06/02/2025
تعلیم کے ساتھ تربیت — کامیاب نسلوں کی ضمانت!
ایک بار ایک بچے نے اپنے والد سے بڑے اعتماد کے ساتھ پوچھا:
"بابا! کیا میں صرف اچھی پڑھائی کرکے کامیاب انسان بن جاؤں گا؟"
والد نے مسکراتے ہوئے کہا:
"بیٹا! علم تو روشنی ہے لیکن اگر اچھے اخلاق، مضبوط کردار اور اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کا ہنر نہ ہو تو یہ روشنی اندھیرے میں بدل سکتی ہے۔"
یہی ہے تعلیم اور تربیت کا فرق! تعلیم صرف کتابی علم دیتی ہے لیکن تربیت وہ انمول ہنر ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔
تعلیم اور تربیت کیوں ضروری ہیں؟
آج کے والدین اور اساتذہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچے جدید دور کے فتنے اور چیلنجز کا کس طرح مقابلہ کریں۔
صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا کافی نہیں، بچوں کو اچھے اخلاق، شکرگزاری، خود اعتمادی، صبر، اور دین کے ساتھ محبت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
تربیت کے بغیر تعلیم کے نقصانات:
🚫 بچے صرف مادّی کامیابی کو ہی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔
🚫 والدین سے تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔
🚫 معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔
تربیت یافتہ والدین ہی معاشرے کی اصل ضرورت ہیں!
اگر آپ بھی اپنے بچوں کو دنیا اور دین دونوں میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا 1-Month Parenting & Tarbiyah Practitioner Course (PTPC) آپ کے لیے بہترین موقع ہے۔
کورس کی خصوصیات:
✅ بچوں کی نفسیات سمجھنے کے اسلامی اور جدید طریقے
✅ والدین اور اساتذہ کے لیے عملی تربیت
✅ اسلامی اصولوں پر مبنی مؤثر تربیت کی تکنیک
✅ سوال و جواب کے خصوصی سیشن
📅 کورس کی مدت: 1 ماہ
💻 فارمیٹ: آن لائن سیشنز
🔑 Limited Seats Available!
🌟 اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں ایک حقیقی انقلاب لائیں۔
📲 آج ہی رابطہ کریں اور اپنی جگہ محفوظ کریں!
رجسٹریشن کیلئے لنک پر کلک کیجئے:
EduTarbiyah – Website of Education and Tarbiyah
09/09/2024
تعلیمی ادارے تربیت کیلئے کیا کریں؟
ہمارے ادارے میں تربیت کا باقاعدہ نظام کوئی لگ بھگ تین سال سے قائم ہے۔ اس مقصد کے تحت روزانہ بنیادوں پر باقاعدہ تربیہ کلاسز ہوتی ہیں۔ اس کےلئے الگ اساتذہ اور منٹورزکا نظم موجود ہے۔ ان کلاسز میں اللہ کے فضل سے ہولسٹک ڈویلپمنٹ کے موضوعات پر کام کروایاجاتا ہے۔
لیکن جب ہم نے محسوس کیا ان تمام کوششوں کے باوجود ہمیں وہ رزلٹ نہیں مل پا رہا جس کی ہم توقع کررہے ہیں۔ تو ہم نے کچھ عرصہ پہلے یہ فیصلہ کیا کہ بچوں کے والدین کو بھی اس سلسلے میں آن بورڈ لیا جائے۔ تاکہ سلسلے کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ چنانچہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ہرہفتے مختلف کلاسز اور سیکشن کے والدین کو بھی PTM اینڈ تربیہ سیشن کیلئے ہم نے اداے میں مدعو کرنا اور انگیج کرنا شروع کیا۔
ان PTM اینڈ تربیہ سیشنز کی ترتیب ہم نے یہ رکھی کہ پہلے ان والدین کی ملاقات کلاس اور سبجیکٹ ٹیچر سے کروائی جاتی۔ تاکہ جو بھی کہنا سننا ہووہ مکمل ہوجائے۔ اس کے بعد 40 منٹ کا ایک گروپ پیرنٹنگ/ تربیہ سیشن رکھا جاتا۔
اس طریقہ کار سے ہمیں کافی فائدہ محسوس ہوا اور والدین نے بھی اس سلسلے میں کافی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ورنہ والدین کو انگیج کرنا کافی مشکل کام ہوتا ہے۔ جو ادارہ چلانے والے احباب کو معلوم ہے۔
