااور پیسے لے کر واپس آنا۔
👈16 لڑکی کو قرآن کے سائے میں گھرسے رخصت کرنا۔
👈17 منہ دکھائی اور گود بھرائی کی رسم اداکرنا۔

👈18 مائیاں پڑنے کی رسم اداکرنا۔
👈19 محرم اور عید سفر وغیرہ کے مہینوں میں شادی نہ کرنا۔شادی کسی بھی دن کی جا سکتی ہے
👈20 اپنی حیثیت سے بڑھ کر ولیمہ کی دعوت کرنا۔
👈21 یونین کونسل میں رجسٹریشن کے بغیر نکاح(یاطلاق)کو غیر موثر سمجھنا۔
👈22 ناچ گانے کا اہتمام کرنا۔
👈23 مردوں،عورتوں کی الگ الگ یا مخلوط محفلوں کی تصاویربنانااور ویڈیوفلمیں تیارکرنا۔
👈24 قرآن مجید سے نکاح کرنا۔
👈25 نکاح کے وقت مسجد کے لئے کچھ روپے وصول کرنا۔
👈26 لڑکے والوں سے پیسے لے کر ملازموں کو’’لاگ‘‘دینا۔
👈27 طلاق کی نیت سے نکاح کرنا۔
👈28 دوران حمل نکاح کرنا۔
👈29 نکاح ثانی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنا
ہاں اگر پہلی بیوی کو اطلاع کرنا چاہے تو کر دے اخلاقن ۔ دوسرے نکاح سے پہلے اگر نہیں مانے تو بھی نکاح کر لے یہ رب کا حکم ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں دین اللہ کا فہم اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین یا رب العالمین

🌺ہماری دعوت صرف قرآن وحدیث کی طرف رہنمائی ھے فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر ہمارے پیج کو جوائن کریں اور ہماری دعوت پوری دنیا میں پہنچانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا

Photos from Vocabularypoint's post 29/09/2023
21/08/2020

آج نیا اسلامی سال شروع ہو گیا
آج 1 محرم الحرام ١٤٤٢ ہجری ہے
دعا ہے اللہ پاک ہمارے لیے یہ اسلامی سال برکت والا بنائے اور ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے آمین

اللهم أَدْخِلْهُ عَلينا بِالأمْنِ وَالإيمان وَالسَّلامَةِ وَالإسْلام وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمن وِجوارٍ مِّنَ الشَّيْطان

"اےاللّٰہ اس سال کو ہمارے اوپر امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان سے بچاؤ اور رحمٰن کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما" ۔

#محرم الحرام ١٤٤٢

01/08/2020

🥀 💞 ❤️ ÊïD ÜL ÃDHÅ Mübãrāk ❤️ 💞 🥀

01/07/2020

پہلی سے پانچویں تک سلیبس اردو میڈیم،میٹرک کا نصاب بھی تبدیل

موجودہ تعلیمی سال سے ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانےوالی متعدد درسی کتب کا نصاب تبدیل کردیا، پہلی سے پانچویں تک سلیبس اردو میڈیم میں پڑھایا جائے گا، سکول ایجوکیشن کا آئندہ سال سے یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا بھی حتمی فیصلہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وجودہ تعلیمی سال سے ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانےوالی متعدد درسی کتب کا نصاب تبدیل کردیا،پہلی سے دہم جماعت تک کی متعدد کتابوں کے نصاب میں تبدیلی کی گئی،پہلی سے پانچویں تک نصاب اُردو میڈیم میں پڑھایا جائے گا۔سکول ایجوکیشن نے سال 2021 سے یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔پریپ کلاس کی انگریزی ، حساب اور اُردو کی کتاب کا نصاب تبدیل کردیا گیا ہے۔پہلی اور دوسری جماعت کی اردو، انگریزی، حساب اور جنرل نالج کا نصاب بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

تیسری جماعت کی حساب اور جنرل نالج کے نصاب تبدیل کردیا گیا۔چوتھی جماعت کا حساب اور سوشل سٹیڈیز بھی تبدیل کردی گئی ہیں ۔پانچویں جماعت کی انگریزی ،حساب اور سوشل سٹیڈیز میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اسی طرح چھٹی جماعت کا جغرافیہ اورآٹھویں جماعت کا حساب، جغرافیہ کے نصاب میں تبدیلی کی گئی۔نہم جماعت کے کمپیوٹر اوردہم جماعت کا مطالعہ پاکستان تبدیل کیا گیا ہے ۔

01/07/2020

کرونا میں پاکستانی اسکولوں کا مستقبل

دو روز بعد وفاقی اور صوبائ حکو متوں کے وزراء پاکستان کے تعلیمی منصوبہ پر سر جوڑ کر بیٹھنے جارہے ہیں۔۔۔ اعلی تعلیم ے بارے میں ان کے فیصلے کیا ہوں گے وہ تو آعلی تعلیم سے وبستگان جانیں میں تو اسکولوں کے مسائل اور ان سے وابستہ لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے فکر مند ہوں ۔۔ کیا وہ ان کے بارے میں بھی سوچیں گے ابھی تک تو سواے اسکول بند کرنے اور بند رکھنے کے کوئ منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔

کیا اسکول چار مہینوں کے تعطل کے بعد دوبارہ کھولے جا سکیں گے؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں حکومت کرونا کی روک تھام کے لیے بناے گئے ضابطوں اور طریقہ کار پر عمل نہیں کراسکی ۔ بازاروں سے لے کر ٹراینسپورٹ تک ہر جگہ ان ضابطوں کی دھجیاں اڑتی نظر آرہی ہیں۔ بیشتر آبادی نہ تو ماسک پہن رہی ہے اور نہ ہی سماجی فاصلے کی احتیاط پر عمل درامد ۔۔
ایسی صورت حال مین جب کہ کرونا کے کیسز دو لاکھ سے اوپر ہو چکے ہیں اور اموات کی تعداد بھی 4000 سے زاید ہو چکی ہے اور سرکاری دعووں کے مطابق جولائ کے مہینے میں یہ تعداد اور زیادہ ہو جاۓ گی۔ تو کیا اسکول کھولنا دانشمندی ہو گی ؟کیا والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا پسند کریں گے؟ کیا اسکول ایس او پیز پر عمل کراسکیں گے؟ اسکول اپنے ٹیچرز کو ماسک اور سینی تائزیشن کی سہولت تو فراہم نہیں کر پارہے ہیں تو وہ بچوں کی حفاظت کیسے کریں گے ؟ کیا اساتذہ جن کو سب سے زیادہ خطرہ ہوگا کیا ان کے لیے حفاظتی لباس فراہم کر سکیں گے اور خدا نخواستہ کوئ استاد اس وبا کا شکار ہو گیا تو اس کے علاج کی زمہ داری کیا اسکول لے گا؟ زیادہ تر نجی اسکول رہاییش گاہوں مین قایم ہیں جہاں کمروں جگہ اتنی محدود ہوتی ہے کی استانی تختہ تحریر سے لگی ہوتی ہے اور بچون کی نقل و حرکت بھی بہت محدود ہوتی ہے اس میں 6 فٹ کے فاصلے پر بچوں کو کیسے بٹھایا جاسکتا ہے ۔؟ پھر ہمارے زیادہ تر بچے بغیر سایرن والی ایمبولنس جیسی ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں اس میں ایس اوپیز پر عمل و درآمد کیسے ممکن ہوگا؟

دوسرا نقطہ نظر اسکول کھولنے کا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کا نقصان ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ یو نیسکو کی اطلا ع کے مطابق ابھی بھی 143 ممالک میں ہایر سیکنڈری تک تمام تعلیی ادارے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کچھ ملکوں کی مقامی ریاستوں میں بندش ہے ۔ گنتی کے چند ملکوں میں اسکول اس سطح تک کھلے ہوۓ ہیں جن میں فرانس ، ناروے، آیس لینڈ ِ بیلارس اور ترکمانیستان شامل ہیں ۔ امریکہ ، چین آسٹریلیا اور روس میں اسکول جزوی طور کھلے ہوۓ ہیں۔

سوچنا یہ ہے کہ کرونا کا جن پاکستان میں ابھی تک آزاد ہے۔ اور اس کے قابو میں آنے کے کوئ آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔۔ تو کیا تعلیم بچوں کی صحت اور زندگی سے زیادہ اہم ہے ؟ یادش بہ خیر1977 میں اسکول تقریبا 7 مہینے بند ہوے تھے۔

اگر اسکول بند رکھے جایئں تو اسکولوں کو سرکاری طور پر درجہ بندی کر کے ان کو ریلیف دیا جاۓ ۔ بجلی اور دیگر مدات میں رعایت دی جاے تاکہ وہ والدین کو بھی فیسوں میں بھی اتنی ہی رعایت دے سکیں ۔ ابھی تو اسکولوں کو اساتزہ کی تنخواہ دینی ہی مشکل ہو گئی ہیں کیونکہ والدین کی طرف سے فیسوں کی ادئیگی خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے اسکولوں میں تو فیس کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے اور ان اسکولوں کو زندہ رہنے کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ اور ان سے جڑے ہوۓ ہزاروں اساتزہ کو اپنے گھر کے چولہے جلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ٹیوشن کی آمدنی بھی بند ہو گئی ہے۔ حکومت نے ابھی تک ان کے مسائل کے بارے میں نہیں سوچا ہے؟