بچوں کے والدین سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ہفتہ وار پیرنٹگ اینڈ تربیہ سیشنزمیں ملاقات اور گفت وشنید کے بعد کچھ فائنڈنگز ہوئیں۔ چونکہ ادارہ چلانے والے اور تربیہ کے حوالے سے فکرمند کئی دوست ان سلسلے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ سوچا کہ یہ فائنڈنگزبھی ان کے ساتھ شئیر کردیں۔ تاکہ اس طرف سوچنے کا موقع مل سکے۔
1۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کو اپنے ساتھ شامل کئے بغیرموثر رزلٹ حاصل کرنا ناممکن اگرنہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لہذا والدین کو بچوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں کسی بھی قیمت پر ضرور انگیج کرنا چاہیے۔
2۔ دورحاضر کے چیلنجز کے پیش نظر ادارہ چلانے والے احباب کو جہاں بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے وہاں پیرنٹنگ اینڈ تربیہ کے حوالے سے والدین کی ٹریننگ اور ان کو تربیہ کے پورے سسٹم سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ تاکہ وہ بھی آن بورڈ ہوسکیں۔ اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں تعاون کرسکیں۔
اورآخری بات یہ کہ تربیہ سے یہاں ہماری مراد ہولسٹک ڈویلپمنٹ ہے۔ نہ کہ محض آداب سکھانا جو تربیہ کا ایک جزو ہے۔
اگرآپ کے پاس بھی اس حوالے سے کوئی کیس اسٹڈی ہو تو شئیر کرسکتےہیں۔
30/08/2024
پیرنٹنگ/تربیہ ٹپس
ڈاکٹرمحمدیونس خالد
اپنے بچوں سے محبت کا اظہار کریں۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں سے محبت اور پیار کا اظہار کریں۔ یہ نہ صرف بچوں کے جذباتی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ ان کے ذہنی نشوونما کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب بچے اپنے والدین کی طرف سے پیار اور محبت کو محسوس کرتے ہیں، تو انہیں تحفظ اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس بچوں کو خوداعتمادی فراہم کرتا ہے اور انہیں معاشرے میں ایک بہتر فرد بننے میں مدد دیتا ہے۔
اسلام میں بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بچوں کے ساتھ بے حد محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسن کو گود میں اٹھا کر پیار کر رہے تھے تو ایک صحابی نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے کبھی کسی کو پیار نہیں کیا۔ اس پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا" (صحیح بخاری)۔ اس حدیث سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بچوں سے محبت اور شفقت کرنا نہ صرف ایک سماجی فریضہ ہے بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔
نفسیاتی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ والدین کی محبت اور پیار بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب والدین بچوں سے پیار کرتے ہیں اور انہیں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو بچے جذباتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور وہ زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل ہوجا تے ہیں۔
لہٰذا، اپنے بچوں سے روزانہ محبت کا اظہار کریں۔ انہیں گلے لگائیں، ان سے پیار بھری باتیں کریں، اور ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات نہ صرف آپ کے بچوں کی زندگی میں بڑی مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں بلکہ آپ کے والدین ہونے کے احساس کو بھی مکمل کر سکتے ہیں۔ بچوں کو محبت دینا ایک سرمایہ کاری ہے جو ان کی زندگی میں خوشی، خود اعتمادی، اور کامیابی کی شکل میں لوٹتی ہے۔
28/08/2024
پیرنٹنگ ٹپس!
بچوں کےساتھ گفتگو کی اہمیت
بچوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنا والدین کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ اسلام میں بچوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے احساسات کا احترام کرنے کی بہت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے، "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہترین سلوک کرے" (ترمذی)۔ اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ بچوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور ان کے جذبات کو سمجھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
کھلی بات چیت کا مطلب ہے کہ والدین بچوں کی باتوں کو سنجیدگی سے سنیں اور ان کے خیالات و احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو یہ احساس دلانا کہ وہ سننے اور سمجھنے کے قابل ہیں، ان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے اور انہیں اپنی بات کہنے کی ہمت ملتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ بچے کسی بھی موضوع پر بلا جھجھک اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔
نفسیات کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ جب بچے اپنے والدین کے ساتھ کھل کر بات کر سکتے ہیں، تو ان کے اندر جذباتی سکون پیدا ہوتا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اہم ہیں اور ان کی رائے کی قدر کی جاتی ہے، جس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ کھلی بات چیت سے بچوں کی ذہنی نشوونما میں بھی مدد ملتی ہے کیونکہ وہ اپنے خیالات کو بہتر طریقے سے پیش کر سکتے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
لہٰذا، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ روزانہ وقت گزاریں، ان کے سوالات سنیں اور ان کے جواب دیں، تاکہ بچے یہ محسوس کریں کہ ان کی باتوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف والدین اور بچوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے بلکہ بچوں کی شخصیت کی مثبت نشوونما بھی ہوتی ہے۔
12/05/2024
الحمد للہ۔
خودشناسی کی بنیاد پرسنالٹی ٹائپ انڈیکیٹر (ایم بی ٹی آئی) سرٹیفکیشن کی تکمیل۔ پاکستان میں اس علم کے نامور استاد اور بانی جناب ڈاکٹر قمرالحسن صاحب کا شکریہ۔ جن کی طرف یہ سرٹیفکیٹ عطا ہوا۔
(ایم بی ٹی آئی) مائربرگز ٹائپ انڈیکیٹر کا مخفف ہے۔ یہ علم انسان کی شخصیت، اس کےخیالات، نفسیات ورجحانات، اس کے فیصلوں اوردنیا کے بارے میں اس کےنکتہ نظر کوجاننے اور پہچاننے کا سائنٹفک علم ہے۔
اس علم کی دریافت کا سہرا 1875 میں پیداہونے والے کارل لیونگ کے سرجاتا ہے۔ جس نے انسان کی شخصیت کو جاننے کے لئے چار ڈائکوٹومیز یعنی ترجیحات کا تعین کیا۔ بعد میں امریکہ میں رہنے والی ایک ماں اور بیٹی نے مل کراس علم کو باقاعدہ ایک ڈسپلن یا ٹول کے طور پر متعارف کروایا۔ آج انسانی شخصیت کی پہچان کے اس علم سے دنیا میں بھر میں فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔
اس علم سے انسان اپنی شخصیت کو سائنٹفک اپروچ کے ساتھ تلاش کرکے نہ صرف خود کو بہتراور مفید انسان بنا نے پر کام کرسکتاہے بلکہ دوسروں کی شخصیت اور ان کے رجحانات کو جان کراچھی لیڈرشپ اور اچھے تعلقات کو بھی استوار کرسکتا ہے۔ یوں یہ علم انسان اور انسانی معاشرے کی ترقی کیلئے نہایت مفید ہے۔
اسلامی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی شخصیت کو پہنچاننا بہت ضروری ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: الناس معادن کمعادن الفضۃ والذھب (اوکما قال علیہ السلام)
یعنی انسان کانوں کی طرح ہیں۔ اللہ تعالی نے اس کے اندرامکانی صلاحیتوں کے خزانے رکھے ہیں۔ جس طرح زمین کے اندر خزانے ہوتے ہیں۔ مثلا سونا، چاندی، مختلف قیمتی دھات، پتھر، گیس اور پیٹرولیم کے ذخائر وغیرہ۔
اسی طرح انسان میں بھی اللہ تعالی نے معاشرتی ترقی، مخلوق کی خدمت اور لوگوں میں باہمی تعلق پیدا کرنے کیلئے مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں۔ بچپن میں ان کو ڈھونڈنا اور پروان چڑھانا والدین اور تعلیم دینے والے اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ بڑے ہونے کے بعد خود انسان کی اپنی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ لیکن اس ذمہ داری کی انجام دہی میں ہم کتنے کامیاب ہوتے ہیں وہ ہم سب کو معلوم ہے۔
دینی تعلیمات کی انجام دہی اور معاشرتی ارتقا میں علم نفسیات (سائکالوجی) ہماری بہت مدد کرتاہے۔ ایم بی ٹی آئی بھی علم نفسیات کی ایک اہم شاخ ہے۔ یوں ہم اپنی شخصیت کی تلاش، اپنے بچوں، شاگردوں کی شخصیت کی پہچان اور اپنے سے جڑے ہوئے دوسرے لوگوں کے رجحانات کو جان کر اپنی زندگی اور تعلقات کو ترقی کے اگلے لیول پر لے جاسکتے ہیں۔ اب دنیا میں اس پر بہت زیادہ کام ہورہا ہے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ اب ان ابتدائی سوالوں میں الجھ کررہنے کے بجائے کہ یہ کیا ہے؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟ اور کیوں ہے؟ آگے بڑھیں اس علم سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنی شخصیت اور اپنے بچوں کی شخصیت کو پہچاننے کیلئے کام کریں۔ اس حوالے سے آپ ہم سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹرمحمدیونس خالد 03432944940