تھک ہار کر نجی اسکولوں نے آن لاین اسکول ایجوکیشن کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جو بزات خود ابھی تک چوں چوں کا مربہ ہے ۔چند ہی اسکولوں نے لرننگ منیجمنٹ سسٹم بنایا ہوا ہے ۔ باقی گوگل کلاس روم ،مائکروسوفٹ ٹیمز اور زوم کی مہربانی سے تعلیمی سلسلے کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بزات خود ابھی اپنی ابتدائ شکل میں ہے ۔ اساتذہ کی تربیت اور تیکنالوجی سے واقفیت اور اس کا استعمال ان کو سکھانا ایک محنت ومشقت اور وقت طلب کام ہے ۔۔۔ اسکولوں میں بجلی کی سپلائ، انٹر نیٹ کی بلا تعطل فراہمی اور آئ ٹی کا پیشورانہ مہارت والا عملہ کی ضرورت اور ان کی لیے لازمی ضروریات کا مہیا کرنا اسکولوں کے لیےمشکل ہو گیا ہے۔۔ اس پورے معاملے میں حکومت نے کسی بھی قسم کی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے ۔ اور ہی کسی اعانت کا عندیہ دیا ہے۔۔ اسکول اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں-

اسکولوں سے متعلق ایک بڑا اسٹیک ہولڈر والدین ہیں ۔۔ جو خود اس وقت معاشی پریشانوں میں مبتلا ہیں ۔ ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں ۔۔ گھر میں کھانے کے لالے پر رہے ہیں اس وقت چند اسکولوں نے یہ ظلم کیا ہے کہ فیس میں اضافہ کردیا ۔ سا لانہ چارجز۔ اضآفی کاپیوں اور اسٹشنری کے بوجھ تلے ان کو دبا دیا ہے ۔ مرے پہ شا ہ مدار کے مصداق چند اسکولون نے آئ ٹی چارجز بھی فیس میں شامل کر دیے ہیں ٹراینسپورٹ کی فیس بھی ادا کرنا ضروری ہے۔۔ پھر آن لاین ایجوکیسشن کے ضروری آلات ، انتر نیٹ کا کرایہ بوجھ بن گیا ہے ۔ بجلی کی آنکھ مچولی اور انٹر نیٹ کی رفتار علیحدہ سر درد ہیں علاوہ ازیں بچوں سے زیادہ والدین اس نظام سے بہت زیادہ مشکل میں ہیں کیونکہ وہ روایتی تعلیمی نظام کے پروردہ ہیں تو اس جدید نظام کوقبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں وہ اپنے بچوں پر بھروسہ نہیں کر پارہے کہ بچے ٹیکنالوجی سے ان کے مقابلے میں جلدی مانوس ہو جایئں گے اور اس پر اپنے تعلیمی سلسلے کی بحالی کا لطف لیں گے۔۔۔۔۔۔۔

اس غیر روایتی نظام کو اساتذہ کی طرف سے بھی بہت زیادہ شرف قبولیت نہیں بخشا گیا ہے۔اساتزہ روایتی طرز تعلیم یعنی بات چیت اور لکھائ کے جب کہ بچے رٹا لگانے کے عادی ہیں ایسے میں اساتزہ اور بچوں کو خود مختار اور آموزش کا خود ذمہ دار بنانا بزات خود اپنی جگہ بہت بڑا چیلنج ہے ۔ کرونا نے اساتذہ کی قابلیت ، اہلیت اور اعتماد کے ساتھ ابلاغ کی مہارت کا پول بھی کھول دیا ہے ۔ جو غلطیاں کمرہ جماعت کے بند کمرے میں ہوتی تھیں وہ اب چوراہے پر آگئی

Photos from Al- Sheikh Fazeelat Grammar School and Coaching Centre's post 21/06/2020

شفقت محمود وفاقی وزیرِ تعلیم کا بڑا اعلان۔۔۔۔

مڈ آف جولائی سے مڈآف اگست کے درمیان کسی بھی دن تمام نجی و سرکاری اسکول و کالجز (SOPs) کے تحت کھول دئیے جائیں گے۔

نیز میڑک و انٹربورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نہم دہم ، گیارہوں ، بارہویں اسٹوڈینٹس کو 3 یا 4 مارکس دے کر کسی کو پاس نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کوئی قانون بورڈ میں نہیں ، اگر ایسا ہی کرنا ہےتو اسمبلی سے بل پاس کروائیں۔اور اسمبلی سے ایسا بل پاس نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ہرسال امتحانات کے دنوں میں کسی بڑے آدمی کو مار دیں گے یا کوئی بم دھماکہ کرواکر امتحانات ملتوی کرکے تمام کو اضافی مارکس دے کر پاس کردینے کی روایت بن جائے گی۔

میڈیکل اورانجینئرنگ یونیورسیٹیز نے اعلان کردیا کہ وہ اس طرح پاس ہونے والوں داخلہ نہیں دیں گے چاہیں ہمیں ایک سال ہی کیوں نہ انتظار کرنا پڑے۔

مڈآ ف جولائی سے تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد سے دو ماہ کے بعد اکتوبر میں امتحانا ت ہوں گے چاہئے وہ (M.C.Qs) ٹائپ ہی کیوں نہ ہوں۔اب کوچنگ سینٹرزکریش گروپس بناکر 2 ماہ کی فیس ایک ساتھ لے کر کوچنگ کریں گے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Karachi
GULISTANEJUHOR